HIRA ONLINE / حرا آن لائن
بوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)

بوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُودچراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ) محمد نفیس خان ندوی زندگی اگر نعمت ہے تو موت بھی کسی نعمت سے کم نہیں ، کیونکہ زندگی کا بھرم اگر کسی چیز سے قائم ہے تو وہ موت ہی ہے، امیدوں کے چراغ جلائے ہی جاتے ہیں بجھانے کےلیے ، لیکن موت سے شکوہ اس وقت اور بڑھ جاتا ہے جب کم بخت وقت بے وقت آتی ہے اور امیدوں کا شیش محل چکنا چور ہوجاتا ہے،مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ کا انتقال بھی ایسا ہی صدمہ ہے ، کسے معلوم تھا کہ انسانیت کا بے لوث خدمت گذار،اسرارقرآنی کا رمز شناس، زبان وبیان کا دھنی،ندوی افکار و نظریات کا ترجمان اور سعی و عمل کا یہ آتش فشاں اس قدر جلد خاموش ہوجائے گا،جس نے بھی سنا دم بخود رہ گیا،نہ کانوں کو یقین اور دل ودماغ کو یاوریع تری مرگِ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے!زمانہ چکر لگاتے لگاتے دور پر دور گذار دیتا ہے پھرکوئی نادر الوجود بروئے کار لاتا ہے،جو فرسودہ طریقوں کو چھوڑ کر نئے راستے ہموار کرتا اور کئی منزلوں کا نشان بناتا ہے، اس کے افکار ونظریات، اس کی غیرمعمولی انسانی خدمات،اس کی ذاتی و انتظامی خصوصیات ایسا آئینہ بن جاتی ہیں جسے سامنے رکھ کرآنے والی نسلیں اپنے خط وخال کو آراستہ کرتی ہیں۔ مولاناسید جعفر مسعود حسنی ندویؒ کی شخصیت ہماری علمی وادبی اور معاشرتی و تہذیبی زندگی کے کئی حوالوں سے قابل تحسین و لائق مطالعہ ہے،ان کی ذات میں علم ودانش اورللہیت و انسانیت کی ایسی اعلیٰ صفات یکجا ہوگئی تھیں کہ اب اس طرز کی شخصیت دور دور تک نظر نہیں آتی،جب تک رہے اخلاقی اصول و ایمانی صداقت پر قائم رہے،زندگی کی کٹھن و پیچیدہ راہوں میں نہ کسی سے مرعوب ہوئے اور نہ دور اختیارات میں کسی کو مرعوب کرنے کی کوشش کی۔ ہاں! ان کی شرافت وبصیرت، اور حسن اخلاق و حسن عمل کی حکمرانی ہم سب کے دلوں پر کل بھی تھی اور آج بھی ہے، ایسی حکمرانی جو دلنوازی و دل داری کے معنی سمجھاتی…

Read more