*علمی سیاحت نامہ ( 7 )*——- از:معاویہ محب اللہ
بھول بھولیا دیکھنے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی، کیونکہ وہ محض امام باڑہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عام سی عمارت اور محل ہے، ہاں ! کچھ ایسی خصوصیات ضرور ہے جو دیگر تاریخی عمارتوں ومحلات کی بھی ہوا کرتی ہیں، چونکہ میں نے جون 2020 میں لکھنؤ کی زیارت کے وقت بھول بھولیا بھی دیکھ لیا تھا، اس مرتبہ صرف اُچٹتی نظر سے زیارت کرلی۔ نیز اس سے پہلے والے لکھنؤ کے سفر میں مغرب سے لیکر عشاء تک کا وقت تقریبا ” گھنٹہ گھر ” کے گارڈن میں گزارا تھا، لکھنؤ کی شام اور ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا نے لطفِ محفل کو دوبالا کردیا تھا، خصوصا یہ وہ وقت تھا جب این آر سی اور سی اے اے کے احتجاجات زوروں پر تھے، لکھنؤ میں گھنٹہ گھر کے پاس جمع ہونے والی خواتین نے گارڈن اور پارک کو تحریک سے وابستہ کرکے ایک تاریخ بنا دیا تھا، لہذا اس سفر میں بھی تقریبا سرسری زیارت کرنے پر اکتفا کر لیا گیا۔ *فرنگی محل* ملا نظام الدین سہالوی کے نام سے کون ناواقف ہے؟ درسِ نظامی پڑھنے والا ہر طالبِ علم آپ کے نام نامی سے ضرور آشنا ہوگا، آپ کے والدِ گرامی ملا قطب الدین سہالوی کو اپنے علاقہ کے کچھ شرپسندوں نے بےدردی اور بےرحمی سے شہید کردیا، تو آپ کے تینوں صاحبزادے لکھنؤ کی طرف ہجرت کرآئیں، اس زمانہ کے مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر نے لکھنؤ میں فرنگی محل کی کوٹھی ان کے نام الاٹ کردی، بہر حال اس خاندان نے صدیوں علمِ دین کی بے لوث خدمت انجام دی ہے، ملا نظام الدین کے نام سے ہی درسِ نظامی کو منسوب کیا جاتا ہے، فرنگی محل میں آپ نے ” مدرسہ نظامیہ ” کے نام سے علمی ودینی مدرسہ قائم فرمایا تھا، جہاں سے چہار دانگِ عالم کے طلبہ آکر اپنی علمی پیاس بجھاتے تھے، ہم نے اس مدرسہ کی قدیم اور بوسیدہ عمارتوں کو دیکھا جہاں صرف خموشی اور ویرانگی کے سوا کچھ نہیں تھا، مدرسہ نظامیہ کے پیچھے جو قدیم مسجد ہے وہاں بھی بہت مختصر لمحہ ٹھہر کے…
Read more