پالنپور میوزیم یادیں، باتیں
پالنپور میوزیم یادیں، باتیں معاویہ محب الله۱۹ جنوری، ۲۰۲۶ء اپنی تہذیبی روایت سے ہر ایک کو انس ہوتا ہے جو مجھے بھی ہے، جو قوم اپنی تہذیب سے عاری ہو جاتی ہے وہ اپنا روشن، تابناک اور سنہری ماضی سے بہت دور ہو جاتی ہے، پالنپور ریاست اپنی تاریخی نوعیت میں بہت دلچسپ ہے، ہندوستان میں بنسبت دیگر علاقوں کے یہاں مسلمان اکثریت میں ہیں، یہاں نواب سلطنت کا دورانیہ تقریبا چھ صدیوں تک پھیلا ہوا ہے، روایتی تمہید کے بعد ہم آپ کو تحریری زیارت کرائیں گے اپنی اس حیسن ماضی کی، آپ کو اپنا اجڑا دیار یاد دلائیں گے، اپنا بھولا ہوا سبق جو یاد رکھنا تھا لیکن اسے ہم نے فراموش کردیا نتیجہ یہ ہوا کہ ہمسایہ قوم نے اس پر فخر کرنا شروع کر دیا۔ موجودہ ہندوستانی سیاست زہر آلود اور مسلم مخالف پروپیگنڈہ کے لئے معروف ہے اور اس پر سوشیل میڈیا کی وجہ سے مذہبی عصبیت میں تڑکا لگ چکا ہے، ان سب کے باوجود ہم سے ملنے والے سبھی برادران نے خندہ پیشانی، وسعتِ ظرفی کا مظاہرہ کیا، میوزیم کے در و دیوار سے ایسا محسوس ہوا کہ یہ ہمیشہ کھلا نہیں رہتا بلکہ ہماری خصوصی خواہش پر اسے کھولا گیا ہے، اسی طرح کالج کی لائبریری؛ جس کی داستان سرائی آگے کروں گا، میں بھی لائبریرین نے توقع سے زیادہ تعاون کیا، گویا سوشل میڈیا کے درمیان رہنے سے ہمیں جو محسوس ہوتا ہے وہ باہم دیگر مجالس میں وہ تعصب، مذہبی جراثیم اس قدر گہرے نہیں ہے۔ خیر آمدم بر سرِ زیارت! میوزیم میں پالنپور لوہانی نواب کے دَور کی کئی یادگار تصاویر رکھی ہے، سب سے حسین یادگار ” کِرتی ستنبھ ” (Kirti Stambh) منارہ ہے جو صدی گزرنے کے بعد بھی شھر میں جگمگا رہا ہے، ۲۲ میٹر لمبائی لئے ہوئے ہے جسے اس وقت کے چالیس ہزار روپے میں بنایا گیا تھا، میرے لئے اس میں کشش کی بات یہی ہے کہ وزیرِ تعمیر اور "تاریخِ پالنپور” کے مصنف سید گلاب میاں رحمہ الله کی وزارتِ تعمیر کے زمانہ میں بنایا گیا ہے، یہ…
Read more