HIRA ONLINE / حرا آن لائن
اس کی ادا دل فریب، اس کی نِگہ دل نواز

از: ڈاکٹر محمد اعظم ندوی بعض لوگ جہاں جاتے ہیں، اپنے ساتھ روشنی لے کر آتے ہیں، ان کی مسکراہٹ خلوص سے بھری ہوتی ہے، ان کے الفاظ دلوں میں اترتے ہیں، اور ان کی موجودگی ایسی ہوتی ہے جیسے کسی خزاں رسیدہ چمن میں بہار یا خشک سالی میں آبشار، یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے وجود سے دوسروں کو زندگی کا احساس دلاتے ہیں، جو خود بھی خوش رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی خوش رکھتے ہیں، جو دوسروں کے لیے باعثِ راحت ہوتے ہیں، جن کے قریب بیٹھنے سے انسان کو اپنے دکھ ہلکے محسوس ہوتے ہیں، اور جن کی صحبت میں رہ کر زندگی کی خوبصورتی اور اس کے بانکپن کا احساس ہوتا ہے، ایک پُر بہار شخصیت کسی موسم کی محتاج نہیں ہوتی، وہ ہر جگہ اور ہر حال میں اپنی خوشبو بکھیرتی ہے، لوگوں کے لیے باعثِ محبت بنتی ہے، اور دنیا میں خیر کا استعارہ بن جاتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”إِنَّ هَذَا الْخَيْرَ خَزَائِنُ، وَلِتِلْكَ الْخَزَائِنِ مَفَاتِيحُ، فَطُوبَى لِعَبْدٍ جَعَلَهُ اللَّهُ مِفْتَاحًا لِلْخَيْرِ مِغْلَاقًا لِلشَّرِّ، وَوَيْلٌ لِعَبْدٍ جَعَلَهُ اللَّهُ مِفْتَاحًا لِلشَّرِّ مِغْلَاقًا لِلْخَيْرِ” (سنن ابن ماجہ: 238).(یہ خیر خزانے کی مانند ہیں، اور ان خزانوں کی کنجیاں بھی ہیں، اس بندے کے لیے خوشخبری ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے خیر کی کنجی، اور شر کا قفل بنا دیا ہو، اور اس بندے کے لیے ہلاکت ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے شر کی کنجی، اور خیر کا قفل بنایا ہو)۔ متاثر کن شخصیت وہ ہوتی ہے جس میں نرمی اور سختی، ہنسی اور سنجیدگی، مروت اور خود داری، وقار اور انکسار سب اعتدال کے ساتھ جمع ہوتے ہیں، ایسا شخص نہ تو ایسا پھول ہوتا ہے جو چھونے سے بکھر جائے اور نہ ایسا کانٹا جو ہر ایک کو زخمی کر دے، "شدة من غير عنف ولين من غير ضعف” (سختی ہو تشدد نہ ہو، نرمی ہو کمزوری نہ ہو)، اس میں وہ ٹھہراؤ ہوتا ہے جو دریا کے بہاؤ کو وقار عطا کرتا ہے، وہ گہرائی ہوتی ہے جو سمندر…

Read more

صحبتِ اہلِ صفا، نور وحضور وسرور(جامعۃ العلوم، گجرات کی ایک وجد آفریں محفل قراءت-روداد اور مبارک باد)

✍️ ڈاکٹر محمد اعظم ندویاستاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد رات کے آخری پہر جب ستارے اپنی روشنی سمیٹ رہے تھے، اور اذانِ فجر کی نغمگی کانوں میں رس گھول رہی تھی، نیند سے بیدار ہوا، میں جامعۃ العلوم، ہمت نگر، گجرات میں تھا، میرے بیٹے خزیمہ اور حمزہ -سلمہما اللہ تعالی- یہاں زیرِ تعلیم ہیں، آج 29 رجب 1446ھ مطابق 30 جنوری 2025ء، جمعرات کی صبح میرے لیے ایک خاص سعادت کا پیام لے کر آئی تھی، جب سورج ابھی اپنی فرحت بخش سنہری کرنوں کے ساتھ افقِ خاوَر سے جھانک رہا تھا، جامعہ میں مسابقۂ قراءت کا آغاز ہوا۔ جب پہلا طالب علم قراءت کے لیے دو گلدستوں کے درمیان سجی ایک بیضوی کرسی پر جلوہ افروز ہوا، تو محفل میں ایک گہری خاموشی چھا گئی، فضا میں ساکت سانسوں کی سرگوشیاں تھیں، اور دل ایک انوکھے ترنم کے انتظار میں گم، پھر جو سلسلہ آگے بڑھا، تلاوتِ قرآن کے ہمہ رنگ قوسِ قُزح کا منظر پیش ہورہا تھا، جس میں ہر آواز ایک نیا رنگ بھرتی، اور ہر لفظ کی ادائیگی کا انداز نئے جہان معنی کی سیر کراتا۔ قرآن کی تلاوت طوطی وبلبل کی مانند محض الفاظ کے دوہرانے کا نام نہیں، بلکہ ایک رقت آمیز کیفیت کا نام ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی تعمیل ہے کہ "إنَّ هذا القرآنَ نزلَ بحُزْنٍ، فإذا قرأتموهُ فابكوا، فإن لم تبكوا فتباكَوا” (یہ قرآن سوز وگداز کے ساتھ نازل ہوا ہے، تو جب تم تلاوت کرو تو سوز وگداز پیدا کرو، اور اگر ایسا نہ کرو تو رونے کی صورت ہی بناؤ)، قرآن کی نغمگی دلوں کو موہ لیتی ہے، اور آب رواں کی مانند مومن کے سینہ میں اترتی چلی جاتی ہے، علم النغمات اسی صوتی جمال کا شاہکار فن ہے، جو سات مشہور لہجات میں جلوہ گر ہوتا ہے—اس مسابقہ میں بھی طلبہ کی تلاوت میں انھی قرآنی لہجات کی جھلک نمایاں تھی، جہاں ہر قاری کی آواز اپنے مخصوص آہنگ میں وحی کے معانی کو مجسم کر رہی تھی، کہیں سوز و گداز تھا، کہیں متانت،…

Read more

*موصول خبروں کے مطابق ندوۃ العلماء کے ناظر عام اور عربی زبان کے معروف انشاپرداز وصاحب طرز ادیب مولانا سید جعفر مسعود حسنی ندوی سڑک حادثہ میں انتقال فرما گئے*

یہ خبر دل کو چیر کر رکھ دینے والی ہے کہ ندوۃ العلماء کے ناظر عام، عربی زبان کے معروف انشاپرداز اور صاحب طرز ادیب مولانا سید جعفر مسعود حسنی ندوی صاحب ایک سڑک حادثے میں انتقال فرما گئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون!یہ حادثہ صرف ایک فرد کی موت کا نہیں بلکہ علم و ادب کی دنیا کا ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ مولانا حسنی ندوی صاحب جنہوں نے اپنی انشا پردازی اور عربی زبان کے منفرد اسلوب سے دنیا کو روشناس کرایا۔ آج ہم میں نہیں رہے۔ ان کی شخصیت علم، حلم اور شائستگی کا پیکر تھی اور ان کے قلم نے ادب کو نئی بلندیوں تک پہنچایا تھا۔ان کا انتقال اس وقت ہوا جب ان کی علمی خدمات کے پھل کھانے کا وقت تھا۔ ان کے جانے سے ندوۃ العلماء کا دامن ایک ایسے چراغ سے خالی ہوگیا جس کی روشنی نسلوں کو راہ دکھاتی رہی۔یہ حادثہ نہ صرف ان کے اہل خانہ بلکہ ان کے چاہنے والوں، شاگردوں اور پوری علمی دنیا کے لیے ایک گہرا صدمہ ہے۔ مولانا کی خدمات اور ان کی یادیں ہمیشہ دلوں میں زندہ رہیں گی۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ ن

Read more

خورشید پرویز صدیقی۔بے باک صحافت کا مرد درویش۔

مفتی محمد ثناءالہدی قاسمی پھلواری شریف 9/جنو ری (پریس ریلیز)ملک کے نامور عالم دین،امارت شرعیہ کے نائب ناظم ،اردو میڈیا فورم اور کاروان ادب کے صدر مفتی محمد ثناءالہدی قاسمی نے عظیم المرتبت صحافی ،فاروقی تنظیم کی مجلس ادارت سے منسلک بے باک صحافتی،تاریخی و تجزیاتی اداریاتی نوٹس اور مضامین کے لیے پورے ہندوستان میں اپنی شناخت رکھنے والے خورشید پرویز صدیقی کی وفات پر گہرے غم و افسوس کا اظہار کیا ہے،انہوں نے فرمایا کہ میرے تعلقات ان سے اس زمانے سے تھے۔جب وہ مرحوم غلام م سرور کے دور میں سنگم سے وابستہ تھے۔ایم شمیم جرنلسٹ کی جواں سال موت کے بعد ان کے بھائی ہارون رشید کی تحریک پر ہم لوگوں نے طے کیا کہ شمیم جرنلسٹ کی یاد میں ایک یادگاری مجلہ نکالا جا ۓ ان سے قریب رہنے والے لوگوں سے مضمون لکھنے کی درخواست کی گئ۔میری پہلی ملاقات بھائی ہارون رشید کے ساتھ سنگم کے دفتر میں ہوئ۔سنگم کا دفتر ان دنوں دریاپو ر سبزی باغ میں ہوا کرتا تھا۔ان کی بود وباش بھی سبزی باغ میں تھی۔ایک زمانہ میں سبزی باغ کی کہانی کئی قسطوں میں انہوں نے لکھی تھی جو فاروقی تنظیم کے کئی شماروں میں شائع ہوئی۔ہم لوگوں کی درخواست انہوں نے قبول کر لیا۔ایک ہفتہ کا وقت مانگا۔ہمیں اعتراض کیا ہوتا،ایک ہفتہ کے بعد انہوں نے مضمون ہم لوگوں کے حوالہ کر دیا ۔عنوان لگایا تھا۔”ایم شمیم جرنلسٹ کا خط عالم بالا سے”طنز و مزاح سے بھرپور اس مضمون میں انہوں نے لکھا تھا۔کہ میں یعنی شمیم جرنلسٹ عجلت میں عالم بالا آگیا۔دو کام میں کرنا چاہتا تھا۔نہیں کر سکا ۔ایک جو اپنا(اس وقت کا) ہڑتالی موڑ ہے وہاں ایک دوکان ڈنڈے پتھر، اینٹ، روڑے بلکہ غنڈے مسٹنڈے ،لونڈوں کی کھولنا چاہ رہا تھا۔بے چارے ہڑتال کر نے والے کو یہ چیزیں گاؤں دیہات سے کرایہ پر لانی ہوتی ہے۔ پریشانی بھی ہوتی ہے اور خرچ بھی زیادہ آتا ہے ،ایسے میں تم لوگ دوکان کھول لو ،میری خواہش پوری ہو جائے گی،اور تمہارے وارے نیارے ہو جائں گے۔دوسرا کام یہ کرنا چاہتا تھاکہ خالص گھی…

Read more

"فقہ معاصر”: "فقہ مقاصد، فقہ واقع، فقہ مآلات، فقہ نوازل اور فقہ مقارن”: ایک تحقیقی مطالعہ:

ڈاکٹر مفتی محمد شاہ جہاں ندوی(قسط:1)تمہید:موجودہ دور برق رفتار ترقی کا دور ہے- یہ جدید ٹکنالوجی کا دور ہے- جس کی بدولت پوری دنیا سمٹ کر ایک گاؤں میں تبدیل ہوچکی ہے، یعنی ہم گلوبل ویلیج (global village) میں سانسیں لے رہے ہیں- اس وقت جو رائے سامنے آتی ہے، اس سے پوری دنیا یا دنیا کے ایک بڑے حصے کے با ذوق لوگوں کی اکثریت واقف ہوجاتی ہے- نیز مختلف پہلوؤں سے اس پر تنقیدی نگاہ ڈالی جاتی ہے- اس وقت ہمیں اسلامی شریعت کی نمائندگی اس طرح کرنی ہوگی جو عقل سلیم اور نقل صحیح کی کسوٹی پر درست ثابت ہو- جس سے دنیا کے سامنے اس کی جامعیت، عدل و انصاف، جسم و روح کے مطالبات، سماجی انصاف کے تقاضوں کے درمیان ہم آہنگی اور انسانی فطرت کی رعایت سامنے آئے-اسلام کے اس ہمہ گیر تصور کو پیش کرنے کی خاطر جدید مسائل کو حل کرتے وقت ہمیں ” فقہ مقاصد”، "فقہ واقع”، "فقہ مآلات” اور "فقہ نوازل” کے تقاضوں کی رعایت کرنی ہوگی- ان حقائق کے مد نظر ان موضوعات کی گہری واقفیت ضروری ہے- تو آئیے ایک نظر ان موضوعات پر ڈال لیتے ہیں-

Read more

نیت وعمل میں اخلاص–دین کا جوہر اور کامیابی کی شاہ کلید

از: ڈاکٹر محمد اعظم ندوی یہ دنیا، جسے ہم بڑے شوق سے اپنے دلوں میں جگہ دیتے ہیں اور آنکھوں میں سجاتے ہیں، اصل میں ایک دھندلا آئینہ ہے، اس آئینہ میں چمکتی ہوئی چیزوں کا عکس تو نظر آجاتا ہے، مگر وہ شے گم ہو جاتی ہے جو بہ ظاہر مدھم ہوتی ہے لیکن اندر سے اتنی ہی روشن، وہ شے جو انسان کے قلب کو جلا بخشتی تھی، روح کو سکون دیتی تھی، اور اعمال کو وہ مقبولیت عطا کرتی تھی جو زمین کے کناروں سے آسمانوں تک کا سفر طے کرتی تھی، وہ شے خلوص ہے، جو آج کے تیز رفتار دور کی بھیڑ میں کہیں کھو گئی ہے، ایک زمانہ تھا جب خلوص ایک خوشبو کی مانند ہر عمل میں رچا بسا ہوا تھا، نیتیں بارش کے قطروں کی طرح شفاف اور بے رنگ تھیں، عمل کا مقصد اللہ کی رضا تھا، نہ کہ صرف لوگوں کی داد و تحسین، عبادتوں میں وہ سچائی تھی جو زمین پر قرار پاتی تھی اور آسمانوں کی طرف اڑان بھرتی تھی، مگر آج، اسی خلوص کی راکھ کو شہرت اور نام و نمود کا طوفان اڑائے لئے پھرتا ہے، اور انسان کو مقصد سے کہیں دور لے جارہا ہے، دنیا کی ہر شے سے اگر اس کے اصل جوہر Essence کو نکال دیا جائے تو وہ ڈھانچہ اور تلچھٹ کی صورت اختیار کرلیتی ہے، جیسے شہد سے مٹھاس اور پھول سے خوشبو، یہی حال خلوص کا ہے، یہ اعمال کی روح ہے، جو انہیں معنی اور مقصد عطا کرتی ہے، لیکن آج یہ روح غائب ہے، اور اس کی جگہ ریاکاری اور خود نمائی Ostentation نے لے لی ہے:بہت ہی کم نظر آیا مجھے اخلاص لوگوں میںیہ دولت بٹ گئی شاید بہت ہی خاص لوگوں میںکسی تہذیب کے زوال کی پہلی علامت یہ ہے کہ انسان اپنی نیتوں کے ساتھ دھوکہ کرنے لگے، کچھ ایسا ہی آج ہو رہا ہے، دینی کوششیں، جو کبھی تقرب الی اللہ کا ذریعہ ہوا کرتی تھیں، اب اسٹیج کی مصنوعی روشنی سے چمک پانے کو بے تاب رہتی ہیں،…

Read more