۹؍مئی کی صبح کو راقم اپنے رفقاء سفر سمیت ہندوستان کی علمی وفکری یادگار اور سر سید کی خدمات کا بولتا ہوا بے لوث ثبوت ’’علی گڑھ مسلم یونیورسٹی‘‘ کی زیارت کے لئے روانہ ہوگیا، جس وقت ہندوستان میں انگریز حکومت کا تسلط تھا اور مسلمان علمی وفکری اعتبار سے تو پسماندہ تھے ہی ساتھ عصری علوم سے بھی برادرانِ وطن کے مقابل میں بہت پسماندہ تھے، انگریزی تعلیم ،سائنس اور عصری علوم ; غرض ہر شعبہ میں مسلمانوں کے افراد کھال کھال نظر آتے تھے، ایسے میں ایک مسیحا نے انگریزی تعلیم، سائنس اور عصری علوم کی صدا اس زور سے بلند کی کہ آج تک اس کی صدائے باز گشت سنائی دے رہی ہے، حضرت الاستاذ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی حفظہ اللہ نے اپنی کتاب میں سر سید کو ان الفاظ سے خراجِ تحسین پیش کیا ہے؛
’’ہندوستان میں مسلمانوں کی عصری تعلیم میں حصہ داری کی جو بھی تاریخ لکھی جائے گی اور اس سلسلے میں ملتِ اسلامیہ کے جس محسن کا نام جَلی اور روشن حرف میں لکھا جائے گا وہ یقیناً سر سید احمد خاں ہوگا‘‘ (وہ جو بیچتے تھے دوائے دل،۷۵)۔
انیسویں صدی کی سترہویں دہائی میں سنہ ۱۸۶۹ ء میں سر سید نے انگلستان کا سفر کیا، انگریزوں سے ملاقات اور مغربی ملک اور اس کی تہذیب کو قریب سے دیکھنے کے باعث ان کے دل میں شدید داعیہ پیدا ہوا کہ مسلمانوں کو عصری علوم سے آشنا کیا جائے ، اس کے لئے انہوں نے علیگڑھ میں ’’مدرسۃ العلوم‘‘ جو بعد میں چل کر ’’ اینگلو اورینٹل کالج‘‘ اور آخر میں ’’ مسلم یونیورسٹی‘‘ کے نام سے معروف ہوا; ادارہ کی داغ بیل ڈالی، انہوں نے اس کو اسکول کی سطح سے بلند کرکے محض کالج اور یونیورسٹی کی حد تک ہی نہیں پہنچایا بلکہ اس صدا کو بطور تحریک اس بلند آہنگی کے ساتھ پھیلایا کہ کان پڑی مخالف آواز بھی سنائی نہیں دے رہی تھی، گویا اسے مستقل جدید علوم کی تحریک کے طور پر وجود بخشا، اس کی برکت یہ ہے کہ اب تو بےشمار مدارس میں بھی عصری اور جدید علوم کے ساتھ انگریزی زبان کی تعلیم کو نصاب کا حصہ بنا دیا گیا۔
اس تحریک میں یقیناً کوئی قباحت اور برائی نہیں تھی لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ سر سید کے منحرف کن افکار ونظریات کی وجہ سے علومِ جدیدہ کی تحریک کو ناشائستہ حالات کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ محسوس یہ ہورہا تھا کہ جدید علوم کے اکتساب ہی نے سرسید کے افکار ونظریات میں توازن کھودیا ہے، لہذا علماء نے بھی ان کی مخالفت میں دم توڑ حصہ لیا، حضرت الاستاذ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے بھی اس طرف اشارہ کیا ہے؛
’’اس حقیر کا خیال ہے کہ اس موقع پر ایک غلطی سرسید سے ہوئی اور دوسری ان علماء سے جو ان کی مخالفت میں خم ٹھونک کر کھڑے ہوئے تھے، سر سید کی غلطی کہ وہ مغربی علوم اور مغربی افکار میں فرق نہیں کرسکے،ان کی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے مسلمانوں کو مغربی علوم کی دعوت دینے کے ساتھ ساتھ مغربی افکار کو بھی قبول کرلیا، اور مغرب کی علمی ترقی اور تہذیبی گراوٹ میں فرق نہ کرسکے۔ علماء کی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے بھی مغربی ثقافت اور مغربی علوم میں فرق نہیں کیا، انہوں نے نہ صرف مغربی تہذیب کی مخالفت کی ، بلکہ انگریزی زبان اور جدید علوم کے ساتھ بھی معاندانہ رویہ اختیار کر لیا‘‘(وہ جو بیچتے تھے دوائے دل،۸۴)۔
سرسید کی منحرفانہ فکر اور تفسیر میں عجیب وغریب تاویلات، معجزات کی مَن مانی تشریح، جنت و جہنم، ملائکہ و ابلیس کے وجودِ حسی ہونے کی نفی نے علماء کے طبقہ میں بہت زیادہ غم وغصہ پیدا کرلیا تھا، اس پر تکفیری فتووں اور خارج عن الاسلام کے نعروں نے سر سید میں بھی ضد کی سی صورت پیدا کرلی تھی۔
علماء دیوبند نے ان کی مخالفت ضرور کی لیکن اس شدت کے ساتھ نہیں جتنی دیگر علماء نے کی تھی، چنانچہ حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ نے لکھا ہے؛
’’ بسبب ادعائے ظاہری اسلام ،اطلاق اس لفظ سے احتیاط کرتا ہوں؛ البتہ اعلی ٰ درجہ کا گمراہ اور مبتدع کہتا ہوں‘‘(تصفیہ العقائد،۲۶ بحوالہ امداد الفتاوی ٰ،جلد ۶، ۱۸۴)۔
حجۃ الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتوی ؒ نے سر سید کے مبتدعانہ عقائد کے باوجود آپ کی خدمات کو تحسین کی نگاہ سے دیکھا ہے
’’ہاں اس میں کچھ شک نہیں کہ سنی سنائی سید صاحب کی اولو العزمی اور درد مندی ِ اسلام کا معتقد ہوں،اور اس وجہ سے ان کی نسبت اظہارِ محبت کروں تو بجا ہے ؛ مگر اتنا یا اس سے زیادہ ان کے فساد ِ عقائد کو سن سن کر ان کا شاکی اور ان کی طرف سے رنجیدہ خاطر ہوں‘‘(تصفیہ العقائد،۴۹)۔
سر سید کام کے دھنی آدمی تھے، مخالفت کی آندھیاں ان کے پایۂ استقلال میں ذرہ برابر رکاوٹ نہیں ڈال سکیں، حوصلہ کا یہی کوہِ ِ گراں ہے جس نے انہیں کالج کی بناء ڈالنے میں ذرہ برابر پس وپیش نہیں ہونے دی۔
(جاری)