HIRA ONLINE / حرا آن لائن
آفاقیت کا نور : انور آفاقی ۔

احمد اشفاق ۔ دوحہ قطر۔ تو جوہری ہے تو زیبا نہیں تجھے یہ گریز مجھے پرکھ مری شہرت کا انتظار نہ کر حفیظ میرٹھی کا مندرجہ بالا شعر انور آفاقی کے لیے موزوں معلوم پڑتا ہے جو بہ یک وقت شاعر ، افسانہ نگار ، مبصر ، ناقد و محقق ہیں ۔ یوں تو انور آفاقی نے شعر گوئی کی ابتدا زمانہ طالب علمی میں ہی کی مگر خلیجی ممالک (سعودی عرب قطر اور متحدہ عرب امارات) میں ان کا فن پوری طرح نکھر کر سامنے آیا۔ دورانِ ملازمت انہوں نے اتنی مہلت ہی نہیں پائی کہ کوئی کتاب ترتیب دے سکیں ہاں ملازمت کے آخری ایام میں وطن واپسی سے قبل انہوں نے اپنا پہلا شعری مجموعہ "لمسوں کی خوشبو ” 2011 میں شائع کروایا جس کی تقریب اجرا اپنے وطن دربھنگہ میں ہی کروائی ۔ اتفاق سے راقم الحروف بھی اس میں شریک تھا ۔ کچھ ہی عرصہ بعد یہ مستقل وطن آگئے اور پھر گیسو ادب سنوارنے میں مصروف ہو گئے ۔طبیعت تو موزوں تھی ہی اور عصری ادب پر بھی گہری نگاہ تھی مگر غمِ روزگار نے قلم و قرطاس سے گہرا ربط ہونے نہ دیا۔ ہاں جیسے ہی مہلت ملی ان کا قلم مائل بہ سفر ہوا۔ پھر کیا تھا کہ وطن میں قیام کے دوران غزلیں لکھیں، افسانے لکھے ، سفرنامے لکھے ، تاثراتی مضامین کے ساتھ تنقیدی و تحقیقی مضامین لکھے ۔ سینئر ، ہم عصر اور جونیئرس سے انٹرویو لئے اور ان تمام کو کتابی شکل دی جس کی علمی و ادبی حلقے میں کافی پذیرائی ہوئی اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ یوں تو انہوں نے اپنی تمام کتابوں کے موضوعات کا بہت ہی دیانتداری سے بھرپور احاطہ کیا ہے لیکن ان کے ادبی انٹرویو بطور خاص قابل ذکر ہیں جس میں انہوں نے جن شخصیات کا انتخاب کیا ہے ان کی ادبی حیثیت مسلم ہے مگر بطور خاص ذاتیات پر گفتگو کر کے ان کی زندگی کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے تحقیق کا کام آسان کر دیا ہے…

Read more

تینتسواں فقہی سیمینار میں حاضری

(اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیاکا 33واں فقہی سیمینارجامعہ اسلامیہ قاسمیہ بالاساتھ ضلع (سیتامڑھی بہار میں آج سیمینار کی دوسری نشست ہوئی چاہتی ہے،اصحاب افتاء اور ماہرین فقہ و فتاوی کی ایک بڑی تعداد احاطہ جامعہ میں موجود ہیں، نت نئے مسائل اور سلگتے ہوئے حالات کے پیش نظر امت کو پیش آمدہ جدید چیلنچیز کے جوابات مطلوب ہیں۔اکیڈمی کا شروع سے ہی یہ دستور رہا ہے کہ جدید مسائل کا آسان حل تلاش کر امت کے سامنے پیش کیا جائے، جو نصوص شرعیہ اور قواعد فقہہ سے مربوط اور دین وشریعت سے ہم آہنگ بھی ہوں۔اس سیمینار میں پانچ موضوعات زیر بحث ہیں۔1 ۔علاج ومعالجہ میں کمیشن اوردواؤوں کی مقررہ تاریخ کےبعدفروختگی کےمسائل ۔2۔تعلیمی ودعوتی کاموں کےلئےانٹرنیٹ سےاستفادہ ۔3۔موجودہ دورمیں فسق سے مراداوراس پرمرتب ہونےوالےاحکام ۔4۔مصنوعی ذہانت سے استفادہ ۔5۔خواتین کی ڈرائیونگ سے متعلق بعض مسائل۔ بڑی خوش قسمتی کی بات ہے کہ سال رواں کا یہ سیمینار اپنی جائے پیدائش سے کچھ ہی فاصلے پر منعقد کیا گیا ہے، بانی اکیڈمی فقیہ العصر حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام صاحب نوراللہ مرقدہ کے وطن مالوف سے قریب ہی اس کی میزبانی کا شرف جامعہ قاسمیہ کوحاصل ہے۔یہ ریاست بہار کا دوسرا فقہی سیمینار ہے، ایسے میں اہلیان بہار بالخصوص علمائے بہار اور خصوصا نظماء و مہتممین بہار و ذمہ داران مدارس اسلامیہ بہار کی دوہری ذمہ داری ہوجاتی ہے کہ اپنے اپنے مدارس کے لئے کتابوں کی خریداری کے لئے ضرور سبقت کریں، مشاہدہ اور تجربہ کی بنیاد پہ زیر قرطاس کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے کہ گرچہ بہار میں وسائل و اسباب کی یقینا قلت ہے لیکن ایسا بھی نہیں کہ ذمہ داران مدارس اسلامیہ کتابوں کی خریداری نہ کرسکیں، اور اپنے اپنے مدارس کو جدید تقاضوں سے لیس نہ کرسکیں، حقیقت تو یہ کہ سالہا سال بت گئے لیکن اس طرف نہ تو توجہ کی جاتی ہے اور نہ ہی کسی نے توجہ دلانے کی کسک محسوس کی کہ مدارس میں ایک معیاری لائبریری اور کتب خانے کی ضرورت ہے تاکہ بروقت مواد بآسانی مہیا ہوسکے۔قدیم سے قدیم ترین مدارس ایک زمانے سے امت…

Read more

” اسلام میں عورت کے مھر کی حیثیت اور اس کا حکم”

مفتی سلیم احمد خان استاد: مدرسۃ العلوم الاسلامیہ، علی گڑھ اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسان کی طبیعت میں فطری تقاضے ودیعت کیے ہیں، ان میں اہم تقاضا صنف نازک کی طرف میلان ہے، اس رجحان اور میلان کے ذریعے اللہ عزوجل انسان کو آزماتا ہے کہ وہ ورع و تقویٰ، اطاعت و فرماں برداری میں کس مقام پر ہے نیز نسلِ انسانی کی افزائش و تسلسل برقرار رکھنا بھی مقصود ہوتا ہے۔ اس فطری تقاضے کو افراط و تفریط سے بچانے اور اعتدال و توازن قائم کرنے کے لیے شریعت میں ایک منظّم طریقہ ‘‘نکاح’’ ہے، جس کو نہ صرف جائز؛ بلکہ مستحسن امر قرار دے کر اس کی ترغیب دی گئی ہے اور تجرّد و تنہائی کی زندگی کو ناپسند کیا گیا ہے۔ نکاح کو شریعت نے نہایت آسان سادہ اور اخراجات کے لحاظ سے سہل بنایا ہے، اسلام کے طریقۂ نکاح کا خلاصہ یہ ہے کہ دو بالغ مرد و عورت دو گواہوں کے سامنے ایک دوسرے کے ساتھ ازدواجی رشتے کو قبول کر لیں۔ نکاح کا بس یہی سیدھا سادہ طریقہ ہے، اِس میں کسی تقریب کی ضرورت ہے نہ کسی دعوت کی کوئی شرط؛ البتہ دلہن کے اکرام کے لیے مہر ضروری ہے۔ مہر انسانی عصمت کے اظہار کے لیے شریعت میں شوہر پر بیوی کا ایک خاص مالی حق ہے، جس کا مقصد بیوی کا اکرام و احترام ہے اور شریعت کا منشا یہ ہےجب کوئی شخص نکاح کر کے بیوی کو اپنے گھر لائے،اس کا اپنے شایان شان اکرام و احترام کرے اور ایسا ہدیہ پیش کرے جو اس کی عصمت و حرمت کے مناسب ہو؛ لیکن آج کل اس سلسلے میں ایک غلط سوچ رائج ہوگئی ہے کہ یہ (مہر ) عورت کی قیمت ہے، اس کو ادا کرکے یہ سمجھا جاتا ہے ہے کہ وہ عورت اب اس مرد کی مملوکہ ہےاور اس کی حیثیت ایک باندی کی ہے، جو یقیناً غلط ہے؛ چوں کہ یہ شریعت کے مقصد و منشا کے بالکل مخالف ہے۔ مہر کی مشروعیت قرآن کریم کی آیت: وآتوا النساء صدقتهن نحلة۔(النساء: ۴)…

Read more

مطلقہ کا نفقہ طلاق دینے والے شوہر پر؟ انصاف اور عقل کا تقاضا کیا ہے ؟ اور معاشرہ کی مصلحت کیا کہتی ہے ؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سلسلۂ محاضرات بعنوان:مطلقہ کا نفقہ طلاق دینے والے شوہر پر؟(انصاف اور عقل کا تقاضا کیا ہے؟ اور معاشرہ کی مصلحت کیا کہتی ہے؟)محاضر: مولانا خالد سیف اللہ رحمانی مدظلہ قانون فطرت: اسلام اور مغرب کا فرق قانون فطرت کی پاسداری ضروری ہے، آگ کی فطرت ہے، پانی کی اپنی فطرت ہے، اس سے اسے نکالا نہیں جاسکتا۔ اسلام دین فطرت ہے، فطرة الله التي فطر الناس عليها… اسلام نے شہوانی ضرورت کی تکمیل کے لیے نکاح کے طریقہ کو تسلیم کیا ہے، کیوں کہ یہ فطرت ہے۔ مغرب فطرت کا لحاظ نہیں کرتا ہے، وہ آزادی کو اور انارکی کو زیادہ اہمیت دیتا ہے؛ چنانچہ اگر کوئی لڑکا لڑکی بننا چاہے تو وہ اسے نہیں روکتا، اسی طرح اگر کوئی لڑکی لڑکا بننا چاہے تو وہ اسے نہیں روکتا بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ یہ فرق ہے اسلام اور مغرب میں۔ اسلام فطرت کی رعایت کرتا ہے اور مغرب خواہش اور شہوت کو ہی اہمیت دیتا ہے۔ یہ فرق زندگی کے ہر موڑ پہ دکھائی دیتا ہے۔ تجارت میں سود اسی کی مثال ہے۔ اسلام اسے مسترد کرتا ہے اور مغرب اس کو لازمی قرار دیتا ہے۔ مطلقہ عورت کا نفقہ کس پر؟ دیکھیے نفقہ کی حقیقت کیا ہے؟ اولاد کا نفقہ ماں باپ پر ہوتا ہے، جب کہ اولاد غیر مستطیع ہو۔ ماں باپ کا نفقہ اولاد پر ہوتا ہے، جب کہ والدین غیر مستطیع ہوں۔ نفقہ میں سب سے زیادہ تاکید بیوی کے نفقہ پر ہے، قطع نظر اس کے کہ وہ مالدار ہے یا نہیں۔ بیوی کا نفقہ شوہر پر بہر صورت ہے۔ شریعت کی اس حکمت کو سمجھنا چاہیے۔ نفقہ کے تین اسباب: 1- ملکیت: مالک پر جانور کا نفقہ واجب ہوتا ہے۔ باندی اور غلام کا نفقہ آقا پر واجب ہے۔2- قرابت: یہ فطری رشتہ ہوتا ہے۔ نانیہال اور دادیہال کے ذریعہ یہ رشتے ہوتے ہیں، اس کی وجہ سے نفقہ واجب ہوتا ہے۔3- حبس: آپ نے اپنے ادارہ میں کسی کو محبوس کر رکھا ہے تو آپ پر نفقہ واجب ہوتا ہے۔ بیوی کا…

Read more

*دار العلوم ندوۃ العلماء میں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کا خطاب*

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے قرآن کے باب میں آسان معانی قرآن نامی تفسیر لکھی ہے۔ ان کی ایک کتاب قاموس الفقہ پانچ جلدوں میں ہے، اس کتاب میں فقہ میں استعمال ہونے والی اصطلاحات کی وضاحت کی گئی ہے۔ اسی طرح مولانا نے آسان اصول فقہ ، آسان اصول حدیث اور آسان اصول تفسیر جیسی نہایت اہم کتابیں لکھی ہیں جو کہ کئی مدارس میں زیر نصاب بھی ہے۔ مولانا فی الحال آل انڈیا پرسنل لا بورڈ کے صدر ہیں۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کے خطاب کے اہم نکات 🔵 – طلباء کو حال و مستقبل میں کیا کرنا چاہئے :- دوران طالب علمی اس کی توجہ صرف اپنے پیش نظر مقصد پر ہونا چاہئے۔ موجودہ دور میں طلبا وقت سے پہلے ان مسائل پر توجہ دے رہے ہیں جو ان کے دائرہ کار سے خارج ہے۔ اس میں بڑا رول سوشل میڈیا کا ہے۔ مولانا نے کہا کہ آج بچے اپنے ابتدائی ایام طالب علمی میں ہی آئیندہ زندگی کے اقتصادی مراحل کے بارے میں سوچنے لگتا ہے۔ ایسا کرنے سے طلبا منتشر مزاجی کا شکار ہو رہے ہیں اور گہرائی و گیرائی سے محروم ہو رہے ہیں۔ لہذا، طلبا کو اپنے مقصد کے باب میں نہایت یکسو ہو کر لگ جانا چاہئے۔ حدیث میں آیا ہے کہ اللہ کو بندے کا وہ عمل پسند ہے جس میں وہ اتقان و احسان پیدا کرے۔ 🔵- طلبا کو رزق کی فکر میں زیادہ سرگرداں نہیں ہونا چاہئے۔ طلبا کو اس بات کا یقین پیدا کرنا چاہئے کہ رزق فراہم کرنے والی ذات اللہ ہے۔ جب تک طلبا علم حاصل کریں، انہیں رزق کی جانب سے آنکھیں بند رکھنا چاہئے۔ جس اللہ نے اس وقت پالا جب ہم میں شعور بھی نہیں تھا تو اب جب کہ ہمارے اندر شعور آ چکا ہے، وہ ہمیں یوں ہی چھوڑ دیگا۔ 🔵- علم کا ذوق پیدا کیجیے۔ ایک چیز ہے کسی چیز کو اچانک پا لینا اور ایک چیز ہے کسی چیز کو دریافت کر لینا۔ یہ دونوں چیزیں مختلف ہیں۔ دریافت سے ذوق پیدا…

Read more

تقریب تقسیم انعامات برائے مسابقۂ مطالعات و افکار: 2024 کا کامیاب انعقاد

بسم اللہ الرحمن الرحیم مؤرخہ 25/اکتوبر 2024 مطابق 21/ربیع الثانی 1446ھ بروز: جمعہ بوقت: 04:00 تا 08:30 بجے شب دارالبحث والاعلام، لکھنؤ کے زیر انتظام جامعہ خدیجہ الکبری للبنات، لکھنؤ کے آڈیٹوریم میں اللقاء الثقافی،لکھنؤ کی 131/ویں نشست میں تقریب تقسیم انعامات برائے مسابقۂ مطالعات و افکار: 2024 کا کامیاب انعقاد عمل میں آیا۔ مسابقہ میں حصہ لینے والے تمام مساہمین کو جہاں نقد، کتب، فائل، میڈل اور توصیفی اسناد پر مشتمل انعامات سے نوازا گیا، وہیں ممتاز پوزیشن ہولڈرز کے درمیان شیلڈز بھی تقسیم کی گئیں۔ 30/ایام کے طے شدہ دورانیہ والے اس مسابقہ میں مختلف متعینہ جہات (اردو زبان و ادب/ عربی ادب/ سیرت/ تاریخ/ تحریکات/ شخصیات/ تفسیر/ حدیث/ فقہ وغیرہ) پر 26446 صفحات کا مطالعہ مسعود عالم ندوی (ڈائریکٹر: دارالبحث و الاعلام، لکھنؤ) کی نگرانی میں کیا گیا۔ تقریب کے پہلے سیشن کا آغاز ابو سفیان (متعلم: مدرسہ سیدنا بلال، لکھنؤ) کی تلاوت سے ہوا، جب کہ دوسرے سیشن کے آغاز میں محمد مختار (متعلم: ممتاز پی۔جی۔کالج، لکھنؤ) نے تلاوت کی۔ 18/ ممتاز مساہمین نے اپنے مطالعہ کی روداد اور اس سے حاصل ہونے والے فوائد پر روشنی ڈالی اور مہمانان عظام نے اپنے گراں قدر تاثرات سے نوازا۔ درایں اثنا اللقاء الثقافی، لکھنؤ کی ہفت روزہ علمی، ادبی، فکری، تصویری، ابلاغی اور تربیتی نشستوں کی 50/روداد (100-51) پر مشتمل مجموعہ کی نقاب کشائی کی گئی۔ نیز مسعود عالم ندوی(ڈائریکٹر: دارالبحث و الاعلام، لکھنؤ) نے نوجوان مصنف محمد عامل ذاکر شیخ (متعلم: دارالعلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ) کی کتاب "ارض فلسطین منظر اور پس منظر” کا تعارف بھی کرایا۔ اخیر میں تاثراتی سیشن کے صدر مولانا احمد الیاس نعمانی ندوی مدظلہ العالی (ڈائریکٹر: حکمہ فاؤنڈیشن، لکھنؤ) اور تقسیم انعامات کے لیے مختص سیشن کی صدارت کر رہے مولانا فیصل احمد ندوی بھٹکلی دامت برکاتہم العالیہ (استاد: دارالعلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ) کے رہنما خطابات ہوئے۔ واضح رہے کہ تقریب کی نظامت کا فریضہ مسعود عالم ندوی (ڈائریکٹر: دارالبحث و الاعلام، لکھنؤ) اور محمد مرغوب الرحمن ندوی (جنرل سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے مشترکہ طور پر انجام دیا۔ اس موقع پر اللقاء الثقافی، لکھنؤ کے فاؤنڈر…

Read more