HIRA ONLINE / حرا آن لائن
علامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائد

علامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائد از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوىآكسفورڈ2/1/2026 علامہ سعد الدین تفتازانیؒ کی شرحِ عقائد کے تعلق سے حالیہ عرصے میں مجھ تک مسلسل اور بکثرت سوالات پہنچتے رہے ہیں، یہ سوالات مختلف علمی مجالس، تحریری مراسلت اور براہِ راست گفتگو کے دوران سامنے آئے، جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ اہلِ علم اور طلبۂ علم دونوں کے درمیان اس کتاب کے بارے میں فکری اور تعلیمی سطح پر خاصی دلچسپی اور تشویش پائی جاتی ہے۔ بعض مخلص، سنجیدہ اور خیر خواہ اہلِ علم و فضل کے مشورے کے مطابق میں نے ابتدا میں ان سوالات کے جوابات دینے کو مؤخر کرنا مناسب سمجھا، تاکہ معاملے کو جذبات سے بالا تر ہو کر، پوری سنجیدگی، تحقیق اور توازن کے ساتھ دیکھا جا سکے۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ سوالات کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا اور ان کے ساتھ اصرار اور علمی دباؤ بھی بڑھتا چلا گیا، جس کے نتیجے میں اب خاموشی اختیار کرنا مناسب معلوم نہیں ہوا۔ چنانچہ میں نے یہ ارادہ کیا کہ ان اہم سوالات کا جواب علمی دیانت، وضاحت اور اختصار کے ساتھ پیش کیا جائے۔قاری کی سہولت اور موضوع کی بہتر تفہیم کے لیے ان تمام سوالات کو منتشر انداز میں بیان کرنے کے بجائے یکجا کر کے بنیادی طور پر تین بڑے حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے، تاکہ گفتگو منظم، مربوط اور نتیجہ خیز ہو سکے۔پہلے حصے میں شرحِ عقائد کا تعارف پیش کیا جائے گا، جس میں اس کتاب کے علمی پس منظر، مصنف کی حیثیت، اور اس کے تاریخی و فکری مقام پر روشنی ڈالی جائے گی۔ دوسرے حصے میں ان تنقیدات کا جائزہ لیا جائے گا جو مختلف ادوار میں اہلِ علم کی جانب سے اس کتاب پر کی گئی ہیں، اور یہ واضح کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ ان اعتراضات کی نوعیت کیا ہے اور ان کی علمی حیثیت کہاں تک ہے۔تیسرے اور آخری حصے میں اس سوال کا تفصیلی جواب دیا جائے گا کہ دارالعلوم ندوۃ العلماء نے کن علمی اور تعلیمی اسباب کی بنا پر…

Read more

خدا كا وجود اور كائنات كی شہادت

خدا كا وجود اور كائنات كی شہادت 🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ‏‎‏‎ گزشته دنوں ملك میں ایك اهم موضوع پر اهل علم كے درمیان مذاكره هوا، اور وه هے خدا كا وجود، جس كا مذهب سے گهرا تعلق هے، دنیا میں جو مذاهب پائے جاتے هیں، ان میں خدا كے وجود كا مشترك تصور هے، خدا كا یقین هی انسان كو ایك غیبی طاقت كا مطیع وفرمانبردار بناتا اور اس كے اندر جواب دهی كا یقین پیدا كرتا هے، اور یه بات اس كو خیروصلاح اور عدل وانصاف پر قائم ركھتی هے؛ مگر اس وقت مغربی تهذیب كی بنیادی دعوت خدا پرستی كے بجائے شهوت پرستی كی هے، اور اس فلسفه میں سب سے بڑی ركاوٹ خدا كا یقین هے، بدقسمتی سے مختلف صورتوں میں الحاد هماری نئی نسلوں میں بڑھتا جا رها هے؛ اسی لئے ضروری هے كه مسلمان اپنے بال بچوں كی تربیت میں اس پهلو كو ملحوظ ركھیں۔ الله تعالیٰ كے وجود كو ماننے سے یه یقین ركھنا مراد ہے کہ اگرچہ ہم اللہ کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھتے ہیں ؛ لیکن وہ موجود ہے ، اسی نے پوری کائنات کو پیدا کیا ہے اور اسی کے حکم سے اس کا نظام جاری وساری ہے؛ اس لئے همیں اس كی اطاعت وفرماں برداری كرنی چاهئے۔غور كریں تو اس کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ کے وجود کی دلیل ہے ؛ لیکن چند اہم دلیلیں یہ ہیں :(الف) ہم دن و رات اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ کوئی چیز بنانے والے کے بغیر وجود میں نہیں آتی ، سوئی سے لے کر جہاز تک ہر چیز کسی صانع کے ذریعہ وجود میں آتی ہے ، اگر کوئی شخص کسی مکان کے بارے میں دعویٰ کرے کہ یہ از خود بن کر کھڑا ہوگیا ہے تو لوگ اسے پاگل سمجھیں گے ، تو یہ وسیع وعریض کائنات کسی خالق کے بغیر کیسے وجود میں آسکتی ہے ؟ قرآن مجید میں بار بار اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ، جیسے ارشاد ہے :اَفِی اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ۔ (ابراہیم: ۱۰)كیا…

Read more

سالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دل

سالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دل شروع کرتا ہوں اس مسجود حقیقی کے نام مقدس سے جس نے اس عالم پر بہار کو وجود مسعود بخشا۔ دوستو ! آج جب سال 2025 اپنے گردش ایام مکمل کر کے پردۂ خفا میں سما چکا ہے اور سال 2026 نئی صبح کی مانند افق پر جلوہ گر ہو رہا ہے تو یہ لمحہ محض شور و غوغا, آتش بازی اور رسمی مبارک بادوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے, یقینا دل میں ایک ہلکی سی خوشی کا پیدا ہونا فطری ہے, اس لیے کہ حق جل مجدہ نے اس وجود فانی کو ایک مزید سال عطا فرمایا , ایک اور موقع فراہم کیا کہ ہم مرضئ حق کے مطابق اپنی زندگی کو سنوار سکیں , بگڑی راہوں کو درست کر سکیں , لیکن یہ خوشی اگر شکر , سنجیدگی اور وقار کے دائرے میں نہ ہو تو جلد ہی غفلت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ سال کا بدل جانا دراصل کیلنڈر کا بدلنا ہے , مگر خود انسان کا بدلنا ایک مسلسل جدوجہد کا نام ہے , یہی وجہ ہے کہ سالِ نو ہمیں دعوت احتساب دیتا ہے کہ ہم ذرا ٹھہر کر اپنے دل کے بند دروازے کھولیں اور خود سے سوال کریں کہ سالِ ماضی (2025) میں ہم نے کن مقاصد کا تعین کیا تھا ؟ کتنے خواب تھے جو ہم نے بڑی امیدوں کے ساتھ باندھے تھے ؟ کیا وہ مقاصد و خواب تعبیر تک پہنچے یا صرف وعدوں کی فہرست بن کر رہ گئے ؟ ساتھیو ! اگر اہداف پورے نہ ہو سکے تو یہ لمحہ شکوہ کا نہیں , ملامت نفس اور اظہار رنج و غم کا نہیں بلکہ ہمیں خاموشئ مکاں میں بیٹھ کر صدق دل سے یہ سوچنا ہوگا کہ کیا ہماری نیت کمزور تھی ؟ کیا ہم نے عزم کے بجائے وقتی جوش و جذبات پر بھروسہ کیا یا پھر ہم نے اپنی کوتاہیوں کو حالات کے کھاتے میں ڈال کر خود کو بری الذمہ سمجھ لیا ؟ درحقیقت کامیاب انسان وہی ہوتا ہے جو اپنے…

Read more

کیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethrosh

کیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethrosh فلسفہ نوع انسانی کی صدیوں پر مشتمل عقلی اور فکری کاوشوں اور اہل عقل و دانش کی دماغ سوزیوں کا مظہر ہے جس کا دائرہ کائنات سے گزر کر انسان کی ذات اور اس کے اعمال و افعال تک پھیلا ہوا ہے۔ ازمنہ قدیم میں فلسفہ کا دائرہ بہت وسیع تھا، چنانچہ طبیعیات و مابعد الطبیعیات، منطق و ریاضیات اور اخلاقیات و سیاسیات سب فلسفہ کے ذیل میں آتے تھے۔ اس دور کے فلسفیوں نے کائنات کی اصل (ἀρχή) کو تلاش کرنے اور وجود کے اسرار کو عقل کے ذریعے حل کرنے کی طرح ڈالی۔ فلاسفہ کا دعویٰ تھا کہ انھوں نے اپنے افکار کے ذریعہ انسانی شعور کو توہمات کے تنگ و تاریک غاروں ( افلاطون کی تمثیلِ غار allegory of the cave کے مناظر کو ذہن میں تازہ کر لیں) سے نکال کر اسے استدلال و براہین کی روشنی بخشی۔ فلسفہ آج بھی تمام جدید علوم کی اساس کہلاتا ہے، کیونکہ اس کی مدد سے انسانوں نے حقائقِ اشیا کو ان کے جوہر میں دیکھنے کا فن سیکھا اور اسی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ فلسفہ محض ماضی کی موشگافیوں کی حکایت نہیں، بلکہ عصر حاضر میں ابھرنے والے پیچیدہ فکری سوالات کو سمجھنے کی کلید بھی فراہم کرتا ہے۔ لیکن اس وقت فلسفہ کا تعارف یا اس کی اہمیت و ماہیت پر روشنی ڈالنا مقصود نہیں ہے۔ بلکہ گذشتہ دنوں تین بزرگوں کے ملفوظ ہماری نظر سے گذرے جن میں خصوصاً فلسفۂ قدیمہ کی شناعت یا عدم افادیت کا ذکر تھا، اور اس امر پر زور دیا گیا تھا کہ مدارس میں فلسفہ قدیم کی تدریس اب مفید نہیں یا شرعی مضرتوں کی موجب ہے۔ پہلے یہ تینوں ملفوظ ملاحظہ فرمائیں، اس کے بعد ان پر گفتگو کریں گے۔ ملفوظ اول مولانا رشید احمد گنگوہی:"فلسفہ محض بیکار امر ہے، اس سے کوئی نفع معتد بہ حاصل نہیں سوائے اس کے، دوچار سال ضائع ہوں اور آدمی خر دماغ، غبی دینیات سے ہو جائے، فہم کج وکور فہم شرعیات سے ہو جائے اور کلمات…

Read more

جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیں

جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیں ✍️ریحان بیگ ندوی 20 دسمبر 2025 کو “Does God Exist?” کے عنوان سے مفتی شمائل احمد ندوی اور معروف شاعر، اسکرین رائٹر اور نغمہ نگار جاوید اختر کے درمیان کنسٹی ٹیوشن کلب آف انڈیا میں ایک لائیو ٹیلی کاسٹ مباحثہ منعقد ہوا۔ مباحثے کا اختتام عمومی تاثر کے مطابق مفتی صاحب کے حق میں ہوا۔ اس کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر مثبت اور منفی—دونوں طرح کے ردِّعمل کی ایک لہر دوڑ گئی۔کئی لوگوں نے مفتی صاحب کے اسلوبِ گفتگو، مضبوط استدلال اور علمی تیاری کو سراہا، حتیٰ کہ بعض مقامات پر اس موقع کی خوشی میں پروگرام بھی منعقد کیے گئے۔ اس کے برعکس، کچھ صارفین نے جاوید اختر صاحب کو نشانہ بناتے ہوئے مختلف نوعیت کی میمز تیار کیں، جو سنجیدہ فکری گفتگو کے مزاج سے ہم آہنگ نظر نہیں آئیں۔ کچھ حلقوں کی جانب سے اس امر پر بھی سوال اٹھایا گیا کہ ایک ایسے مباحثے کے لیے—جسے علمی اور اکیڈمک نوعیت کا قرار دیا جا رہا تھا—جاوید اختر صاحب کا انتخاب کس حد تک موزوں تھا، کیونکہ وہ بنیادی طور پر ایک شاعر، اسکرین رائٹر اور نغمہ نگار کے طور پر جانے جاتے ہیں، نہ کہ مذہبی فلسفے یا الحاد کے باقاعدہ ماہر کے طور پر۔ مزید یہ کہ “نئے ہندوستان” کے تناظر میں دیگر اہم اور فوری سماجی و فکری مسائل کو نظرانداز کر کے الحاد جیسے موضوع کو مرکزی حیثیت دینے پر بھی بعض سنجیدہ سوالات اٹھائے گئے۔اسی پس منظر میں ذیل میں چند نکات پر غور پیش کیا جا رہا ہے۔ 1- یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ بحث و مناظرہ اظہارِ خیال کا ایک معروف ذریعہ ہے، اور بعض مخصوص حالات میں اس کی گنجائش بھی نکل آتی ہے۔ تاہم تاریخ اور عصرِ حاضر کے تجربات یہ واضح کرتے ہیں کہ اکثر مواقع پر مناظرے فائدے سے زیادہ نقصان کا سبب بنتے ہیں اور بنے ہیں—خصوصاً جب انہیں جیت اور ہار کے پیمانے پر پرکھا جائے، عوامی تماشہ بنایا جائے، اور فتح کے نعروں کے…

Read more

مفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدمات

مفتی شمائل احمد عبد اللہ ندوی: تعارف، علمی خدمات اور فکری کردار مفتی شمائل احمد ندوی (Mufti Shamail Nadwi) عصرِ حاضر کے ایک معروف اسلامی عالم، فقیہ اور مبلغ ہیں۔ ان کا تعلق ایک معزز اور شریف خاندان سے ہے جو کلکتہ (بھارت) سے وابستہ رہا ہے۔ سنجیدہ فکر، علمی وقار اور متوازن طرزِ گفتگو ان کی شخصیت کے نمایاں اوصاف ہیں، جن کی بنا پر وہ دینی و فکری حلقوں میں احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ ابتدائی اور اعلیٰ تعلیم مفتی شمائل ندوی نے اپنی ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی، جہاں دینی ذوق اور علمی ماحول نے ان کی فکری بنیاد مضبوط کی۔ بعد ازاں اعلیٰ دینی تعلیم کے حصول کے لیے انہوں نے لکھنؤ کا رخ کیا، جو برصغیر میں علمی و فکری سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ جیسے عالمی شہرت یافتہ ادارے سے تعلیم حاصل کی۔ ندوۃ العلماء برصغیر کا ایک ممتاز دینی و علمی ادارہ ہے، جس کا مقصد دینی علوم کے ساتھ عصری فہم، فکری اعتدال اور بین الاقوامی شعور پیدا کرنا ہے۔ اس ادارے نے اسلامی فکر کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ندوہ اور شبلی کے فکری مقاصد کی ترجمانی مفتی شمائل ندوی کی فکر اور علمی روش میں ندوۃ العلماء اور علامہ شبلی نعمانی کے فکری مقاصد کی واضح جھلک نظر آتی ہے۔ ان کی سوچ میں روایت اور جدت کا حسین امتزاج، علمی تحقیق، شائستہ مکالمہ اور فکری توازن نمایاں ہے۔ اس اعتبار سے وہ ندوہ اور شبلی کے اس نصب العین پر پورے اترتے دکھائی دیتے ہیں جس کا مقصد ایک باخبر، باشعور اور مدلل اسلامی فکر کی نمائندگی تھا۔ دعوتی و تعلیمی خدمات عصرِ حاضر میں دینی دعوت اور تعلیمی خدمت ایک بڑی ذمہ داری بن چکی ہے، جہاں بدلتے فکری سوالات اور جدید ذہن کو سنجیدہ اور مدلل جواب درکار ہے۔ مفتی شمائل ندوی نے اسی احساسِ ذمہ داری کے تحت دعوتی اور تعلیمی میدان میں عملی کردار ادا کیا۔ وہ…

Read more