HIRA ONLINE / حرا آن لائن
شر کا مسئلہ "Problem of Evil "

"شر کا مسئلہ” Problem of Evil یہ سوال اٹھاتا ہے کہ اگر خدا رحیم اور قادر مطلق ہے تو دنیا میں اتنا ظلم کیوں ہے؟ مذہبی نقطۂ نظر کے مطابق، خدا نے انسانوں کو "آزادی اختیار” Free Will کا تحفہ دیا ہے، جو حقیقی اخلاقی انتخاب کی بنیاد ہے، یہی آزادی ظلم کو ممکن بناتی ہے، کیونکہ انسان بھلائی اور برائی دونوں کا انتخاب کر سکتا ہے، دنیا کو ایک امتحان گاہ سمجھا جاتا ہے، جہاں مصائب ہمارے صبر اور ایمان کی آزمائش ہیں، اور ان طاقتوں کی بھی جو ظلم روک سکتے تھے لیکن وہ ظالموں کی پشت پناہی کرنے لگے، ہمارا محدود علم خدا کی وسیع حکمت کا احاطہ نہیں کر سکتا، اور شر درحقیقت خیر کی عدم موجودگی ہے، خدا فوری طور پر ہر ظلم نہیں روکتا، لیکن وہ بے حس نہیں ہے بلکہ ایک بڑی حکمت کے تحت کام کر رہا ہے، اور ماضی میں ایک مقررہ وقت میں اس نے کرکے دکھایا ہے اور کھلی آنکھوں سے دیکھیں تو روز دکھا رہا ہے، حالیہ برسوں میں جو تخت گرائے گئے اور تاج اچھالے گئے اس کی مثالیں ہیں، آئندہ بھی ہوگا، اس لیے کوئی سوپر پاور بدستور نہیں رہا، اور پھر یہ بھی سوچ لیں کہ اگر خدا روز روز انتقام لینے لگے تو سب سے پہلے اس کے منکرین زد میں آئیں گے تب بھی واویلا مچائیں گے، آج کی مہذب دنیا اپنے باغی بچوں اور شاگردوں کو سخت سست کہنے کی اجازت تک نہیں دیتی وہ خدا کا یہ رخ گوارا کر پائے گی!! اس نے ہمیں ظلم کے خلاف جدوجہد کرنے اور انصاف قائم کرنے کا فریضہ دیا ہے، آخرت میں کامل انصاف ہوگا، جہاں ہر مظلوم کو اس کا حق ملے گا اور ہر ظالم کو سزا ملے گی؛ لہٰذا، مذہبی perspective سے، خدا موجود ہے اور ہمیں آزادی دے کر آخرت میں مکمل انصاف قائم کر کے اپنی حکمت ظاہر کرے گا، جبکہ ہمارا کام اپنے دائرہ کار میں ظلم کے خلاف لڑنا اور مظلوم کی مدد کرنا ہے۔ ملحدین کا موقف ہے کہ خدا کا…

Read more

۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندن

۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندن امسال میں نے کلیرین انڈیا کے لیے ہندوستانی مسلمانوں سے متعلق مسائل، واقعات اور پیش رفت پر تقریباً ڈیڑھ ہزار سے زائد خبریں تحریر کیں۔ اس دوران چھوٹے بڑے سانحات، وقتی کامیابیاں، محدود حصولیابیاں، مسلسل ناکامیاں اور گہرے ہوتے ہوئے چیلنجز سب نظر کے سامنے رہے۔ اسی کی بنیاد پر ۲۰۲۵ میں ہندوستانی مسلمانوں نے کیا کھویا اور کیا پایا ایک جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے۔ مجموعی طور پر ۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے بڑا صبر آزما اور کٹھن سال رہا۔ ایک طرف مذہبی آزادی پر بڑھتے ہوئے دباؤ، تشدد کی وارداتوں میں اضافہ اور امتیازی قوانین نے مسلمانوں کو مزید پسماندگی کی طرف دھکیلا، جبکہ تعلیم، کاروبار اور کچھ سیاسی میدانوں میں کامیابیاں بھی سامنے آئیں۔ جہاں ایک طرف ہندو قوم پرستی کی لہر نے ان کی شناخت کو چیلنج کیا، وہیں دوسری طرف کمیونٹی کی اندرونی طاقت نے نئی راہیں کھولیں۔ تعلیم کے میدان میں مسلمان پہلے ہی پسماندگی کا شکار تھے، اور ۲۰۲۵ میں یہ خلا مزید نمایاں ہوا۔ اعلیٰ تعلیم، مسابقتی امتحانات اور روزگار کے مواقع میں مسلمانوں کی شمولیت مسلسل ایک چیلنج بنی رہی۔ کئی نوجوانوں نے بیرون ملک تعلیم یا روزگار کو واحد راستہ سمجھنا شروع کیا، جس سے برین ڈرین کا مسئلہ بھی سامنے آیا۔ ہندوستانی مسلمان اس سال ایک ایسے ماحول میں سانس لیتے رہے جہاں آئینی حقوق کاغذ پر تو ضرور موجود تھے، مگر زمینی سطح پر ان کی حفاظت مسلسل سوالوں کے گھیرے میں رہی۔ مذہبی شناخت ایک بار پھر سیاسی بحث کا مرکز بنی، اور مسلم وجود خواہ وہ عبادت گاہ ہو، لباس ہو، نام ہو یا رائے، اکثر دفاعی پوزیشن میں دکھائی دیا۔ سیاسی منظر نامے میں ۲۰۲۵ مسلمانوں کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ سال کے آغاز میں ہی جنوری میں ایودھیا میں رام مندر کی افتتاحی تقریب نے مذہبی تناؤ کو ہوا دی، جس کے نتیجے میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر حملوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ اس تقریب نے ملک بھر میں فرقہ وارانہ فسادات کو جنم دیا،…

Read more

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میںاسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغامتحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ مسلمانوں کے بعض عوام میں ایک عام تصور یہ پایا جاتا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ان علامات کی خبر کو اس بات کا سہارا بنا لیتے ہیں کہ صحیح اسلامی زندگی کی بحالی کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ دیا جائے، اور انہوں نے قیامت کی علامات کے ساتھ ایک ایسی بات کو جوڑ دیا ہے جس کا ان سے کوئی تعلق ہی نہیں۔وہ یہ سمجھتے ہیں کہ آج کے دور میں عمل کرنا بے فائدہ ہے، کیونکہ فساد کا بڑھنا، گمراہی کا پھیلنا، اور قیامت سے پہلے ظاہر ہونے والے غیر معمولی واقعات—جیسے مہدی کا ظہور اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول—لازمی ہیں۔اور پھر انہی مواقع پر اسلام دوبارہ غالب آئے گا، دین کو غلبہ حاصل ہوگا، حق پھیلے گا، اس کے ماننے والے مضبوط ہوں گے، اور اسلامی نظام پوری طرح نافذ ہوگا۔لہٰذا اب باطل اور اس کے پیروکاروں کے خلاف جدوجہد کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، چاہے مسلمان کتنی ہی کوشش کیوں نہ کر لے۔ یہ گمراہ کن اور خبیث فکر—اور ممکن ہے کہ دشمنوں کی نرم سازشوں کے ذریعے مسلمانوں میں داخل کی گئی ہو—نے ان جاہل لوگوں اور ان کے گرد گھومنے والے سادہ لوح مسلمانوں کے دلوں سے فرضِ جدوجہد اور صحیح اسلامی شعور کو ساقط کر دیا ہے۔ اس نے ان پر منفی اثر ڈالا ہے، اور اسلامی زندگی کی بحالی کے لیے سنجیدہ اور مسلسل کوشش کے جذبے کو ختم کر دیا ہے۔ اکثر یہ نادان اور سادہ لوح مسلمان اپنے جیسے دوسروں کو یہ کہہ کر دھوکہ دیتے ہیں کہ دنیا اپنے اختتام کے قریب ہے، اور احادیثِ نبویہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اسلام اور مسلمانوں کی حالت مسلسل زوال پذیر رہے گی۔اور جب معاملہ ایسا ہی ہے تو پھر اس فاسد دھارے کو روکنے اور اس گراوٹ کو تھامنے کے لیے کچھ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ یہ اللہ…

Read more

🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!

انسان كا قتلناقابل عفو گناه! 🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ‏ اسلام کی نگاہ میں سب سے بڑا گناہ اللہ کے ساتھ شرک اور کفر ہے ، اس کی سزا ہمیشہ کے لئے دوزخ ہے ، جو شخص کفر کی حالت میں دنیا سے چلا جائے ، اس پر جنت کے دروازے بند ہیں اور ہمیشہ کے لئے آتشیں دوزخ کی آغوش اس کی رفیق رہے گی ، کفر کے بعد ایک ہی عمل ہے جس کے بارے میں فرمایا گیا کہ اس کا مرتکب ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا ، اس پر اللہ کا غضب ہوتا رہے گا اور اللہ کی لعنت برستی رہے گی ، کتنا گھبرادینے اور تڑپا دینے والا ہے یہ ارشاد ربانی :وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَھَنَّمُ،خَالِدًا فِیْھَا وَغَضَبَ اﷲُ عَلَیْہِ وَلَعْنَہٗ وَاَعَدَّ لَہٗ عَذَابًا عَظِیْمًا ۔ (النساء : ۹۳)جو جان بوجھ کر کسی مسلمان کو قتل کرے اس کا بدلہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا ، اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہو اور اللہ نے اس کے لئے بھیانک عذاب تیار کر رکھا ہے ۔ کتنی لرزہ براندام کردینے والی ہے یہ آیت ! — لیکن اس شخص کے لئے جس کے دل میں خوفِ خداوندی کا کوئی گوشہ موجود ہو ، جس کی آنکھ کبھی کبھی سہی ، اللہ کے خوف سے نم ہونا جانتی ہو ، جس کا دل آخرت کے تصور سے لمحہ دو لمحہ سہی ، لرزنے سے آشنا ہو ، جو آخرت کی وسعتوں پر یقین رکھتا ہو ، جسے جنت کی نعمتوں اور دوزخ کی ہولناکیوں پر ایمان ہو اور جس کے سینے میں دھڑکتا ہوا دل ہو ، جن سینوں میں دل کے بجائے پتھر کی سل رکھی ہوئی ہو اور جن قلوب میں محبت کی شبنم کے بجائے نفرت اور ظلم و جور کی بھٹیاں سلگتی ہوں ، ان کے بارے میںکیوں کر سوچا جاسکتا ہے، کہ خالقِ کائنات کا یہ ارشاد بھی ان کو تڑپا سکے گا ؟ خدا و ررسول کی بات بھی ان کے دلوں پر دستک دے سکے…

Read more

شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ باتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ Jawed Akhtar-Shamail debate-Alamullah-25-12-25جاوید اختر۔شمائل مباحثے کے تناظر میں ایک فکری جائزہ(ایشیاء ٹائمز میں شائع ڈاکٹر ظفر الاسلام خان کی رائے کی بنیاد پر) محمد علم اللہ ، لندن ۲۰ دسمبر ۲۰۲۵ کو نئی دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں جاوید اختر اور مفتی شمائل احمد ندوی کے درمیان "کیا خدا موجود ہے؟” کے موضوع پر مباحثہ ہوا ۔ اس کے بعد سوشل میڈیا پر ایک جشن کا سا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ لوگ ویڈیوز بنا رہے ہیں، آرٹیکلز لکھ رہے ہیں، فیس بک پر کمنٹس کر رہے ہیں اور مختلف انداز میں اسے دیکھ رہے ہیں۔ ایک طبقہ اسے سنجیدگی سے سوچ رہا ہے۔ یہ ماحول بالکل اسی قسم کا ہے جو ۱۹ انیسویں صدی میں مناظروں کے وقت ہوتا تھا، جہاں بڑے بڑے لوگ آتے تھے اور عیسائی، مسلمان یا ہندو کے نمائندے سے بحث کر کے فتح کا دعویٰ کرتے تھے۔ یہ سب ڈائیورژن (توجہ ہٹانا) ہے، اصل مسئلہ نہیں۔ہندوستان میں اب یہ مناظرے دوبارہ شروع ہو رہے ہیں۔ جاوید اختر صاحب سے اگرچہ ہم متفق نہیں، لیکن وہ کبھی ہندوتوا کے خلاف بولتے ہیں، حکومت کی اقلیتوں کے بارے میں پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں ، ماب لنچنگ پر لب کشائی کرتے ہیں۔ انہیں بلاکر ذلیل کرنا کوئی اچھا طریقہ نہیں، نہ یہ مسلمانوں کا طریقہ ہے۔ اللہ پاک نے قرآن میں فرمایا ہے: "ادع إلى سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ” یعنی حکمت اور عمدہ طریقے سے اپنے رب کے راستے کی طرف بلاؤ۔ یہ ہمارا طریقہ ہے۔ اسلامی تاریخ میں ایسے مناظرے نہیں ہوتے تھے، سوائے بہت خاص حالات کے جیسے نجران کا واقعہ۔ یہ سلسلہ ہندوستان میں انیسویں صدی میں شروع ہوا، جب انگریز اور عیسائی ہندوستان کو عیسائی بنانا چاہتے تھے۔ اب ایسا ماحول پیدا کرنا مناسب نہیں۔ اسے پبلک میں دکھانا، یوٹیوب پر ڈالنا، دنیا بھر میں ہنگامہ کرنا، جشن منانا اور خوشیاں بانٹنا ۔ یہ سب غلط ہے۔ یہ لوگوں کو اصل مسائل سے ہٹانے کا طریقہ ہے۔ہمارا اصل مسئلہ اس وقت ہندوتوا سے حکمت کے ساتھ…

Read more

مصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلو

مصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلو از : مولانا محمد اجمل ندوی نائب مہتمم مدرسہ العلوم الاسلامیہ علی گڑھ دور جدید میں ٹیکنالوجی کی ترقی کافی عروج پر ہے ، اس نے خاطرخواہ ترقی کی ہے اور مزید ترقی کی راہ پر گامزن بھی ہےستاروں سے اگے جہاں اور بھی ہیںابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیںاس دور کو ڈیجیٹل دور بھی کہا جا سکتا ہے،اے ائی اس کا ایک نمایاں حصہ ہے جو علم و فکر کے تمام شعبہ جات میں بڑے پیمانے پر استعمال ہو رہا ہے اس کی نافعیت و افادیت کسی بھی ذی شعور پر مخفی نہیں ، اس میں بہت سے انسانی مسائل کا حل ہےمصنوعی ذہانت انسانی ذہن کی عکاسی کرنے والی وہ ٹیکنالوجی ہے جو اس دور کی اہم اختراع ہے جس میں تمام انسانی ضرورت کا ڈیٹا اور جمع کردہ معلومات فراہم ہے اس کا ظہور اچانک نہیں ہوا بلکہ یہ سائنس و ٹیکنالوجی کی راہ ترقی کی ایک منزل ہے جس سے نوع ادم تعلیم و صنعت ، امور خانہ داری ، معیشت و سیاست الغرض زندگی کے تمام امور میں مستفید ہو رہا ہےمجھ کو تسلیم تیری ساری ذہانت لیکن تاہم اس میں بہت سے منفی وسلبی پہلو بھی ہیں اخلاقیات و انسانی سلامتی کے بے شمار خدشات ہیں لہذا اس کے استعمال کے وقت احتیاط لازم ہے اور اس کی خامیوں سے اگاہ ہونا ضروری ہے ادمیت اور شے ہے علم ہے کچھ اور شےاتنا طوطے کو پڑھایا پر وہ حیواں ہی رہا ابتدا یہ تھی کہ میں تھا اور دعوی علم کاانتہا یہ ہے کہ اس دعوے پہ شرمایا بہت مصنوعی ذہانت کا ایک اثر لیبر مارکیٹ اور بے روزگاری پر ہے اس پر انحصار کی وجہ سے انسان کی تخلیقی صلاحیتیں کمزور ہو رہی ہیں مزید یہ کہ اس میں رازداری کا فقدان ، تصویر کی ہیرا پھیری ، سائبر حملے کے خطرات اور ڈیٹا چوری کے امکانات ہیں ۔اے ائی نے انسانی تعلقات کو بھی کافی متاثر کیا ہے جبکہ مومن مومن کے لیے جسد واحد کی طرح ہے اور اسلامی…

Read more