مسئلۂ شر اور بہوجن نفسیات
مسئلۂ شر اور بہوجن نفسیات احمد نور عینیاستاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد ابھی کچھ عرصہ قبل خدا کے وجود پر ایک علمی بحث ہوئی، جس میں منکر خدا مناظر نے خدا کے نہ ہونے پر مسئلہ ٔشر سے استدلال کیا، جسے انگریزی میں (Problem of Evil) کہا جاتا ہے، یعنی اگر خدا ہے تو پھر شر کیوں ہیں؟ کیا خدا خالق شر ہے؟ اگر خالق شر ہے تو پھر شر کے ارتکاب واکتساب پر عقاب وعذاب کیوں؟ اور کیا خدا قادر مطلق نہیں ہے؟ اگر ہے تو وہ شر کو کیوں نہیں روکتا؟ چوں کہ شر کا وجود حقیقت ہے، اور اسے خدا روک نہیں رہا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ سرے سے خدا ہے ہی نہیں، کیوں کہ اگر خدا ہوتا تو وہ شر کو ضرور روکتا۔ خلاصہ یہ کہ شر کا وجود خدا کے عدم وجود کی دلیل ہے۔ پھر اس مسئلۂ شر کی بھی دو قسمیں ہوجاتی ہیں: اخلاقی شر(Moral Evil)، اور فطری شر (Natural Evil)۔ اخلاقی شر میں وہ برائیاں آتی ہیں جنھیں انسان اپنے اختیار سے کرتا ہے، جیسے قتل، چوری، زنا، دھوکہ، جھوٹ وغیرہ، اور فطری شر میں وہ مصیبتیں آتی ہیں جو انسان کے اختیار کے بغیر وجود میں آتی ہیں، جیسے، زلزلے، سیلاب وغیرہ۔ منکر ین خدا اس مسئلۂ شر سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ خدا اگر موجود ہوتا تو وہ قتل اور ظلم کو برداشت نہ کرتا، اور زلزلے ، سیلاب وغیرہ لاکر ہزاروں انسانوں کو موت کی آغوش میں نہیں سلاتا، لیکن چوں کہ یہ سب ہورہا ہے لہذا اس کا مطلب ہے کہ خدا نہیں ہے۔مذکورہ مباحثہ میں منکر خدا مناظر نے غزہ کی مثال دے کر اسی مسئلۂ شر والی دلیل کا سہارا لیا تھا، جس کا جواب مثبت خدا مناظر نے یہ کہہ کر دیا کہ انسانوں کو خدا کی طرف سے اختیار کی آزادی (Free Will) حاصل ہے، وہ اپنے اختیار سے ظلم کر رہے ہیں۔ مسئلۂ شر کا اشکال الحاد کے اسباب میں سے ایک اہم سبب ہے، خاص کر وہ لوگ جو کسی طرح کے…
Read more