HIRA ONLINE / حرا آن لائن
*عورتوں کا حقِّ وراثت __ اور ___* *موجودہ ہندوستانی مسلم معاشرہ* از: محمد رضی الاسلام ندوی

کسی شخص کے مرنے کے بعد اس کی ملکیت میں رہنے والی تمام چیزیں (زمین ، جائیداد ، مکان ، دکان ، نقدی وغیرہ) اس کے قریبی رشتے داروں میں تقسیم ہوں ، اسے وراثت کہتے ہیں ۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ مختلف سماجوں میں جو شخص زور آور ہوتا ہے وہ اس پر قبضہ کرلیتا ہے اور میّت سے اپنے برابر یا اپنے سے زیادہ قریبی تعلق رکھنے والے دوسرے لوگوں کو محروم کر دیتا ہے ۔ یہ عمل صدیوں سے جاری ہے ۔ عورتیں مختلف مذاہب اور تہذیبوں میں اپنے جائز حقِ وراثت سے محروم رہی ہیں اور عموماً انھیں نظر انداز کیا گیا ہے ۔ وراثت کا حق دار صرف بڑا لڑکا ہوتا تھا اور بیوہ اور لڑکیاں اس کے رحم و کرم پر ہوتی تھیں ۔ لڑکا نہ ہوتا ، تب لڑکیاں میراث پاتی تھیں ۔ اسلام کا امتیاز یہ ہے کہ اس نے عورتوں کو سماج میں مردوں کے مساوی حیثیت دی اور انھیں بھی وراثت کا مستحق قرار دیا ۔ قرآن کریم نے پوری صراحت اورقوت کے ساتھ اس کا اعلان کیا ہے : ” مردوں کے لیے اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو اور عورتوں کے لیے بھی اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو ، خواہ تھوڑا ہو یا بہت اور یہ حصہ (اللہ کی طرف سے) مقرر ہے ۔“ (النساء : 7) اس آیت میں صاف الفاظ میں کہا گیا ہے کہ مالِ وراثت چاہے زیادہ ہو یا کم ، ہر حال میں عورتیں بھی اس میں سے حصہ پائیں گی ۔ ساتھ ہی ’مقرّر حصہ‘ کہہ کر مزید تاکید کردی گئی ہے کہ مالِ وراثت میں عورتوں کا حصہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے طے شدہ ہے ۔ اس میں کوئی کمی بیشی کی جاسکتی ہے نہ انھیں بالکلیہ محروم کیا جاسکتا ہے ۔ وارثین میں تین خواتین ایسی ہیں جو کسی بھی حال میں بالکلیہ میراث سے محروم نہیں ہوتیں : وہ ہیں ماں ، بیوی اور…

Read more

سیاحت نامۂ علمی(قسط سوم) ✍️ معاویہ محب اللہ علیگڑھ کی طرف روانگی

تاج محل کی زیارت و ملاقات سے مشرف ہو جانے کے بعد ظہرانہ کے لئے جناب ظل الرحمن صاحب کے دولت کدے کے لئے روانہ ہوگئے، بہر حال مہمان خانہ پہنچے تو چند ساعات ٹھہرنے کے بعد کھانے کے لئے بلادئے گیے، کھانا تو کھایا جو کھایا، اس کے بعد ظہر کی نماز کے لئے مسجد روانہ ہو گئے، نماز سے فراغت کے بعد اگلی منزل علیگڑھ کے لئے روانہ ہونے کی پلاننگ ہوئی، اس میں یہ طے پایا کہ چار بجے چلنے والی اے- سی بس سے علیگڑھ کے لئے روانہ ہونا ہے، بہر حال اس بس میں بیٹھنے ہی والے تھے کہ آگرہ کی معروف میٹھائی جسے ” پیٹھے” کہا جاتا ہے لے لیا، میٹھا کھاکر سوگئے، پھر اٹھے دوبارہ ناشتہ کیا، ان سب ناز نخروں میں غروب کے وقت علیگڑھ تھے، یہ تھے آگرہ میں گزارے ہوئے آخری لمحات اور علیگڑھ کی آمد آمد ! علیگڑھ آنے سے قبل ہی ہم نے عزیز دوست اور رفیقِ درس مفتی اسجد حسن ندوی کو فون ملایا ، اللہ تعالی ” مدرسۃ العلوم الاسلامیہ” کو دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی نصیب فرمائے اور رفیقِ محترم مفتی اسجد حسن ندوی صاحب کو جزائے خیر عطا فرمائے ! علیگڑھ میں قیام وآرام کا یہی ایک آخری سہارا تھا جس کا اللہ تعالی نے ہمارے لئے انتظام فرمایا تھا۔ مدرسۃ العلوم الاسلامیہ لندن سے واپسی کے بعد سر سید احمد خاں نے علیگڑھ میں کالج قائم کرنے کا ارادہ کیا تھا، اسی ارادہ کی تکمیل کے لئے ابتداء میں ’’مدرسۃ العلوم‘‘ کے نام سے عصری ادارہ ودانش گاہ کی بنیاد ڈال دی، جو بعد میں جاکر پہلے ’’ اینگلو اورینٹل کالج‘‘ اور آخر میں ’’مسلم یونیورسٹی علیگڑھ ‘‘ کے نام سے معروف ہوا۔ علیگڑھ میں واقع ’’مدرسۃ العلوم الاسلامیہ‘‘ بھی وہی سرسید کے قائم کردہ ’’مدرسۃ العلوم‘‘ کی بھولی بسری یاد ہے، مدرسۃ العلوم ایک کالج اور عصری تعلیم کا ادارہ تھا، لیکن علیگڑھ کے غیور مسلمانوں نے اسی نام سے دینی وعلمی ادارہ کا دوبارہ احیاء کیا، آج کل وہ ندوۃ العلماء لکھنؤ کی شاخ کے طور…

Read more

پارلیمنٹ کی مسجد : ایک تعارف معصوم مرادآبادی

حالیہ پارلیمانی انتخابات میں نئی دہلی کی جامع مسجد کے امام مولانا محب اللہ ندوی رامپور سے لوک سبھا کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔وہ کسی مسجد کے پہلے امام ہیں جنھیں پارلیمنٹ کی رکنیت ملی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس مسجد میں لوگوں کی دلچسپی بڑھی ہے اور وہ اس کی طرف متوجہ ہوئے ہیں۔یہ مسجدپارلیمنٹ کے بہت نزدیک واقع ہے ۔میں تقریباً 42 برسوں سے اس مسجد میں نمازجمعہ ادا کرتا رہا ہوں، اس لیے اس سے میری بہت سی یادیں وابستہ ہیں،ملاحظہ فرمائیں۔ ریڈ کراس روڈ کے آخری سرے پر واقع اس مسجد کو عام طورپر پارلیمنٹ کی مسجدکے نام سے جانا جاتا ہے، لیکن 1940 کے سرکاری گزیٹر میں یہ’مسجد کونسل ہاؤس‘ کے نام سے درج ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس کی عمارت کو اس زمانے میں کونسل ہاؤس ہی کہا جاتا تھا۔مسجد کے مغرب میں سابق صدرجمہوریہ فخرالدین علی احمد کی آخری آرام گاہ بھی ہے۔ میں جب1982 میں آل انڈیا ریڈیو کے جریدے ”آواز“سے وابستہ ہوا تو جمعہ کی نماز اسی مسجد میں ادا کرتا تھا۔ اس کے بعد جب پارلیمنٹ کی کارروائی کی رپورٹنگ شروع کی تو اجلاس کے دوران نماز جمعہ پابندی سے ادا کرنے لگا۔عام طور پر یہاں مرکزی حکومت کے مسلم ملازمین جمعہ کی نماز اداکرتے ہیں، لیکن جب پارلیمنٹ کا اجلاس ہوتا ہے تو یہاں کی چہل پہل بڑھ جاتی ہے۔ کیونکہ یہاں اکثر مسلم ممبران پارلیمنٹ، وزراء اور دیگر سیاست داں نماز جمعہ ادا کرنے آتے ہیں۔ یہاں نماز پڑھنے کا ایک مقصد اہم شخصیات سے ملاقات کا شوق بھی ہوتا ہے۔لیکن یہاں میں نے کچھ عبرتناک مناظر بھی دیکھے ہیں، جن کا تذکرہ آگے چل کر آئے گا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ جب کبھی مسلم ملکوں کے سربراہ ہندوستان کے دورے پر آتے ہیں تو وہ بھی یہیں نمازجمعہ ادا کرتے ہیں۔ اندرا گاندھی کے دور میں جب پاکستان کے صدر ضیاء الحق ہندوستان آئے تھے تو انھوں نے بھی جمعہ کی نماز اسی مسجد میں ادا کی تھی۔یہ بات بھی کم دلچسپ نہیں ہے کہ 1940 میں سنی اوقاف دہلی کے صدر لیاقت…

Read more

عشرہ ذی الحجہ میں کرنے کے کچھ کام

ذو الحجہ کا مہینہ شروع ہوگیا ہے ، یہ اسلامی کیلینڈر کے حساب سے آخری مہینہ ہے ، اس مہینے کے بعد ایک نئے سال کا آغاز ہو جائے گا ، یہ مہینہ دوسرے تمام مہینوں سے مختلف اور فضیلت کے حامل مہینہ ہے، اس میں جہاں حج جیسی اہم عبادت کی ادائیگی لوگ کرتے ہیں تو دوسری طرف کڑوروں کی تعداد میں لوگ قربانی یعنی سنت ابرہیمی کو زندہ کرتے ہیں ، لیکن قربانی سے پہلے ابتدائی دس دن بھی بہت ہی اہم ہیں ، قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے سورہ فجر کی ابتدا میں دس راتوں کی قسم کھائی ہے ، ارشاد ربانی ہے ، ” و الفجر و ليال عشر ” عام طور پر مسفرین ان دس راتوں سے ذو الحجہ کی ابتدائی دس رات مراد لیتے ہیں ، حج کا ایک اہم رکن ہے وقوف عرفہ ہے جس کی ادائیگی بھی اسی دس دن میں کی جاتی ہے ، وقوف عرفہ کا دن اللہ سے خاص فضل و کرم حاصل کرنے کا دن ہے، اسی لیے احادیث میں بہت سی فضیلتیں وارد ہوئی ہیں ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "مامن ايام العمل الصالح فيهن احب الی الله من هذه الايام العشرة قالوا يارسول الله ولا الجهاد في سبيل الله، قال ولا الجهاد في سبيل الله الا رجل خرج بنفسه وماله فلم يرجع من ذلک بشئی” [رواه البخاري، وهذا لفظ أبي داود وغيره] "ان دس دنوں (عشرہ ذی الحجہ) میں اللہ تعالیٰ کے حضور نیک عمل جتنا پسندیدہ و محبوب ہے کسی اور دن میں اتنا پسندیدہ و محبوب تر نہیں۔ صحابہ کرام نے عرض کی یارسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم! اللہ کے راستہ میں جہاد بھی نہیں، فرمایا جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں۔ ہاں وہ شخص جو اپنی جان اور مال کے ساتھ نکلا اور کچھ لے کر گھر نہ لوٹا” حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ما…

Read more

قربانی کی فضیلت و اہمیت

قربانی کی فضیلت: قرآن و حدیث کی روشنی میں: قربانی ایک اہم اور عظیم الشان عبادت ہے ، قربانی حضرت ابراہیمؑ علیہ السلام اور ان کے بیٹے حضرت اسمٰعیلؑ کی سنّت اور اسلام کا شعار ہے ، اس عبادت پر ہمیشہ سے ہر مذہب و ملت کا عمل رہا ہے ، قرآن مجید میں ایک جگہ ارشاد ہے، وَ لِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَکًا لِّیَذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ عَلٰی مَا رَزَقَہُمْ مِّنْۢ بَہِیْمَۃِ الْاَنْعَامِ ؕ فَاِلٰـہُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ فَلَہٗۤ اَسْلِمُوْا ؕ وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَ۔ ( الحج)ت ترجمہ : اور ہر اُمت کے لئے ہم نے قربانی مقرر کردی ہے ؛ تاکہ وہ اللہ کے دیئے ہوئے چوپایوں پر ( ذبح کرتے وقت ) اللہ کا نام لیا کریں لہٰذا تم لوگوں کا خدا ایک ہی خدا ہے ، اسی کی فرمانبرداری کرو اور ( اے رسول !احکام خداوندی کے سامنے ) گردن جھکادینے والوں کو خوشخبری سنادیجئے ۔ قربانی کا عمل گرچہ ہر امت میں رائج رہا ہے ، لیکن ملت ابراہیمی میں اس کا خاص مقام ہے، اس لیے اس کو سنت ابراہیمی کہا جاتا ہے، حدیث میں اس کے بے شمار فضائل وارد ہوتے ہیں، قربانی کا ثواب بہت بڑا ہے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’ قربانی کے دنوں میں قربانی سے زیادہ کوئی چیز اﷲ تعالیٰ کو پسند نہیں، ان دنوں میں یہ نیک کام سب نیکیوں سے بڑھ کر ہے اور قربانی کرتے وقت خون کا جو قطرہ زمین پر گرتا ہے تو زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی اﷲ تعالیٰ کے ہاں قبول ہوجاتا ہے۔‘‘ (مشکوٰۃ) آپ ﷺ کا فرمان ہے: ’’ قربانی کے جانور کے بدن پر جتنے بال ہوتے ہیں ، ہر ہر بال کے بدلے ایک ایک نیکی لکھی جاتی ہے۔‘‘ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ قربانی تمہارے باپ ( ابراہیمؑ) کی سنت ہے۔ صحابیؓ نے پوچھا: ہمارے لیے اس میں کیا ثواب ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ ایک بال کے عوض ایک نیکی ہے۔ ‘‘ اُون کے متعلق فرمایا: ’’ اس کے ایک بال کے عوض بھی ایک نیکی ہے۔‘‘ ( ابن ماجہ)…

Read more

سیاحت نامۂ علمی (قسط دوم) ✍️ معاویہ محب اللہ

جوں ہی بحث تمام ہوئی کہ ٹرین آگرہ پہنچ گئی، چونکہ رفیقِ محترم مولانا صفوان صاحب کے آگرہ میں مراسم وتعلقات تھے، انہوں نے اپنی تدریس کے ابتدائی ایام میں آگرہ کی سرزمین پر بھی خدمات انجام دی ہے، لہذا آگرہ کے کرم فرما جناب ظل الرحمان صاحب پہلے سے ہی ریلوے اسٹیشن پر ہمارے استقبال کے لئے موجود تھے، اللہ تعالٰی انہیں شاد وآباد رکھیں ! بیچارے آٹو رکشہ سمیت ہمارے لئے پلکیں بچھائے کھڑے تھے، اسٹیشن سے اپنے گھر لے گئے آگرہ کی روایت کے مطابق میزبانی کے فرائض بحسن وخوبی ادا کئے۔آگرہ میں شاہی شہر کا روایتی ناشتہ کیا، ایسا محسوس ہورہا تھا کہ دوپہر کا کھانا ہی قبل از وقت ہمارے استقبال کے لئے رکھا گیا ہے، لیکن معلوم ہوا کہ آگرہ کا روایتی ناشتہ ہی یہی ہوتا ہے، سب سے پہلے گرما گرم مسالہ دار بریانی سے تواضع کی گئی، اور "پُری بھاجی” نے تو ہمارا صرف دل ہی نہیں پیٹ بھی جیت لیا، اَور تو اَور گرم گرم میٹھی میٹھی چاشنی سے لبریز جلیبی نے تو کم از کم اس وقت دوسرے ناشتہ کی خواہش کو ہی سرد کردیا، انتہائی دلچسپ، لذیذ اور فرحت بخش استقبالیہ رہا۔ بس یہی مختصر کارروائی کے بعد آگرہ کی وہ اصل یادگار جس کے لئے سیاح وزائرین دور دراز ممالک سے سفر کرکے آتے ہیں روانہ ہوگئے، بڑی ناسپاسی ہوگی اگر جناب ظل الرحمن صاحب کا شکریہ ادا نہ کیا جائے، کیونکہ اس بندۂ خدا نے گویا ہمارے لئے اپنی آٹو رکشہ کو گویا ایک دن کے لئے وقف کردیا تھا، ریلوے اسٹیشن سے مہمان خانہ آنے تک، تاج محل جانے سے واپس لینے آنے تک ہرجگہ اور ہرمحاذ کے لئے ہمارے سامنے اپنی آٹو کو پیش کردیا تھا، اللہ تعالٰی ان کے رزق ومال میں برکت نصیب فرمائے۔ تاج محل تاج محل میں صدر دروازے سے داخل ہونے سے پہلے پہلے راستہ کے دونوں طرف دوکانیں سجی ہوئی ہیں، جس میں مختلف قسم کے چَھلّے (چابی کا کچن) اور تاج نُما انواع واقسام کے پیپر ویٹ، ماڈل، تصاویر اور لائٹ لگے ہوئے گلاس…

Read more