HIRA ONLINE / حرا آن لائن
ایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندی

ایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندی ہم ہیں، تو ابھی راہ میں ہیں سنگِ گراں اور ڈاکٹر محمد اعظم ندویاستاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد امریکہ اور ایران نے دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے، اس دوران دونوں ممالک مکمل طور پر جنگ بندی کے مسئلہ پر اسلام آباد میں مذاکرات کریں گے، گو کہ مفادات اور شرائط کی کشمکش پوری شدت کے ساتھ جاری ہے، لبنان پر خوفناک اسرائیل حملے اس کو مذاق بنا رہے ہیں، ایران پھر ہرمز کی بندش کا طاقتور ہتھیار استعمال کرنے پر مجبور ہے، خدا خیر کرے، ایران نے پھر اس پندرہ روزہ جنگ بندی کو اسرائیل کے لبنان پر جارحیت روکنے سے مشروط کردیا ہے، ایران مضبوط موقف میں آگیا ہے اور امریکہ واسرائیل کے مقدر میں روس اور چین کے مطابق کچل دینے والی کراری شکست کے سوا کچھ نہیں آیا ہے۔ 8 اپریل 2026 کو 28 فروری سے جاری چالیس روزہ جنگ کو عارضی طور پر ختم کرتے ہوئے دونوں ممالک اس بات پر بھی متفق ہوئے کہ ایران آبنائے ہرمز کو بحری آمد ورفت کے لیے مکمل طور پر کھول دے گا، جبکہ ٹرمپ نے ایران کے اس دس نکاتی خاکے کو، جو انہیں پاکستانیوں کے ذریعے موصول ہوا، مذاکرات کے لیے ایک عملی بنیاد قرار دیا، یہاں سے معاملہ اپنی اصل شکل میں سامنے آتا ہے، کیونکہ جنگیں اکثر میدان میں نہیں بلکہ میز پر جیتی جاتی ہیں، اور اس میز پر اس بار کاغذ ایران نے رکھا ہے اور امریکہ نے اسے پڑھنے کے ساتھ ہی مان بھی لیا ہے، یہ ایران کی کامیاب حکمت عملی کا ایک واضح نمونہ ہے۔ دونوں فریقوں نے پاکستانی قیادت کی بھی تعریف کی، جس نے دونوں سے مسلسل روابط بنائے اور انہیں اس تجویز کو قبول کرنے کی ترغیب دی، رپورٹس کے مطابق چین نے بھی اس معاہدے تک پہنچنے کے سلسلے میں ایران کی حوصلہ افزائی کی، یوں یہ معاہدہ محض دو ملکوں کے درمیان ہونے والی بات چیت نہیں بلکہ ایک وسیع تر سفارتی عمل کا نتیجہ بن کر سامنے آیا، جس…

Read more

اسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانی

اسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانی ​بعض اوقات بعض سادہ باتیں بھی پیچیدہ بن جاتی ہیں۔ ان کی ایک مثال حالیہ جنگ بھی ہے۔ ​۱۔ ظاہر بات ہے کہ دنیا کے سارے ہی انصاف پسند انسان ایران سے ہمدردی رکھ رہے ہیں۔ شیعیت کے عقائد سے پورے اختلاف کے باوجود یہی ہمارا موقف ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے مظالم خصوصاً مسلم ممالک میں ان کی چیرہ دستیاں، لوٹ اور خوں ریزیوں کی تاریخ کے بعد دنیا میں اگر کوئی طاقت بھی ان کا مقابلہ کرنے کو کھڑی ہو تو یہ اطمینان اور داد کے لائق بات ہے۔ اگر ایران ہی نہیں، کوئی بھی ملک (مثلاً شمالی کوریا) بھی ان دو ظالم سرکش ممالک سے دو بدو کرتا نظر آئے تو ہماری ہمدردی و تائید کا مستحق ٹھہرے گا۔ ہم جانتے ہیں کہ اسرائیل کے عزائم کیا ہیں۔ عرب ممالک کے بیشتر حصہ پر وہ قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ کیا پھر بھی ایران کی تائید اور مدد نہیں کی جائے گی؟ ان عرب ریاستوں نے تو بے شرمی کی حد کر دی ہے۔ انہوں نے مسجدِ اقصیٰ اور فلسطینیوں کے خون کی قیمت پر، صرف اپنے تخت کو بچانے کے لیے اسرائیل کی حاشیہ برداری کا قلادہ اپنے گلوں میں ڈالا ہوا ہے۔ اب کون غیرت مند انسان ہوگا جو ایران کے موقف کی تائید و تعریف نہیں کرے گا۔ ​۲۔ عالمی حالات سے واقف حضرات جانتے ہیں کہ یہ جنگ عالمی نظام میں گہری تبدیلی پیدا کرنے والی جنگ ثابت ہو سکتی ہے۔ ممکن ہے کہ اس جنگ کے نتیجہ میں ایک یک قطبی (Unipolar) دنیا کے اندھا دھند مظالم سے نجات مل جائے اور ایک کثیر قطبی نظام (Multipolar World Order) قائم ہو جائے، جہاں مظلوموں اور کمزوروں کے پاس کچھ راستے اور امکانات ہو سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہو سکا، تو خطہ کی دیگر ریاستوں، خصوصاً خلیجی ممالک کو بھی شاید امریکہ اور اسرائیل کے تسلط سے کچھ گلو خلاصی نصیب ہو جائے۔ اس لیے بھی ہماری ہمدردیاں ایران کے ساتھ ہیں۔ ​۳۔ ایرانیوں کی بہادری…

Read more

منفی سوچ اور اس کے نقصانات

منفی سوچ اور اس کے نقصانات از : اسجد حسن ندوی اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل و شعور عطا فرمایا اور اسے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت دی ۔ انسانی زندگی کی کامیابی یا ناکامی کا دار و مدار اسی سوچ پر ہے ۔ اگر سوچ مثبت ہو تو انسان مشکلات میں بھی راستہ نکال لیتا ہے، اور اگر سوچ منفی ہو تو آسان حالات میں بھی پریشان رہتا ہے ۔ اسلام چونکہ ایک فطری دین ہے، اس لیے وہ انسان کو امید، حسنِ ظن، صبر اور توکل کی تعلیم دیتا ہے اور منفی سوچ، مایوسی اور بدگمانی سے سختی سے روکتا ہے۔ انسانی زندگی میں سوچ کا کردار نہایت اہم ہے ۔ انسان جیسا سوچتا ہے، ویسی ہی اس کی زندگی بنتی ہے۔ مثبت سوچ انسان کو امید، حوصلہ اور کامیابی کی طرف لے جاتی ہے، جبکہ منفی سوچ انسان کو مایوسی، خوف اور ناکامی کے اندھیروں میں دھکیل دیتی ہے۔منفی سوچ کا مطلب یہ ہے کہ انسان ہر معاملے میں ناکامی، نقصان اور برائی کا پہلو دیکھے، اللہ کی رحمت سے نا امید ہو، اپنی صلاحیتوں کو حقیر سمجھے اور دوسروں کے بارے میں بدگمانی رکھے۔ منفی سوچ کی کئی صورتیں ہیں، جیسے:اللہ تعالیٰ سے مایوسیاپنی تقدیر کو کوسناہر حال میں منفی نتائج کا گمانلوگوں کے بارے میں بدظنی اور شکیہ تمام صورتیں اسلام کی نظر میں ناپسندیدہ ہیں۔ قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر مایوسی اور منفی سوچ سے منع کیا گیا ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:"وَلَا تَيْأَسُوا مِن رَّوْحِ اللَّهِ ۖ إِنَّهُ لَا يَيْأَسُ مِن رَّوْحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ” (سورۃ یوسف: 87)( اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو، اللہ کی رحمت سے صرف کافر لوگ ہی نا امید ہوتے ہیں )یہ آیت واضح کرتی ہے کہ مایوسی اور منفی سوچ مومن کی شان نہیں۔ منفی سوچ انسان کے دل کو کمزور کر دیتی ہے، اس کی ہمت توڑ دیتی ہے اور اسے عمل سے روک دیتی ہے۔ ایسا شخص ہر کام میں نا کامی کا اندیشہ رکھتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ کوشش ہی…

Read more

زہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟

زہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟ از : مولانا ابو الجیش ندوی ​عارفینِ حق کا اس بات پر اتفاق ہے کہ زہد دراصل دل کا دنیا کے وطن سے کوچ کر جانا اور آخرت کی منزلوں کی طرف روانہ ہو جانا ہے۔ اسی بنیاد پر متقدمین (پچھلے علماء) نے زہد کے موضوع پر کتابیں تصنیف کیں، جیسے عبداللہ بن المبارک، امام احمد، وکیع اور ہناد بن السری رحمہم اللہ وغیرہ کی کتبِ زہد۔​زہد کے چھ بنیادی متعلقات​کسی بندے کے لیے ‘زاہد’ کا لقب اس وقت تک درست نہیں ہوتا جب تک وہ درج ذیل چھ چیزوں میں زہد اختیار نہ کر لے:​مال و دولت​ظاہری صورتیں (حسن و جمال)​ریاست و منصب​لوگ (ان کی واہ واہ یا تنقید)​اپنی ذات (نفس)​اور اللہ کے سوا ہر چیز۔​زہد کا مطلب ترکِ دنیا نہیں​یہاں زہد سے مراد ان چیزوں کی ملکیت کو چھوڑ دینا نہیں ہے۔ اس کی چند نمایاں مثالیں ملاحظہ فرمائیں:​حضرت سلیمان اور حضرت داؤد علیہما السلام: اپنے زمانے کے سب سے بڑے زاہد تھے، حالانکہ ان کے پاس مال، عورتیں اور عظیم سلطنت موجود تھی۔​نبی کریم ﷺ: آپ کائنات کے سب سے بڑے زاہد تھے، اس کے باوجود آپ کی نو ازواجِ مطہرات تھیں۔​صحابہ کرام: حضرت علی، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت زبیر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم اجمعین بڑے زاہد تھے باوجود اس کے کہ ان کے پاس کثیر اموال تھے۔​حضرت حسن بن علیؓ: آپ بھی زاہدین میں سے تھے، حالانکہ آپ امت میں سب سے زیادہ نکاح کرنے والے اور مالدار ترین افراد میں شامل تھے۔​ائمہ کرام: عبداللہ بن المبارک زہد کے امام تھے مگر بہت مالدار تھے۔ اسی طرح لیث بن سعد اور سفیان ثوری بھی زہد کے امام تھے اور صاحبِ مال تھے؛ امام سفیان فرمایا کرتے تھے: "اگر یہ مال نہ ہوتا تو یہ (حکمران) ہمیں اپنا رومال بنا لیتے (یعنی ہمیں ذلیل کرتے)۔”​زہد کی بہترین تعریف​زہد کے بارے میں سب سے خوبصورت بات ابو مسلم الخولانی نے کہی ہے:​”دنیا سے زہد کا مطلب حلال کو حرام کر لینا یا مال کو ضائع کر دینا نہیں ہے، بلکہ زہد یہ ہے کہ:​جو…

Read more

اعتکاف ، احکام و آداب

🔰اعتكاف، احكام وآداب 🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ‏‎‏‎ انسان کا رشتہ اپنے خالق سے یہ ہے کہ خدا مالک ہے اور انسان اس کا مملوک ، خدا معبود ہے اور انسان اس کا عبد ، خدا آقا ہے اور انسان اس کا بندہ اور غلامِ بے دام ، غلام کا کمال یہ ہے کہ اس کا آقا اس سے خوش ہو ، مملوک کے لئے سب سے بڑا شرف یہ ہے کہ اسے مالک کی خوشنودی حاصل رہے ، عاشق کو اپنے معشوق کی راہ میں لٹ کر بھی ایک لطف آتا ہے اور محب اپنے محبوب کے لئے کھو کر بھی پانے کی لذت محسوس کرتا ہے ، اسی محبت اور غلامی اور بندگی کے احساس کو عملی پیکر دینے کے لئے عبادت کے طریقے مقرر کیے گئے اور ان کو انسان کا اصل مقصد وجود قرار دیا گیا :’’ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالاِنْسَ اِلاَّ لِیَعْبُدُوْنَ ‘‘۔ اسلام میں عبادت کے جو طریقے مقرر کئے گئے ہیں ان میں قدم قدم پر اپنی بندگی ، نیستی اور خدا کے ساتھ محبت اور شیفتگی کا اظہار ہے ، نماز کی کیفیت کو دیکھئے کہ غلام اپنے آقا کے سامنے نگاہ نیچی کیے ہوئے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہے ، بار بار اپنے خدا کی کبریائی کا نعرہ لگا تا ہے ، کبھی کمر تک جھکتا ہے ، کبھی نگاہ جھکائے دو زانو بیٹھتا ہے اور کبھی اپنی پیشانی زمین پر رگڑتا ہے ، زکوٰۃ دینا اپنی ذات اور اپنے مال پر خدا کی حکومت کا اعتراف کرنا ہے ، روزہ اور حج بھی خدا کی بندگی ہے ؛ لیکن اس میں خوف سے زیادہ اپنے مالک کی محبت کا اظہار ہے ، روزہ دار کو دیکھئے ! بھوکا ہے ، پیاسا ہے ، دُھوپ کی تمازت اور موسم کی شدت ہے ؛ لیکن خدا کی خوشنودی اور اس کی رضا کے لئے سب کچھ گوارا ہے ، روزہ گویا اللہ تعالیٰ سے کمالِ محبت اور تمام علائق سے رشتہ ٹوڑ نے سے عبارت ہے ؛ لیکن بھو کے پیاسے رہنے کے باوجود روزہ کی حالت…

Read more

روزہ، ایک جامع نظامِ تربیت

روزہ، ایک جامع نظامِ تربیت مولانا عبدالماجد دریابادی رحمۃ اللّٰه علیہ نے لکھا ہے: صوم یا روزہ، اصطلاحِ شریعت میں اُسے کہتے ہیں کہ انسان طلوعِ فجر سے غروبِ آفتاب تک اپنے کو کھانے پینے اور عملِ زوجیت سے روکے رہے، جو روزے فرض ہیں، وہ ماہِ رمضان کے ہیں، غیبت، بد زبانی وغیرہ زبان کے تمام گناہوں سے روزے میں بچے رہنے کی سخت تاکیدیں، حدیث میں آئی ہیں۔ جدید و قدیم سب طبیں اس پر متفق ہیں کہ روزہ جسمانی بیماریوں کے دور کرنے کا بہترین علاج اور جسمِ انسانی کے لیے ایک بہترین مصلح ہے، پھر اس سے سپاہیانہ ہمت اور ضبطِ نفس کی روح، جو ساری امت میں تازہ ہوجاتی ہے، اس کے لحاظ سے بھی مہینہ بھر کی یہ سالانہ مشق، ایک بہترین نسخہ ہے۔ (تفسیرِ ماجدیؒ، جلد اول، صفحہ: ۳۲۹/

Read more