HIRA ONLINE / حرا آن لائن
دو مرتد لڑکیوں کی ایک ہی ہندو نوجوان سے شادی !

لکھنو کے ترون گپتا کا فضا اور ثناء سے شادی کا دعویٰ،لڑکیاں نماز کے ساتھ ہنومان چالیسہ بھی پڑھتی ہیںممبئی۔۱۷؍ دسمبر: ان دنوں لکھنو کے ایک نوجوان کا سوشل میڈیا پر انٹرویو خوب وائرل ہورہا ہے، ترون گپتا نامی شخص کا دعویٰ ہے کہ وہ ہندو ہے اور اس کی دو بیویاں ثناء انصاری اور فضا منصوری مسلم ہیں دونوں ایک ہی ساتھ ایک ہی گھر میں رہتے ہیں۔ نوجوان کاکہنا ہے کہ اس نے دو شادیاں کی ہیں اور دونوں ہی مسلم لڑکیاں تھی، نوجوان کاکہنا ہے کہ یہ دونوں شادیاں اس کی قسمت میں تھی ساتھ ہی یہ اتفاق ہے کہ اس کی دونوں بیویاں مسلم ہیں۔ تینوں نے مل کر اپنی ’لواسٹوری‘ لوگوں کے ساتھ شیئر کی ہے۔ لکھنو کا رہنے والے ترون گپتا اپنی دونوں بیویوں کے ساتھ ہی ایک ہی گھر میں رہتا ہے، ۲۰۱۶ میں ترون نے اپنی پہلی بیوی کو پرپوز کیا تھا اس کے بعد ۲۰۲۲ میں دونوں نے شادی کی، ایک سال بعد نوجوان کی دوسری لڑکی سے ملاقات ہوئی جو بھی مسلم ہی تھیں، اس کے بعد ترون نے ۲۰۲۳ میں دوسری شادی کرلی، ترون اپنی دونوں بیویوں کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتا ہے، جب دونوں بیویوں سے بات چیت کی گئی تو انہوں نے بتایاکہ دونوں بہنوں کی طرح رہتی ہیں، ساتھ ہی انہیں دوست کی کمی نہیں ہوتی۔ ترون کی دونوں بیویاں نماز بھی پڑھنے کا دعویٰ کرتی ہے، اس کے علاوہ دونوں ہندو دھرم کو بھی مانتی ہے، ہندو کے منتر پڑھنے سے انہیں کوئی گریز نہیں ہے، جب کیمرے کےسامنے دونوں کو جے شری رام پڑھنے کو کہاگیا تو دونوں نے بے دھڑک اسے پڑھا، جیسے ہی نوجوان کی لو اسٹوری سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی یہ خوب وائرل ہورہی ہے، حالانکہ کئی لوگوں نے کہاکہ یہ تینوں ہندو ہی ہیں اور صرف وائرل ہونے کے لیے جھوٹی کہانی گڑھ رہے ہیں، وہیں کئی لوگوں نے لکھا کہ اگر یہ سچ ہے تو ان لڑکیوں کو اب مسلم نہیں کہاجاسکتا، اب یہ ہندو ہوچکی ہیں۔ ویڈیو میں یہ لڑکیاں…

Read more

قرآنی تناظر میں باپ کا مقام اور کردار

از: ڈاکٹر محمد اعظم ندوی استاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد قرآن مجید "أبوّۃ” یعنی اولاد کے ساتھ باپ کے رشتہ کو انسانی رشتوں میں سب سے مضبوط اور اہم تعلق کے طورپر پیش کرتا ہے، باپ پر ہی پر مادی اور معنوی حقوق و فرائض کا دارومدار ہوتا ہے، گو کہ اس تعلق سے انسان پر کئی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، لیکن باپ ہونا حقیقت میں اللہ کی طرف سے ایک نعمت اورخصوصی عطیہ ہے، جیسا کہ رحمن کے خاص بندوں کی دعاؤں میں ایک دعا اپنے تئیں نیک وصالح اولاد کے باپ ہونے کی بھی ہے: "رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ” (الفرقان: ۷۴) (اے ہمارے رب!ہمیں ایسی بیویاں اور اولاد عطا فرمادیجئے جو آنکھوں کی ٹھنڈک ہوں)، قرآنی نمونوں میں سب سے مقدس نمونہ کبر سنی میں حضرت براہیمؑ اور حضرت زکریا ؑ کا خدا کے حضور اولاد کی عاجزانہ طلب ہے، اور بارگاہ خداوندی سے اس کی بشارتوں کا فیضان ہے۔ باپ ایک ایسا لفظ جو صرف تین حروف پر مشتمل ہے؛ لیکن اس کے معنی کی گہرائی سمندر کی وسعتوں کو شرمندہ کر تی ہے، باپ محض ایک رشتہ نہیں، بلکہ ایک سایہ دار شجر، ایک مضبوط دیوار، اور ایک غیر متزلزل بنیاد ہے، یہ اس شخصیت کا نام ہے جو اپنی ذات کی چمک کو ماند کر کے اولاد کے لیے روشن راہوں کی ضمانت دیتی ہے، اگر ماں کی محبت نرم شفق جیسی ہے، تو باپ کی محبت چھاؤں کی مانند ہے، وہ اپنی مشکل چھپائے اولاد کے دکھ سمیٹتا ہے، باپ کا کردار ہمیشہ سے ایک ان کہی داستان رہا ہے، وہ داستان جو روزمرہ کی ذمہ داریوں میں گم ہو جاتی ہے؛ لیکن اس کے بغیر زندگی کے کسی باب کا آغاز ممکن نہیں، باپ وہ معمار ہے، جو اپنے خون پسینے سے نسلوں کے مستقبل کی عمارت کھڑی کرتا ہے، اس کی خاموش دعائیں اولاد کی کامیابیوں کی بنیاد بنتی ہیں، اور اس کے دل میں پنہاں امیدیں دنیا کے بڑے بڑے خزانوں سے زیادہ قیمتی ہوتی ہیں، باپ کی محبت کو سمجھنا آسان…

Read more

المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد میں شعبہ تدریب قضاء کا آغاز

ہندوستان میں مفکر اسلام حضرت مولانا ابو المحاسن محمد سجاد رحمہ اللہ نے فکر امارت اور نظام قضاء کے نظریہ کو بڑی قوت کے ساتھ پیش کیا، اس پر آنے والے شبہات و اعتراضات کے جوابات دیے اور اس خاکہ میں رنگ بھرا۔ آج ملک میں قانون شریعت کے تحفظ کا سب سے اہم ذریعہ نظام قضاء ہے، اس کی توسیع اور تحفظ ہمارا دینی فریضہ ہے۔ اللہ جزائے خیر دے فقیہ النفس حضرت مولانا قاضی مجاہد السلام قاسمی رحمہ اللہ کو؛ کہ انہوں نے اسلام کے عدالتی نظام کی وضاحت، اس کے نفاذ کے طریقے اور مطلوبہ افرادی طاقت فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ابھی ملک میں کم و بیش 300 دارالقضاء قائم ہیں، ان میں سے سو کے قریب آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے تحت کام کر رہے ہیں، صرف ان میں ہر سال 5000 سے زائد مقدمات حل کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ سینکڑوں نزاعات کو گفت و شنید اور کونسلنگ کے ذریعہ حل کر دیا جاتا ہے۔ ابھی ملک کی عدالتوں میں 25000 سے کچھ زائد ججوں کی اسامیاں ہیں، اندازہ لگائیں کہ 140 کڑور کی آبادی میں پچیس ہزار ججوں سے کیاہی ہوپائے گا۔ چند سالوں پیشتر یہ اعداد و شمار پیش کیے گئے تھے کہ عدالتیں اگر زیر دوراں مقدمات پر اکتفا کریں، نئے مقدمات نہ لیں، تو زیر دوراں مقدمات کو مکمل کرنے کےلیے ساڑھے تین سو سال درکار ہوں گے۔ دارالقضاء ملک میں کوئی متبادل عدالتی نظام نہیں ہے، ہاں یہ خارج عدالت نزاعات کے تصفیہ کی کامیاب کوشش ہے، 2014 میں سپریم کورٹ کا ایک فیصلہ بھی اس بابت موجود ہے۔ تربیت قضاء کا کورس المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد میں شروع کیا جارہا ہے، ایک جامع نصاب تیار کیا گیا ہے اور کونسلنگ کی جدید مہارتیں بھی شامل رکھی گئی ہیں۔اس افتتاحی اجلاس کی صدارت معروف فقیہ حضرت مولانا عتیق احمد بستوی(کنوینر شعبہ دارالقضاء بورڈ) نے کی، صدر بورڈ حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی نگرانی و سرپرستی رہی، اس موقع پر حضرت مولانا شاہ جمال الرحمن صاحب، جناب قاضی اشفاق…

Read more

!گھر سے واپسی ۔۔۔۔

از : اسجد حسن ندوی !گھر سے واپسی۔۔۔ صبح سے ایک کشمکش میں مبتلا تھا ملاقات کروں یا نہ کروں، اطلاع دوں یا نہیں۔ دل میں عجیب سا اضطراب تھا، کیونکہ خود کو یقین نہیں تھا کہ اگر ملاقات کی تو جذبات پر قابو رکھ سکوں گا یا نہیں۔ بہرحال، واپسی کی تیاری مکمل کرنے کے بعد، دل مضبوط کر کے، مچھر دانی اٹھا کر ان کے پاؤں کے قریب جا بیٹھا۔ کچھ کہنے کی ہمت جمع کر رہا تھا کہ بے ساختہ آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ جیسے ہی ان کے پاؤں چھونے کا ارادہ کیا، انہوں نے فوراً کہا:"سب کچھ رکھ لیے؟”میں نے جواب دیا: "جی، رکھ لیا ہے۔”انہوں نے مختصر سا کہا: "ٹھیک ہے، جاؤ، دعا کرنا۔” پھر ممی سے مخاطب ہو کر کہا: "بسکٹ دے دو۔” یہ ایک عام جملہ معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ان کی پوری زندگی کی ترجمانی کرتا ہے۔ ان کا ہر عمل، ہر لفظ، اور ہر فکر ہم سب کے لیے ہمیشہ محبت اور ذمہ داری کی عکاسی کرتا تھا۔ انہوں نے ہمیشہ اس بات کا خیال رکھا کہ کوئی ضرورت یا خواہش تشنہ نہ رہ جائے۔ چاہے بیٹے ہوں، بیٹیاں، نواسے ہوں یا نواسیاں، یا خاندان کا کوئی بھی فرد، ان کی شفقت اور مہربانی سب پر یکساں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے بے شمار احسانات مجھ پر بھی ہیں۔ جب سے لکھنؤ میں تعلیم کا آغاز ہوا، عیدالاضحیٰ اور ششماہی چھٹیوں میں گھر آنے کا معمول تھا۔ گھر پہنچتے ہی ان کی توجہ ہر چیز پر ہوتی تھی۔ جانے سے پہلے وہ ہر بار اصرار کرتیں: "بابو، یہ لے لو، یہ رکھ لو، فلاں سامان نہ بھول جانا۔” ان کی محبت اور فکرمندی کبھی یہ محسوس نہیں ہونے دیتی تھی کہ میں اپنی والدہ کے بغیر سفر پر نکل رہا ہوں۔ مگر اس بار، جب میں گھر سے رخصت ہو رہا تھا، باقی سب لوگوں نے حسبِ معمول پوچھا کہ سب کچھ رکھ لیا؟ کب نکل رہے ہو؟ کیسے جاؤ گے؟ لیکن وہ ایک آواز، جو ہمیشہ میرے ہر سفر میں…

Read more

فقہی سیمینار میں حاضری اور کچھ سبق آموز کہانی

از : قاضی محمد حسن ندوی تینتیسواں فقہی سیمینار میں شرکت کے لئے نو نومبر کو علی الصبح جامعہ اسلامیہ بالاساتھ میں ہم چار احباب بحسن وخوبی پہنچے، تین دن وہاں ہم لوگوں کا قیام رہا ،یہ ادارہ حضرت مولانا عبد الحنان صاحب رحمۃ اللّٰہ علیہ کیے خوابوں کی تعبیر اور ان کی للہیت کا مظہر ہے ، مدرسہ کی تعمیر اور ظاہری ترتیب و تزئین سے اندازہ ہوا کہ کسی باذوق شخص کا کردار اس میں نمایاں ہے ، جنہیں نہ صرف اپنے بیان اور خطابت کے جادو سے لوگوں کو مسحور کرنے کا ملکہ حاصل تھا ، بلکہ کم خرچ میں عمدہ اور شاندار عمارت کی تعمیر کا ذوق بھی حاصل تھا ، مسجد اور دیگر ساری عمارت میں یکسانیت پائی جاتی ہے ، مدرسہ میں نہ شور نہ ہنگامہ ، ہاں کانفرنس ہال میں فقہاء اور مفتیان کرام کا اجتماعی طور پر نئے مسائل میں بحث و مباحثہ کی مجلس گرم تھی تو دوسری طرف انتظامیہ اساتذہ طلبہ کی طرف سے پوری گرم جوشی کے ساتھ مہمانان کرام کو سہولیات پہنچانے میں ہمہ دم کوشش ہورہی تھی، مجموعی اعتبار سے تین دن کے قیام میں ہر مہمان کو وہاں سکون واطمینان حاصل ہوا۔ مقصد کی بازیابی میں کوئی دقت حاصل نہیں ہوئی ۔ نامور شخصیات کی زیارت: اس سفر میں ہندوستان کے نامور شخصیات کی زیارت اور انکی اجتہادات اور نکتہ سنجی سے استفادہ کا موقع ملا ، اس کے علاوہ اساتذہ سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا ، ان میں سر فہرست مفتی عتیق احمد بستوی صاحب ،مفتی جنید صاحب ندوی قاسمی پٹنہ ،اور ہم رکاب میں مفتی سعید الرحمن امارت شرعیہ بہار ،۔ پہلی نشست میں حضرت مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی نے اپنا کلیدی خطبہ پڑھا جو واقعی کلیدی کردار کا حامل ہے ، مولانا اظہار الحق صاحب ( خلیفہ حضرت مولانا ابرار الحق صاحب)نے افتتاحی خطاب میں کہا کہ دین اسلام کے کئ شعبہ جات ہیں ، درس وتدریس ، دعوت وتبلیغ ، تصنیف وتالیف اور تزکیہ نفس ، اجتماعی کوشش سے سب دین کے شعبہ جات ہیں…

Read more

آفاقیت کا نور : انور آفاقی ۔

احمد اشفاق ۔ دوحہ قطر۔ تو جوہری ہے تو زیبا نہیں تجھے یہ گریز مجھے پرکھ مری شہرت کا انتظار نہ کر حفیظ میرٹھی کا مندرجہ بالا شعر انور آفاقی کے لیے موزوں معلوم پڑتا ہے جو بہ یک وقت شاعر ، افسانہ نگار ، مبصر ، ناقد و محقق ہیں ۔ یوں تو انور آفاقی نے شعر گوئی کی ابتدا زمانہ طالب علمی میں ہی کی مگر خلیجی ممالک (سعودی عرب قطر اور متحدہ عرب امارات) میں ان کا فن پوری طرح نکھر کر سامنے آیا۔ دورانِ ملازمت انہوں نے اتنی مہلت ہی نہیں پائی کہ کوئی کتاب ترتیب دے سکیں ہاں ملازمت کے آخری ایام میں وطن واپسی سے قبل انہوں نے اپنا پہلا شعری مجموعہ "لمسوں کی خوشبو ” 2011 میں شائع کروایا جس کی تقریب اجرا اپنے وطن دربھنگہ میں ہی کروائی ۔ اتفاق سے راقم الحروف بھی اس میں شریک تھا ۔ کچھ ہی عرصہ بعد یہ مستقل وطن آگئے اور پھر گیسو ادب سنوارنے میں مصروف ہو گئے ۔طبیعت تو موزوں تھی ہی اور عصری ادب پر بھی گہری نگاہ تھی مگر غمِ روزگار نے قلم و قرطاس سے گہرا ربط ہونے نہ دیا۔ ہاں جیسے ہی مہلت ملی ان کا قلم مائل بہ سفر ہوا۔ پھر کیا تھا کہ وطن میں قیام کے دوران غزلیں لکھیں، افسانے لکھے ، سفرنامے لکھے ، تاثراتی مضامین کے ساتھ تنقیدی و تحقیقی مضامین لکھے ۔ سینئر ، ہم عصر اور جونیئرس سے انٹرویو لئے اور ان تمام کو کتابی شکل دی جس کی علمی و ادبی حلقے میں کافی پذیرائی ہوئی اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ یوں تو انہوں نے اپنی تمام کتابوں کے موضوعات کا بہت ہی دیانتداری سے بھرپور احاطہ کیا ہے لیکن ان کے ادبی انٹرویو بطور خاص قابل ذکر ہیں جس میں انہوں نے جن شخصیات کا انتخاب کیا ہے ان کی ادبی حیثیت مسلم ہے مگر بطور خاص ذاتیات پر گفتگو کر کے ان کی زندگی کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے تحقیق کا کام آسان کر دیا ہے…

Read more