HIRA ONLINE / حرا آن لائن
دیوالی کی میٹھائی کھانا کیسا ہے ؟

دیوالی کی میٹھائی کھانا کیسا ہے؟ (اسلامی نقطۂ نظر) دیوالی ہندو برادری کا ایک مذہبی تہوار ہے جس میں روشنی، پوجا، اور خوشی کے اظہار کے ساتھ ساتھ میٹھائیاں تقسیم کی جاتی ہیں، مسلمانوں کے ذہن میں اکثر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دیوالی کے موقع پر کسی غیر مسلم کی دی ہوئی میٹھائی کھانا جائز ہے؟ دیوالی کے موقع پر ہندوؤں کی جانب سے جو مٹھائی وغیرہ دی جاتی ہے ، اگر اس سے متعلق یہ یقین ہو کہ انہوں نے اپنے باطل معبودوں کے نام پر نہیں چڑھایا ہے اور نہ ہی اس میں کسی حرام و ناپاک چیز کی آمیزش ہے، تو اس کا استعمال جائز ہے۔ لیکن پھر بھی احتیاط بہتر ہے ۔ الدر المختار وحاشية ابن عابدين میں ہے:’’ولو أهدى لمسلم ولم يرد تعظيم اليوم بل جرى على عادة الناس لايكفر، وينبغي أن يفعله قبله أو بعده نفياً للشبهة.‘‘(كتاب الخنثى، مسائل شتى، ج: 6، صفحہ: 754، ط: ایچ، ایم، سعید دیوالی کی میٹھائی کھانا کیسا ہے ؟

Read more

حنفی کا عصر کی نماز شافعی وقت میں پڑھنا

حنفی کا عصر کی نماز شافعی وقت میں پڑھنا محمد رضی الاسلام ندوی : سوال حنفی مسلک پر عمل کرنے والے شخص کا عصر کی نماز شافعی مسلک کے مطابق وقت شروع ہونے کے بعد ادا کرنا کیسا ہے؟ میں نے فتاویٰ کی طرف رجوع کیا تو یہ جواب ملا کہ ایسا کرنا درست نہیں ۔ صاحبین کا ایک قول اس کی اجازت دیتا ہے ، لیکن فتویٰ امام ابو حنیفہؒ کے قول کے مطابق دیا جاتا ہے کہ جائز نہیں ۔میرے ایک دوست ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں کام کرتے ہیں ۔ ان کا سوال یہ ہے کہ بعض اوقات حنفی مسلک کے مطابق عصر کی نماز کا وقت شروع ہونے کے بعد نماز پڑھنے کا موقع نہیں ملتا، جب کہ شافعی مسلک کے مطابق عصر کا وقت شروع ہونے کے بعد وہ نماز پڑھ سکتے ہیں ۔ پھر کیا وہ نماز عصر قضا کریں یا شافعی مسلک کے مطابق پڑھ لیا کریں؟ : جواب حنفی کا عصر کی نماز شافعی وقت میں پڑھنا اللہ تعالیٰ نے روزانہ پانچ وقت کی نماز فرض کرنے کے ساتھ ان کے اوقات بھی متعین کر دیے ہیں اور ہر نماز کو اس کے وقت میں ادا کرنے کی تاکید کی ہے۔ ارشاد ہے :اِنَّ الصَّلاة کانَت عَلَی المُؤمِنینَ کِتاباً مَوقوتًا (النساء:۱۰۳)”درحقیقت نماز ایسا فرض ہے جو پابندی وقت کے ساتھ اہل ایمان پر لازم کیا گیا ہے۔“ نمازِ عصرکے وقت کی ابتدا کے بارے میں فقہا کے درمیان اختلاف ہے ۔ امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک اس کا وقت اس وقت شروع ہوتا ہے جب کسی چیز کا سایہ اصلی سایہ کے علاوہ دو مثل ہو جائے ، جب کہ امام شافعیؒ کے نزدیک اس کا آغاز سایۂ اصلی کے علاوہ ایک مثل ہونے پر ہو جاتا ہے ۔ اس مسئلہ میں صاحبین (یعنی امام ابو حنیفہ کے دونوں شاگرد قاضی ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ) کی رائے امام شافعیؒ کے مثل ہے ، لیکن فقہ حنفی میں فتویٰ امام صاحب کی رائے پر دیا جاتا ہے ۔ میری رائے میں حنفی مسلک پر عمل کرنے والوں کو…

Read more

غیر مسلموں کے برتنوں کا حکم

غیر مسلموں کے برتنوں کا حکم دوست نے سوال کیا کہ میرا ایک عیسائی دوست ہے، وہ کبھی ہمیں اپنے گھر بلاتا ہے تو اکثر کھانے پینے کی چیزیں ہمارے سامنے رکھتا ہے۔ وہ چیزیں تو حلال و پاک ہوتی ہیں البتہ ہم کو ان برتنوں کے بارے میں گمان رہتا ہے کہ نجانے غیر مسلموں کے مونہوں کو لگنے کے سبب یہ برتن پاک ہیں یا نہیں تو کیا ہم ان کے برتنوں میں کھاسکتے ہیں؟ دیکھئے اسلام میں اصل جواز کی ہے۔ غیر مسلموں کے برتنوں میں کھانے پینے کی کوئی ممانعت کسی حدیث میں وارد نہیں۔ بلکہ بعض روایات سے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ آپﷺ نے غیر مسلموں کے برتنوں سے فائدہ اٹھایا ہے۔ صحیح بخاری کتاب الطب میں امام بخاری روایت لائے ہیں کہ آپﷺ نے مشرکین کے برتنوں میں ان کا کھانا کھایا۔ اسی طرح بخاری کتاب التیمم باب الصعید الطیب وضوء المسلم اور صحیح مسلم میں روایت ہے کہ نبیﷺ نے اپنے ساتھیوں کو ایک مشرکہ عورت کے مشکیزے سے پانی پینے اور وضوء کرنے کا حکم دیا۔اب دیکھئے کہ اگر مشکیزہ ناپاک ہوتا تو اس سے پانی پینا تو کجا کیا آپﷺ اس میں موجود پانی سے وضو کرنے کا حکم دیتے۔ بعینہٖ ایک اور روایت سنن ابو داؤد کتاب الاطعمۃ باب الاکل فی آنیۃ اھل الکتاب میں سیدنا جابر بن عبداللہؓ سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ مل کر جہاد کرتے اور مشرکین کے برتن اور مشکیزے ہمارے ہاتھ آتے تو ہم ان سے فائدہ اٹھاتے اور صحابہ اس میں کوئی عیب نہ سمجھتے تھے۔ غرض ان روایات سے یہ بات تو واضح ہوجاتی ہے کہ غیر مسلموں کے برتنوں میں کھایا پیا جاسکتا ہے۔ البتہ بعض روایات میں آتا ہے کہ آپﷺ اہل کتاب کے برتنوں کو استعمال سے پہلے دھونے کا حکم دیتے تھے۔ اس قسم کی روایات بخاری ، ابو داؤد اور جامع ترمذی میں موجود ہیں۔ امام شوکانی نے بھی نیل الاوطار میں یہ آثار نقل کئے ہیں، تاہم اس سلسلے میں یہ واضح رہے کہ ان تمام روایات…

Read more

نکاح کی حکمت اور اس کے فوائد

نکاح کی حکمت اور اس کے فوائد ا۔ انسانی فطری خواہش کی تکمیل ۔ 2نسل انسانی کی بقا اور اس کی افزائش ۔ 3سکون قلب اور محبت و مودت کا حصول ۔ 4 اخلاق و پاکیزگی کی حفاظت ۔۔ خاندانی نظام کی استواری۔

Read more

*_ساتویں مجلس تحقیقات شرعیہ لکھنؤ کے سمینار میں_* (١)

*_ساتویں مجلس تحقیقات شرعیہ لکھنؤ کے سمینار میں_* (١) فقہ و فکر کے تعلق سے ندوۃ العلماء ممتاز ہے، فکری اعتبار سے اعتدال، توازن، توسط، قدیم صالح اور جدید نافع، الی الاسلام من جدید اس کا سلوگن ہے تو وہیں فقہ میں توافق، توازن، مسلکی ہم آہنگی، وسطیت اس کا طرہ امتیاز ہے، ندوہ نے دونوں جہتوں پر کام کیا ہے، علامہ شبلی نعمانی رحمہ اللہ نے جس پود کو پروان چڑھایا، وہ سید سلیمانی جس نے تحقیق و نظر کا کام کیا، انفاس علی نے روشن پھر ندوہ کا جہاں میں نام کیا، وہ نام اور شہرہ ان دونوں جہات سے ہوا؛ لیکن افسوس کہ فکر ندوہ کو گرچہ کچھ کامیابی ملی؛ لیکن فقہی ذوق ندوہ کو فروغ نہ ملا جس کا وہ مستحق تھا، اگر اسے مبالغہ سمجھا جائے تو تاریخ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کا مطالعہ کرنا چاہیے اور دیکھنا چاہئے کہ کس طرح ندوہ کی بنیاد میں فقہی و فکری دونوں اینٹیں توازن کے ساتھ رکھی گئی تھیں، مولانا عبداللطيف صاحب کے تعلق سے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اس سلسلہ میں بہت کچھ کام کیا تھا؛ لیکن ہمسایہ ملک ہجرت کر جانے اور بہتر علمی جاں نشین نہ مل پانے نے ان کے سارے علمی سرمایہ کو ضائع کردیا، مولانا تقی امینی کا کام بھی گراں قدر ہے، ان کے بعد جس بوالحسن کو فکر ندوہ کا تاج سمجھا جاتا ہے انہی نے فقہی میدان میں بھی غیر معمولی پیش قدمی کی، مولانا نے ہی جامع ازہر کے بعد ہندوستان کی سرزمین پر اجتماعی اجتہاد اور تحقیق و تدقیق، جدید مسائل کا حل نکالنے اور فقہ و فتاوی کے میدان میں زبان وبیان، فکر و تقریر اور تحقیق میں اعتدال قائم رکھنے اور اسے ترقی دینے کی خاطر مجلس تحقیقات شرعیہ لکھنؤ قائم کیا تھا، یہ 1963 کی بات ہے جب یہ کہا جاتا تھا کہ علماء ایک دسترخوان پر تو ساتھ بیٹھ سکتے ہیں؛ لیکن کسی مسئلہ پر سر جوڑ کر بات نہیں کرسکتے، مولانا نے اسے ممکن بنایا، تین سمینار بھی منعقد ہوئے اور سود، روئیت ہلال، انشورنس…

Read more

ندوہ العلماء لکھنؤ میں ساتواں فقہی سیمینار | مجلس تحقیقات شرعیہ

دو روزہ فقہی سیمینار ( دار العلوم ندوہ العلماء لکھنؤ)  از اسجد حسن ندوی *ند وۃ العلماء کی مجلس تحقیقات شرعیہ کے زیر اہتمام علامہ حیدر حسن خان ٹونکی ہال میں  4-5  ربیع الثانی 1447ھ مطابق 27-28 نومبر ویکم دسمبر 2025ء کو ساتواں فقہی سیمینار کی بزم سجائی گئی ، جو الحمد اللہ بحسن و خوبی علمی ، اور دینی ماحول میں اپنے اختتام کو پہونچی ، جس میں  تین اہم مسئلہ پر غور و خوض اور مناقشہ کے بعد تجاویز پیش منظور کی گئیں* فقہ اسلامی  ایک جامع نظام حیات ہے جو انسان کو دنیاوی مفاد سے اوپر اٹھا کر ابدی حقیقتوں کی طرف متوجہ کرتا ہے ، یہ ایک ایسا ہمہ گیر فلسفۂ حیات ہے جو روح کو سکون ، عقل کو بصیرت اور معاشرے کو توازن عطا کرتا ہے،  یہ فرد کی زندگی سے لے کر عالمی تعلقات تک رہنمائی فراہم کرتا ہے، خاندان کو مضبوط، معیشت کو عادلانہ اور معاشرے کو متوازن بناتا ہے ،  عصر حاضر میں ڈیجیٹل معیشت، مصنوعی ذہانت (A-I ) ، ماحولیاتی بحران اور  ٹیکنالوجی جیسے مسائل کے سامنے بہت سے مسائل میں جہاں انسانیت بے بس دکھائی دیتی ہے ، وہیں فقہ اسلامی اپنے اصولوں کے ذریعے ان مسائل کا ایسا حل فراہم کرتی ہے جو ترقی اور ٹیکنالوجی کو اخلاقیات و روحانیت سے ہم آہنگ کر دے،  یہ محض ماضی کی میراث نہیں بلکہ حال اور مستقبل کی حقیقی ضرورت ہے۔ ایسے نئے ، پیچیدہ اور غیر منصوص علیہ مسائل کو حل کرنے کے لیے "اجتہاد” کی ضرورت پڑتی ہے ، جو بدلتے ہوئے حالات اور نئی صورتوں میں اسلام کے عملی اطلاق کو ممکن بناتا ہے ، نظام ماضی یعنی قرآن و حدیث کی  روشنی میں حال کے تقاضے پورے کرتا ہے اور مستقبل کی راہیں روشن کرتا ہے ۔  زمانہ صحابہ سے لیکر آج تک ہر زمانے میں اجتہاد کیا گیا ہے ، اور فقہاء کرام  نے جہاں انفرادی طور پر نئے مسائل کے سلسلے میں غور و خوض کیا ہے ، وہیں اجتماعی اجتہاد بھی کیا ہے جس کے بہت سارے نظائر ملتے…

Read more