HIRA ONLINE / حرا آن لائن
طبقاتی نظام ، ایک تعارف

طبقاتی نظام ، ایک تعارفمولانا ڈاکٹر احمد نور عینیاستاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد بھارت کا طبقاتی نظام دنیا کا آٹھواں بل کہ پہلا عجوبہ ہے، یہ طبقاتی تقسیم پر مبنی ہے، طبقات اورذات پات میں انسانوں کی تقسیم بھارتی سماج کی خصوصیت بھی ہے اور یہاں کا سب سے بڑا مسئلہ بھی، ایک ایسا مسئلہ جو تقریبا چار ہزار سالہ قدیم تاریخ رکھتا ہے، یہ در اصل غلامی کا ایک نظام ہے جس کے سہارےنسل پرست قوم اپنے تسلط کے استحکام وبقا کے مقصد میں تاریخ کے مختلف ادوار میں کامیاب رہی ہے، اس طبقاتی نظام کے ڈھانچے، تاریخی پس منظر، اس کی خصوصیات اور اس سے متعلق اصطلاحات اور بھارتی سماج پر پڑنے والے اس کے برے اثرات سے واقف ہونا ضروری ہے۔ بھارتی سماج بنیادی طور پر دو قسموں پر منقسم ہے: سْوَرْنْ اور اَوَرْنْ۔ سورن یعنی سماج کا وہ حصہ جو طبقاتی نظام میں داخل ہے، اورن یعنی سماج کا وہ حصہ جو طبقاتی نظام سے خارج ہے، سماج کی جو اکائیاں گاؤں کے اندر ہی آباد رہیں وہ طبقاتی نظام میں داخل اور شامل ہیں، اور جو اکا ئیاں آبادی یعنی گاؤں سے باہر چلی گئیں وہ طبقاتی نظام سے خارج قرار پائیں، خارج ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس کا درجہ بڑھا ہوا ہے، بل کہ اورن کی ذاتیں سورن کی سب سے نچلی ذات سے بھی بدتر وحقیر تر سمجھی جاتی ہیں۔ سورن کے دو حصے ہوجاتے ہیں: دُوِجَہْ اور شُوْدْرْ۔دویجہ کا مطلب ہے دومرتبہ جنم لینے والا، ایک مخصوص عمر کو پہنچنے کے بعد جب جنیو باندھا جاتا ہےتو اس وقت جنیو دھاری کا دوبارہ جنم ہوتا ہے، جنیو باندھنے کی یہ رسم اُپانیان کہلاتی ہے۔ دویجہ تین طبقات پر مشتمل ہے: برہمن، چھتری اور ویش۔ انہی تینوںکے مردوں کو جنیو باندھنے کا حق ہے،اور انہی تینوں کو تعلیم حاصل کرنے کا حق ہے اور علم دینے کا حق صرف برہمن کو ہے۔ مورخین کے بیان کے مطابق یہ تینوں آریائی نسل کے ہیں،آریہ وہ قوم ہے جس نے زائد از تین ہزار سال قبل یوریشیا سے…

Read more

بوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)

بوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُودچراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ) محمد نفیس خان ندوی زندگی اگر نعمت ہے تو موت بھی کسی نعمت سے کم نہیں ، کیونکہ زندگی کا بھرم اگر کسی چیز سے قائم ہے تو وہ موت ہی ہے، امیدوں کے چراغ جلائے ہی جاتے ہیں بجھانے کےلیے ، لیکن موت سے شکوہ اس وقت اور بڑھ جاتا ہے جب کم بخت وقت بے وقت آتی ہے اور امیدوں کا شیش محل چکنا چور ہوجاتا ہے،مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ کا انتقال بھی ایسا ہی صدمہ ہے ، کسے معلوم تھا کہ انسانیت کا بے لوث خدمت گذار،اسرارقرآنی کا رمز شناس، زبان وبیان کا دھنی،ندوی افکار و نظریات کا ترجمان اور سعی و عمل کا یہ آتش فشاں اس قدر جلد خاموش ہوجائے گا،جس نے بھی سنا دم بخود رہ گیا،نہ کانوں کو یقین اور دل ودماغ کو یاوریع تری مرگِ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے!زمانہ چکر لگاتے لگاتے دور پر دور گذار دیتا ہے پھرکوئی نادر الوجود بروئے کار لاتا ہے،جو فرسودہ طریقوں کو چھوڑ کر نئے راستے ہموار کرتا اور کئی منزلوں کا نشان بناتا ہے، اس کے افکار ونظریات، اس کی غیرمعمولی انسانی خدمات،اس کی ذاتی و انتظامی خصوصیات ایسا آئینہ بن جاتی ہیں جسے سامنے رکھ کرآنے والی نسلیں اپنے خط وخال کو آراستہ کرتی ہیں۔ مولاناسید جعفر مسعود حسنی ندویؒ کی شخصیت ہماری علمی وادبی اور معاشرتی و تہذیبی زندگی کے کئی حوالوں سے قابل تحسین و لائق مطالعہ ہے،ان کی ذات میں علم ودانش اورللہیت و انسانیت کی ایسی اعلیٰ صفات یکجا ہوگئی تھیں کہ اب اس طرز کی شخصیت دور دور تک نظر نہیں آتی،جب تک رہے اخلاقی اصول و ایمانی صداقت پر قائم رہے،زندگی کی کٹھن و پیچیدہ راہوں میں نہ کسی سے مرعوب ہوئے اور نہ دور اختیارات میں کسی کو مرعوب کرنے کی کوشش کی۔ ہاں! ان کی شرافت وبصیرت، اور حسن اخلاق و حسن عمل کی حکمرانی ہم سب کے دلوں پر کل بھی تھی اور آج بھی ہے، ایسی حکمرانی جو دلنوازی و دل داری کے معنی سمجھاتی…

Read more

غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟

غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟ غلام نبی کشافی آنچار صورہ سرینگر _________________ موجودہ دور میں جاوید احمد غامدی اور راشد شاز اگرچہ اپنی ذہنی ، لسانی اور علمی صلاحیتوں سے مالا مال ہیں ، لیکن افسوس کہ ان کی ان صلاحیتوں کا اصل نشانہ ( target) علم حدیث ہے ، یہ لوگ کسی بھی موضوع پر بات کریں گے تو اس میں فتنہ انکار حدیث کا زہر گھولے بنا نہیں رہ سکتے ہیں ۔‌ اس لئے ان کی ساری علمی ، فکری ، لسانی اور ذہنی صلاحیتیں رائیگان نظر آتی ہیں ، اگرچہ ان کے ارد گرد بھی ایک محدود تعداد اہالہ کے طور پر موجود رہتی ہے ، لیکن یہ وہ لوگ ہیں ، جن کا روح دین اور عملی اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ، اور ان کی محفلیں فلسفیانہ و مفسدانہ موشگافیوں کے سوا کچھ نہیں ہوتی ہیں ۔ اس لئے تاریخ گواہ ہے کہ اس طرح کے افراد کا کبھی کوئی ثبات ہوا ہے اور نہ کوئی قبولیت عام حاصل ہوا اور اس طرح ہر منکر حدیث اپنی موت کے ساتھ اپنے افکارو نظریات کے ساتھ زمین میں دفن ہوگیا ۔ اس لئے نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ فتنہ خیز دماغوں کی آوارگی سے ہوشیار بھی رہے اور ان سے اجتناب بھی کریں ۔چنانچہ اس وقت جو مضمون آپ پڑھنے جا رہے ہیں ، انہی دو افراد غامدی و شاز کے فتنہ انکار حدیث کے رد میں لکھا گیا ہے ، اس لئے میں امید کرتا ہوں کہ آپ اس مضمون کو خود بھی پڑھیں اور اپنے دوستوں کے ساتھ شئیر بھی ضرور کریں ۔ ___________________ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو نظر سے گزری ، جس میں جاوید احمد غامدی صاحب سے ایک یہ سوال کیا جاتا ہے ۔” کیا قرآن مجید کے ہر حرف پر دس دس نیکیاں ملنے والی روایت صحیح ہے ؟ کیا واقعی میں قرآن کا ہر حرف پڑھنے میں دس دس نیکیاں مل جاتی ہیں ؟ ” جاوید احمد غامدی نے اس سوال کا…

Read more

اسلامی معیشت کے بنیادی اصول

اسلامی معیشت کے بنیادی اصول محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسلام نے زندگی کے تمام شعبوں میں بھر پور رہنمائی کی ہے اور کسی گوشہ کو تشنہ اور نامکمل نہیں چھوڑا ہے ، عقیدہ ، ایمان ،عبادت ،معاشرت، سیاست ،معاملات ،اخلاقیات اور معاشیات نیز تدبیر منزل ہر باب میں کامل رہنمائی موجود ہے ۔ اسلامی معیشت یا یہ کہئیے کہ اسلامی کا معاشی نظام ایک مکمل نظام ہے ،قرآن و حدیث میں اس کی تفصیلات موجود ہیں فقہ کی کتابوں میں اس کی تمام تفصیلات موجود ہیں اور اس کے کلیات و جزئیات پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے کہ مال کس طرح حاصل کیا جائے اور اس کو کہاں اور کس طرح خرچ کیا جائے ۔ یہ ایک مستقل موضوع ہے ، جس پر قدیم و جدید علماء کی علمی اور تحقیقی کاوشیں موجود ہیں اور جدید معاشی نظام پر بھی کتابیں آرہی ہیں ۔ راقم الحروف یہاں اسلامی نظام معیشت کے بنیادی اصول پر ایک مختصر تحریر پیش کر رہا ہے ، امید کہ قارئین اس سے استفادہ کریں گے ۔ م۔ ق ۔نآج سے تقریبا 25 سال پہلے اسلام آباد میں تبلیغی اجتماع ھو رھا تھا جس میں تبلیغی جماعت کے ایک بہت بڑے عالم اور بزرگ شخصیت حضرت مولانا محمد احمد بہاولپوری صاحب رح نے ایک واقعہ سنایا تھاکہ میرا کوئی عزیز میرے پاس آیا کہ حضرت مجھے اسلام آباد میں معیشت کے بارے میں کے بارے ایک کانفرنس میں مدعو کیا گیا ھے اور مجھے اس کانفرنس میں معیشت کے بارے میں اسلام نے جو ھدایات دی ہیں اس پر روشنی ڈالنے کو کہا گیا ھے لہذا اس بارے میں آپکی رہنمائی درکار ھےتو حضرت نے فرمایا کہ میں نے کہا کہ اسلامی معیشت کا خلاصہ تو میں بتا دوں گا اور انتہائی مختصر انداز صرف 3 ہی جملوں میں ہی ساری اسلامی معیشت سمجھا دوں گالیکن خیال کرنا میری یہ باتیں سن کر وہاں پر موجود اشرافیہ کی طرف سے کہیں جوتے نہ پڑ جائیں آپ کواس نے کہا کہ حضرت ان کے جوتوں سے خود کو کسی طرح بچا…

Read more

مسئلۂ شر اور بہوجن نفسیات

مسئلۂ شر اور بہوجن نفسیات احمد نور عینیاستاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد ابھی کچھ عرصہ قبل خدا کے وجود پر ایک علمی بحث ہوئی، جس میں منکر خدا مناظر نے خدا کے نہ ہونے پر مسئلہ ٔشر سے استدلال کیا، جسے انگریزی میں (Problem of Evil) کہا جاتا ہے، یعنی اگر خدا ہے تو پھر شر کیوں ہیں؟ کیا خدا خالق شر ہے؟ اگر خالق شر ہے تو پھر شر کے ارتکاب واکتساب پر عقاب وعذاب کیوں؟ اور کیا خدا قادر مطلق نہیں ہے؟ اگر ہے تو وہ شر کو کیوں نہیں روکتا؟ چوں کہ شر کا وجود حقیقت ہے، اور اسے خدا روک نہیں رہا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ سرے سے خدا ہے ہی نہیں، کیوں کہ اگر خدا ہوتا تو وہ شر کو ضرور روکتا۔ خلاصہ یہ کہ شر کا وجود خدا کے عدم وجود کی دلیل ہے۔ پھر اس مسئلۂ شر کی بھی دو قسمیں ہوجاتی ہیں: اخلاقی شر(Moral Evil)، اور فطری شر (Natural Evil)۔ اخلاقی شر میں وہ برائیاں آتی ہیں جنھیں انسان اپنے اختیار سے کرتا ہے، جیسے قتل، چوری، زنا، دھوکہ، جھوٹ وغیرہ، اور فطری شر میں وہ مصیبتیں آتی ہیں جو انسان کے اختیار کے بغیر وجود میں آتی ہیں، جیسے، زلزلے، سیلاب وغیرہ۔ منکر ین خدا اس مسئلۂ شر سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ خدا اگر موجود ہوتا تو وہ قتل اور ظلم کو برداشت نہ کرتا، اور زلزلے ، سیلاب وغیرہ لاکر ہزاروں انسانوں کو موت کی آغوش میں نہیں سلاتا، لیکن چوں کہ یہ سب ہورہا ہے لہذا اس کا مطلب ہے کہ خدا نہیں ہے۔مذکورہ مباحثہ میں منکر خدا مناظر نے غزہ کی مثال دے کر اسی مسئلۂ شر والی دلیل کا سہارا لیا تھا، جس کا جواب مثبت خدا مناظر نے یہ کہہ کر دیا کہ انسانوں کو خدا کی طرف سے اختیار کی آزادی (Free Will) حاصل ہے، وہ اپنے اختیار سے ظلم کر رہے ہیں۔ مسئلۂ شر کا اشکال الحاد کے اسباب میں سے ایک اہم سبب ہے، خاص کر وہ لوگ جو کسی طرح کے…

Read more

قرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہ

قرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہ از : مولانا ابو الجیش ندوی تمہید عصرِ حاضر میں آئینوں، انسانی حقوق کے منشوروں اور عالمی معاہدات کی کثرت کے باوجود انسانی وقار، عدل اور اخلاقی توازن کا بحران مسلسل گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ یہ مقالہ اس مقدمے کو پیش کرتا ہے کہ قرآنِ مجید محض ایک مذہبی متن نہیں بلکہ انسانی وقار، مساوات، عدل، آزادیِ ضمیر اور سماجی ذمہ داری پر مبنی ایک ہمہ گیر اور آفاقی اخلاقی و دستوری فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ قرآن انسان کو نسل، مذہب اور قومیت سے ماورا ہو کر مخاطب کرتا ہے اور ایک ایسا معیاری (Normative) تصورِ انسانیت پیش کرتا ہے جو جدید انسانی حقوق اور عالمی دستوریت کے مباحث میں سنجیدہ علمی مکالمے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ مضمون قرآنی اصولوں کے تصوری تجزیے کے ذریعے قرآن کو “دستورِ انسانیت” کے طور پر سمجھنے کی کوشش ہے۔ تعارف (Introduction) انسانی تاریخ کا بڑا المیہ یہ ہے کہ قوانین اور آئین تو بار بار مرتب کیے گئے، مگر انسانیت کو محفوظ نہ رکھا جا سکا۔ جدید دنیا میں ریاستی آئین، انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے اور بین الاقوامی قوانین اپنی جگہ موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود جنگ، نسلی امتیاز، ریاستی تشدد اور معاشی استحصال ایک عالمی حقیقت بن چکے ہیں۔ یہ صورتِ حال اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ آیا محض قانونی ڈھانچے انسان کے اخلاقی وقار کی ضمانت دے سکتے ہیں؟قرآنِ مجید اس تناظر میں ایک منفرد متن کے طور پر سامنے آتا ہے، جو خود کو کسی خاص مذہبی یا قومی گروہ تک محدود نہیں کرتا بلکہ صراحت کے ساتھ “ہُدًى لِلنَّاسِ” یعنی تمام انسانوں کے لیے ہدایت قرار دیتا ہے۔ یہی پہلو قرآن کو ایک آفاقی دستوری متن کے طور پر زیرِ بحث لانے کا جواز فراہم کرتا ہے۔ قرآن کا مخاطَب: انسان بحیثیت انسان قرآن کے اسلوبِ خطاب میں بار بار “يَا أَيُّهَا النَّاسُ” کا استعمال اس بات کی واضح دلیل ہے کہ قرآن کی بنیادی اخلاقی اپیل انسانیت کی مجموعی وحدت سے ہے، نہ کہ کسی خاص مذہبی برادری سے۔قرآن ایمان…

Read more