HIRA ONLINE / حرا آن لائن
قرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہ

قرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہ از : مولانا ابو الجیش ندوی تمہید عصرِ حاضر میں آئینوں، انسانی حقوق کے منشوروں اور عالمی معاہدات کی کثرت کے باوجود انسانی وقار، عدل اور اخلاقی توازن کا بحران مسلسل گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ یہ مقالہ اس مقدمے کو پیش کرتا ہے کہ قرآنِ مجید محض ایک مذہبی متن نہیں بلکہ انسانی وقار، مساوات، عدل، آزادیِ ضمیر اور سماجی ذمہ داری پر مبنی ایک ہمہ گیر اور آفاقی اخلاقی و دستوری فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ قرآن انسان کو نسل، مذہب اور قومیت سے ماورا ہو کر مخاطب کرتا ہے اور ایک ایسا معیاری (Normative) تصورِ انسانیت پیش کرتا ہے جو جدید انسانی حقوق اور عالمی دستوریت کے مباحث میں سنجیدہ علمی مکالمے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ مضمون قرآنی اصولوں کے تصوری تجزیے کے ذریعے قرآن کو “دستورِ انسانیت” کے طور پر سمجھنے کی کوشش ہے۔ تعارف (Introduction) انسانی تاریخ کا بڑا المیہ یہ ہے کہ قوانین اور آئین تو بار بار مرتب کیے گئے، مگر انسانیت کو محفوظ نہ رکھا جا سکا۔ جدید دنیا میں ریاستی آئین، انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے اور بین الاقوامی قوانین اپنی جگہ موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود جنگ، نسلی امتیاز، ریاستی تشدد اور معاشی استحصال ایک عالمی حقیقت بن چکے ہیں۔ یہ صورتِ حال اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ آیا محض قانونی ڈھانچے انسان کے اخلاقی وقار کی ضمانت دے سکتے ہیں؟قرآنِ مجید اس تناظر میں ایک منفرد متن کے طور پر سامنے آتا ہے، جو خود کو کسی خاص مذہبی یا قومی گروہ تک محدود نہیں کرتا بلکہ صراحت کے ساتھ “ہُدًى لِلنَّاسِ” یعنی تمام انسانوں کے لیے ہدایت قرار دیتا ہے۔ یہی پہلو قرآن کو ایک آفاقی دستوری متن کے طور پر زیرِ بحث لانے کا جواز فراہم کرتا ہے۔ قرآن کا مخاطَب: انسان بحیثیت انسان قرآن کے اسلوبِ خطاب میں بار بار “يَا أَيُّهَا النَّاسُ” کا استعمال اس بات کی واضح دلیل ہے کہ قرآن کی بنیادی اخلاقی اپیل انسانیت کی مجموعی وحدت سے ہے، نہ کہ کسی خاص مذہبی برادری سے۔قرآن ایمان…

Read more

سہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پرواز

سہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹرپرواز رحمانی کی آخری پرواز معصوم مرادآبادی میں ابھی ابھی سینئر صحافی اور ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی تدفین میں شرکت کرکے واپس آیا ہوں۔ان کی تدفین میں عوام وخواص کی خاصی بڑی تعداد شریک تھی اور ہر زبان پر ان کی صحافت اورشرافت کے یکساں چرچے تھے۔ بلاشبہ پرواز رحمانی جتنے ذہین، سنجیدہ اورباوقار صحافی تھے، اتنے ہی اچھے اور بااخلاق انسان بھی تھے۔ انھوں نے نصف صدی پر محیط اپنی صحافتی زندگی میں ہمیشہ صحافت کی اعلیٰ اقدار کی پاسبانی کی اور کبھی سنسنی خیزی یا زرد صحافت کو منہ نہیں لگایا۔ وہ اردو صحافیوں کی اس نسل کے آخری آدمیوں میں سے تھے جن کے نزدیک صحافت ایک پروفیشن سے زیادہ ایک مشن کا درجہ رکھتی تھی ۔ پرواز رحمانی کچھ عرصے سے صحت کے مسائل سے نبرد آزما تھے۔آخری دنوں میں انھیں برین ہیمریج کی وجہ سے اوکھلا کے الشفاء اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جہاں انھوں نے گزشتہ رات آخری سانس لی۔لوگوں کو امید تھی کہ وہ الشفاء اسپتال سے شفایاب ہوکر واپس آئیں گے، لیکن یہ ممکن نہیں ہوسکا اور وہ وہاں چلے گئے جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا۔ان سے میرا تعلق اس زمانے سے تھا جب ’دعوت‘ کا دفتر پرانی دہلی کے سوئیوالان علاقہ میں واقع تھا۔ وہیں ان کی رہائش بھی تھی، لیکن جماعت اسلامی کے دفاتر کے ساتھ ’دعوت‘ کا دفتر بھی اوکھلا منتقل ہوا تو وہ بھی بادل نخواستہ اوکھلا چلے گئے، لیکن کافی عرصہ ان کی رہائش سوئیوالان کے پرانے مکان ہی میں رہی۔ وہ ڈی ٹی سی کی بس میں بیٹھ کر روزانہ اوکھلا جاتے تھے اور شام کو کام نپٹاکر گھر واپس آجاتے تھے۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ ’دعوت‘ کے مستقل کالم ”خبرونظر“ کے معیارکو برقرار رکھنا تھا۔’دعوت‘ میں یہ کالم اس کے سابق ایڈیٹر محمد مسلم نے شروع کیا تھا۔ پرواز رحمانی کی صحافتی تربیت بھی محمدمسلم نے ہی کی تھی اور وہ انھیں صحافت میں اپنا رہنما تصور کرتے تھے۔ محمدمسلم کی خوبی یہ تھی کہ ان کا دائرہ بہت…

Read more

پرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبرو

پرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبرو محمد رضی الاسلام ندوی برادر عزیز محمد اسعد فلاحی نے اطلاع دی کہ پرواز رحمانی صاحب کا انتقال ہوگیا ہے تو دل دھک سے رہ گیا – میں دہلی میں اپنی داہنی آنکھ کا موتیابند آپریشن کروانے کے بعد کچھ دنوں کے لیے اپنے وطن آگیا تھا ، اس لیے جنازہ میں شرکت سے محروم رہا – دہلی میں کئی بار مسجد اشاعت اسلام (مرکز جماعت اسلامی ہند) میں ان کی بیماری کے اعلان کے ساتھ دعا کی درخواست کی گئی – وہ برین ہیمریج اور فالج کا شکار تھے – وقفے وقفے سے ان کی طبیعت کی بحالی کی اطلاع پاکر اطمینان ہوجاتا تھا ، لیکن اب وقتِ موعود آگیا اور وہ بارگاہِ الہی میں حاضر ہوگئے – پرواز رحمانی کا وطن ریاست مہاراشٹر کے ضلع اکولہ کا شہر آکوٹ تھا – وہ عین جوانی میں 1969 میں دعوت سے ، جس کے اُس زمانے میں روزنامہ اور سہ روزہ دونوں ایڈیشن نکلتے تھے ، وابستہ ہوئے اور پوری زندگی اس کے لیے وقف کردی – وہ نچلی سطح کی مختلف ذمے داریاں نبھاتے ہوئے اس کے اعلیٰ ترین منصب (چیف ایڈیٹر) تک پہنچے – انھوں نے نصف صدی پر محیط اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں ہمیشہ صحافت کی اعلیٰ اقدار کی پاس داری کی اور کبھی سنسنی خیزی یا غیر ذمے دارانہ صحافت کا راستہ نہیں اختیار کیا ۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جن کے نزدیک صحافت ایک مشن کا درجہ رکھتی تھی ۔ وہ کم گو اور کم آمیز شخصیت کے مالک تھے ، لیکن ان کی سوچ تعمیری اور فکر گہری ہوتی تھی – وہ جماعت اسلامی ہند کی اعلیٰ اختیاراتی باڈی مجلس نمائندگان اور اس کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن تھے – علمی ، دینی اور صحافتی حلقوں میں پرواز صاحب کا تعارف سہ روزہ ’دعوت‘ کے مستقل کالم ‘خبرونظر’ سے تھا – ان سے پہلے ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر جناب محمد مسلم نے اس کالم کو مخصوص پہچان عطا کی تھی – دعوت کے پہلے صفحے پر بائیں جانب…

Read more

عالم اسلام: ایک جائزہ

نام کتاب: عالم اسلام —ایک جائزہتالیف: ڈاکٹر شاکر فرخ ندویرفیق المعہد الاسلامی مانک مئو، مدير التحرير عربی مجلہ”المظاهر” مظاہر علوم سہارنپورصفحات: 408سنہ اشاعت:2025ناشر: صفہ اکیڈمی مانک مئو، سہارنپورتعارف و تبصرہ: اشتیاق ظہیر ندویجامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی ابتدائے آفرینش ہی سے حق و باطل کے درمیان معرکہ برپا رہا ہے۔ توحید و شرک کی یہ ازلی کشمکش صدیوں پر محیط ہے؛ مگر تاریخ کی سب سے روشن اور ناقابلِ تردید حقیقت یہ ہے کہ شیطانی طاقتوں، طاغوتی قوتوں اور ابلیسی سازشوں کی یلغاروں کے باوجود حق کا سورج کبھی غروب نہ ہو سکا۔ باطل کی ہزارہا تدبیروں کے علی الرغم، حق کی سربلندی ہر دور میں قائم رہی۔ فاران کی چوٹی سے جب اسلام کا آفتاب طلوع ہوا تو اس کی کرنیں محض مکہ و مدینہ تک محدود نہ رہیں؛ بلکہ سازشوں، مخالفتوں اور کفار، یہود و مشرکین و منافقین کی دشمنیوں سے ٹکراتی ہوئی چند ہی برسوں میں دنیا کے گوشے گوشے تک پھیل گئیں۔ تاریخ نے دیکھا کہ ایک مٹھی بھر؛ مگر جذبۂ ایمانی سے سرشار جماعت نے قیصرِ روم کو سرنگوں کیا، کسریٰ کے ایوانوں میں حق کا پرچم لہرایا، اور عرب کے تپتے صحراؤں سے اٹھنے والی یہ صدا افریقہ و یورپ تک اس شان سے پہنچی کہ دنیا ششدر رہ گئی اور باطل لرزہ براندام ہو گیا۔ چنانچہ اس آفاقی و عالمگیر انقلاب کے نتیجے میں اسلامی سلطنت ایک وسیع و عریض رقبے پر قائم ہوئی۔ ریاست مدینہ کے قیام اور خلافتِ راشدہ سے لے کر اموی، عباسی اور فاطمی ادوار سے گزرتے ہوئے یہ سلسلہ خلافتِ عثمانیہ کے عظیم الشان عہد پر جا کر ٹھہرا۔ اگرچہ اس دوران امت کو اپنی ہی ناعاقبت اندیشیوں، اقربا پروری، داخلی و اندرونی خلفشار اور سیاسی خود غرضیوں کے سبب دل خراش سانحات سے بھی گزرنا پڑا، تاتاری یلغاریں اور صلیبی جنگیں مسلمانوں کو مٹانے کے درپے رہیں، مگر اس مدوجزر کے باوجود اسلام کا قافلہ رواں دواں رہا۔ یہاں تک کہ ظلم و بربریت، جبر اور سفاکی کے علم بردار گروہ بھی رفتہ رفتہ حلقہ بگوشِ اسلام ہو گئے اور اسی سایۂ رحمت…

Read more

امام غزالی علم و دانش کے پیکر تھے

امام غزالی علم و دانش کے پیکر تھے غلام نبی کشافیآنچار صورہ سرینگر میرا آج کا یہ خاص مضمون امام غزالی کے بارے میں ایک مختصر تعارف پر مبنی ہے ، اور جس کا مقصد صرف یہ ہے کہ آپ امام غزالی کی علمی و دینی خدمات کے بارے میں جاننے اور ان کی گراں قدر کتابوں کے مطالعہ کرنے کی طرف راغب ہوں ۔ فارس ( موجودہ ایران ) کے ممتاز عالم دین امام غزالی ( 1058ء -1111ء ) کا پورا نام ابو حامد محمد بن محمد طوسی شافعی تھا ، اور طہران کے ضلع طوس میں ہجری کلینڈر کے مطابق 450 ھ میں پیدا ہوئے تھے ۔ اللہ تعالی نے ان کو بیشمار اور گوناگوں علمی و فکری صلاحیتوں سے نوازا تھا ، اور علمی لحاظ سے ان کی جلالت کا عالم یہ ہوتا تھا کہ ان کے درس و تدریس میں روزانہ تین سو کے قریب علماء ، امراء اور روسا بالتزام حاضر ہوتے تھے ، امام غزالی فلسفہ پر ید طولٰى رکھتے تھے ، اور علم کلام میں ان کو وہی مقام حاصل تھا ، جو ارسطو کو منطق میں تھا ، ان کی ذہنی ، فکری ، علمی اور مجتہدانہ صلاحیتوں کی وجہ سے ان کی ساری زندگی حصول علم کے ساتھ ساتھ مطالعہ و تحقیق میں گزری ہے ، اور ان کے زمانے میں مسلمانوں میں عقائد کے حوالے سے جو بگاڑ پیدا ہوگیا تھا ، اور اخلاقیات میں بھی وہ تنزل کے شکار تھے ، تو ان کے لئے وہ ہر وقت فکر مند رہتے تھے ، اور اپنی تحریروں اور تقریروں کے ذریعہ ان کی اصلاح کی کوشش کرتے تھے ۔ چنانچہ اس سلسلہ میں انہوں نے اپنے زمانہ کے بڑے بڑے بادشاہوں اور امراء کو خطوط لکھ کر انہیں اصلاح عقائد کی دعوت دیتے تھے ۔ امام غزالی نے بہت سی ضخیم کتابیں لکھی ہیں ، لیکن ان کی مشہور کتاب ” احیاء علوم الدین ” ہے ، اور بعد میں یہی کتاب ان کی پہچان بھی بن گئی ہے ، اور آج بھی اس کتاب کو…

Read more

اردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانی

اردو صحافت کے امین ۔۔۔پرواز رحمانیؒ ڈاکٹر سراج الدین ندوی چھ جنوری کی صبح جب میں نے واٹس ایپ کھولا تو ایک افسوس ناک خبر نے دل کو دہلا دیا۔ ہمارے دیرینہ دوست، معتبر صحافی اور مخلص رفیقِ کار جناب پرواز رحمانی صاحب گزشتہ رات ساڑھے نو بجے الشفا ہاسپٹل دہلی میں خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ میری اُن سے چالیس پینتالیس برس پر محیط رفاقت رہی۔ جب بھی ملاقات ہوتی، وہ نہایت عاجزی، خلوص اور انکساری کے ساتھ پیش آتے۔ موجودہ حالات، صحافت کے مسائل اور سماجی ذمہ داریوں پر سنجیدہ گفتگو کرتے اور تبادلۂ خیال کو ہمیشہ بامعنی رکھتے۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ دہلی میں اجتماعِ ارکان کے موقع پر اہلِ علم و قلم کی ایک نشست منعقد ہوئی تھی، جو اسٹیج ہی پر اعجاز اسلم صاحب کی نگرانی میں ہوئی۔ اسی نشست میں پرواز رحمانی صاحب نے خاص طور پر میرا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ “سراج صاحب کو بھی بلایا جائے، وہ بچوں کے لیے ادب تخلیق کر رہے ہیں اوران کا رسالہ اچھا ساتھی بچوں کی تربیت میں ایک مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔” مرحوم کافی عرصے سے علیل تھے۔ برین ہیمرج اور فالج کی تکلیف میں مبتلا تھے اور آئی سی یو میں زیرِ علاج تھے۔ میں اس وقت بیرونِ ملک ہوں، اس لیے ان کے آخری دیدار اور نمازِ جنازہ میں شرکت سے محروم رہ گیا، جو میرے لیے ایک مستقل حسرت بن گئی ہے۔ اردو کی اخلاقی اور اصولی صحافت کا ایک روشن چراغ آج بجھ گیا، مگر ان کی صحافتی خدمات ایسی ہیں جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنی رہیں گی۔ آج سہ روزہ دعوت اپنے چیف ایڈیٹر سے محروم ہو گیا۔ میں جب سے دعوت پڑھتا آیا ہوں، اس کے مدیران کی ایک تابناک روایت سامنے رہی ہے۔ ابتدا میں مولانا محمد مسلم صاحب اس کے ایڈیٹر تھے، جو ہندوستان کے نامور اور منجھے ہوئے صحافیوں میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے مولانا سلمان ندوی صاحب کی صحافتی تربیت کی۔ مولانا سلمان ندوی صاحب…

Read more