مولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوف
مولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوف از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوىآكسفورڈ7/1/2026 سوال:السلام عليكم ورحمة الله وبرکاته، جنابِ ڈاکٹر محمد اکرم ندوی صاحب!امید ہے کہ آپ بعافیت ہوں گے۔ مدتِ دراز سے دل میں ایک سوال تھا جسے عرض کرنے کی خواہش تو تھی، مگر یہ اندیشہ دامن گیر رہا کہ کہیں گستاخی یا سوء ادبی کا شائبہ نہ ہو۔ اب قدرے حوصلہ کر کے یہ سوال پیش کر رہا ہوں، اور مؤدبانہ گزارش ہے کہ میرا نام راز میں رکھا جائے۔میرا سوال یہ ہے کہ آپ تصوف پر نہایت سخت تنقید فرماتے ہیں، جب کہ آپ کے شیخِ محترم اور عصرِ حاضر کے جلیل القدر مفکر، عظیم داعی اور مصلحِ امت، حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ، خود تصوف سے وابستہ تھے اور اس سے اشتغال رکھتے تھے۔ نیز آپ ان کے مقام و مرتبہ کے معترف اور ان کے لیے گہرے احترام کے جذبات رکھتے ہیں۔ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ آپ ان کے مسلکِ تصوف کی پیروی کیوں نہیں فرماتے؟آپ کی توضیح اور رہنمائی کا منتظر ہوں۔ جواب:وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ آپ کے سوال میں سنجیدگی، خلوصِ نیت اور علمی ادب نمایاں ہے، اور یہی چیز اس بات کی متقاضی ہے کہ جواب بھی وضاحت، توازن اور اصولی انداز میں دیا جائے۔ بلاشبہ یہ موضوع نہایت تفصیل طلب ہے، اور اس پر مکمل گفتگو کے لیے خاصا وقت درکار ہے، جو اس وقت میرے پاس میسر نہیں۔ تاہم میں اختصار کے ساتھ، مگر قدرے وضاحت و شرح کے ساتھ، چند بنیادی امور عرض کرتا ہوں۔ امید ہے کہ اس سے مسئلہ اپنی اصل صورت میں واضح ہو جائے گا اور اشکال کا ازالہ ہو سکے گا۔سب سے پہلی اور بنیادی بات یہ سمجھنی ضروری ہے کہ تصوف بحیثیتِ ایک مسلک اور طرزِ فکر اسلام سے پہلے بھی موجود تھا۔ یہ کوئی ایسی چیز نہیں جو ابتدا ہی سے اسلام کے اندر پیدا ہوئی ہو۔ مختلف غیر مسلم تہذیبوں اور مذاہب میں اس کی جڑیں پائی جاتی ہیں۔ چنانچہ بدھ مت میں…
Read more