HIRA ONLINE / حرا آن لائن
جہاد ضرورت اور فضیلت

اصلاحِ امتجہاد۔ضرورت و فضیلت آدم علی ندویمدرسۃ العلوم الاسلامیہ۔ علی گڑھ جہاد امت کا اجتماعی فریضہ:اسلام ایک مکمل دین ہے جو صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اور عبادات اربعہ کی طرح اور بھی فرائض متعین کرتا ہے، انہی اہم فرائض میں سے ایک فریضہ جہاد فی سبیل اللہ ہے، جو قرآن و سنت متواتر کی روشنی میں قیامت تک امت پر لازم ہے۔جہاد کی فرضیت:قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:”تم پر قتال فرض کیا گیا ہے حالانکہ وہ تمہیں ناگوار ہے۔ ہوسکتا ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو۔” (البقرہ: 216)یہ آیت بتاتی ہے کہ جہاد بھی اسی طرح فرض ہے جیسے روزہ یا نماز۔جہاد کی فرضیت و تاکید کے لئے "کتب علیکم القتال” کی تعبیر اسی طرح آئی ہے جیسے روزہ کی فرضیت کے لئے۔ اگرچہ یہ نفس پر بھاری معلوم ہوتا ہے، مگر حقیقت میں یہ امت کی عزت، تحفظ اور کامیابی کا ذریعہ ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”جہاد قیامت تک باقی رہے گا۔” (ابو داود-33)اس کا مطلب ہے کہ یہ فرض کسی زمانے یا علاقے کے ساتھ خاص نہیں بلکہ ہر دور میں زندہ ہے۔ امت کو ہر وقت اپنی مادی اور روحانی طاقت کو تیار رکھنا چاہیے تاکہ دشمن کا مقابلہ کیا جا سکے۔ جہاد صرف فوجی میدان تک محدود نہیں، بلکہ ہر مسلمان اپنی استطاعت کے مطابق اس فریضے میں شریک ہے:کچھ لوگ میدانِ جنگ میں لڑ کر۔کچھ اپنے مال کے ذریعے مدد کر کے۔کچھ قلم اور زبان سے اسلام کا دفاع کر کے۔نبی ﷺ نے فرمایا:”جو شخص نہ جہاد کرے اور نہ دل میں نیت رکھے، وہ نفاق پر مرتا ہے۔” (مسلم-4931)جہاد کا مقصد محض جنگ نہیں بلکہ:باطل کو ختم کرنا،دینِ حق کو غالب کرنا،امت کو ظلم سے بچانا،اور اسلام کی عزت قائم کرنا ہے۔قرآن نے واضح فرمایا:”ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ ہی کے لیے ہو جائے۔” (البقرہ: 193)جہاد ایک لازمی فریضہ ہے جس سے امتِ مسلمہ کو ہرگز غافل نہیں ہونا چاہیے۔…

Read more

خدا كا وجود اور كائنات كی شہادت

خدا كا وجود اور كائنات كی شہادت 🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ‏‎‏‎ گزشته دنوں ملك میں ایك اهم موضوع پر اهل علم كے درمیان مذاكره هوا، اور وه هے خدا كا وجود، جس كا مذهب سے گهرا تعلق هے، دنیا میں جو مذاهب پائے جاتے هیں، ان میں خدا كے وجود كا مشترك تصور هے، خدا كا یقین هی انسان كو ایك غیبی طاقت كا مطیع وفرمانبردار بناتا اور اس كے اندر جواب دهی كا یقین پیدا كرتا هے، اور یه بات اس كو خیروصلاح اور عدل وانصاف پر قائم ركھتی هے؛ مگر اس وقت مغربی تهذیب كی بنیادی دعوت خدا پرستی كے بجائے شهوت پرستی كی هے، اور اس فلسفه میں سب سے بڑی ركاوٹ خدا كا یقین هے، بدقسمتی سے مختلف صورتوں میں الحاد هماری نئی نسلوں میں بڑھتا جا رها هے؛ اسی لئے ضروری هے كه مسلمان اپنے بال بچوں كی تربیت میں اس پهلو كو ملحوظ ركھیں۔ الله تعالیٰ كے وجود كو ماننے سے یه یقین ركھنا مراد ہے کہ اگرچہ ہم اللہ کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھتے ہیں ؛ لیکن وہ موجود ہے ، اسی نے پوری کائنات کو پیدا کیا ہے اور اسی کے حکم سے اس کا نظام جاری وساری ہے؛ اس لئے همیں اس كی اطاعت وفرماں برداری كرنی چاهئے۔غور كریں تو اس کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ کے وجود کی دلیل ہے ؛ لیکن چند اہم دلیلیں یہ ہیں :(الف) ہم دن و رات اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ کوئی چیز بنانے والے کے بغیر وجود میں نہیں آتی ، سوئی سے لے کر جہاز تک ہر چیز کسی صانع کے ذریعہ وجود میں آتی ہے ، اگر کوئی شخص کسی مکان کے بارے میں دعویٰ کرے کہ یہ از خود بن کر کھڑا ہوگیا ہے تو لوگ اسے پاگل سمجھیں گے ، تو یہ وسیع وعریض کائنات کسی خالق کے بغیر کیسے وجود میں آسکتی ہے ؟ قرآن مجید میں بار بار اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ، جیسے ارشاد ہے :اَفِی اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ۔ (ابراہیم: ۱۰)كیا…

Read more

کامیابی کے اصول (laws of success)

کامیابی کے اصول (laws of success)نیپولین ہل کے 16 اصول – اسلامی شعور اور عملی رہنمائی کے ساتھ ✍️ مرتب: ابوالجیش ندوی کامیابی ہر انسان کا خواب ہے، مگر کچھ ہی لوگ اسے حقیقت بنا پاتے ہیں۔ نیپولین ہل کی شہرہ آفاق کتاب "The Law of Success” نہ صرف کامیابی کے اصولوں کو واضح کرتی ہے بلکہ انسانی کردار، رویہ، ارادے، خوداعتمادی اور عمل کو یکجا کرتی ہے۔ اس تحریر میں ان 16 اصولوں کو آسان اردو، اسلامی تناظر، قرآنی حکمت، سیرت النبی ﷺ اور عملی مشقوں کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے تاکہ ہر طالب علم، معلم، والدین اور عام قاری اسے اپنی زندگی میں نافذ کر سکے۔اصول نمبر 1: واضح مقصد (Definite Chief Aim)خلاصہ: کامیابی کی بنیاد ایک واضح اور بامعنی مقصد ہے۔ جو انسان اپنی منزل نہیں جانتا، وہ ہر راستے پر بھٹکتا ہے۔اسلامی بصیرت: "وما خلقت الجن والإنس إلا ليعبدون” (الذاریات: 56)عملی رہنمائی:اپنے مقصد کو تحریر کریں اور روزانہ اسے دہرائیںاسے وقت، مقدار اور نفع سے جوڑیںاسے اپنی نماز، نیت اور زندگی کا حصہ بنائیںمشق: “میرا مقصد زندگی” فارم بھریںاقتباس: "Goals are dreams with deadlines.” اصول 2: خوداعتمادی (Self-confidence)خلاصہ: کامیابی خود پر یقین سے شروع ہوتی ہے۔ شک اور خوف انسان کو مفلوج کر دیتے ہیں۔اسلامی بصیرت: موسیٰ علیہ السلام کا قول: "کلا إن معي ربي سيهدين” (الشعراء: 62)عملی رہنمائی:مثبت جملے خود سے دہرائیں: “میں کامیاب ہوں”خوف کی فہرست بنائیں اور اس کا توڑ سوچیںسیرت النبی ﷺ سے حوصلہ حاصل کریںمشق: “میرے 3 خوف اور ان کا حل” ورک شیٹاقتباس: “Believe you can, and you’re halfway there.” اصول 3: پہل و قیادت (Initiative & Leadership)خلاصہ: کامیاب افراد خود پہل کرتے ہیں، رہنمائی کا انتظار نہیں کرتے۔اسلامی بصیرت: "وسارعوا إلى مغفرة من ربكم” (آل عمران: 133)عملی رہنمائی:روزانہ ایک نیا کام خود سے شروع کریںقیادت صرف عہدہ نہیں، ذمہ داری ہےنبی کریم ﷺ کی پہل کی مثالیں یاد رکھیںمشق: “آج میں نے کس کام میں پہل کی؟” نوٹ کریںاقتباس: "Leaders create paths, not follow them.” اصول 4: تخیل (Imagination)خلاصہ: تخیل وہ طاقت ہے جو علم کو عمل میں بدلتی ہے، خواب کو منصوبہ…

Read more

مفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدمات

مفتی شمائل احمد عبد اللہ ندوی: تعارف، علمی خدمات اور فکری کردار مفتی شمائل احمد ندوی (Mufti Shamail Nadwi) عصرِ حاضر کے ایک معروف اسلامی عالم، فقیہ اور مبلغ ہیں۔ ان کا تعلق ایک معزز اور شریف خاندان سے ہے جو کلکتہ (بھارت) سے وابستہ رہا ہے۔ سنجیدہ فکر، علمی وقار اور متوازن طرزِ گفتگو ان کی شخصیت کے نمایاں اوصاف ہیں، جن کی بنا پر وہ دینی و فکری حلقوں میں احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ ابتدائی اور اعلیٰ تعلیم مفتی شمائل ندوی نے اپنی ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی، جہاں دینی ذوق اور علمی ماحول نے ان کی فکری بنیاد مضبوط کی۔ بعد ازاں اعلیٰ دینی تعلیم کے حصول کے لیے انہوں نے لکھنؤ کا رخ کیا، جو برصغیر میں علمی و فکری سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ جیسے عالمی شہرت یافتہ ادارے سے تعلیم حاصل کی۔ ندوۃ العلماء برصغیر کا ایک ممتاز دینی و علمی ادارہ ہے، جس کا مقصد دینی علوم کے ساتھ عصری فہم، فکری اعتدال اور بین الاقوامی شعور پیدا کرنا ہے۔ اس ادارے نے اسلامی فکر کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ندوہ اور شبلی کے فکری مقاصد کی ترجمانی مفتی شمائل ندوی کی فکر اور علمی روش میں ندوۃ العلماء اور علامہ شبلی نعمانی کے فکری مقاصد کی واضح جھلک نظر آتی ہے۔ ان کی سوچ میں روایت اور جدت کا حسین امتزاج، علمی تحقیق، شائستہ مکالمہ اور فکری توازن نمایاں ہے۔ اس اعتبار سے وہ ندوہ اور شبلی کے اس نصب العین پر پورے اترتے دکھائی دیتے ہیں جس کا مقصد ایک باخبر، باشعور اور مدلل اسلامی فکر کی نمائندگی تھا۔ دعوتی و تعلیمی خدمات عصرِ حاضر میں دینی دعوت اور تعلیمی خدمت ایک بڑی ذمہ داری بن چکی ہے، جہاں بدلتے فکری سوالات اور جدید ذہن کو سنجیدہ اور مدلل جواب درکار ہے۔ مفتی شمائل ندوی نے اسی احساسِ ذمہ داری کے تحت دعوتی اور تعلیمی میدان میں عملی کردار ادا کیا۔ وہ…

Read more

سہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(١)

سہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(١) از: محمد صابر حسین ندوی سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہماراہم بلبلیں ہیں اس کی، یہ گلستاں ہمارا شاعر مشرق علامہ اقبال رحمہ اللہ نے جب یہ ترانہ ہندی کہا ہوگا تو ان کے خواب و خیال میں بھی نہ رہا ہوگا کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب اس گلستاں کیلئے کی گئی کاوشیں، باغبانی، شب و روز کی کد و جد پر سوال کے دائرے میں آجائے گا اور کوئی ہمارا حق تسلیم کرنے کو تیار نہ ہو گا، ہمیں ہماری جاں فشانی، محبت و رواداری اور عزیمت کی داستانیں سنانی پڑیں گی، لوگوں کو جھنجھوڑنا پڑے گا، ان کے کانوں اور دلوں پر دستک دینے کی مہم چلانے پڑے گی کہ وہ جان جائیں کہ کس باغبان کی بات ہورہی ہے، سوچنے کی بات ہے کہ ہم اس حقیقت کو دہرانے کی بات کر رہے ہیں جو سورج سے زیادہ روشن اور کوہسار و آبشار سے زیادہ صاف و شفاف ہے، اسلام اور مسلمانوں کی آمد سے قبل؛ جس ملک میں چھوت چھات، ذات پات کی جڑیں مذہب کے ساتھ جڑی ہوں، جہاں معاشرہ بندی اس طرح کی گئی ہو کہ کسی ایک طبقہ کو سر اٹھانے کی ہمت نہ ہو اور ایک گروہ خود کو خدا بلکہ اس سے بڑھ کر قوت و حیثیت اور پیدائشی حق کا مالک گردانا جاتا ہو، انسان کو انسان نہ قبول کیا جاتا ہے، شودر کو ایک جانور کے بدلے قتل کرنا اور اسے ثواب سمجھنا مذہب کا حصہ ہو، خواتین ستی کردی جاتی ہوں، مردوں کو عورتوں پر ایسے فوقیت ہو کہ گویا وہ سامان اور شئی بے جان ہوں؛ ان کے درمیان جنگ وجدال مذہبی اعتبار سے چلی آرہی ہو، ان کے دیوی دیوتا آپس میں دست گریباں ہوں اور ان کو ماننے والے گرنتھ، شلوک اور کھنڈ کے نام پر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوں، ایسے میں سماج کو اسلام نے اپنے عقیدہ، سلوک و تعلیمات اور انسان دوستی و انسانیت نوازی سے گلستاں بنا دیا ہو،…

Read more