HIRA ONLINE / حرا آن لائن
کینسر سے زیادہ خطرناک ارتداد

از : قاضی محمد حسن ندوی کیسر سے زیادہ خطرناک ارتداد از : قاضی محمد حسن ندوی ایک زمانہ وہ تھا کہ کینسر سے لوگ ڈرتے تھے ،چوں کہ لاعلاج مرض تھا ،اب تو الحمدللہ اس کا علاج ہو جاتا ہے اور لوگ صحتیاب بھی ہو جاتے ہیں ۔ مگر ایک مرض ( محبت ) اور ہے جو غلط صحبت ،دینی تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے بچے اور بچیوں کے لیے کینسر سے خطرناک اور مہلک مرض کی طرح ہے ، نتیجہ یہ ہوتا کہ ایسے لڑکے اور لڑکیاں نہ صرف غیر سے دوستی کرتی ہیں بلکہ اپنے ایمان کا سودا کرلیتی ہیں ، اور دولتِ ایمان سے محروم ہوکر شرک و کفر کے دلدل میں زندگی گذارنے پر راضی ہو جاتی ہیں ، یہ کوئی کہانی ماضی کا قصہ نہیں ہے بلکہ روز اس طرح کے واقعات پیش آ رہے ہیں کہ لڑکا لڑکی غیر کے ساتھ بھاگ کر کورٹ میں جا کر اپنا مذہب بدلتی ہے پھر اس کے مطابق شادی کرتی ہے ،اس کے جہاں ہزاروں نقصانات ہیں ، وہیں سب اہم اور بڑا نقصان ایمان جیس قیمتی دولت سے محرومی ہے ، پھر چند دن اور سال کے بعد دوسرا نقصان یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ یا تو اس کو قتل کردیا جاتا ہے یا اسے معلقہ بنا کر کہیں چھوڑ دیا جاتا ہے ، تیسرا بڑا نقصان یہ ہوتا ہے اس کی عزت وآبرو تار تار ہو جاتی ہے ، منھ دکھانے کے لائق نہیں رہتی ، اور پورے سماج میں اس کے اور خاندان و والدین کے وقار مجروح ہو جاتے ہے، یہ مرض اس قدر متعدی ہے اس کے لپیٹ میں جہاں بڑے بڑے شہر ہیں وہیں گاؤں دیہات بھی ہیں ، اور بڑی تعداد میں گاؤں کے بچے اور بچیاں بھی اس مرض کے شکار ہوکر ایمان جیسی دولت سے محروم ہورہی ہے مگر افسوس اس بات کی ہے کہ یہ مسئلہ جتنا سنجیدہ ہے لوگ اس کے تئیں اتنا ہی غیر سینجدہ نظر آتے ہیں ، اس پر قابو پانے کے لیے جو علاج و…

Read more

وضو کے فرائض

وضو کے فرائض وضو میں چار فرائض ہیں ایک بار پورے چہرے کو دھونا ، پیشانی کے بالوں کی جڑ سے ٹھوڑی کے نیچے تک اور ایک کام کی لو سے دوسرے کان کی لو تک (1) ایک بار دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھونا ایک بار چوتھائی سر کا مسح کرنا ایک بار دونوں پاؤں کو ٹخنوں تک دھونا

Read more

گانا سننا اور فلم دیکھنا کیسا ہے ؟

جواب گانا سننا اور فلم دیکھنا لہو و لعب کے دائرہ میں آتا ہے ، جو حرام ہے ، حدیث میں ہے کہ گانا نفاق پیدا کرتا ہے ، نیز کان اور آنکھ اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان نعمتیں ہیں ، ان کی بری چیزوں کے سننے باقر برے مناظر کے دیکھنے میں صرف کرنا نعمت خداوندی کی نا قدری اور نا شکری ہیں ، اور ان سے اجتناب کرنا واجب ہے ، "فصرف الجوارح إلي غير ما خلق الله لإجله كفر بالنعمة لا شكر فالواجب أن يجتنب ميلاد يسمع اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں "لہو الحدیث” کو خرید کرنے کی مذمت فرمائی اس لیے مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ لغو اور مضر اخلاق باتوں سے اپنے آپ کو بچائیں (بحوالہ : کتاب الفتاویٰ : ج 6 ص : 161)

Read more

سونے سے پہلے کی دعا

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ ہر شب جب بستر پر جاتے تو دونوں ہتھیلیوں کو جمع کرکے سورہ اخلاص ، سورہ فلق ، اور سورہ ناس پڑھ کر ہتھیلیوں پر پھونکتے ، پھر سر اور چہرہ مبارک سے شروع کرکے جسم کے اگلے اور پچھلے حصوں میں جہاں تک ہاتھ پہونچتا ہاتھ پھیرتے ، آپ تین بار یہ عمل فرماتے ،

Read more

ایک خوف ناک "حسینہ "کا عبرت ناک انجام

ایک خوف ناک "حسینہ” کا عبرت ناک انجام از :  ڈاکٹر محمد اعظم ندوی  "یہ طلباء نہیں دہشت گرد ہیں،ہم انہیں کچل کر رکھ دیں گے”، 76 سالہ شیخ حسینہ واجد کا یہ رعونت بھرا جملہ خود ان کو خس وخاشاک کی طرح بہا لے گیا، اور بالآخر ان کو اپنی کرسی چھوڑنی پڑی، وہ غم و غصہ سے بھرے ہوئے عوام کے فلک شگاف نعروں کے درمیان اپنے سارے  خوابوں کو دفنا کر فرار ہونے میں کامیاب ہوئیں، بنگلہ دیشی عوام نے ان کی تقریباً دو دہائیوں کو محیط حکمرانی کو لوہے اور آگ کا راج قرار دیا، بنگلہ دیش کی اس ڈکٹیٹر خاتون کا دور اقتدار اپنے آخری لمحات میں ایک عجیب وغریب موڑ پر پہنچ گیا، جہاں ہر طرف شعلے بھڑک رہے تھے، اور قریب تھا کہ یہ ضدی عورت اس کا ایندھن بن جائے، طلباء اور نوجوانوں کے مظاہرے ایسے مرحلہ میں پہنچ چکے تھے جہاں سے اب وہ خود بھی چاہتے تو واپس نہیں آسکتے تھے، حسینہ کا مقابلہ مظاہرین اپنے برہنہ سینوں سے کررہے تھے، ان کے عزم بلند کے سامنے تمام تر حفاظتی دستے ناکام تھے، آگ بگولہ عوام کے بھڑکتے ہوئے غصہ کے سامنے پولس اور فوج کا قہر دم توڑ گیا، اوراپنی عمر عزیز بلکہ حیات رائیگاں کی76 بہاروں سے لطف اندوز ہوچکی شیخ حسینہ کے اقتدارکی فولادی دیواریں پاش پاش ہوگئیں، سچ ہے: اولو العزمان دانش مند جب کرنے پہ آتے ہیں سمندر پاٹتے ہیں، کوہ سے دریا بہاتے ہیں   حسینہ کا اقتدار 1996 سے اب تک پانچ مرتبہ کی حکمرانی پرمشتمل تھا، آج حسینہ کے ظالمانہ اور سفاکانہ دورِ حکومت کاخاتمہ ہوگیا، اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کا انداز آمرانہauthoritarian ہوچکا تھا، پھر یوں ہوا کہ اسلام پسندوں کوناحق تختہ دار پر لٹکانے والی ڈکٹیٹر کا بخت بگڑا اور تخت کھسک گیا، جب کہ ابھی سات ماہ بھی نہیں ہوئے جب انہوں نے اپنی چوتھی مسلسل اور مجموعی طور پر پانچویں میعاد کا جشن منایا تھا، یہ جشن جنوری میں ہونے والے انتخابات کے بعد منایا گیا تھا، جس میں حسینہ نے بغیر…

Read more

عدل و انصاف کیا ہے ؟؟

    اسلام ایک ہمہ گیر، فطرت سے ہم آہنگ، احترام و حقوق انسانیت کا علم بردار آفاقی مذہب ہے، جس کو روئے زمین پر بسنے والی سبھی مخلوق کے ساتھ عادلانہ و منصفانہ برتاؤ  پیش کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے ،      اسلامی شریعت میں عدل کا تصور دو اجزاء سے عبارت ہے: ایک یہ کہ بنی نوع انسان کے درمیان مختلف حقوق و رعایات میں توازن و تناسب قائم کیا جائے، دوسرے یہ کہ ہر کسی کو اس کا استحقاق دیا جائے اور اس کے حق کو ادا کرنے کی یقینی صورت پیدا کی جائے، اس تصورِ عدل کے بغیر فرد ہو یا معاشرہ یا ریاست، ہلاکت خیز اور سنگین نتائج کا سامنا کرتے ہیں،     عَدَل عربی گرائمر کی رو سے مصدر ہے،  قرآن مجید میں عدل کو  برابری، نیک نیت، قیمت، مردِ صالح اور حق و انصاف کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے، اُردو زبان میں عدل کے لیے عموما انصاف کا لفظ مترادف کے بطور استعمال ہوتا ہے جو علمی اور لغوی اعتبار سے چنداں درست نہیں ہے، انصاف کے معنی "تصنیف یا نصف نصف کرنے” کے ہیں، یوں اس سے مراد حقوق کو محض برابر تقسیم کر دینا ہے، لیکن عدل کی قرآنی اصطلاح محض مساویانہ تقسیم کا نام نہیں ہے، کیونکہ مساوات مجرد انداز میں، خلافِ فطرت امر ہے، حقیقت میں عدل کا تقاضا یہ ہے کہ مساوات کی بجائے توازن و تناسب قائم کیا جائے، گرچہ عدل مساوات کے مفہوم کو بھی  شامل ہے ،  شریعت کی رو سے عدل کا تقاضا ہے کہ ہر فرد کے قانونی، آئینی، تمدنی، سیاسی، معاشی، معاشرتی اور اخلاقی حقوق کو پوری ذمہ داری اور آخرت کی جواب دہی کے احساس کے ساتھ ادا کیا جائے،   اللہ رب العزت نے اس کائنات کے تکوینی امور میں اس صفت کا کمال درجہ خیال رکھا ہے، اس کائنات کے تمام اجزائے آفرینش عدل کے باعث برقرار ہیں اور ان کے منافع اور ثمرات بھی تکوینی امور میں عدل کی موجودگی کے باعث میسر ہیں، اس حقیقت کی طرف قرآن مجید نے مختلف مقامات پر توجہ دلائی…

Read more