HIRA ONLINE / حرا آن لائن
*موصول خبروں کے مطابق ندوۃ العلماء کے ناظر عام اور عربی زبان کے معروف انشاپرداز وصاحب طرز ادیب مولانا سید جعفر مسعود حسنی ندوی سڑک حادثہ میں انتقال فرما گئے*

یہ خبر دل کو چیر کر رکھ دینے والی ہے کہ ندوۃ العلماء کے ناظر عام، عربی زبان کے معروف انشاپرداز اور صاحب طرز ادیب مولانا سید جعفر مسعود حسنی ندوی صاحب ایک سڑک حادثے میں انتقال فرما گئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون!یہ حادثہ صرف ایک فرد کی موت کا نہیں بلکہ علم و ادب کی دنیا کا ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ مولانا حسنی ندوی صاحب جنہوں نے اپنی انشا پردازی اور عربی زبان کے منفرد اسلوب سے دنیا کو روشناس کرایا۔ آج ہم میں نہیں رہے۔ ان کی شخصیت علم، حلم اور شائستگی کا پیکر تھی اور ان کے قلم نے ادب کو نئی بلندیوں تک پہنچایا تھا۔ان کا انتقال اس وقت ہوا جب ان کی علمی خدمات کے پھل کھانے کا وقت تھا۔ ان کے جانے سے ندوۃ العلماء کا دامن ایک ایسے چراغ سے خالی ہوگیا جس کی روشنی نسلوں کو راہ دکھاتی رہی۔یہ حادثہ نہ صرف ان کے اہل خانہ بلکہ ان کے چاہنے والوں، شاگردوں اور پوری علمی دنیا کے لیے ایک گہرا صدمہ ہے۔ مولانا کی خدمات اور ان کی یادیں ہمیشہ دلوں میں زندہ رہیں گی۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ ن

Read more

خورشید پرویز صدیقی۔بے باک صحافت کا مرد درویش۔

مفتی محمد ثناءالہدی قاسمی پھلواری شریف 9/جنو ری (پریس ریلیز)ملک کے نامور عالم دین،امارت شرعیہ کے نائب ناظم ،اردو میڈیا فورم اور کاروان ادب کے صدر مفتی محمد ثناءالہدی قاسمی نے عظیم المرتبت صحافی ،فاروقی تنظیم کی مجلس ادارت سے منسلک بے باک صحافتی،تاریخی و تجزیاتی اداریاتی نوٹس اور مضامین کے لیے پورے ہندوستان میں اپنی شناخت رکھنے والے خورشید پرویز صدیقی کی وفات پر گہرے غم و افسوس کا اظہار کیا ہے،انہوں نے فرمایا کہ میرے تعلقات ان سے اس زمانے سے تھے۔جب وہ مرحوم غلام م سرور کے دور میں سنگم سے وابستہ تھے۔ایم شمیم جرنلسٹ کی جواں سال موت کے بعد ان کے بھائی ہارون رشید کی تحریک پر ہم لوگوں نے طے کیا کہ شمیم جرنلسٹ کی یاد میں ایک یادگاری مجلہ نکالا جا ۓ ان سے قریب رہنے والے لوگوں سے مضمون لکھنے کی درخواست کی گئ۔میری پہلی ملاقات بھائی ہارون رشید کے ساتھ سنگم کے دفتر میں ہوئ۔سنگم کا دفتر ان دنوں دریاپو ر سبزی باغ میں ہوا کرتا تھا۔ان کی بود وباش بھی سبزی باغ میں تھی۔ایک زمانہ میں سبزی باغ کی کہانی کئی قسطوں میں انہوں نے لکھی تھی جو فاروقی تنظیم کے کئی شماروں میں شائع ہوئی۔ہم لوگوں کی درخواست انہوں نے قبول کر لیا۔ایک ہفتہ کا وقت مانگا۔ہمیں اعتراض کیا ہوتا،ایک ہفتہ کے بعد انہوں نے مضمون ہم لوگوں کے حوالہ کر دیا ۔عنوان لگایا تھا۔”ایم شمیم جرنلسٹ کا خط عالم بالا سے”طنز و مزاح سے بھرپور اس مضمون میں انہوں نے لکھا تھا۔کہ میں یعنی شمیم جرنلسٹ عجلت میں عالم بالا آگیا۔دو کام میں کرنا چاہتا تھا۔نہیں کر سکا ۔ایک جو اپنا(اس وقت کا) ہڑتالی موڑ ہے وہاں ایک دوکان ڈنڈے پتھر، اینٹ، روڑے بلکہ غنڈے مسٹنڈے ،لونڈوں کی کھولنا چاہ رہا تھا۔بے چارے ہڑتال کر نے والے کو یہ چیزیں گاؤں دیہات سے کرایہ پر لانی ہوتی ہے۔ پریشانی بھی ہوتی ہے اور خرچ بھی زیادہ آتا ہے ،ایسے میں تم لوگ دوکان کھول لو ،میری خواہش پوری ہو جائے گی،اور تمہارے وارے نیارے ہو جائں گے۔دوسرا کام یہ کرنا چاہتا تھاکہ خالص گھی…

Read more

"فقہ معاصر”: "فقہ مقاصد، فقہ واقع، فقہ مآلات، فقہ نوازل اور فقہ مقارن”: ایک تحقیقی مطالعہ:

ڈاکٹر مفتی محمد شاہ جہاں ندوی(قسط:1)تمہید:موجودہ دور برق رفتار ترقی کا دور ہے- یہ جدید ٹکنالوجی کا دور ہے- جس کی بدولت پوری دنیا سمٹ کر ایک گاؤں میں تبدیل ہوچکی ہے، یعنی ہم گلوبل ویلیج (global village) میں سانسیں لے رہے ہیں- اس وقت جو رائے سامنے آتی ہے، اس سے پوری دنیا یا دنیا کے ایک بڑے حصے کے با ذوق لوگوں کی اکثریت واقف ہوجاتی ہے- نیز مختلف پہلوؤں سے اس پر تنقیدی نگاہ ڈالی جاتی ہے- اس وقت ہمیں اسلامی شریعت کی نمائندگی اس طرح کرنی ہوگی جو عقل سلیم اور نقل صحیح کی کسوٹی پر درست ثابت ہو- جس سے دنیا کے سامنے اس کی جامعیت، عدل و انصاف، جسم و روح کے مطالبات، سماجی انصاف کے تقاضوں کے درمیان ہم آہنگی اور انسانی فطرت کی رعایت سامنے آئے-اسلام کے اس ہمہ گیر تصور کو پیش کرنے کی خاطر جدید مسائل کو حل کرتے وقت ہمیں ” فقہ مقاصد”، "فقہ واقع”، "فقہ مآلات” اور "فقہ نوازل” کے تقاضوں کی رعایت کرنی ہوگی- ان حقائق کے مد نظر ان موضوعات کی گہری واقفیت ضروری ہے- تو آئیے ایک نظر ان موضوعات پر ڈال لیتے ہیں-

Read more

نیت وعمل میں اخلاص–دین کا جوہر اور کامیابی کی شاہ کلید

از: ڈاکٹر محمد اعظم ندوی یہ دنیا، جسے ہم بڑے شوق سے اپنے دلوں میں جگہ دیتے ہیں اور آنکھوں میں سجاتے ہیں، اصل میں ایک دھندلا آئینہ ہے، اس آئینہ میں چمکتی ہوئی چیزوں کا عکس تو نظر آجاتا ہے، مگر وہ شے گم ہو جاتی ہے جو بہ ظاہر مدھم ہوتی ہے لیکن اندر سے اتنی ہی روشن، وہ شے جو انسان کے قلب کو جلا بخشتی تھی، روح کو سکون دیتی تھی، اور اعمال کو وہ مقبولیت عطا کرتی تھی جو زمین کے کناروں سے آسمانوں تک کا سفر طے کرتی تھی، وہ شے خلوص ہے، جو آج کے تیز رفتار دور کی بھیڑ میں کہیں کھو گئی ہے، ایک زمانہ تھا جب خلوص ایک خوشبو کی مانند ہر عمل میں رچا بسا ہوا تھا، نیتیں بارش کے قطروں کی طرح شفاف اور بے رنگ تھیں، عمل کا مقصد اللہ کی رضا تھا، نہ کہ صرف لوگوں کی داد و تحسین، عبادتوں میں وہ سچائی تھی جو زمین پر قرار پاتی تھی اور آسمانوں کی طرف اڑان بھرتی تھی، مگر آج، اسی خلوص کی راکھ کو شہرت اور نام و نمود کا طوفان اڑائے لئے پھرتا ہے، اور انسان کو مقصد سے کہیں دور لے جارہا ہے، دنیا کی ہر شے سے اگر اس کے اصل جوہر Essence کو نکال دیا جائے تو وہ ڈھانچہ اور تلچھٹ کی صورت اختیار کرلیتی ہے، جیسے شہد سے مٹھاس اور پھول سے خوشبو، یہی حال خلوص کا ہے، یہ اعمال کی روح ہے، جو انہیں معنی اور مقصد عطا کرتی ہے، لیکن آج یہ روح غائب ہے، اور اس کی جگہ ریاکاری اور خود نمائی Ostentation نے لے لی ہے:بہت ہی کم نظر آیا مجھے اخلاص لوگوں میںیہ دولت بٹ گئی شاید بہت ہی خاص لوگوں میںکسی تہذیب کے زوال کی پہلی علامت یہ ہے کہ انسان اپنی نیتوں کے ساتھ دھوکہ کرنے لگے، کچھ ایسا ہی آج ہو رہا ہے، دینی کوششیں، جو کبھی تقرب الی اللہ کا ذریعہ ہوا کرتی تھیں، اب اسٹیج کی مصنوعی روشنی سے چمک پانے کو بے تاب رہتی ہیں،…

Read more

دو مرتد لڑکیوں کی ایک ہی ہندو نوجوان سے شادی !

لکھنو کے ترون گپتا کا فضا اور ثناء سے شادی کا دعویٰ،لڑکیاں نماز کے ساتھ ہنومان چالیسہ بھی پڑھتی ہیںممبئی۔۱۷؍ دسمبر: ان دنوں لکھنو کے ایک نوجوان کا سوشل میڈیا پر انٹرویو خوب وائرل ہورہا ہے، ترون گپتا نامی شخص کا دعویٰ ہے کہ وہ ہندو ہے اور اس کی دو بیویاں ثناء انصاری اور فضا منصوری مسلم ہیں دونوں ایک ہی ساتھ ایک ہی گھر میں رہتے ہیں۔ نوجوان کاکہنا ہے کہ اس نے دو شادیاں کی ہیں اور دونوں ہی مسلم لڑکیاں تھی، نوجوان کاکہنا ہے کہ یہ دونوں شادیاں اس کی قسمت میں تھی ساتھ ہی یہ اتفاق ہے کہ اس کی دونوں بیویاں مسلم ہیں۔ تینوں نے مل کر اپنی ’لواسٹوری‘ لوگوں کے ساتھ شیئر کی ہے۔ لکھنو کا رہنے والے ترون گپتا اپنی دونوں بیویوں کے ساتھ ہی ایک ہی گھر میں رہتا ہے، ۲۰۱۶ میں ترون نے اپنی پہلی بیوی کو پرپوز کیا تھا اس کے بعد ۲۰۲۲ میں دونوں نے شادی کی، ایک سال بعد نوجوان کی دوسری لڑکی سے ملاقات ہوئی جو بھی مسلم ہی تھیں، اس کے بعد ترون نے ۲۰۲۳ میں دوسری شادی کرلی، ترون اپنی دونوں بیویوں کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتا ہے، جب دونوں بیویوں سے بات چیت کی گئی تو انہوں نے بتایاکہ دونوں بہنوں کی طرح رہتی ہیں، ساتھ ہی انہیں دوست کی کمی نہیں ہوتی۔ ترون کی دونوں بیویاں نماز بھی پڑھنے کا دعویٰ کرتی ہے، اس کے علاوہ دونوں ہندو دھرم کو بھی مانتی ہے، ہندو کے منتر پڑھنے سے انہیں کوئی گریز نہیں ہے، جب کیمرے کےسامنے دونوں کو جے شری رام پڑھنے کو کہاگیا تو دونوں نے بے دھڑک اسے پڑھا، جیسے ہی نوجوان کی لو اسٹوری سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی یہ خوب وائرل ہورہی ہے، حالانکہ کئی لوگوں نے کہاکہ یہ تینوں ہندو ہی ہیں اور صرف وائرل ہونے کے لیے جھوٹی کہانی گڑھ رہے ہیں، وہیں کئی لوگوں نے لکھا کہ اگر یہ سچ ہے تو ان لڑکیوں کو اب مسلم نہیں کہاجاسکتا، اب یہ ہندو ہوچکی ہیں۔ ویڈیو میں یہ لڑکیاں…

Read more

قرآنی تناظر میں باپ کا مقام اور کردار

از: ڈاکٹر محمد اعظم ندوی استاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد قرآن مجید "أبوّۃ” یعنی اولاد کے ساتھ باپ کے رشتہ کو انسانی رشتوں میں سب سے مضبوط اور اہم تعلق کے طورپر پیش کرتا ہے، باپ پر ہی پر مادی اور معنوی حقوق و فرائض کا دارومدار ہوتا ہے، گو کہ اس تعلق سے انسان پر کئی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، لیکن باپ ہونا حقیقت میں اللہ کی طرف سے ایک نعمت اورخصوصی عطیہ ہے، جیسا کہ رحمن کے خاص بندوں کی دعاؤں میں ایک دعا اپنے تئیں نیک وصالح اولاد کے باپ ہونے کی بھی ہے: "رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ” (الفرقان: ۷۴) (اے ہمارے رب!ہمیں ایسی بیویاں اور اولاد عطا فرمادیجئے جو آنکھوں کی ٹھنڈک ہوں)، قرآنی نمونوں میں سب سے مقدس نمونہ کبر سنی میں حضرت براہیمؑ اور حضرت زکریا ؑ کا خدا کے حضور اولاد کی عاجزانہ طلب ہے، اور بارگاہ خداوندی سے اس کی بشارتوں کا فیضان ہے۔ باپ ایک ایسا لفظ جو صرف تین حروف پر مشتمل ہے؛ لیکن اس کے معنی کی گہرائی سمندر کی وسعتوں کو شرمندہ کر تی ہے، باپ محض ایک رشتہ نہیں، بلکہ ایک سایہ دار شجر، ایک مضبوط دیوار، اور ایک غیر متزلزل بنیاد ہے، یہ اس شخصیت کا نام ہے جو اپنی ذات کی چمک کو ماند کر کے اولاد کے لیے روشن راہوں کی ضمانت دیتی ہے، اگر ماں کی محبت نرم شفق جیسی ہے، تو باپ کی محبت چھاؤں کی مانند ہے، وہ اپنی مشکل چھپائے اولاد کے دکھ سمیٹتا ہے، باپ کا کردار ہمیشہ سے ایک ان کہی داستان رہا ہے، وہ داستان جو روزمرہ کی ذمہ داریوں میں گم ہو جاتی ہے؛ لیکن اس کے بغیر زندگی کے کسی باب کا آغاز ممکن نہیں، باپ وہ معمار ہے، جو اپنے خون پسینے سے نسلوں کے مستقبل کی عمارت کھڑی کرتا ہے، اس کی خاموش دعائیں اولاد کی کامیابیوں کی بنیاد بنتی ہیں، اور اس کے دل میں پنہاں امیدیں دنیا کے بڑے بڑے خزانوں سے زیادہ قیمتی ہوتی ہیں، باپ کی محبت کو سمجھنا آسان…

Read more