Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
20.06.2026
Trending News: معاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلت
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
  • Get Started
20.06.2026
Trending News: معاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلت
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

صحبتِ اہلِ صفا، نور وحضور وسرور(جامعۃ العلوم، گجرات کی ایک وجد آفریں محفل قراءت-روداد اور مبارک باد)

  1. Home
  2. صحبتِ اہلِ صفا، نور وحضور وسرور(جامعۃ العلوم، گجرات کی ایک وجد آفریں محفل قراءت-روداد اور مبارک باد)

صحبتِ اہلِ صفا، نور وحضور وسرور(جامعۃ العلوم، گجرات کی ایک وجد آفریں محفل قراءت-روداد اور مبارک باد)

  • hira-online.comhira-online.com
  • Blog
  • فروری 2, 2025
  • 0 Comments

✍️ ڈاکٹر محمد اعظم ندوی
استاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد

رات کے آخری پہر جب ستارے اپنی روشنی سمیٹ رہے تھے، اور اذانِ فجر کی نغمگی کانوں میں رس گھول رہی تھی، نیند سے بیدار ہوا، میں جامعۃ العلوم، ہمت نگر، گجرات میں تھا، میرے بیٹے خزیمہ اور حمزہ -سلمہما اللہ تعالی- یہاں زیرِ تعلیم ہیں، آج 29 رجب 1446ھ مطابق 30 جنوری 2025ء، جمعرات کی صبح میرے لیے ایک خاص سعادت کا پیام لے کر آئی تھی، جب سورج ابھی اپنی فرحت بخش سنہری کرنوں کے ساتھ افقِ خاوَر سے جھانک رہا تھا، جامعہ میں مسابقۂ قراءت کا آغاز ہوا۔

جب پہلا طالب علم قراءت کے لیے دو گلدستوں کے درمیان سجی ایک بیضوی کرسی پر جلوہ افروز ہوا، تو محفل میں ایک گہری خاموشی چھا گئی، فضا میں ساکت سانسوں کی سرگوشیاں تھیں، اور دل ایک انوکھے ترنم کے انتظار میں گم، پھر جو سلسلہ آگے بڑھا، تلاوتِ قرآن کے ہمہ رنگ قوسِ قُزح کا منظر پیش ہورہا تھا، جس میں ہر آواز ایک نیا رنگ بھرتی، اور ہر لفظ کی ادائیگی کا انداز نئے جہان معنی کی سیر کراتا۔

قرآن کی تلاوت طوطی وبلبل کی مانند محض الفاظ کے دوہرانے کا نام نہیں، بلکہ ایک رقت آمیز کیفیت کا نام ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی تعمیل ہے کہ "إنَّ هذا القرآنَ نزلَ بحُزْنٍ، فإذا قرأتموهُ فابكوا، فإن لم تبكوا فتباكَوا” (یہ قرآن سوز وگداز کے ساتھ نازل ہوا ہے، تو جب تم تلاوت کرو تو سوز وگداز پیدا کرو، اور اگر ایسا نہ کرو تو رونے کی صورت ہی بناؤ)، قرآن کی نغمگی دلوں کو موہ لیتی ہے، اور آب رواں کی مانند مومن کے سینہ میں اترتی چلی جاتی ہے، علم النغمات اسی صوتی جمال کا شاہکار فن ہے، جو سات مشہور لہجات میں جلوہ گر ہوتا ہے—اس مسابقہ میں بھی طلبہ کی تلاوت میں انھی قرآنی لہجات کی جھلک نمایاں تھی، جہاں ہر قاری کی آواز اپنے مخصوص آہنگ میں وحی کے معانی کو مجسم کر رہی تھی، کہیں سوز و گداز تھا، کہیں متانت، کہیں درد، کہیں امید—کہیں حجاز کا سوز، کہیں نہاوند کا ترنم، اور کہیں بیات کا وقار، مجھے ہر آواز ان نغموں پر اکسا رہی تھی کہ:
ہمسایۂ جِبریلِ امیں بندۂ خاکی
ہے اس کا نشیمن نہ بخارا نہ بدخشان
یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن
قاری نظر آتا ہے، حقیقت میں ہے قُرآن!

قرآن کی یہی وہ تاثیر ہے جس نے صدیوں سے قلوب کو مسخر کر رکھا ہے، جو آج بھی زندہ ہے اور ہمیشہ باقی رہے گی، آج کے اس مسابقۂ قراءت میں وحی کے صوتی اعجاز کا وہی جلوہ نظر آیا، جس نے اہلِ عرب کے فصیح ترین ذہنوں کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا، اسی قرآنی لحن، اسی تاثیر اور اسی نورانی کلام کو سن کر ولید بن مغیرہ جیسے "ريحانة قريش” (قریش کے گل سر سَبَد) نے بے ساختہ کہا تھا: "إن له لحلاوة، وإن عليه لطلاوة، وإن أعلاه لمثمر، وإن أسفله لمغدق”—(بے شک اس کلام میں ایک دل آویز چاشنی ہے، اس پر ایک انوکھا حسن چھایا ہوا ہے، اس کا بالائی حصہ ثمر آور اور زیریں حصہ فیض رساں ہے)۔
آج اسی حلاوت، اسی لطافت، اور اسی تاثیر نے جامعۃ العلوم کی فضاؤں کو معطر کر دیا تھا۔

ماشاء اللہ پڑھنے والے ایسے دلنواز تھے کہ ان کی صوتی تاثیر نے سامعین کو بے اختیار اشک بار کر دیا، اور ہر آیت کو روح کی گہرائیوں میں اتار دیا، حسنِ صوت اور تجوید کی ہم آہنگی نے اس مسابقہ کو ایک ایسی روحانی مجلس میں بدل دیا، جہاں تلاوت کے ملکوتی ساز بَرْبَطِ دل پر بجتے رہے، اور ایک عجیب کیفیت تا دیر برقرار رہی، دل کا حال کیا کہوں، بس یہ کہ:
غنچہ پھر لگا کھلنے، آج ہم نے اپنا دل
خوں کیا ہوا دیکھا، گم کیا ہوا پایا

یہ مسابقۂ قراءت محض ایک تقریب نہ تھی، بلکہ وحی کے صوتی جمال کا ایک ایسا مظہر تھا، جس نے دلوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، قراءت کے سوز اور آہنگ میں وہی کیفیت تھی، جسے نبی کریم ﷺ نے پسند فرمایا، اور اس کے خلاف جانے کو ناپسند فرمایا، یہاں تک فرمایا کہ:
"ليس منَّا مَن لم يتغنَّ بالقرآنِ”
(وہ شخص ہم میں سے نہیں جو قرآن کو نغمگی کے ساتھ نہ پڑھے۔)

یہ نغمگی کوئی عام موسیقیت نہیں، بلکہ وہ آسمانی مضراب ہیں، جن میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی ترتیل کی نقل ہے، جن میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی سوز بھری آواز کی جھلک ہے، یعنی "أوتیتَ مزمارًا من مزامير آل داود” کی تاثیر ہے، آج ان معصوم بچوں کی قراءت میں وہی وجد، وہی ترنم، اور وہی اثر تھا، جسے سن کر صحابہ کی آنکھیں اشکبار ہو جایا کرتی تھیں، اور رسول اللہ ﷺ خود بھی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہہ بیٹھتے تھے:
"اقرأ عليّ القرآنَ”
(مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ۔)
جب وہ تلاوت کرتے، تو آپ ﷺ کی آنکھیں برسنے لگتیں، یہی کیفیت آج بھی زندہ تھی، یہی تاثیر آج بھی قائم تھی، یہی نور آج بھی قلوب کو منور کر رہا تھا، آسمان وزمین اور مکان و زمان جیسے ہزارہا فرق کے باوجود۔

زیادہ تر طلبہ نے تدویر میں قراءت کی، وہی انداز جس میں قرآن کے الفاظ ایک خاص متوازن آہنگ اور اعتدال کے ساتھ ادا کیے جاتے ہیں، چند طلبہ نے ترتیل میں بھی تلاوت کی، وہ انداز جس میں حرف حرف کی ادائیگی میں کشش، آواز میں گونج، اور دراز نفَسی کا مظاہرہ ہوتا ہے، ایسا لگتا تھا جیسے یہ طلبہ اپنی آواز میں وہی کیف پیدا کرنا چاہتے ہیں، جو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراءت میں تھا، جب نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا:
"من سره أن يقرأ القرآن غضًّا كما أُنزل، فليقرأه بقراءة ابن أم عبد!”
(جسے یہ بات خوش آتی ہو کہ وہ قرآن کو بالکل اسی تازگی کے ساتھ پڑھے، جیسے وہ نازل ہوا ہے، تو وہ عبداللہ بن مسعود کی قراءت میں پڑھے!)

یہ تلاوتیں جیسے کسی نادیدہ اور غیر محسوس ساز کے تار چھیڑ رہی تھیں، جس میں نہ تصنع تھا، نہ بناوٹ، بلکہ ایک فطری روانی تھی، ہر آیت کی تکرار ایک نئی کیفیت پیدا کر رہی تھی، جیسے کسی مطرب نے دل کی سوئی ہوئی راگنیاں بیدار کر دی ہوں، سامعین قرآن کے سحر میں گرفتار تھے، اور دل ایک انجانے کیف میں ڈوب رہے تھے، ابھر رہے تھے، ایسا لگتا تھا آواز نہیں، اثر بول رہا ہے الفاظ نہیں، معانی کا نور پھیل رہا ہے، زبان نہیں، روح تلاوت کر رہی ہے:
محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کا
یاں ورنہ جو حجاب ہے، پردہ ہے ساز کا

اس مسابقہ میں تین خوش نصیب طلبہ نے قراءات سبعہ کی تکمیل بھی کی، وہ لمحہ ناقابلِ بیان تھا، اس لمحہ میں گویا وہی احساس تازہ ہورہا تھا جس نے شیخ الصحابہ اور "أقرؤهم لكتاب الله” حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ کو جھوم جانے پر مجبور کیا تھا جب نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا:
"إن الله أمرني أن أقرأ عليك”
اور حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے تھے کہ اللہ نے اس مشت خاک کو اپنی جناب قدسی میں یاد کیا ہے! "آلله سمّاني لك، أذُكرتُ عند ربي”۔
یہ وہ لمحہ تھا جب "اللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ” کی حقیقت سامنے آ رہی تھی، قرآن کی حقانیت کی سب سے بڑی دلیل وہ کپکپی ہے جو اہلِ خشیت کے جسم پر طاری ہوتی ہے، اور ان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، اور یہی ہے "تقشعر منه الجلود” کی تفسیر وتعبیر۔

یہ وہی سرور تھا جسے ڈاکٹر حمید اللہ نے اس فرانسیسی موسیقار ژاک ژیلبیر کے قبولِ اسلام میں محسوس کیا تھا، جب اس نے قرآن کی قراءت کو عام موسیقی سے زیادہ اعلیٰ پایا اور کہا تھا: "یہ آہنگ دنیا کے کسی فن میں نہیں، یہ کسی انسان کا تخلیق کردہ نہیں، اگر محمد ﷺ نے واقعی قرآن کو اسی انداز میں سکھایا ہے، تو یہ یقینی طور پر اللہ کی کتاب ہے!”
لیکن پھر ایک دن اس نے سورۃ النصر کی ایک آیت پر شک کا اظہار کیا کہ "أَفْوَاجًا” پر وقف کرنے سے موسیقی کا آہنگ ٹوٹ جاتا ہے، اور جب اسے بتایا گیا کہ بہتر یہی ہے کہ اس پر وقف نہ کیا جائے بلکہ "فَسَبِّحْ” کے ساتھ ملایا جائے، تو وہ خوشی سے جھوم اٹھا کہ یہی اس کے شک کا جواب تھا!

حکم حضرات میں قاریانِ خوش الحان جناب قاری محمد مستقیم فلاحی اور جناب قاری محمد سعید فلاحی صاحبان تھے، جن کی قراءتوں میں ایسی گونج تھی کہ "خاشعا متصدعا من خشية الله” کے مصداق دل لگتا تھا جیسے پھٹا جارہا ہے، اور پھر باری تعالیٰ کی جناب میں سجدہ ریز ہے، مجلس کی صدارت مولانا قاری عبد الحق فلاحی صاحب فرما رہے تھے، جن کی موجودگی نے اس مجلس کو مزید جلال وجمال بخشا، اور انہوں نے اپنی خوبصورت نعت بھی سنائی، شعبۂ قراءت کے قاری انس صاحب ،ان کے رفقاء اور جامعہ کے دیگر اساتذہ نے محفل کے انعقاد میں جو محنت کی، اس کی جھلک ہر گوشہ میں نمایاں تھی، اور یہ سب خاکے تھے حضرت مولانا سیف الدین صاحب اسلام پوری دامت برکاتہم کے بنائے ہوئے جن میں تجوید کے اساتذہ نے خوب رنگ بھرا، اور اسے ہفت رنگ بنادیا، سلیقہ شعاری، حسن ترتیب اور پابندی اوقات اس ادارہ کے امتیازات ہیں جو آج بھی نمایاں تھے۔

محفل ختم ہو چکی تھی، مگر اس کا نور ابھی بھی دلوں میں باقی تھا، میں نے آسمان کی طرف دیکھا، اور میرے لبوں پر یہ دعا بے ساختہ جاری ہوگئی:

اللهم اجعل القرآن ربيع قلوبنا، ونور صدورنا، وجلاء أحزاننا، وذهاب همومنا۔

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

*موصول خبروں کے مطابق ندوۃ العلماء کے ناظر عام اور عربی زبان کے معروف انشاپرداز وصاحب طرز ادیب مولانا سید جعفر مسعود حسنی ندوی سڑک حادثہ میں انتقال فرما گئے*
اس کی ادا دل فریب، اس کی نِگہ دل نواز

Related Posts

  • hira-online.comhira-online.com
  • جون 8, 2026
  • 0 Comments
ڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلام

ڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلام ڈاکٹر اسرار احمدؒ (26 اپریل 1932ء – 14 اپریل 2010ء) برصغیر کے ممتاز اسلامی مفکر، مفسرِ قرآن، داعیِ دین اور بانیِ تنظیمِ اسلامی تھے۔ آپ نے اپنی زندگی قرآنِ حکیم کے فہم، دعوتِ دین اور اسلامی نظامِ حیات کے احیاء کے لیے وقف کر دی۔ اپنی علمی گہرائی، خطیبانہ انداز اور قرآنی فکر کے باعث آپ کو عالمِ اسلام میں غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی۔ ابتدائی زندگی اور تعلیم ڈاکٹر اسرار احمدؒ 26 اپریل 1932ء کو ضلع حصار (موجودہ ریاست ہریانہ، بھارت) میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد آپ کا خاندان پاکستان منتقل ہو گیا۔ آپ نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج، لاہور سے 1954ء میں ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں قرآن و اسلام کے گہرے مطالعے کے شوق نے آپ کو اسلامی علوم کی جانب متوجہ کیا اور آپ نے جامعہ کراچی سے اسلامیات میں ماسٹرز کی ڈگری بھی حاصل کی۔ دینی و فکری خدمات زمانۂ طالب علمی میں آپ اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ رہے اور بعد ازاں جماعتِ اسلامی میں شامل ہوئے، تاہم بعض فکری اور سیاسی اختلافات کی بنا پر جماعت سے علیحدگی اختیار کر لی۔ آپ کا یقین تھا کہ اسلامی انقلاب اور معاشرتی اصلاح کا اصل ذریعہ قرآنِ مجید کی تعلیمات کی طرف رجوع ہے۔ اسی مقصد کے لیے آپ نے 1972ء میں انجمن خدام القرآن اور 1975ء میں تنظیمِ اسلامی کی بنیاد رکھی۔ بعد ازاں تحریکِ خلافت پاکستان کا آغاز بھی کیا۔ آپ کی دعوت کا مرکزی نکتہ قرآنِ حکیم کو انفرادی اور اجتماعی زندگی کا محور بنانا تھا۔ بحیثیت مفسرِ قرآن ڈاکٹر اسرار احمدؒ کو خصوصاً درسِ قرآن کے حوالے سے عالمی شہرت حاصل ہوئی۔ آپ کے ہزاروں خطابات، دروس اور بیانات آڈیو اور ویڈیو کی صورت میں محفوظ ہیں جن سے دنیا بھر میں لاکھوں افراد مستفید ہوئے۔ آپ نے قرآنِ مجید کے پیغام کو عام فہم اور مؤثر انداز میں پیش کیا اور مسلمانوں کو قرآن سے مضبوط تعلق قائم کرنے کی دعوت دی۔ علمی و تصنیفی خدمات آپ…

Read more

Continue reading
  • hira-online.comhira-online.com
  • اپریل 13, 2026
  • 0 Comments
نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)

نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں) نماز ایک نہایت اہم عبادت ہے، اس لیے ان امور کو جاننا ضروری ہے جن سے نماز فاسد (ٹوٹ) ہو جاتی ہے۔ ذیل میں تمام اہم صورتیں مختصر اور سادہ انداز میں پیش کی جا رہی ہیں تاکہ ہر شخص آسانی سے سمجھ سکے:نماز توڑنے والی 38 اہم چیزیں

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • معاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عمل 19.06.2026
  • گداگری اور ہمارا رویہ 19.06.2026
  • ہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانون 19.06.2026
  • نیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعات 16.06.2026
  • میں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟ 16.06.2026
  • مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہ 14.06.2026
  • عقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں 12.06.2026
  • فتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میں 09.06.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

فقہ و اصول فقہ

معاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عمل

  • hira-online.com
  • جون 19, 2026
معاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عمل
اسلامیات

گداگری اور ہمارا رویہ

  • hira-online.com
  • جون 19, 2026
گداگری اور ہمارا رویہ
مضامین و مقالات

ہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانون

  • hira-online.com
  • جون 19, 2026
ہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانون
مضامین و مقالات

نیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعات

  • hira-online.com
  • جون 16, 2026
نیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعات
مضامین و مقالات

میں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟

  • hira-online.com
  • جون 16, 2026
میں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟
مضامین و مقالات

مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہ

  • hira-online.com
  • جون 14, 2026
مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہ
مضامین و مقالات

عقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں

  • hira-online.com
  • جون 12, 2026
عقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں
حدیث و علوم الحدیث

فتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میں

  • hira-online.com
  • جون 9, 2026
فتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میں

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top