HIRA ONLINE / حرا آن لائن

Quranic Arabic Grammar Course

کرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکام

نام کتاب : کرپٹو کرنسی حقیقت ماہیت اور احکام مصنف: سالم برجیس ندوی ناشر: ادارہ تحقیق و تصنیف اسلامی ، علی گڑھ از : اسجد حسن ندوی زمانہ جب کروٹ بدلتا ہے تو اس کے اثرات محض معاشروں کی ظاہری ہیئت پر نہیں پڑتے، بلکہ فکر و دانش کے پورے نظام میں ہلچل پیدا ہو جاتی ہے۔ جدید دنیا اسی تغیر کے دوش پر ایک نئی اقتصادی حقیقت کی طرف بڑھ رہی ہے، جہاں زر کی تعریف، اس کا استعمال اور اس کی حیثیت نئی معنویت اختیار کر چکی ہے۔ کرپٹو کرنسی اسی تغیر کا وہ تازہ باب ہے جس نے روایتی معیشت کو غور و فکر کے ایک نئے دائرے میں داخل کر دیا ہے۔ اب کرنسی نوٹوں یا سکّوں تک محدود نہیں رہی؛ وہ برقی لہروں، کوڈز اور ڈیجیٹل سلسلوں میں جلوہ گر ہے، اور انسانی مالیات کے لیے نئے سوالات اور نئی جہتیں پیدا کر رہی ہے۔ زیرِ نظر کتاب اسی ضرورت کا ایک جامع اور متوازن علمی جواب ہے، جس کے مصنف میرے محترم سینئر مولانا سالم برجیس ندوی ہیں۔ یہ ان کی پہلی تصنیف ہے، مگر اُس پختگی، تحقیق اور مطالعہ سے مزین ہے جو ایک سنجیدہ قلم کار کے اندازِ فکر کی پہچان ہوتی ہے۔ مجھے یاد ہے، برہان پور میں کرپٹو کرنسی کے موضوع پر منعقدہ فقہی سیمینار میں پہلی مرتبہ سالم بھائی سے مفصل گفتگو ہوئی تھی۔ انہوں نے اپنے مقالے کا ذکر کیا اور اس شعبے میں اپنی دلچسپی کا اظہار کیا۔ وہیں سے اندازہ ہوا کہ یہ موضوع اُن کے تحقیقی سفر کا ایک اہم سنگ میل بننے والا ہے۔ بعد ازاں جب میں علی گڑھ آیا تو معلوم ہوا کہ سالم بھائی اس مقالے کو مزید وسعت دے کر کتابی شکل دینے میں مصروف ہیں۔ اور آج، الحمدللہ، وہ محنت رنگ لائی اور یہ کتاب تیار ہوکر قارئین کے سامنے آگئی۔ اللہ کا شکر ہے کہ آج شام سات بجے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بُک فیئر میں اس کتاب کی رسمِ اجرا ہونے جا رہی ہے—جو مصنف کے لیے بھی ایک اعزاز ہے اور…

Read more

سہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(٢)

سہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(٢) ہزاروں سال اپنی بے نوری پہ روتی یےبڑی مشکل. سے ہوتا چمن میں دیدہ ور پیدا فقیہ العصر، حضرت مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی حفظہ موفق و مؤید من اللہ شخصيت ہیں، فقہ و فکر کی جامعیت اور دوراندیشی اور دور بینی ان کی فطرت ہے، انہوں نے قلم و قرطاس کے ساتھ میدان عمل میں مسلمانوں کی رہنمائی کا کام انجام دیا ہے، وہ بیک وقت علم کے سپہ سالار اور فکر کے غازی ہیں، حکمت و دانائی ان کے وجود کا حصہ ہے، جرات و ہمت اور دل بری و دل نوازی ان کی شرست ہے، مولانا اس وقت مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر ہیں اور اس سے قبل پرسنل لا بورڈ کے علاوہ مختلف تنظیم و تحریک سے وابستگی رہی ہے؛ بلکہ آپ کا یہ کہنا بجا ہے کہ ہندوستان کی تحریکیں ان کے ساتھ جوان ہوئی ہیں، اس اعتبار سے آپ ہوا کا رخ سمجھتے ہیں، وقت کی نزاکت اور ضرورت سے باخبر رہتے ہیں، بالخصوص فاشزم اور ہندواحیائت کے رگ و ریشہ سے واقف ہیں، مولانا نے کئی مرتبہ یہ احساس دوہرایا ہے کہ اس وقت سب سے زیادہ ہندوازم کی متضاد تعلیمات اور ان کے ضال ومضل افکار پر کام کرنے کی ضرورت ہے، خصوصاً طبقہ واریت اور خواتین کے سلسلہ میں ان کی بے اعتدالیاں عام بیانیہ کا حصہ بنانا چاہئے؛ تاکہ حقیقت سے لوگ واقف ہوسکیں، یہ پروپیگنڈہ بھی دور ہو کہ یہ سب کچھ ثانوی درجہ کی چیزیں ہیں، نہیں یہ ان کی مقدس سمجھی جانے والی کتابوں میں موجود ہے اور ان کا سماجی ڈھانچہ اسی کے تانے بانے سے بنتا ہے، چنانچہ ایک طرف مسلمانوں پر ہورہے فکری یلغار اور دوسری طرف ہندوازم کی کھوکھلی تعلیمات کا غیر ضروری شہرہ کا تقاضہ تھا کہ اس کے خلاف خاکہ سازی کی جائے اور ملت کی رہنمائی میں کوئی فروگذاشت نہ رکھی جائے، بلاشبہ یہ فقیہ العصر کے شایان شان تھا کہ وہ اس پہلو پر پہل کریں اور ملک میں…

Read more

سہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(١)

سہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(١) از: محمد صابر حسین ندوی سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہماراہم بلبلیں ہیں اس کی، یہ گلستاں ہمارا شاعر مشرق علامہ اقبال رحمہ اللہ نے جب یہ ترانہ ہندی کہا ہوگا تو ان کے خواب و خیال میں بھی نہ رہا ہوگا کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب اس گلستاں کیلئے کی گئی کاوشیں، باغبانی، شب و روز کی کد و جد پر سوال کے دائرے میں آجائے گا اور کوئی ہمارا حق تسلیم کرنے کو تیار نہ ہو گا، ہمیں ہماری جاں فشانی، محبت و رواداری اور عزیمت کی داستانیں سنانی پڑیں گی، لوگوں کو جھنجھوڑنا پڑے گا، ان کے کانوں اور دلوں پر دستک دینے کی مہم چلانے پڑے گی کہ وہ جان جائیں کہ کس باغبان کی بات ہورہی ہے، سوچنے کی بات ہے کہ ہم اس حقیقت کو دہرانے کی بات کر رہے ہیں جو سورج سے زیادہ روشن اور کوہسار و آبشار سے زیادہ صاف و شفاف ہے، اسلام اور مسلمانوں کی آمد سے قبل؛ جس ملک میں چھوت چھات، ذات پات کی جڑیں مذہب کے ساتھ جڑی ہوں، جہاں معاشرہ بندی اس طرح کی گئی ہو کہ کسی ایک طبقہ کو سر اٹھانے کی ہمت نہ ہو اور ایک گروہ خود کو خدا بلکہ اس سے بڑھ کر قوت و حیثیت اور پیدائشی حق کا مالک گردانا جاتا ہو، انسان کو انسان نہ قبول کیا جاتا ہے، شودر کو ایک جانور کے بدلے قتل کرنا اور اسے ثواب سمجھنا مذہب کا حصہ ہو، خواتین ستی کردی جاتی ہوں، مردوں کو عورتوں پر ایسے فوقیت ہو کہ گویا وہ سامان اور شئی بے جان ہوں؛ ان کے درمیان جنگ وجدال مذہبی اعتبار سے چلی آرہی ہو، ان کے دیوی دیوتا آپس میں دست گریباں ہوں اور ان کو ماننے والے گرنتھ، شلوک اور کھنڈ کے نام پر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوں، ایسے میں سماج کو اسلام نے اپنے عقیدہ، سلوک و تعلیمات اور انسان دوستی و انسانیت نوازی سے گلستاں بنا دیا ہو،…

Read more

ہندوستانی مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہو ؟

ہندوستانی مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہو ؟ کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حقمیں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725 وحدت و اجتماعیت میں ہی ہمارے مسائل کا صحیح حل ہے، ہندوستان میں ہم مسلمان اقلیت میں ہیں، یہاں ہم کو کس طرح ملی اجتماعی اور سیاسی زندگی گزارنی ہے، اس مضمون میں اکابر کی تحریروں کی روشنی میں مناسب حل اور تجزیہ پیش کیا گیا ہے، قارئیکان سے درخواست ہے کہ اس پر مناسب تبصرہ و تجزیہ بھی پیش فرمائیں ، ضروری نہیں ہے کہ مضمون نگار کے سارے آراء سے اتفاق ہی کیا جائے ۔ م ق ن غیر مسلم ممالک میں آباد مسلم اقلیتوں کی اجتماعی، ملی ،سیاسی اور تنظیمی زندگی کس طرح اور کیسی ہو؟ اس پر گفتگو کرنا، اور اس پہلو سے عوام الناس کی رہنمائی کرنا موجودہ حالات میں بہت زیادہ ضروری ہے ۔ غیر مسلم ممالک جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں وہاں ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ سب اجتماعی زندگی گزاریں، وحدت و اجتماعیت کو اپنا نصب العین بنائیں اور اس وحدت و اجتماعیت کو مضبوط کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں ،کسی صاحب علم و بابصیرت شخص کو اپنا مقتدیٰ اور امیر بنا لیں جو ارباب حل و عقد کے مشورے سے زندگی کے تمام میدانوں میں مسلمانوں کے لیے منصوبہ سازی کرے اور لائحہ عمل متعین کرے اور کسی امیر پر متفق نہ ہونے تک اصحاب فہم و فراست ارباب اخلاص و تقویٰ افراد پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے، جو اجتماعی زندگی اور ملی مسائل میں امت مسلمہ کی رہنمائی کرے اور بدلتے ہوئے حالات میں لائحہ عمل طے کرتی رہے ،اجتماعیت اور اعتصام بحبل اللہ اسلام میں مطلوب ہے ،جماعت اور اجتماعیت کے بغیر مسلمانوں کا زندگی گزارنا اپنے دینی ملی اور قومی تشخص کو خطرے میں ڈالنا ہے، قرآن نے کہا ہے،، واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا ،(آل عمران)اللہ کی رسی کو یعنی اس کے دین کو مضبوطی سے پکڑوا اور تفریق کا شکار…

Read more

🔰ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل۔

🔰ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل۔ المعہد العالی الاسلامی میں منعقدہ سہ روزہ سمینار کا اختتام مولانا عتیق بستوی، مولانا خالد سیف اللّٰہ رحمانی اور دیگر کے خطابات ، مختلف تجاویز کی منظوری حیدرآباد،23نومبر(پریس نوٹ) المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد کے زیر اہتمام منعقدہ قومی سیمینار بہ عنوان :”بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار”بتاریخ 21، 22، 23 نومبر 2025ء میں مختلف موضوعات پر 60 سے زائد مقالات پیش کئے گئے، سیمینار اس ناقابل انکار حقیقت کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے کہ ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل ہے، سیمینار کی مختلف نشستوں میں ملک کے علماء ودانشوران، مؤرخین، ماہرین تعلیم، محققین اور سماجی وسیاسی رہنماؤں نے اپنی وقیع آراء سے یہ حقیقت اجاگر کی کہ مسلمان نہ صرف اس ملک کے معمارِ اوّل رہے ہیں بلکہ آج بھی اس کے استحکام، امن اور ترقی کے ضامن ہیں۔ان علمی وفکری مباحث کے نتیجے میں جو نکات سامنے آئے، ان کی روشنی میں درجِ ذیل تجاویز وسفارشات اتفاقِ رائے سے پیش کی جا رہی ہیں تاکہ یہ سیمینار محض علمی نشست نہ رہے بلکہ ایک فکری تحریک اور عملی منشور کی صورت اختیار کرے۔ اختتامی نشست میں جناب اقبال احمد انجینیئر معزز ٹرسٹی معہد نے یہ تجاویز پڑھ سنائے ،تجاویز و سفارشات -بھارت کی تعمیر وترقی میں مسلمانوں کا کردار محض ماضی کی داستان نہیں بلکہ مستقبل کی ضمانت ہے۔ہم دعا گو ہیں کہ یہ تجاویز گفتار سے نکل کر کردار میں ڈھلیں، علم سے عمل میں منتقل ہوں، اور ہمارے ملک کی وحدت، ترقی، اور امن کا ذریعہ بنیں۔مولانا عتیق بستوی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ مسلمانوں کے مذہبی رہنماؤں نے ہر دور میں اتحاد بین المذاہب کی کوششیں کی اج بھی اس کی جدوجہد جاری ہے یہ بات ضرور ہے کہ مذہب وحدت کے نام پر مسلمان اپنے مذہبی تشخص اور دین کے بنیادی عقائد اور تعلیمات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتے اس موقع پر…

Read more

اسلام میں سود کی حرمت قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائی

1. تمہید … اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسانی معاشی و سماجی زندگی کے ہر پہلو کو پاکیزگی، عدل اور خیر کے اصولوں پر قائم کرتا ہے۔ انہی اصولوں میں سے ایک عظیم اصول سود (ربا) کی حرمت ہے، جسے اسلام نے نہایت شدت کے ساتھ ممنوع قرار دیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: قالوا: إِنَّمَا البَيعُ مِثلُ الرِّبَا… وَأَحَلَّ اللَّهُ البَيعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا(البقرہ 275) “سود خور کہتے ہیں کہ تجارت بھی سود ہی کی طرح ہے، حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔” 2. اسلام میں سود کی شدید حرمت جو آیات میں نے تلاوت کیں، ان میں اللہ تعالیٰ نے سود کی حرمت کو نہایت سخت الفاظ میں بیان کیا ہے۔اسلام نے بہت سی چیزوں کو حرام کیا، لیکن ربا کی حرمت کو ایسے انداز میں بیان کیا گیا جیسا کسی اور گناہ کے بارے میں نہیں۔ حدیث شریف رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اللہ نے سود کھانے والے، سود دینے والے، سود لکھنے والے اور اس کے گواہوں — سب پر لعنت کی۔”(صحیح مسلم) یہ اس گناہ کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ 3. ربا (سود) کی تعریف — What is Riba? لغوی معنی: ربا: زیادتی، بڑھوتری، اضافہ۔ اصطلاحی معنی (Shariah Definition): "ہر وہ نفع جو قرض کے بدلے بغیر کسی حقیقی عوض کے لیا جائے، وہ سود ہے۔” عام مثال: آپ نے کسی کو 100 روپے قرض دیے اور شرط لگائی کہایک مہینے بعد 120 روپے واپس کرنے ہوں گے۔یہ 20 روپے اضافہ سود ہے اور قطعی حرام ہے۔ 4. بغیر شرط کے زیادتی — سود نہیں اگر کوئی شخص خوشی سے قرض لوٹاتے وقت زیادہ دے دے تو یہ جائز ہے۔نبی کریم ﷺ نے بہتر اونٹ واپس کیا اور فرمایا: “تم میں بہترین وہ ہے جو قرض اچھے طریقے سے ادا کرے۔”(صحیح بخاری) 5. موجودہ معاشرے میں ربا کی صورتحال ہمارے معاشرے میں: ✔ سود لینا✔ سود دینا✔ سودی کاروبار✔ بینکوں سے سودی قرض✔ فنانس کمپنیوں سے سودی معاہدے — یہ سب عام ہو چکا ہے، اور لوگ اسے غلط بھی نہیں سمجھتے۔ بہت سے…

Read more