Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
05.08.2026
Trending News: بینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا کیسا ہے؟مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
  • Get Started
05.08.2026
Trending News: بینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا کیسا ہے؟مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

” اسلام میں عورت کے مھر کی حیثیت اور اس کا حکم”

  1. Home
  2. ” اسلام میں عورت کے مھر کی حیثیت اور اس کا حکم”

” اسلام میں عورت کے مھر کی حیثیت اور اس کا حکم”

  • hira-online.comhira-online.com
  • اسلامیات
  • نومبر 6, 2024
  • 0 Comments

مفتی سلیم احمد خان

استاد: مدرسۃ العلوم الاسلامیہ، علی گڑھ

اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسان کی طبیعت میں فطری تقاضے ودیعت کیے ہیں، ان میں اہم تقاضا صنف نازک کی طرف میلان ہے، اس رجحان اور میلان کے ذریعے اللہ عزوجل انسان کو آزماتا ہے کہ وہ ورع و تقویٰ، اطاعت و فرماں برداری میں کس مقام پر ہے نیز نسلِ انسانی کی افزائش و تسلسل برقرار رکھنا بھی مقصود ہوتا ہے۔ اس فطری تقاضے کو افراط و تفریط سے بچانے اور اعتدال و توازن قائم کرنے کے لیے شریعت میں ایک منظّم طریقہ ‘‘نکاح’’ ہے، جس کو نہ صرف جائز؛ بلکہ مستحسن امر قرار دے کر اس کی ترغیب دی گئی ہے اور تجرّد و تنہائی کی زندگی کو ناپسند کیا گیا ہے۔

نکاح کو شریعت نے نہایت آسان سادہ اور اخراجات کے لحاظ سے سہل بنایا ہے، اسلام کے طریقۂ نکاح کا خلاصہ یہ ہے کہ دو بالغ مرد و عورت دو گواہوں کے سامنے ایک دوسرے کے ساتھ ازدواجی رشتے کو قبول کر لیں۔ نکاح کا بس یہی سیدھا سادہ طریقہ ہے، اِس میں کسی تقریب کی ضرورت ہے نہ کسی دعوت کی کوئی شرط؛ البتہ دلہن کے اکرام کے لیے مہر ضروری ہے۔

مہر انسانی عصمت کے اظہار کے لیے شریعت میں شوہر پر بیوی کا ایک خاص مالی حق ہے، جس کا مقصد بیوی کا اکرام و احترام ہے اور شریعت کا منشا یہ ہےجب کوئی شخص نکاح کر کے بیوی کو اپنے گھر لائے،اس کا اپنے شایان شان اکرام و احترام کرے اور ایسا ہدیہ پیش کرے جو اس کی عصمت و حرمت کے مناسب ہو؛ لیکن آج کل اس سلسلے میں ایک غلط سوچ رائج ہوگئی ہے کہ یہ (مہر ) عورت کی قیمت ہے، اس کو ادا کرکے یہ سمجھا جاتا ہے ہے کہ وہ عورت اب اس مرد کی مملوکہ ہےاور اس کی حیثیت ایک باندی کی ہے، جو یقیناً غلط ہے؛ چوں کہ یہ شریعت کے مقصد و منشا کے بالکل مخالف ہے۔

مہر کی مشروعیت

قرآن کریم کی آیت: وآتوا النساء صدقتهن نحلة۔(النساء: ۴) اور بیویوں کو خوش دلی کے ساتھ ان کا مہر ادا کرو۔ اسی طرح دیگر مقامات پر بھی مہر کی ادائی اور اس کے مختلف احکامات بیان کیے گئے ہیں، جس سے اس کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔حضور اکرمﷺ نے متعدد نکاح فرمائے اسی طرح اپنی بیٹیوں کے نکاح بھی کروائے سورۃ الاحزاب کی آیت ۵۰: 2. وامرأة مؤمنة ان وهبت نفسها للنبي ان اراد النبي ان يستنكحها خالصة لك من دون المؤمنين۔ (الاحزاب:۵۰) (کوئی مومن عورت جس نے مہر کے بغیر نبی کو اپنے آپ (سے نکاح کرنے) کی پیشکش کی ہو (ایسی عورت سے حضور کو خصوصی طور پر نکاح کی اجازت دی گئی ہے)لیکن اس کے باوجود حضورﷺنے مہر کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، نیز امت کو تعلیم دینے کے لیے تمام ازواج مطہرات سے نکاح کرتے وقت ان کے لیے مہر مقرر فرمایا۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک مہر کی ادائیگی کی اہمیت کا اندازہ حضرت عائشہ کی رخصتی کے واقعے سے بھی لگایا جا سکتا ہے، حضور کے حضرت عائشہ سے نکاح کے بعد رخصتی میں تاخیر ہو رہی تھی حضرت ابوبکرؓ نے حضور سے اس کی وجہ معلوم کرنی چاہی، آپ نے مہر کے لیے رقم نہ ہونے کا عذر پیش کیا، حضرت ابوبکر نے عرض کیا مجھ سے قرض لے لیں،حضور نے آپ سے قرض لے کر مہر ادا کیا، اس کے بعد حضرت عائشہ کی رخصتی ہوئی۔ غور کریں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے رخصتی میں اس وقت تک تاخیر کی جب تک مہر کی ادائیگی ممکن نہ ہو سکی۔ (سیرت عائشہؓ، ص:۳۱)

مہر کے اقسام

حضورﷺ اور صحابہؓ کی سیرت سے چار قسم کی مہر کا ثبوت ملتا ہے۔ یہ چاروں اقسام انسان کی مالی حیثیت کے اعتبار سے ہیں۔ لہذا ان چاروں اقسام میں سے کوئی بھی قسم اپنی حیثیت کے اعتبار سے اختیار کر لی جائے، وہ خلاف سنت نہیں ہوگی۔ بلکہ شریعت سے ثابت شدہ مہروں میں سے کسی ایک قسم کے مہر کے زمرے میں داخل ہوگی۔

پہلی قسم:

ایسے لوگوں کا مہر جن کا گزر بسر روز کی کمائی پر ہوتا ہے، ایسے لوگوں کی کمائی کا سلسلہ اگر ہفتے دس دن کے لیے رک جائے تو دوسرے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے اور قرض لینے کی نوبت آجاتی ہے، ایسے لوگوں کے نکاح میں کم از کم مہر متعین کرنے کا حکم ہے۔اقل مہر امام ابو حنیفہ کے نزدیک 10 درہم ہے۔ اس طبقے کے لیے اپنی حیثیت کے اعتبار سے 10درہم(30 گرام 618 ملی گرام) چاندی یا اس کی قیمت کا لحاظ کرتے ہوئے،مہر متعین کرنا مسنون ہوگا جو وہ آسانی کے ساتھ ادا کر سکیں، ان لوگوں کے لیے مہر فاطمی مسنون نہیں ہوگا۔ بلکہ ان کے حیثیت کے مطابق کم سے کم مہر متعین کرنا ہی ان کے لیے مسنون ہوگا۔ اسی کو حدیث شریف میں ان الفاظ کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔قال عمر: ألا لا تُغالوا بصُدُقِ النِّساءِ فإنَّها لو كانت مكرمةً في الدُّنيا أو تقوى عندَ اللَّهِ كانَ أَوْلَاكُم بِها النَّبيُّ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ ما أصدقَ رسولُ اللَّهِﷺ امرأةَ نسائِهِ ولا أصدَقت امرأةٌ من بناتِهِ أَكثرَ من ثنتي عشرةَ أوقيَّةً۔(ابو داؤد:۲۱۰۶)حضرت عمر نے فرمایا کہ خبردار تم عورتوں کے مہر بہت گراں اور اتنے زیادہ متعین مت کرو جو شوہروں پر بار بن جائے اس لیے اگر زیادہ مہر متعین کرنا دنیا کے اندر عزت کی چیز ہوتی، یا اللہ کے نزدیک تقوے کی چیز ہوتی تو اس معاملے میں اللہ کے نبی تمہارے مقابلے میں زیادہ حقدار ہوتے۔ میں نہیں جانتا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے براہ راست کسی عورت سے نکاح کیا ہو یا اپنی بیٹیوں میں سے کسی کا نکاح کر دیا ہو 12 اوقیہ یعنی 500 درہم سے زیادہ پر

اس روایت سے دو باتیں معلوم ہوتی ہیں:• زیادہ مہر باندھنا جس کی ادائیگی شوہر کے لیے مشکل ہو، وہ خلاف سنت ہے۔ شوہر اگر اپنے روزگار اور کمائی کے اعتبار سے مہر فاطمی کی ادائیگی کی اہلیت نہیں رکھتا، ایسى صورت میں مہر فاطمی متعین کرنا مسنون نہیں۔ ایسا مہر متعین کرنا جو شوہر کے لیے دشواری کا سبب بنے،نہ عزت کی چیز ہے،نہ عند اللہ تقوے کی چیز، نہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سنت کے مطابق۔ ابتداء ہجرت کے وقت جب تنگی کا زمانہ تھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلمہ کے ساتھ نکاح فرمایا، ان کا مہر صرف دس درہم متعین کیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض ازواج مطہرات جیسا کہ حضرت ام سلمہ کا مہر دس درہم کے برابر تھا۔ حضرت ابو سعید خدری سے مروی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلمہ سے 10 درہم کی قیمت کے سامان پر نکاح فرمایا۔ •

حضرت عمر فرماتے ہیں 500 درہم سے زیادہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے براہ راست نہ ازواج مطہرات میں سے کسی کا مہر متعین کیا اور نہ ہی صاحبزادیوں میں سے کسی کا، بلکہ اس سے کم ہی طے کیا،ادنی درجے کی خوشحال لوگ ان کے لیے مہر فاطمی یا اس سے نیچے نیچے کی مقدار مہر متعین کرنا مسنون ہوگا، اس سے زیادہ مسنون نہیں ہوگا۔

دوسری قسم

مہر فاطمی؛ جو مسلمانوں کے درمیان بہت زیادہ شہرت یافتہ ہے، اس کی مقدار کے بارے میں مختلف اقوال ملتے ہیں، سلف صالحین اور ہمارے اکابر نے 500 درہم کے قول کو زیادہ راجح قرار دیا ہے؛ کیوں کہ حضرت علی کی زرہ کی قیمت کا حساب 500 درہم ہی ہوتا ہے، اسی کو فروخت کر کے حضرت فاطمہ کا مہر ادا کیا گیا تھا۔

تیسری قسم:

مہرام حبیبہ؛جس کی مقدار ابو داؤد اور نسائی وغیرہ کی روایت کے مطابق چار ہزار درہم ہے، مہر فاطمی کے آٹھ گنا موجودہ زمانے کے گراموں کے حساب سے 12 ہزار 244 گرام 944 ملی گرام، یعنی 12 کلو 244 گرام 944 ملی گرام چاندی،حضرت ام حبیبہ کا یہ مہر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سےنجاشی نے ادا فرمایا تھا۔ مہر کی یہ مقدار ادا کرنا ایسے لوگوں کے لیے مسنون ہوگا جو لکپتی اور کروڑ پتی کی حیثیت رکھتے ہیں، ان لوگوں کے لیے یہ مقدار ادا کرنا کسی قسم کی گرانی کا سبب نہیں ہوگا، ایسے لوگوں کے لیے مہر فاطمی کے بجائے مہر ام حبیبہ متعین کرنا مسنون ہوگا۔ اس لیے کہ مہر ام حبیبہ جو نجاشی نے ادا کیا تھاوہ خلاف سنت نہیں ہے، اگر خلاف سنت ہوتا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ضرور اس پر نکیر فرماتے، حضور نے نکیر نہیں کی، کیونکہ نجاشی کے پاس اتنی گنجائش تھی۔ لہذا ایسی گنجائش والوں کے لیے یہی مہر مسنون ہوگا۔

چوتھی قسم

حضرت ام کلثوم حضرت علی کی بیٹی ہیں، جو حضرت فاطمہ کے بطن سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پہلے پیدا ہوئی تھیں۔ حضرت عمر نے ان کے ساتھ 40 ہزار درہم مہر پر نکاح کیا تھا۔ 40 ہزار درہم کی مقدار مہر فاطمی سے 80 گنا ہوتی ہے، مہر ام حبیبہ کے دس گنا ہوتی ہے، جو لوگ کروڑ پتی، ارب پتی، امراء، سلاطین اور بادشاہوں میں سے ہیں، ان کے لیے مہر ام کلثوم کی یہ مقدار مہر میں متعین کرنا خلاف شریعت اور خلاف سنت نہیں ہوگی، کیونکہ حضرت عمر بھی خلفائے راشدین میں سے ہیں۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علیکم بسنتى وسنة الخلفاء الراشدین اس لیے حضرت عمر کا یہ عمل بھی سنت ہی کے دائرے میں ہوگا۔اس بات کا لحاظ ضرور رکھا جائے گا کہ حضرت عمر نے 40 ہزار درہم مقرر فرمایا تھا، اس وقت ان کے پاس اس مہر کی ادائیگی کی حیثیت تھی۔ لہذا اگر امرا و سلاطین میں سے کوئی اپنی بیوی کا مہر، مہر ام کلثوم متعین کرتاہے، اس میں کسی قسم کی کوئی برائی نہیں ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات کے لیے مہر مقرر کرنے میں مختلف مقداریں تجویز کی ہیں جیساکہ ذکر کیاگیا، اکثر امہات المومنین کا نکاح 500 درہم مہر پر طے پایا۔ جیسا کہ روایت میں ہے:عن أبي سلمة بن عبد الرحمن انه قال سألت عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم كم كان صداق رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قالت كان صداقه لازواجه ثنتي عشرة اوقية ونشا قالت اتدرى ماالنش قال لا قالت نصف اوقية فتلك خمس مأة درهم فهذا صداق رسول الله صلى الله عليه وسلم لازواجه۔ (مسلم: ٣٤٨٩)ابو سلمہ نے حضرت عائشہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے مہر کے بارے میں پوچھا، وہ کتنا تھا؟ حضرت عائشہؓ نے فرمایا حضور کی بیویوں کا مہر ساڑھے 12 اوقیہ تھا،جو 500 درہم ہوتے ہیں۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ کا مہر بھی 500 درہم مقرر فرمایا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس مقدار کو مہر فاطمی کہا جاتا ہے، جس کی مقدار آج کل کے اوزان کے اعتبار سے ایک کلو 531 گرام چاندی ہوتی ہے۔ اتنی مقدار چاندی کی اگر قیمت ادا کرنا چاہتے ہیں تو پھر جس دن ادا کر رہے ہیں اس دن کی چاندی کی قیمت کے اعتبار سے حساب لگایا جائے گا، خواہ طے کرتے وقت اس کی کچھ بھی قیمت ہو۔ سونے چاندی کی صورت میں مہر کی تعین سنت سے قریب ہے، عورت کے لیے بہتر بھی؛ کیوں کہ سکوں کی مقدار دن بدن گھٹتی جاتی ہے۔ سکوں میں مقرر کیا ہوا مہر ایک مدت کے بعد اپنی قدر کھو دیتا ہے

مہر کی مقدار

شریعت میں اس بات کی صراحت ہے،مہر کی زیادہ سے زیادہ کوئی مقدار متعین نہیں ہے، نہ ہی کسی کے لیے یہ مناسب وہ مہر کی کوئی رقم مقرر کرے، اس سے زیادہ رقم طے نہیں کی جاسکتی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی خلافت کے زمانے میں ایک مرتبہ خطبہ کے دوران لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: ‘‘نکاح میں بہت زیادہ مہر مقرر نہ کرو۔اس پر ایک خاتون نے اعتراض کیا کہ قرآن کریم نے ایک مقام پر مہر کے لیے قنطار (سونے چاندی کا ڈھیر) کا لفظ استعمال کیا ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے چاندی کا ڈھیر بھی مہر ہو سکتا ہے، پھر آپ زیادہ مہر مقرر کرنے سے کیوں روکتے ہیں۔ حضرت عمر نے اس خاتون کی بات سن کر اس کی تصویب فرمائی۔ ’’ (تحفۃ الاحوذی، ج:۴، ص: ۱۹۴)

حضرت حسن بن علی کے متعلق ذکر کیا ہے کہ آپ نے ایک خاتون سے نکاح کیا، اسے بطور مہر سو باندیاں بھیجیں اور ہر باندی کے ساتھ ایک ہزار درہم۔

مہر کی کم سے کم مقدار کے سلسلے میں فقہاء کے درمیان مختلف رائے ہیں، امام ابو حنیفہ کے نزدیک مہر کی اقل مقدار 10 درہم ہیں۔ جو موجودہ اوزان کے اعتبار سے 30 گرام 618 ملی گرام ہے۔ اس لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روایت میں فرمایا: لا مهر اقل من عشرة دراهم۔ (مہر دس درہم سے کم نہیں ہونا چاہیے۔)

مہر کی ادائیگی کے اعتبار سے مہر کی دو قسمیں مشہور ہیں؛1-مہر معجل۔ 2- مہر مؤجل۔ ‘‘مہر معجل’’ اس مہر کو کہتے ہیں جو نکاح ہوتے ہی شوہر کے ذمہ لازم ہو جاتا ہے، یا تو نکاح کے وقت ہی بیوی کو ادا کر دے، یا اس کے بعد جتنی جلدی ممکن ہو، نیز عورت کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ جب چاہے اس کا مطالبہ کر لے، کوشش کرنی چاہیے جس قدر ممکن ہو، اس قرض سے سبک دوش ہو جائے۔‘‘مہر مؤجل’’ اس مہر کو کہا جاتا ہے جس کی ادائی کے لیے فریقین نے آئندہ کوئی تاریخ متعین کر لی ہو،تاریخ اس طرح متعین کر لی جائے اس سے پہلے اس کی ادائیگی شوہر کے ذمہ لازم نہیں ہوتی، نہ بیوی اس سے پہلے مطالبہ کر سکتی ہے، ‘‘مہر مؤجل’’ کا اصل مطلب تو یہی ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں عموما کوئی تاریخ مقرر کیے بغیر کہہ دیا جاتا ہے، اتنا ‘‘مہر مؤجل’’ ہے۔ معاشرے کی رواج کے مطابق اس کا مطالبہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ مہر کی یہ ادائیگی اس وقت واجب الادا ہوگی جب نکاح ختم ہوگا، یعنی زوجین کے درمیان اگر طلاق ہو جائے اس وقت ‘‘مہر مؤجل’’ کی ادائیگی لازم ہوتی ہے، یا پھر زوجین میں سے کسی کا انتقال ہو جائے، تب اس کی ادائیگی لازم سمجھی جاتی ہے، حد تو یہ ہے کہ بعض علاقوں میں انتقال کے بعد ترکہ میں سے دینے کے بجائے عورت سے مہر معاف کرا لیا جاتا ہے۔

مہر عورت کا ایسا حق ہے جو واجب الادا ہے۔ کسی بھی صورت میں معاف نہیں ہوتا، حتی کہ اگر کسی مجلس نکاح میں مہر کا تذکرہ نہ بھی ہو اور مہر متعین نہ کیا جائے، تب بھی شریعت عورت کے لیے ‘‘مہر مثل’’ متعین کرتی ہے۔ ‘‘مہر مثل’’ کا مطلب مہر کی وہ مقدار ہے جو اس عورت کی ددھیالی خاندان کی عورتوں مثلا پھوپیوں، بہنوں یا چچازاد بہنوں کا مقرر کیا جاتا رہا ہو، اگر اس عورت کے خاندان میں دوسری عورتیں نہ ہوں تو خاندان سے باہر اس کی جیسی عورتوں کا جو مہر عموما طے کیا جاتا رہا ہو، وہ اس عورت کا "مہر مثل” ہے۔ یہ ‘‘مہر مثل’’ شوہر پر لازم ہوگا نیز شرعا شوہر پر واجب ہے کہ وہ بیوی کا مہر ادا کرے۔

بہر صورت یہ بات خوب سمجھنی چاہیے کہ مہر کا تعین فرضی یا رسمی کاروائی نہیں ہے جو بلا سوچے سمجھے طے کر لی جائے؛ بلکہ یہ ایک دینی فریضہ ہے جو پوری سنجیدگی کا تقاضا کرتا ہے، کوشش کرنی چاہیے کہ مہر کا کچھ نہ کچھ حصہ خلوت سے پہلے ادا کر دیا جائے، جیسا کہ روایات میں ملتا ہے کہ حضرت علی کا حضرت فاطمہ سے جب نکاح ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود حضرت علی کو وصیت فرمائی اے علی اپنی بیوی سے ملنے سے پہلے ان کو کچھ دے دو۔

معلوم ہوا یہ تصور کہ مہر علیحدگی کے موقع پر ہی ادا ہو یا شوہر کی موت کے بعد ہی اس کے ترکہ میں سے ادا کیا جائے، غیر اسلامی اور جاہلانہ تصور ہے۔ افسوس ہوتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ مہر کی تعین کو محض ایک رسمی عمل سمجھتے ہیں،اس کی ادائیگی کی کوئی فکر ہی نہیں کرتے، یہ سخت گناہ ہے۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے مہر مقرر کیا، اور اس کی ادائیگی کا ارادہ نہیں ہے تو وہ زانی ہے، بعض روایات میں ہے کہ قیامت کے دن وہ خدا کے حضور میں ایک زنا کار کی حیثیت سے پیش ہوگا۔٭٭٭

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

کتاب و سنت کی روشنی وقف کی اہمیت
قرآنی تناظر میں باپ کا مقام اور کردار

Related Posts

عقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیاد
  • hira-online.comhira-online.com
  • جولائی 10, 2026
  • 0 Comments
عقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیاد

عقیدهٔ توحید ایمان واسلام كی بنیاد مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ‏‎#شمع_فروزاں🕯 اهل سنت اور اهل تشیع مسلمانوں كے دو قدیم اور بڑے فرقے هیں، ان كے درمیان بنیادی اختلاف امامت وولایت كا هے، اهل سنت كے نزدیك امام المسلمین كا انتخاب مسلمانوں كے ارباب حل وعقد كے ذریعه هوتا هے، (الاحكام السلطانیه، لابی یعلی:۱؍۳۳، فصول فی الامامۃ)؛ چنانچہ حضرت ابو بكر صدیق رضی الله تعالیٰ عنه كا صحابه میں سے ارباب حل عقد نے انتخاب كیا (صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۶۸۳، كتاب الحدود، باب رجم الحبلی من الزنا اذا احصنت) حضرت عمر فاروق رضی الله تعالیٰ عنه كو اگرچه حضرت ابو بكر نے صحابه كے مشوره سے نامزد فرمایا تھا؛ لیكن خود حضرت عمر ؓ نے پیش كش كی تھی كه اگر مسلمان چاہیں تو اُن كے هاتھ پر بیعت كریں یا كسی اور كے هاتھ پر بیعت كر لیں؛ مگر سبھوں نے ان كے نام پر اتفاق كیا (صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۰۰۷۳، كتاب فضائل اصحاب النبی صلی الله علیه وسلم ) پھر حضرت عمرؓ نے اپنی شهادت كے وقت صحابهؓ میں سے چھ ممتاز شخصیتوں كو نامزد كیا كه مسلمان ان میں سے كسی كو امیر منتخب كر لیں، حضرت عبد الرحمٰن بحضرت عثمان غنی رضی الله تعالیٰ عنه تیسرے خلیفه راشد مقرر هوئے (صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۳۷۰۰، كتاب فضائل اصحاب النبی صلی الله علیه وسلم ) حضرت عثمانؓ كی مظلومانه شهادت كے بعد مدینه كے ارباب حل وعقد نے به  اصرار   سیدنا حضرت علی كرم الله وجهه كے ہاتھوں پر بیعت كیا، اگرچه حضرت معاویهؓ اور ان كے گروه نے بیعت نهیں كی؛ لیكن ایسا نهیں تھا كه وه حضرت علی ؓكو خلافت كا مستحق نهیں سمجھتے تھے؛ بلكه ان كا مطالبه تھا كه پهلے قاتلان عثمان سے قصاص لیا جائے، حضرت علی ؓ اور ان كے بعد چھ ماه حضرت حسن ؓكی حكومت رهی، اسی پر خلافت راشده ختم هوگئی، یه خود رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم كی پیشین گوئی تھی كه میرے بعد ۳۰؍ سال خلافت رهے گی، اس كے بعد ملوكیت قائم هو جائے گی، (سنن…

Read more

Continue reading
میاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حل
  • hira-online.comhira-online.com
  • جولائی 9, 2026
  • 0 Comments
میاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حل

میاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حل ✒️: محمدجمیل اخترجلیلی ندوی ہدی چلڈرنس اکیڈمی، بلیاپور، دھنباد(جھارکھنڈ) رابطہ نمبر: 8292017888 اللہ تعالیٰ نے انسان کو تنہا زندگی گزارنے کے لیے پیدا نہیں فرمایا؛بل کہ اس کی فطرت میں محبت، الفت اور سکون کی خواہش رکھی، اسی لیے اسلام نے نکاح کو ایک مقدس عبادت، مضبوط عہد اور پاکیزہ رشتہ قرار دیا ہے،نکاح صرف دو افراد کا نہیں؛ بل کہ دو خاندانوں کا تعلق ہے اور یہی تعلق ایک صالح معاشرہ کی بنیاد بنتا ہے، اگر گھر آباد ہوں گے تو معاشرہ آباد ہوگا اور اگر گھروں میں اختلاف، نفرت اور بے سکونی ہوگی تو پورا معاشرہ اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔   آج ہمارا معاشرہ جن بڑے مسائل سے دوچار ہے، ان میں میاں بیوی کے اختلافات، گھریلو جھگڑے، علیحدگی اور طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح نہایت تشویش ناک ہے، معمولی باتوں پر رشتے ٹوٹ جاتے ہیں، بچوں کا مستقبل برباد ہو جاتا ہے، والدین پریشان رہتے ہیں اور خاندان تباہی کا شکار ہو جاتے ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم قرآن و سنت کی روشنی میں ان اختلافات کے اسباب کو سمجھیں اور ان کا اسلامی حل اختیار کریں۔   اللہ تعالیٰ نے نکاح کے مقصد کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:﴿وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ﴾(الروم:21)’’اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو، اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی۔ بے شک اس میں غور و فکر کرنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں‘‘، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ازدواجی زندگی کے تین بنیادی ستون بیان فرمائے ہیں:(۱)سکون(۲)محبت(۳)رحمت، اگر ان تین چیزوں کو گھر سے نکال دیا جائے تو گھر صرف اینٹ اور پتھر کی عمارت رہ جاتا ہے، جنت کا نمونہ نہیں رہتا۔ اسی طرح شوہروں کو مخاطب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بینک کے سود کے مصارف 05.08.2026
  • ٹیکس میں سود کی رقم دینا 05.08.2026
  • بینک کے لئے مکان کرایہ پر دینا 05.08.2026
  • قسطوں پر سامان کی فروخت 05.08.2026
  • عورتوں کے لیے سونا پہننا کیسا ہے؟ 05.08.2026
  • مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوری 01.08.2026
  • کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟ 29.07.2026
  • اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟ 29.07.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

فقہ و اصول فقہ

بینک کے سود کے مصارف

  • hira-online.com
  • اگست 5, 2026
مضامین و مقالات

ٹیکس میں سود کی رقم دینا

  • hira-online.com
  • اگست 5, 2026
فقہ و اصول فقہ

بینک کے لئے مکان کرایہ پر دینا

  • hira-online.com
  • اگست 5, 2026
فقہ و اصول فقہ

قسطوں پر سامان کی فروخت

  • hira-online.com
  • اگست 5, 2026
فقہ و اصول فقہ

عورتوں کے لیے سونا پہننا کیسا ہے؟

  • hira-online.com
  • اگست 5, 2026
سیرت و شخصیات

مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوری

  • hira-online.com
  • اگست 1, 2026
مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوری
فقہ و اصول فقہ

کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟

  • hira-online.com
  • جولائی 29, 2026
کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟
فقہ و اصول فقہ

اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟

  • hira-online.com
  • جولائی 29, 2026
اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top