خواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیت
خواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیت از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ7 جنورى 2026سوال:السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ جناب مولانا ڈاکٹر اکرم ندوی صاحب!عورتوں کے مسجد میں آنے کے بارے میں آپکی کیا رائے ہے اور آپ کس طرح دیکھتے ہیں اس چیز کو؟ کیوں کہ اس زمانے میں عورتیں گھر سے باہر پہلے ہی سے نکل چکی ہے تو کیوں نہ جس طرح انھیں مستورات کی جماعت میں تبلیغ میں بھیجا جاتا ہے اسی طرح سے مسجد میں بھی آنے کی اجازت اور ترغیب دلائی جائے تاکہ ان کی اصلاح و تربیت ایک منظم نظام میں کیا جاسکے، اور اس کے ذریعے عورتوں میں جو الحاد، بھگوا لو ٹریپ، لبرلزم ، فیمنزم جیسے فتنہ تیزی سے پھیل رہے ہیں اس کا خاتمہ کیا جاسکے۔میں انعام الرب ممبئی، عالیہ رابعہ کا طالب علم ہوں۔ جواب: السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ خواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیت آج کے زمانے میں ایک حقیقت جو ہم سب پر واضح ہے وہ یہ ہے کہ خواتین کی مسجد میں آمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ رواج کتنا ہی عام کیوں نہ ہو اور کتنا ہی دیرپا کیوں نہ ہو، حقیقت یہ ہے کہ یہ سنت نبویہ سے انحراف ہے۔ بعض علماء اس کو بدعت شمار كرتے ہیں۔ حضور اکرم ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانے میں خواتین کو مسجد آنے کے لیے نہ صرف اجازت تھی بلکہ انہیں ترغیب دی جاتی تھی۔ مرد نماز پڑھنے اور علم حاصل کرنے کے لیے آتے تھے، اور خواتین بھی نماز اور دینی علم کے لیے آتی تھیں۔ حضور ﷺ نے جماعت میں نماز کی فضیلت پر بارہا زور دیا، اور یہ فضیلت خواتین پر بھی مردوں کی طرح لاگو ہوتی ہے۔ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "میں اور قیامت ایسے بھیجے گئے ہیں جیسے یہ دو انگلیاں۔”تصور کریں کہ اس قول کو سننے والے صحابہ کرام کے دلوں میں کس شدت کا خوف و خشیت پیدا ہوا ہوگا۔ جو کوئی یہ سنتا،…
Read more