HIRA ONLINE / حرا آن لائن

Quranic Arabic Grammar Course

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میںاسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغامتحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ مسلمانوں کے بعض عوام میں ایک عام تصور یہ پایا جاتا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ان علامات کی خبر کو اس بات کا سہارا بنا لیتے ہیں کہ صحیح اسلامی زندگی کی بحالی کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ دیا جائے، اور انہوں نے قیامت کی علامات کے ساتھ ایک ایسی بات کو جوڑ دیا ہے جس کا ان سے کوئی تعلق ہی نہیں۔وہ یہ سمجھتے ہیں کہ آج کے دور میں عمل کرنا بے فائدہ ہے، کیونکہ فساد کا بڑھنا، گمراہی کا پھیلنا، اور قیامت سے پہلے ظاہر ہونے والے غیر معمولی واقعات—جیسے مہدی کا ظہور اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول—لازمی ہیں۔اور پھر انہی مواقع پر اسلام دوبارہ غالب آئے گا، دین کو غلبہ حاصل ہوگا، حق پھیلے گا، اس کے ماننے والے مضبوط ہوں گے، اور اسلامی نظام پوری طرح نافذ ہوگا۔لہٰذا اب باطل اور اس کے پیروکاروں کے خلاف جدوجہد کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، چاہے مسلمان کتنی ہی کوشش کیوں نہ کر لے۔ یہ گمراہ کن اور خبیث فکر—اور ممکن ہے کہ دشمنوں کی نرم سازشوں کے ذریعے مسلمانوں میں داخل کی گئی ہو—نے ان جاہل لوگوں اور ان کے گرد گھومنے والے سادہ لوح مسلمانوں کے دلوں سے فرضِ جدوجہد اور صحیح اسلامی شعور کو ساقط کر دیا ہے۔ اس نے ان پر منفی اثر ڈالا ہے، اور اسلامی زندگی کی بحالی کے لیے سنجیدہ اور مسلسل کوشش کے جذبے کو ختم کر دیا ہے۔ اکثر یہ نادان اور سادہ لوح مسلمان اپنے جیسے دوسروں کو یہ کہہ کر دھوکہ دیتے ہیں کہ دنیا اپنے اختتام کے قریب ہے، اور احادیثِ نبویہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اسلام اور مسلمانوں کی حالت مسلسل زوال پذیر رہے گی۔اور جب معاملہ ایسا ہی ہے تو پھر اس فاسد دھارے کو روکنے اور اس گراوٹ کو تھامنے کے لیے کچھ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ یہ اللہ…

Read more

🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!

انسان كا قتلناقابل عفو گناه! 🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ‏ اسلام کی نگاہ میں سب سے بڑا گناہ اللہ کے ساتھ شرک اور کفر ہے ، اس کی سزا ہمیشہ کے لئے دوزخ ہے ، جو شخص کفر کی حالت میں دنیا سے چلا جائے ، اس پر جنت کے دروازے بند ہیں اور ہمیشہ کے لئے آتشیں دوزخ کی آغوش اس کی رفیق رہے گی ، کفر کے بعد ایک ہی عمل ہے جس کے بارے میں فرمایا گیا کہ اس کا مرتکب ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا ، اس پر اللہ کا غضب ہوتا رہے گا اور اللہ کی لعنت برستی رہے گی ، کتنا گھبرادینے اور تڑپا دینے والا ہے یہ ارشاد ربانی :وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَھَنَّمُ،خَالِدًا فِیْھَا وَغَضَبَ اﷲُ عَلَیْہِ وَلَعْنَہٗ وَاَعَدَّ لَہٗ عَذَابًا عَظِیْمًا ۔ (النساء : ۹۳)جو جان بوجھ کر کسی مسلمان کو قتل کرے اس کا بدلہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا ، اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہو اور اللہ نے اس کے لئے بھیانک عذاب تیار کر رکھا ہے ۔ کتنی لرزہ براندام کردینے والی ہے یہ آیت ! — لیکن اس شخص کے لئے جس کے دل میں خوفِ خداوندی کا کوئی گوشہ موجود ہو ، جس کی آنکھ کبھی کبھی سہی ، اللہ کے خوف سے نم ہونا جانتی ہو ، جس کا دل آخرت کے تصور سے لمحہ دو لمحہ سہی ، لرزنے سے آشنا ہو ، جو آخرت کی وسعتوں پر یقین رکھتا ہو ، جسے جنت کی نعمتوں اور دوزخ کی ہولناکیوں پر ایمان ہو اور جس کے سینے میں دھڑکتا ہوا دل ہو ، جن سینوں میں دل کے بجائے پتھر کی سل رکھی ہوئی ہو اور جن قلوب میں محبت کی شبنم کے بجائے نفرت اور ظلم و جور کی بھٹیاں سلگتی ہوں ، ان کے بارے میںکیوں کر سوچا جاسکتا ہے، کہ خالقِ کائنات کا یہ ارشاد بھی ان کو تڑپا سکے گا ؟ خدا و ررسول کی بات بھی ان کے دلوں پر دستک دے سکے…

Read more

شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ باتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ Jawed Akhtar-Shamail debate-Alamullah-25-12-25جاوید اختر۔شمائل مباحثے کے تناظر میں ایک فکری جائزہ(ایشیاء ٹائمز میں شائع ڈاکٹر ظفر الاسلام خان کی رائے کی بنیاد پر) محمد علم اللہ ، لندن ۲۰ دسمبر ۲۰۲۵ کو نئی دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں جاوید اختر اور مفتی شمائل احمد ندوی کے درمیان "کیا خدا موجود ہے؟” کے موضوع پر مباحثہ ہوا ۔ اس کے بعد سوشل میڈیا پر ایک جشن کا سا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ لوگ ویڈیوز بنا رہے ہیں، آرٹیکلز لکھ رہے ہیں، فیس بک پر کمنٹس کر رہے ہیں اور مختلف انداز میں اسے دیکھ رہے ہیں۔ ایک طبقہ اسے سنجیدگی سے سوچ رہا ہے۔ یہ ماحول بالکل اسی قسم کا ہے جو ۱۹ انیسویں صدی میں مناظروں کے وقت ہوتا تھا، جہاں بڑے بڑے لوگ آتے تھے اور عیسائی، مسلمان یا ہندو کے نمائندے سے بحث کر کے فتح کا دعویٰ کرتے تھے۔ یہ سب ڈائیورژن (توجہ ہٹانا) ہے، اصل مسئلہ نہیں۔ہندوستان میں اب یہ مناظرے دوبارہ شروع ہو رہے ہیں۔ جاوید اختر صاحب سے اگرچہ ہم متفق نہیں، لیکن وہ کبھی ہندوتوا کے خلاف بولتے ہیں، حکومت کی اقلیتوں کے بارے میں پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں ، ماب لنچنگ پر لب کشائی کرتے ہیں۔ انہیں بلاکر ذلیل کرنا کوئی اچھا طریقہ نہیں، نہ یہ مسلمانوں کا طریقہ ہے۔ اللہ پاک نے قرآن میں فرمایا ہے: "ادع إلى سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ” یعنی حکمت اور عمدہ طریقے سے اپنے رب کے راستے کی طرف بلاؤ۔ یہ ہمارا طریقہ ہے۔ اسلامی تاریخ میں ایسے مناظرے نہیں ہوتے تھے، سوائے بہت خاص حالات کے جیسے نجران کا واقعہ۔ یہ سلسلہ ہندوستان میں انیسویں صدی میں شروع ہوا، جب انگریز اور عیسائی ہندوستان کو عیسائی بنانا چاہتے تھے۔ اب ایسا ماحول پیدا کرنا مناسب نہیں۔ اسے پبلک میں دکھانا، یوٹیوب پر ڈالنا، دنیا بھر میں ہنگامہ کرنا، جشن منانا اور خوشیاں بانٹنا ۔ یہ سب غلط ہے۔ یہ لوگوں کو اصل مسائل سے ہٹانے کا طریقہ ہے۔ہمارا اصل مسئلہ اس وقت ہندوتوا سے حکمت کے ساتھ…

Read more

مصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلو

مصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلو از : مولانا محمد اجمل ندوی نائب مہتمم مدرسہ العلوم الاسلامیہ علی گڑھ دور جدید میں ٹیکنالوجی کی ترقی کافی عروج پر ہے ، اس نے خاطرخواہ ترقی کی ہے اور مزید ترقی کی راہ پر گامزن بھی ہےستاروں سے اگے جہاں اور بھی ہیںابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیںاس دور کو ڈیجیٹل دور بھی کہا جا سکتا ہے،اے ائی اس کا ایک نمایاں حصہ ہے جو علم و فکر کے تمام شعبہ جات میں بڑے پیمانے پر استعمال ہو رہا ہے اس کی نافعیت و افادیت کسی بھی ذی شعور پر مخفی نہیں ، اس میں بہت سے انسانی مسائل کا حل ہےمصنوعی ذہانت انسانی ذہن کی عکاسی کرنے والی وہ ٹیکنالوجی ہے جو اس دور کی اہم اختراع ہے جس میں تمام انسانی ضرورت کا ڈیٹا اور جمع کردہ معلومات فراہم ہے اس کا ظہور اچانک نہیں ہوا بلکہ یہ سائنس و ٹیکنالوجی کی راہ ترقی کی ایک منزل ہے جس سے نوع ادم تعلیم و صنعت ، امور خانہ داری ، معیشت و سیاست الغرض زندگی کے تمام امور میں مستفید ہو رہا ہےمجھ کو تسلیم تیری ساری ذہانت لیکن تاہم اس میں بہت سے منفی وسلبی پہلو بھی ہیں اخلاقیات و انسانی سلامتی کے بے شمار خدشات ہیں لہذا اس کے استعمال کے وقت احتیاط لازم ہے اور اس کی خامیوں سے اگاہ ہونا ضروری ہے ادمیت اور شے ہے علم ہے کچھ اور شےاتنا طوطے کو پڑھایا پر وہ حیواں ہی رہا ابتدا یہ تھی کہ میں تھا اور دعوی علم کاانتہا یہ ہے کہ اس دعوے پہ شرمایا بہت مصنوعی ذہانت کا ایک اثر لیبر مارکیٹ اور بے روزگاری پر ہے اس پر انحصار کی وجہ سے انسان کی تخلیقی صلاحیتیں کمزور ہو رہی ہیں مزید یہ کہ اس میں رازداری کا فقدان ، تصویر کی ہیرا پھیری ، سائبر حملے کے خطرات اور ڈیٹا چوری کے امکانات ہیں ۔اے ائی نے انسانی تعلقات کو بھی کافی متاثر کیا ہے جبکہ مومن مومن کے لیے جسد واحد کی طرح ہے اور اسلامی…

Read more

کرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہ

کرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہ !میرے پیارے عیسائی بھائیو اور بہنوآج جب آپ کے گھروں میں خوشی کے چراغ روشن ہیں،دلوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی محبت تازہ ہے،تو ہم مسلمان آپ کے دروازے پر کسی بحث کے ساتھ نہیں آئے—بلکہ محبت، احترام اور خیر خواہی کے ساتھ آئے ہیں۔ہم آپ کے جذبات کو سمجھتے ہیں۔ہم جانتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام آپ کے لیے صرف ایک مذہبی شخصیت نہیں،بلکہ امید، رحمت اور قربانی کی علامت ہیں۔اور شاید یہ جان کر آپ کو سکون ملے کہہم بھی عیسیٰ علیہ السلام سے محبت کرتے ہیں—سچی، گہری اور دل سے۔ہم حضرت مریم علیہا السلام کو پاکیزگی کی بلند ترین مثال مانتے ہیں۔ہم عیسیٰ علیہ السلام کی معجزانہ پیدائش پر ایمان رکھتے ہیں۔ہم ان کے اخلاق، ان کی شفقت، ان کی دعا،اور ان کے درد مند دل کو سلام پیش کرتے ہیں۔ہم آپ سے کچھ چھیننے نہیں آئے۔نہ آپ کی خوشی،نہ آپ کی شناخت،نہ آپ کی محبت۔ہم صرف ایک بات آپ کے دل تک پہنچانا چاہتے ہیں۔کیا آپ نے کبھی یہ سوچا کہحضرت عیسیٰ علیہ السلام خود کس کی طرف بلاتے تھے؟وہ اپنے رب کے سامنے جھکتے تھے۔وہ دعا کرتے تھے۔وہ کہتے تھے:“میں اور تم سب ایک ہی خدا کے بندے ہیں۔”یہ بات ان کی عظمت کو کم نہیں کرتی—بلکہ بڑھا دیتی ہے۔کیونکہ بندگی میں جھکناکمزوری نہیں،بلکہ سب سے بڑی بلندی ہے۔اسلام ہمیں یہی سکھاتا ہے کہعیسیٰ علیہ السلام خدا نہیں—مگر خدا کے بہت قریب تھے۔وہ معبود نہیں—مگر ہدایت کا چراغ تھے۔ہم جانتے ہیں کہ یہ بات سننا آسان نہیں۔عقیدہ صرف سوچ کا نام نہیں،یہ دل کا رشتہ ہوتا ہے۔اسی لیے ہم آپ پر کوئی دباؤ نہیں ڈالتے۔ہم صرف دعوت دیتے ہیں—وہی دعوت جو عیسیٰ علیہ السلام نے دی تھی:ایک خدا کی عبادت۔اسی خدا کی، جس نے عیسیٰ کو بھیجا۔اور محبت کے ساتھ یہ بھی بتاتے ہیں کہعیسیٰ علیہ السلام نے خود کہا تھاکہ میرے بعد ایک رسول آئے گاجو سچ کو مکمل وضاحت کے ساتھ پیش کرے گا۔ہم اس رسول کو محمد ﷺ مانتے ہیں—عیسیٰ کے مخالف کے طور پر نہیں،بلکہ ان کے…

Read more

نام کتاب : تراوش قلم

نام کتاب : ترواشِ قلممصنف: پروفیسر محسن عثمانی ندویصفحات : 464قیمت: ۵۰۰ روپےناشر: مکتبہ نشان راہ ، دہلی تبصرہ نگار: ڈاکٹر محمد طارق ایوبی ندوی ملنے کے پتے :مجلس تحقیقات و نشریات اسلام لکھنؤ،مرکزی مکتبہ اسلامی، دہلی ” ترواشِ قلم” کتاب کا نام ہے، نام کی ندرت وجدت تخلیقیت کی دلیل ہے،صرف کتاب کے نام میں ہی ندرت نہیں ، بلکہ پوری کتاب ہی ندرت و جدت ، فکر و تدبر اور عمق و استدلال سے معمور تحریروں کا مجموعہ ہے، کتاب کی مثال ایسی ہے گویا کسی کے سامنے یکبارگی مختلف خوش رنگ پھول یکجا رکھ دیے جائیں، وہ کبھی ایک کے رنگ سے آنکھیں چار کرے اور کبھی دوسرے کی خوشبو سے مشام جاں معطر کرے، نہ دیکھنے سے دل بھرے نہ خوشبو سے سیرابی ہو، جی ہاں ! یہ کتاب اپنے دامن ایسے ہی متنوع خوش رنگ پھول رکھتی ہے، اس کتاب میں پروفیسر محسن عثمانی ندوی نے کچھ اپنی کتابوں کے مقدمے ، کچھ دوسروں کی کتابوں پر لکھے گئےاپنے مقدمات اور کچھ متفرق مضامین جمع کر دیے ہیں، عربی میں مقدمات جمع کرنے کی روایت معروف ہے، اردو میں تبصرے جمع کیے جاتے رہے ہیں لیکن مقدمات کا یہ پہلا مجموعہ ہے جو اس وقت راقم کے سامنے ہے، اس کی ہر تحریر رہنما اور شاہ کلید کی حیثیت رکھتی ہے، کتاب کو موضوعات کے اعتبار سے چار ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے، اسلامیات، ادبیات ، شخصیات اور متفرقات، اہل علم جانتے ہیں کہ کتاب کا مقدمہ دراصل موضوع کتاب کا نچوڑ ہوا کرتا ہے، اس پہلو سے یہ کتاب پروفیسر عثمانی کے علمی سفر، تحقیقی ذوق ، تنقیدی مزاج ، اسلوب نگارش، خیالات و افکار اور اہداف قلم کی آئینہ دار اور پوری علمی زندگی کا نچوڑ ہے، کتاب کے آغاز میں پروفیسر زبیر احمد فاروقی نے ایک طویل پیش لفظ لکھا ہے، انھوں نے نہ صرف کتاب کا مختلف پہلوؤں سے بھرپور جائزہ پیش کیا ہے بلکہ اردو نثر کے "محسن قلم” کی عظمتوں کو خراج تحسین پیش کرنے میں قطعاً کسی بخل سے کام نہیں لیاہے، اعتراف…

Read more