HIRA ONLINE / حرا آن لائن
ٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟

سوال: کوئی آدمی ہر سال اپنے مال سے ایک متعین رقم حکومت کو ٹیکس کے طور پر ادا کرتا ہے تو زکوٰۃ اس سے ادا ہو جائے گی ؟ جواب : از : قاضی محمد حسن ندوی زکوٰۃ اور ٹیکس کے درمیان بہت فرق ہے، زکوٰۃ ایک عبادت ہے اس کی ادائیگی کے لیے نیت ضروری ہے ، اخلاص و للہیت اور خدا ترسی مطلوب ہے ، اس کے لیے متعین مصارف ہیں، ان ہی پر صرف کرنے سے زکوٰۃ ادا ہو سکتی ہے ، غیر مسلموں اور عام رفاہی کاموں میں اس کا استعمال نہیں ہے ۔ و ما امروا إلا ليعبدوا الله مخلصين له الدين ( البينه: 5 ) إنما الصدقات للفقراء و المسلمين ( توبه : 60 ) اس کے بر خلاف ٹیکس عبادت نہیں ہے بلکہ حکومت کی اعانت یا اس سے پہنچنے والے فائدہ کا معاوضہ ہے ، نہ اس کے لیے کوئی متعین تناسب اور مقدار ہے ، نہ اس کے وہ مصارف ہیں جو زکوۃ کے ہیں، اس لیے ٹیکس سے زکوٰۃ کی ادائیگی نہیں ہوسکتی

Read more

جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃ

از : قاضی محمد حسن ندوی جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃ سوال: کسی شخص نے تجارتی سامان خریدا لیکن ابھی اس پر اس کا قبضہ نہیں ہوا کہ سال پورا ہو گیا تو کیا اس پر زکوۃ واجب ہوگی ؟ جواب: تجارتی مال پر جب تک قبضہ حاصل نہ ہو جائے زکوۃ واجب نہیں ہوگی ۔ علامہ ابن نجیم مصری کا بیان ہے: لا تجب الزكوة على المشترى فيما اشتراه للتجارة قبل القبض لعدم اليد (۲) البحر الرائق ج 2 218

Read more

بینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃ

بینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃ سوال: وہ رقم جو کرنسی اکاؤنٹ یا فکسڈ ڈپازٹ کی شکل میں ہے تو اس پر زکوۃ واجب ہو گی ؟ جواب: وجوب زکوۃ کے لئے ملکیت ضروری ہے اور مذکورہ مال پر ملکیت ہوتی ہے اس لئےشرعا ز کوۃ واجب ہے (۳) از : قاضی محمد حسن ندوی

Read more

اسقاط حمل کا مسئلہ

اسقاط حمل کا مسئلہ سوال: کیا ضرورت شرعی کے پیش نظر اسقاط حمل کی شرعاً گنجائش ہوگی؟ از : قاضی محمد حسن ندوی جواب: اگر یہ صحیح ہے کہ حمل ضائع نہ کرنے کی صورت میں ماں کی جان خطرہ میں ہو یا ماں کی صحت پر برا اثر پڑ رہا ہو یا دودھ پینے والے بچے کی صحت پر بھی اثر پڑ رہا ہو یا اس کی جان خطرہ میں ہو اور نہ بچہ کے والد کے پاس اتنی طاقت ہو کہ وہ دایہ رکھ کر بچہ کو دودھ پلوا سکے یا پرورش کا دوسرا نظم کر سکے تو ایسی صورت میں اسقاط حمل کی شرعاً گنجائش ہے۔ در مختار میں ہے: و قالوا يباح اسقاط الولد قبل أربعة أشهر ولو چلا اذن الزوج و من الاعداد أن ينقطع لبنها بعد ظهور الحمل وليس لأبي الصبي ما يستاجر به الظئر و يخاف هلاكه قال ابن حبان فاباحه الاسقاط محمولة على حالة العذر أو أنها تاثم اثم القتل. (1) لو كان أحدهما أعظم ضررا من الآخر فان الاشد يزال بأخف (۲)

Read more

سوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟

سوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟ از : قاضی محمد حسن ندوی جواب: چونکہ اس میں بعض ایسے اشعار ہیں جن کا مطلب ہے اے زمین ہم تجھے پوجتے ہیں، یہ جملہ شرک پر دلالت کرتا ہے، حالانکہ اسلام شرک کے مخالف ہے، جس کی بنیاد خالص توحید پر ہے، یعنی اللہ تعالی کے ساتھ عبادت میں کسی کو شریک نہ کیا جائے ، جو لوگ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتے ہیں اللہ تعالی انہیں بھی معاف نہیں کرتے ، قرآن مجید میں ہے. إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يُشَاءُ (نساء ۔ 166) لہذا کسی مسلمان کے لیے وندے ماترم کا پڑھنا اور گانا شرعاً درست نہیں ہے بلکہ حرام ہے، اس سے خود بھی بچے اور اپنی اولاد کو بھی بچائے۔ جہاں تک وطن سے محبت کا تعلق ہے تو اس سلسلہ میں مذہب اسلام نے ترغیب دی ہے کہ ہر شخص اپنے وطن اور ملک سے محبت رکھے اور اس کے ساتھ وفاداری کا ثبوت دے، بلکہ وطن سے محبت رکھنے کو ایمان کا حصہ قرار دیا ہے، یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کو اپنے ملک کے ذرے ذرے سے پیار و محبت ہے۔ جب جب ملک کو خوں کی ضرورت پڑی تو مسلمانوں نے اپنی جان و مال کو ملک کی آزادی کے لیے نچھاور کر دی، مگر محبت اور عبادت میں فرق ہے، محبت ہر ایک چیز سے ہو سکتی ہے لیکن ہر ایک کی عبادت جائز نہیں ، مثلاً مسلمانوں کو نبی کریم ﷺ ، خانہ کعبہ مسجد حرام، مسجد نبوی ، گنبد خضراء والدین اور اساتذہ سے محبت ہے لیکن ان کی عبادت کسی حالت میں درست نہیں ہے، قرآن پاک میں ہے۔ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اعْبُدُوا اللَّهَ رَبِّي وَ رَبَّكُمْ إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَهُ النَّارُ وَ مَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ ( قرآن مجید

Read more

شب برات کی فضیلت

شب برات کی فضیلت احادیث اور علماء دین کی آراء کی روشنی میں غلام نبی کشافیآنچار صورہ سرینگر کئی قارئین نے شب برات کے حوالے سے مضمون لکھنے پر اصرار کیا ۔ حالانکہ میں نے پچھلے سال شب برات پر ایک تفصیلی مضمون لکھا تھا ،لیکن صحیح بات یہ ہے کہ مجھے اچھا نہیں لگتا ہے کہ میں اس طرح کے موضوعات پر بار بار مضامین لکھنے بیٹھ جاؤں ، جبکہ موجودہ دور میں اس سے بھی زیادہ اہم موضوعات پر کام کرنے اور لکھنے کی ضرورت ہے ، اور میں اپنی استطاعت کے مطابق انہی اہم موضوعات پر لکھنا یا بولنا زیادہ پسند کرتا ہوں ۔اس لئے میں آج دوبارہ پچھلے سال ہی کا لکھا گیا مضمون کچھ حذف و اضافہ کے ساتھ آپ کی خدمت میں پیش کرنے جا رہا ہوں اور میں امید کرتا ہوں کہ آپ اس مضمون کو خود بھی پڑھیں گے اور اپنے دوستوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ شئیر بھی ضرور کریں گے ۔ شب برات کے حوالے سے ایک قاری کا سوال ان الفاظ میں موصول ہوا ہے ۔ ” شعبان کی پندرہویں شب کے حوالے سے سوشل میڈیا پر کچھ ویڈیوز اور تحریریں بھی دیکھنے کو ملی تھیں ، جن میں بعض اس شب کی فضیلت کے قائل نظر آتے ہیں ، اور بعض اس کی فضیلت کے قائل نہیں ہیں ، اور وہ اس کے بارے میں قطعی طور پر بتاتے ہیں کہ اس رات کی کوئی فضیلت ثابت نہیں ہے ، اور اس کے متعلق جتنی بھی روایات ہیں ، وہ سب کی سب یا تو ضعیف ہیں اور یا پھر موضوع ۔اس سلسلہ میں اگر آپ کوئی مضمون لکھیں گے تو بڑی مہربانی ہوگی ، کیونکہ آپ کی تحریر سے اطمینان سا حاصل ہوجاتا ہے ، اس لئے میں امید کرتا ہوں کہ آپ اپنے جواب سے ضرور ممنون فرمائیں گے " محمد شفیع ڈار / سرینگر اس سے کافی عرصہ پہلے ایک اور نوجوان کا مسیج ان الفاظ میں آیا تھا ۔ ” میں پچھلے چند ماہ سے آپ کے تعمیر فکر کے…

Read more