گداگری اور ہمارا رویہ
گداگری اور ہمارا رویہ 🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی آج کل ہماری مسجدوں ، مذہبی مقامات اور دینی اجتماعات کی ایک پہچان گداگروں کا ازدحام اور ایک خاص لَے اور دُھن میں ان کی طرف سے سوالیہ کلمات کی تکرار بھی ہے ، ان میں بعض کے اندر الحاح کی زیادہ صلاحیت ہوتی ہے اور آپ کے لئے ان کو نظر انداز کر کے آگے بڑھ جانا دشوار ہوتا ہے ، بعض کی جرأت رندانہ بھی قابل دید ہوتی ہے ، اگر آپ نے انھیں بھیک نہیں دی یا بھیک کی مطلوبہ مقدار نہیں دی ، تو ان کی خشمگیں نگاہ کو سہے بغیر چارہ نہیں ، کچھ ایسے فرزانے بھی ہیں ، جو آپ کو دوچار صلواتیں سنانے سے بھی نہیں چوکتے ، وہ اس طرح سوال کرتے ہیں کہ ناواقف آپ کو ان کا مقروض سمجھ بیٹھے ، مذہبی مقامات کے علاوہ سیاحتی مقامات ، ریلوے اسٹیشن ، بس اسٹینڈ اور ٹریفک سگنل کی جگہیں جہاں گاڑیوں کے رکنے کی نوبت آتی رہتی ہے ، اس گروہ کے پسندیدہ اور مستجاب مقامات ہیں ، اس لئے یہاں ان کی وافر تعداد نہ صرف موجود ہوتی ہے ؛ بلکہ کمالِ اخلاص اور کمالِ استقامت کے ساتھ صبح کی پَوْ پھٹنے سے لے کر رات گئے تک اپنے محاذ پر ڈٹی رہتی ہے ، پولیس والوں کا محصول اور گاہے ڈنڈوں کے ذریعہ ان کی تنبیہ اور دینے والوں کی ڈانٹ ڈپٹ ان کو نہ ملول خاطر کرتی ہے اور نہ ان کے پائے استقامت میں کوئی تزلزل آنے دیتی ہے، اس لحاظ سے ثابت قدمی میں وہ ایک نمونہ کا درجہ رکھتے ہیں ۔یہ گداگر بھی انواع و اقسام کے ہیں، کچھ صحت مند و توانا، کچھ واقعی مریض اور زیادہ تر مصنوعی مریض ، مریض اور معذور عام طور پر بیکار شمار کئے جاتے ہیں ؛ لیکن اس میدان میں وہ نہایت کار آمد اور مفید ہیں ؛ اسی لئے بہت سے صحت مند بھکاری نابینا اور معذور فقیروں کا تعاون حاصل کرتے ہیں اور ایک دوسرے کی مدد سے پتھر دلوں کو…
Read more

