HIRA ONLINE / حرا آن لائن
کتاب و سنت کی روشنی وقف کی اہمیت

جہاں تک وقف کی کتاب وسنت کی روشنی میں اہمیت ہے تو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی جن جن آیات میں خرچ کرنے کا حکم فرمایا ہے؛ وہاں مسکینوں ، بیواؤں ، یتیموں وغیرہ پر اللہ پاک نے خرچ کرنے کا حکم فرمایا ہے، جناب نبی اکرم ﷺ نے خود وقف فرمایا، آپ کے صحابۂ کرام نے جب آپ ﷺ سے وقف کرنے کی درخواست کی سب سے پہلے حضرت عمر نے خیبر کی زمین جو آپ کو ملی تھی اس کو وقف کرنے کا اللہ کے رسول ﷺسے ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ بیچا نہیں جائے گا۔ (بخاری: کتاب الشروط، باب الشروط في الوقف) بہت سارے اصول اور آداب آپ ﷺ نے ذکر فرمائے اور اسی سے ہمارے علماء مجتہدین نے وقف کے مسائل مستنبط فرمائے، سید نا حضرت عثمان نے بیر رومہ کو مدینہ منورہ میں وقف فرمایا، حضرت امام شافعی فرماتے ہیں کہ جس وقت مجھے مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ میں اپنی ایک جائیداد وقف کرنے کی تمنا پیدا ہوئی کہ میں خریدوں اور وقف کروں، حضرت امام شافعی فرماتے ہیں کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں کوئی جگہ ایسی نہیں تھی جس کو میں وقف کروں، ساری وقف ہو چکی تھی، حضرت ابن قدامہ فر ماتے ہیں کہ صحابۂ کرام میں سے کوئی بھی صحابی ایسے نہیں تھے کہ جن کو اللہ پاک نے وسعت دی ہو اور انہوں نے اللہ کی راہ میں وقف نہ کیا ہو، مخریق یہودی جو اچھے آدمی تھے، غزوہ احد میں شہید ہوئے، وصیت کی کہ میرا سارا مال آپ ﷺ کے حوالہ ہے، آپ ﷺنے اس کو وقف کیا، یہ اسلام کا اول وقت ہے۔ ابن رجب کہتے ہیں کہ میں نے دمشق میں ۴۰۰ مدارس وقف دیکھے، مساجد قرطبہ، قزوین کی مراکش، جامع از هر، مسجد اموی، تیونس کی زیتونیہ یہ تمام اوقاف تھی، مدرسہ بھی ساتھ میں ہوتا تھا، کتب خانے وقف تھے، غسل خانے،رہائش گاہ، ڈاکٹر غزالی، امام نووی انہیں مدارس میں پڑھے، حضرت عمرؓ نے عراق کی بیوہ عورتوں کے لیے معاش کے انتظام…

Read more

عمل صالح کا اچھا اثر

آج ہمارے معاشرے میں جو خرابی ،بد خواہی ،بدسلوکی،کردار سوزی اور حق تلفی ہے ، اس کی بنیادی وجہ ایمان اور خوف خدا اور تقویٰ کی کمی کے ساتھ ساتھ عمل صالح سے بے توجہی ہے ، لوگوں نے ایمان واسلام کے دائرے کو مسجد و مدرسے کے حد تک محدود کردیا ،بلکہ اکثر مسلمان کی سوچ یہ ہے کہ معاملات کی دنیا میں ہم آزاد ہیں ،جس طرح چاہیں زندگی گزاریں،معاملات میں ازد ہیں کوئی بات نہیں ،ظاہر ہے یہ سوچ بہت منفی سوچ ہے،یہی وجہ کہ آپس میں دوری،نفرت زیادہ ہوتی جارہی ہے ،محبت و انسیت کی فضا کم ہوتی جارہی ہے ،قریب کے لوگ دور ہورہے ہیں ،اور دور کے لوگ قریب ۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب لوگوں کے اعمال درست تھے تو ان کے قائدین اور حکمران بھی اچھے تھے ،خلفائے راشدین اور عمر بن عبد العزیز جیسے نیک دل وہردل عزیز حاکم تھے ،امن وامان کی عام فضا تھی،حضرت عمربن عبد العزیز کے عہد مبارک میں امن و امان کی صورتحال یہ تھی کہ پانی کے ایک گھاٹ سے بکری اور بھیڑیا ساتھ ساتھ پانی پیا کرتے تھے ،انسان کیا جانور بھی ایک دوسرے پر ظلم نہیں کرتے تھے ۔ لیکن آج افسوس ہے کہ غزہ اور لبنان میں انسان انسان کا خون اس طرح بہا رہا ہے کہ قبرستان کی زمین دفن کے لیے تنگ ہوچکی ہے ،بنو آدم کی بے حرمتی کی جارہی ہے، حضرت مولانا علی میاں ندوی رحمۃ اللّٰہ کی بات صادق آرہی ہے کہ کوئی موذی جانور اپنے جنس کے جانور پر ظلم نہیں کرتا ،یعنی شیر شیر پر ظلم نہیں کرتا ،بھیڑیا بھیڑیا پر زیادتی نہیں کرتا ،لیکن انسان اتنا بدترین ہے وہ اپنے ہی جنس کے انسانوں کا خون بہا رہا ہے المعاذ باللہ سوال یہ ہے کہ انسان جانور سے بدتر کیسے اور کیوں ہوگیا تو اس جواب یہی ہے کہ انسانوں نے مقصد حیات اخرت کی کامیابی کو پس پشت ڈال کر دنیا کی زندگی اور عیش و آرام اور جاہ و منصب کو ہی آخرت پر ترجیح دے دی ہے…

Read more

مدارس اسلامیہ کو در پیش مسائل اور حقیقی حل

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف، پٹنہ مدارس اسلامیہ کو عصر حاضر میں جن مسائل و خطرات کا سامنا ہے، وہ داخلی بھی ہیں اور خارجی بھی،چنانچہ پہلے میں داخلی مسائل و خطرات کا ذکر کروں گا، پھر خارجی مسائل و خطرات پر روشنی ڈالوں گا، اس لئے کہ سڑک پر کنکر، پتھر بچھا ہوا ہو تو اچھے جوتے پہن کر اس پر چلنا اور آگے بڑھتے رہنا ممکن ہے، لیکن جب یہ کنکر موزے کے اندر گھس جائیں تو پاؤں بھی لہو لہان ہوتا اور چلنے کا عمل دشوار ہی نہیں کبھی کبھی تو ناممکن ہو جاتا ہے۔ داخلی طور پر ایک بڑا خطرہ اُن مدارس کو لاحق ہے جو شخصی ہیں، اور شخص واحد کے چشم وابرو کے سہارے چلتے ہیں، ان کا وجود عوام کے چندے پر منحصر ہے، لیکن ان کی زمین منقولہ، غیرمنقولہ جائیداد شخصِ واحد یا خاندان کے نام ہوتا ہے، اندیشہ ہے کہ اس شخص واحد کی موت کے بعد ان کے وارثان کی کوئی دلچسپی اس کام سے نہ ہو، اگر خاندان میں مدارس کے تعلیمی وتربیتی نظام سے دلچسپی رکھنے والا کوئی نہیں رہا تو یہ مدارس بند ہو سکتے ہیں اور ان کی آراضی اور جائیداد ترکہ میں تقسیم ہوکر ختم ہوجائے گی، اس لئے شخصی مدرسوں کی بھی ایک ایسی کمیٹی اور ایک ایسا قانونی و کاغذی دستاویز ہونا چاہئے جس کی مدد سے اس شخص کی وفات کے بعد بھی اس کام کو جاری رکھا جاسکے، کیوں کہ اس مدرسہ کی جو بھی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد ہے، وہ عوام کی رقم سے ہی حاصل کی گئی ہے یا کسی نے ادارہ کے لئے وقف کیا ہے، اس لئے شخصی مدرسوں میں بھی کاغذات مدارس کے نام ہونے چاہئے اور نجی پروپرٹی کے طورپر استعمال کا رجحان ختم ہونا چاہئے۔مدارس میں کمیٹی کے جھگڑے عام ہیں، یہ بھی مدارس کو کھوکھلا کر رہے ہیں، ملحقہ مدارس میں چوں کہ سرکار سے مراعات ملتی ہیں، اس لئے بیش تر مدارس نئی پرانی کمیٹی کے نام پر جھگڑوں کی آماجگاہ…

Read more

!قوت حافظہ کا نسخہ

ایک مجلس میں ڈاکٹر (محمود غازی رح) صاحب سے کسی نے پوچھا کہ آپ کی بہتر یادداشت کا راز کیا ہے؟ کیا کوئی نسخہ یا وظیفہ ایسا ہے جو اس چیز کے حصول میں معین ہو؟ تو اس پر، جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، فرمایا کہ مجھے کسی بزرگ نے یہ دعا بتائی تهى: "اللهم إني أسألك علما لایُنسی”، یہ بھی فرمایا کہ: آدمی کو چاہیے کہ جب ایک کتاب کو شروع کرے تو اسے پورا پڑھنے کی کوشش کرے۔ اصل بات یہ ہے کہ جس چیز کو آدمی اپنی فکر اور توانائیوں کا محور بنا لیتا ہے، وہ چیز اسے بآسانی یا درہنے لگ جاتی ہے۔ ایک تاجر کو مختلف اشیا کے نرخ اور ان میں اتار چڑ چڑھاؤ اس طرح یاد ہوتا ہے کہ دوسرے آدمی کو حیرت ہوتی ہے کہ اتنی بار یک تفصیلات اسے کیسے یاد رہ جاتی ہیں۔ قوت حافظہ اور یادداشت کے یقینا بہت سے اسباب بھی ہیں۔ ان میں طبی اسباب بھی ہوں گے، ہموم و افکار کی کمی بھی اس کا ایک ذریعہ بنتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ ایک پیدائشی اور قدرتی ملکہ بھی ہے جسے اللہ تعالی اپنے حکیمانہ نظام کے تحت تقسیم فرماتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ جب آدمی علم ہی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیتا ہے تو اسے علم سے متعلق باتیں زیادہ یاد رہنے لگ جاتی ہیں۔ جس شخصیت میں یادداشت کا یہ غیر معمولی وصف ہو، اس سے یہ سوال ضرور ہوتا ہے کہ یاد داشت مضبوط کرنے کا طریقہ کیا ہے۔ امام بخاری سے بھی یہ سوال کیا گیا کہ کیا حافظے کی کوئی دوائی ہے؟ پہلے تو امام بخاری نے جواب دیا کہ مجھے معلوم نہیں، اس لیے کہ اس طرح کی ظاہری دوائی واقعی انہیں معلوم نہیں ہوگی اور نہ ہی امام بخاری کا بے مثال حافظ ایسے کسی نسخہ کا مرہون منت تھا۔ پھر تھوڑے توقف کے بعد امام بخاری نے فرمایا: "لا أعلم شيئا أنفع للحفظ من نهمة الرجل ومدوامة النظر”، یعنی یادداشت کے لیے دو کاموں سے زیادہ کوئی چیز میرے علم کے…

Read more

مولانا سید شاہ تقی الدین ندوی فردوسی کی آپ بیتی

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف، پٹنہ ہندوستان میں جن بزرگوں کی طرف میرا د کھینچ ہے اور ان کی محبت بھی مجھے حاصل ہے ان میں ایک بڑا نام علم وفضل، تقویٰ طہارت، صلاحیت و صالحیت اور خدمات کے اعتبار سے حضرت مولانا سید شاہ تقی الدین ندوی فردوسی حفظہ اللہ (ولادت جولائی 1942ء) بن سید شاہ عنایت اللہ فردوسی (م 1/ دسمبر 1991ء) بن سید شاہ فضل حسین منیری (م 1924ء) بن سید شاہ امجد حسین (م 1921ء) کا ہے، وہ پیرانہ سالی کے باوجود پٹنہ میں نظام الاوقات کی پابندی کے ساتھ زندگی گذارتے ہیں اور عمر کی اس منزل میں بھی لکھنے، پڑھنے کا کام کرتے ہیں، عزیزوں کی خاطر داری کے لیے اس کام کو بھی قبول کر لیتے ہیں، جو بڑی محنت کا ہوتا ہے، وقت طلب ہوتا ہے، مثال کے طور پر میری کتاب ”نئے مسائل کے شرعی احکام“ کا عربی ایڈیشن ”المسائل المستجدۃ فی ضوء الاحکام الشرعیہ“ لانا تھا، تو ڈرتے ڈرتے میں نے حضرت سے اس کتاب کے مواد اور زبان وبیان دونوں پر نظر نہائی کی درخواست کی، میں جانتا تھا کہ یہ کام کس قدر مشکل ہے، آج کے دور میں جب معاصرین بھی کتابیں پڑھنا پسند نہیں کرتے، حضرت نے بڑی خوش دلی سے اس کام کو اپنے ذمہ لے لیا اور انتہائی ژرف نگاہی کے ساتھ زبان وبیان کے اعتبار سے اس پر نظر نہائی کا کام انجام دیا، روزانہ اس کتاب کے لیے دو گھنٹے مختص کئے اور چند دنوں میں اس لائق بنا دیا کہ وہ چھپ کر منظر عام پر آجائے، چھپ کر آئی تو بھی بڑے اونچے حوصلہ افزائی کے کلمات کہے، چونکہ حضرت کا اپنا مقالہ بھی عربی زبان میں ”القضایا المعاصرۃ فی فتاویٰ علماء مسلمی الشرق الاوسط“ کے عنوان سے سات سو صفحات پر مشتمل تھا، جس پر انہیں ڈاکٹریٹ (Ph.D)کی ڈگری تفویض کی گئی ہے۔ اس لیے مواد کے اعتبار سے بھی انہوں نے اس کتاب کو جانچا، پرکھا اور اطمینان کا اظہار کیا، اتنا ہی نہیں اس کتاب پر ایک…

Read more

مسلم تاریخ کے روشن دور کا ایک سنہرا باب

از : مولانا احمد الیاس نعمانی بیویوں، بیٹیوں اور گھر کی دیگر خواتین کے لیے نہایت اعلیٰ دینی تعلیم کی فکر چند روز قبل محترم مولانا ڈاکٹر رضی الاسلام صاحب ندوی کی ایک تحریر بعنوان: ‘‘خادماتِ صحیح بخاری’’ نظر نواز ہوئی، اس تحریر میں انھوں نے ایک عربی کتاب ‘‘صفحات مشرقۃ من عنایۃ المرأۃ بصحیح الإمام البخاري’’ (از ڈاکٹر محمد بن عزوز) کا تذکرہ کیا، کتاب کے مباحث کا خلاصہ چند نکات کی صورت میں پیش کیا اور پھر کتاب میں مذکور ان گیارہ خواتین کا مختصر تذکرہ تحریر فرمایا جنھوں نے زندگی کا بڑا حصہ صحیح بخاری کا درس دیتے ہوئے گزارا، اور ان سے بے شمار مردوں وخواتین نے درس لیا۔مولانا کی اس تحریر کو پڑھنے کے بعد براہ راست مذکورہ کتاب حاصل کرنے اور اس سے استفادہ کی خواہش ہوئی، اللہ کا احسان کہ کتاب آنلائن دستیاب ہوگئی، اب جو اس سے استفادہ کیا تو اس کے شروع کے دو مباحث (فصلوں) نے مسلم تاریخ کے روشن دورکا ایک نہایت زریں ورق سامنے رکھدیا، یہ زریں ورق گو کہ نہایت تابناک ہے لیکن افسوس کہ دوسروں کا تو تذکرہ کیا ہمارے جیسے ان بہت سے لوگوں کو بھی اس کی خبر نہیں جو بہر حال کسی نہ کسی درجہ میں دینی علوم سے وابستہ ہیں، مصنف نے کتاب کے اس حصہ میں تاریخ اسلامی کے ممتاز علما اور ائمہ کے بارے میں کسی قدر تفصیل کے ساتھ یہ بتایا ہے کہ وہ کیسے اپنی بیویوں، بیٹیوں، بھتیجیوں، بھانجیوں اور پوتیوں وغیرہ (یعنی اپنے گھر کی خواتین) کی نہایت اعلیٰ اور گہری دینی تعلیم کی فکر فرماتے تھے، انھیں عظیم علما وائمہ کے درس کے حلقوں میں شریک کرتے، اور اس بات کی کوشش کرتے کہ وہ بھی گھر کے مردوں کی طرح دین کا گہرا علم حاصل کریں، ہمارے اس زمانے میں جب دینی اعتبار سے ممتاز سمجھے جانے والے گھرانوں میں بھی خواتین اور بچیوں کے لیے بنیادی دینی تعلیم کو نہایت کافی سمجھا جاتا ہے اور اس بات کی بالعموم کوشش نہیں ہوتی کہ گھر کی خواتین مردوں کی مانند گہرا…

Read more