HIRA ONLINE / حرا آن لائن
ربوبیت الہی کی جلوہ گری از :مولانا آدم علی ندوی

ربوبیت الہی کی جلوہ گریمولانا آدم علی ندوی اللہ رب العزت نے آفاق و انفس میں اپنی وحدانیت وربوبیت کے بے شمار مظاہر بکھیر رکھے ہیں اور انسان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کو دیکھے اور غور کرے اور خدا کی قدرت وربوبیت کو پہچانے، تخلیق انسانی اور اعضاء جسمانی کا نظام اللہ کی کرشمہ سازی کا بہترین مظہر ہے، اس میں غور و فکر اور اس کا علم انسان کو معرفتِ الہی تک پہنچاتا ہے ، اسی لئے جابجا قرآن مجید میں اس کا تذکرہ کیا گیا ہے۔فَلْيَنْظُرِ الإِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَ -الطارق ٥ -تو انسان خوب دیکھ لے کہ اسے کس چیز سے پیدا کیا گیا۔وَفِي أَنْفُسِكُمْ أَفَلَا تُبْصِرُونَ -الذاريات / ٢١ -اور خود تمہارے اندر بھی نشانیاں ہیں کیا تم دیکھتے نہیں۔وَلَقَدْ خَلَقْنَا الإِنْسَانَ مِنْ سُلَالَةٍ مِّنْ طِينٍ ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَّكِينٍ ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا فَكَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْماً ثُمَّ أَنشَأْنَاهُ خَلْقاً آخَرَ فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ -المومنون / ١٢ تا ١٤ -اور ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے بنایا، پھر اسے ایک محفوظ جگہ نطفہ کی شکل میں رکھا ، پھر نطفہ کو خون کا لوتھڑا بنایا پھر خون کے لوتھڑے کو گوشت کا ٹکڑا کیا پھر گوشت کے ٹکڑے کو ہڈیوں کی شکل دی، پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا پھر اسے ایک نئی صورت بنا کر وجود بخشا تو کیسی برکت والی ذات ہے اللہ کی جو سب سے بہتر پیدا کرنے والا ہے۔قرآن میں اللہ تعالیٰ نے تخلیق انسانی کا تذکرہ بار بار صرف ہماری معلومات کے لئے نہیں کیا ہے، بلکہ اس کا اصل مقصد اور ہمارے کانوں اور دلوں سے بار بار خطاب کا اصل جوہر یہ ہے کہ ہم خالق و صانع کی عظمت اور ربوبیت کو پہچان سکیں اور اپنی حقیقت سے واقف ہوسکیں ۔ تخلیق انسانی کا نظام اللہ تعالیٰ نے مرد و عورت کو الگ الگ فطرت و خصوصیات کا حامل بنا کر دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ آپسی الفت و محبت کے ساتھ رہنے کی صلاحیت بخشی ، اور ان میں…

Read more

ڈاکٹر مولانا نذیر احمد ندوی

ڈاکٹر مولانا نذیر احمد ندویؒعلم، اخلاص اور کردار کا حسین امتزاجآدم علی ندویمدرسۃ العلوم الاسلامیہ۔علی گڑھ ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظرمولانا نذیر احمد ندویؒ کی ولادت 1967ء میں نورنگ آباد شاہی مسجد ضلع اٹاوہ (اترپردیش) میں ہوئی۔ آپ کے والد محترم جناب عزیز احمد صاحب ریلوے میں سپرنٹنڈنٹ کے عہدے پر فائز تھے اور ان کی پوسٹنگ ڈونڈلا میں تھی۔ مولانا نے بچپن اور ابتدائی زندگی کا بڑا حصہ اپنے والد کے ہمراہ وہیں گزارا۔والد کے انتقال کے بعد خاندان واپس آبائی وطن اٹاوہ منتقل ہو گیا۔ آپ سات بھائی بہنوں میں سے ایک تھے (چار بھائی، تین بہنیں)؛ جن میں دو بھائی — آپ کے بڑے بھائی اور خود آپ — انتقال فرما چکے ہیں، جب کہ دو بھائی اور تین بہنیں حیات ہیں۔پسماندگان میں بیوہ اور ایک صاحبزادی شامل ہیں۔تعلیم و تربیتمولانا نے 1979ء میں دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں داخلہ لیا۔ وہیں سے 1986 میں عالمیت اور بعد ازاں1988 میں ادبِ عربی میں فضیلت حاصل کی۔ ندوہ میں آپ نے نہ صرف نصابی علوم حاصل کیے بلکہ عربی و اردو ادب کے گہرے ذوق کو پروان چڑھایا۔بعد ازاں آپ نے جامعہ لکھنؤ سے عربی سے پی۔ایچ۔ڈی (ڈاکٹریٹ) کی ڈگری بھی حاصل کی۔آپ کے علمی و اخلاقی نشوونما میں استادِ محترم مولانا واضح رشید حسنی ندویؒ کی تربیت اور نگرانی نے بنیادی کردار ادا کیا۔ وہی آپ کے لیے علم و اخلاق کے مینار ثابت ہوئے، اور انہی کے رنگ میں آپ کی شخصیت نکھرتی گئی۔علمی سفر اور تدریسی خدماتتعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ ندوۃ العلماء ہی میں تدریس و تحقیق کے شعبے سے وابستہ ہو گئے۔آپ عربی زبان و ادب کے نہایت ماہر استاد تھے، اور آپ کا درس ذوق و علم، ادب و اسلوب، اور زبان و بیان کا حسین امتزاج ہوتا تھا۔آپ صرف ایک مدرس نہیں بلکہ مربی اور رہبر تھے۔عربی، اردو، فارسی، انگریزی اور ہندی — سب پر یکساں قدرت رکھتے تھے۔سبق کے دوران جب آپ عربی لفظ کا معنی بتاتے، تو صرف اردو ترجمہ پر اکتفا نہ کرتے بلکہ انگریزی، ہندی اور فارسی میں بھی اس کے…

Read more

بنو ہاشم اور بنو امیہ کے مابین ازدواجی رشتے

بنو ہاشم اور بنو امیہ کے مابین ازدواجی رشتے بن معاویہ محب الله تاریخ کی کتابوں میں یہ بات اکثر دہرائی جاتی ہے کہ قریش کے دو بڑے خاندان؛ بنو ہاشم اور بنو امیہ میں قدیم رقابت تھی، اسی رقابت کا نتیجہ تھا کہ دونوں کے مابین عہدِ جاہلیت، عہدِ نبوی، دورِ خلافتِ راشدہ اور خصوصاً خلافتِ بنو امیہ اور بنو عباس کے زمانہ میں یہ رقابت خوب ابھر کر سامنے آئی، اس سلسلے میں بہت سارے مصنفین نے یہ غلطی کی ہے اور چند جزوی واقعات سے استدلال کرکے بہت بڑا نتیجہ اخذ کرلیا کہ بنو ہاشم اور بنو امیہ میں خاندانی رقابت وعداوت چلی آرہی تھی۔ یہاں تک کہ اردو کے عظیم سیرت نگار علامہ شبلی نعمانی اور قاضی سلیمان منصورپوری نے بھی لکھ دیا کہ خاندان بنو ہاشم اور بنو امیہ برابر کے حریف تھے اور دونوں میں مدت سے رشک و رقابت چلی آرہی تھی، سیاسی اختلافات مستقل الگ مسئلہ ہے اور دیگر معاشرتی امور میں تعلقات مستقل الگ موضوعِ بحث ہیں۔ عبد مناف کی متعدد اولادوں میں سے ہاشم اور عبد شمس؛ بنو ہاشم اور بنو امیہ کے جد امجد ہیں، گرچہ بنو امیہ کا خاندان عبد شمس کے بڑے بیٹے امیہ بن عبد شمس کے نام سے زیادہ معروف ہوا، ڈاکٹر یاسین مظہر صدیقی نے لکھا ہے کہ عبد مناف کی اولادوں کا خاندان متحدہ طور پر عہد نبوی کے بعد تک عموماً بنو عبد مناف ہی کہلاتا رہا، اسی بات کی تائید سنن ابن ماجہ کی ایک حدیث سے بھی ہوتی ہے؛ رسول الله نے خیبر کے غنائم میں سے بنو ہاشم اور بنو مطلب کو عنایت کیا، اس پر بنو عبد الدار سے جبیر بن مطعم اور بنو عبد شمس سے عثمان بن عفان نے دریافت کیا: "قسمت لاخواننا بنی ھاشم و بنی المطلب، و قرابتنا واحدۃ!”۔(سنن ابن ماجہ، رقم ۲۸۸۱) ان دونوں خاندانوں میں تجارتی تعلقات بالکل اسی طریقہ پر استوار ہوتے تھے جیسے کسی معاشرہ میں ہوتے ہیں، ایسے ہی ازدواجی تعلقات کسی معاشرہ کی جڑ ہوا کرتے ہیں، دلچسپ بات یہ کہ عہدِ جاہلیت سے…

Read more

تم رہو زندہ جاوداں ، آمیں از : ڈاکٹر محمد اعظم ندوی

تم رہو زندہ جاوداں ، آمیں از : ڈاکٹر محمد اعظم ندوی تم رہو زندہ جاوداں، آمیں! ڈاکٹر محمد اعظم ندوی سیاست کی پرپیچ دنیا میں ایسے لمحات کبھی کبھی آتے ہیں جب طاقت کی ترازو میں ہلکی سی جنبش حالات کا پیمانہ بدل دیتی ہے، عسکری قوت، سفارتی دباؤ اور سیاسی جال سب ایک طرف رہ جاتے ہیں، اور صبر، عقل اور موقع شناسی ایک چھوٹی سی جماعت کو اس مقام پر پہنچا دیتی ہے جہاں بڑی قومیں صدیوں کی تیاری کے باوجود نہیں پہنچ پاتیں، فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس نے حالیہ دنوں میں وہی کر دکھایا جس کا تصور اعلیٰ سیاسی دماغ رکھنے والی قوتیں بھی کم ہی کر پاتی ہیں۔ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکہ میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران ایسا اعلان کیا جو دنیا بھر کے حساس دلوں پر بجلی بن کر گرا، ایسا لگا کہ غزہ کا باب بند ہو گیا ہے، قضیۂ فلسطین کی آخری سطر لکھی جا چکی ہے، اور حریت کا چراغ بجھنے کو ہے، نیتن یاہو نے اس کے بعد اپنی وہ ویڈیوز جاری کیں جن میں وہ فتح کے نشے میں سرشار دکھائی دیا، گویا ظالم کے سر پر کامیابی کا سہرا سجا دیا گیا ہو، اور حق کو قدموں تلے روند دیا گیا ہو، ٹرمپ نے اس آتش خاموش کو اپنی دھمکیوں سے اور گرمایا کہ "اگر حماس نے معاہدے پر دستخط نہ کیے تو ہم انہیں جہنم میں جھونک دیں گے”، اس خبر نے فضا میں مایوسی اور بے بسی کی ایسی لہر دوڑائی کہ دنیا بھر کے حریت پسندوں کے لیے وہ رات بے خواب بن گئی۔ لیکن تاریخ ہمیشہ آخری فیصلہ طاقت کے ایوانوں میں نہیں کرتی، اسی گھڑی جب سب کچھ ختم ہوتا نظر آ رہا تھا، قطر کے دار الحکومت دوحہ میں ایک خاموش مگر فیصلہ کن سرگرمی شروع ہوئی، ترکی، مصر اور قطر کے نمائندے ایک میز پر جمع ہوئے، ترک انٹیلیجنس کے سربراہ، اسلامی اسکالر اور صدر ترکیہ کے خصوصی مشیر ابراہیم کالین، مصری انٹیلیجنس…

Read more

استاذ محترم مولانا نذیر احمد ندویؒ کی وفاتنہ سنا جائے گا ہم سے یہ فسانہ ہرگز

استاذ محترم مولانا نذیر احمد ندویؒ کی وفاتنہ سنا جائے گا ہم سے یہ فسانہ ہرگز ڈاکٹر محمد اعظم ندوی استاذ مکرم ڈاکٹر مولانا نذیر احمد ندویؒ استاذ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کی رحلت کی خبر بجلی بن کر گری:خوش درخشید ولے شعلہ مستجل بود ایسا لگا جیسے اہلِ علم کے افق سے ایک اور ستارہ ٹوٹ کر گرا ہو، اور علمی فضا میں ایک گہری اداسی چھا گئی ہو، وہ ایک ایسے کامیاب استاذ تھے جن کے درس میں شریک ہونا صرف عبارتوں کا حل کرنا نہیں، بلکہ علم وادب کا لطف اٹھانا ہوتا تھا، وہ بات کرتے تو الفاظ پھول بن جاتے، جملے خوشبو بن کر فضا میں بکھر جاتے، ان کی گفتگو میں ایسا رس اور بانکپن تھا کہ سننے والا دیر تک اس کے سحر میں گرفتار رہتا:وہ کہیں اور سنا کرے کوئیان کے پڑھانے کا انداز دل کو موہ لینے والا تھا، عربی زبان وادب تو تھا ہی ان کا میدان، جس کے وہ شہ سوار تھے، ندوہ کے پندرہ روزہ عربی ترجمان "الرائد” کی مجلس مشاورت کے رکن رکین بھی تھے، اور اس میں گاہے گاہے ان کے مضامین وتراجم شائع ہوتے تھے، اردو شعر وسخن سے بھی مولانا کو حظ وافر ملا تھا، انگریزی پر بھی غیر معمولی قدرت رکھتے تھے، عربی عبارتیں پڑھاتے تو گویا لفظوں کی گرہیں کھلتی جاتیں، اور اردو میں اس کا ترجمہ کرتے تو جملے میں ایسا ذوق، ایسی سلاست اور ایسی چاشنی گھول دیتے کہ دل جھوم اٹھتا، میں نے ان سے مختارات ثانی اور مجموعۃ من النظم پڑھی تھی، وہ جب کسی نثری یا شعری فن پارے کی اردو تعبیر کرتے تو معنی کا دریا بہا دیتے، ایک بار انہوں نے «يَتَلَأْلَأُ وجهُه تَلَأْلُؤَ القمر ليلة البدر» کا ترجمہ یوں کیا:”آپ کا رخِ روشن ماہِ شبِ چہار دہم کی طرح چمکتا تھا”یہ جملہ اب بھی میرے دل کے نہاں خانوں میں پنہاں ہے، اور یاد آتے ہی ایک روح پرور روشنی ذہن میں پھیل جاتی ہے، ان کے ترجمے محض لفظ کی جگہ لفظ کے نمونے نہیں ہوتے تھے، وہ اعلی…

Read more

انس جمال محمود الشریف

انس جمال محمود الشریف مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ غزہ میں اسرائیلی دہشت گردی کے واقعات اور تصاویر کو الجزیرہ ٹی وی کے ذریعہ پوری دنیا میں پہونچانے والے مشہور صحافی انس جمال محمودالشریف 10/اگست2025ء کو اسرائیلی فوج نے شہید کر دیا ، ان کے ساتھ ان کے چار ساتھی محمد قریقہ ،ابراہیم زاہر ، محمد نوفل ، مومن علیوا اور دو شہری بھی شہید ہوئے ، اس طرح حق و صداقت پر مبنی سچی تصویر کشی کرنے والے انس شہید اپنے مطلوب کو پہونچ گیے ،شہادت کے وقت وہ غزہ میں الشفا اسپتال کے قریب اپنے خیمہ میں تھے، ان کے پس ماندگان میں اہلیہ ام صلاح ( بیان ) ، ایک بیٹا صلاح انور اور ایک بیٹی شم ہے۔ :انس جمال محمود الشریف کی پیدائشں: انس شریف غزہ، فلسطین کے جبالیا در نوار فوجی کیمپ میں 3/دسمبر 1996ء میں پیدا ہوئے ، ان کے خاندان 1996ء میں نقل مکانی کر کے المجدل آگیا تھا، جو ان دنوں اسرائیل کا شہر ہے اور عسقلان کے نام سے جانا جاتا ہے،اسرائیل کے قبضے کے بعد ان کے والد غزہ کی پناہ گاہ جبالیا منتقل ہو گیے تھے، انس جمال محمود الشریف کی تعلیم ان کے والد کا نام جمال شریف تھا، انہوں نے مختلف صحافتی اداروں میں تعلیم وتر بیت پانے کے بعد الاقصیٰ یونیورسٹی سے صحافت گریجویشن کیا،صحافت میں ان کی دلچسپی کے موضوعات انسانی حقوق اور جنگ کے حالات تھے،یہ ایک جوکھم بھرا کام تھا، سارے صحافی جب غزہ کو خیر باد کہہ گیے ، جو تنہا رہ گیے تھے ان میں دوسو کے قریب اسرائیلی حملے میں شہید ہو گیے تو بھی وہ الجزیرہ ٹی وی کے لیے اپنی جان ہتھیلی پر لے کر رپورٹنگ کرتے رہے، انہوں نے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز رضا کارانہ طور پر الشمال میڈیا نیٹ ورک سے کیا ، غزہ کے حالیہ جنگ سے پہلے وہ CNN اور BBC کے لیے حماس کے میڈیا ٹیم کے ساتھ کام کرتے رہے، بعد میں وہ الجزیرہ ٹی وی کے لیے غزہ…

Read more