خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن
خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن کبھی کبھی وقت کے بے رحم دھارے میں ایک ایسی شخصیت نمودار ہوتی ہے، جو اپنی سادگی میں وقار، خاموشی میں خطابت، اور خدمت میں قیادت کا مجسمہ بن کر دنیا کو خیر و فلاح کی راہوں پر گامزن کرتی ہے۔ ایسی ہی ایک روحانی، علمی اور رفاہی عظمت کی علامت تھے حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ۔ وہ ایک ایسے عہد کا نام تھے جو گزر تو گیا، مگر اپنی خوشبو زمانے کی سانسوں میں چھوڑ گیا۔ یکم جون 1950ء کو گجرات کے ایک گاؤں کوساڑی میں جنم لینے والے اس چراغ نے ابتدا ہی سے علم و عمل کا سفر شروع کیا۔ جب 1952ء یا 1953ء میں ان کا خاندان وستان منتقل ہوا تو گویا ایک نئی تقدیر نے ان کے قدم چومے۔ مدرسہ قوت الاسلام کوساڑی میں قرآن کریم حفظ کیا، پھر بروڈہ کے مدرسہ شمس العلوم اور فلاح دارین ترکیسر میں دینی علوم کی باریکیوں میں مہارت حاصل کی۔ 1972ء کے اوائل میں اپنی تعلیم مکمل کی، اور اسی سال مظاہر علوم سہارنپور کا رخ کیا، جہاں حضرت مولانا محمد یونس جونپوریؒ جیسے محدث العصر کی شاگردی میں بخاری شریف پڑھی۔ لیکن علم کا یہ متلاشی صرف کتب و اساتذہ کا طالب نہیں تھا، بلکہ وہ روحانیت، اخلاق، اخلاص اور اصلاح کا سچا خوگر تھا۔ حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ سے اصلاحی تعلق قائم کیا، ان کے وصال کے بعد حضرت مولانا سید صدیق احمد باندویؒ سے وابستہ ہوئے اور ان کے خلیفہ مجاز بنے۔ یوں علم و روحانیت کی دونوں نہریں اس دل میں ایک ساتھ رواں ہو گئیں، جس میں صرف امت کی بھلائی کی تڑپ تھی۔ علم کی تکمیل کے بعد آپ کا پہلا تدریسی سفر قصبہ بوڈھان، ضلع سورت میں شروع ہوا، لیکن اصل میدان دارالعلوم کنتھاریہ، بھروچ میں سجا، جہاں فارسی سے متوسطات تک تدریس کی خدمات انجام دیں۔ مگر حضرت وستانویؒ کے دل میں ایک بڑا خواب پرورش پا رہا تھا، جو 1979ء میں اکل کوا کی دھرتی پر شرمندہ تعبیر ہوا۔…
Read more

