امام غزالی علم و دانش کے پیکر تھے
امام غزالی علم و دانش کے پیکر تھے غلام نبی کشافیآنچار صورہ سرینگر میرا آج کا یہ خاص مضمون امام غزالی کے بارے میں ایک مختصر تعارف پر مبنی ہے ، اور جس کا مقصد صرف یہ ہے کہ آپ امام غزالی کی علمی و دینی خدمات کے بارے میں جاننے اور ان کی گراں قدر کتابوں کے مطالعہ کرنے کی طرف راغب ہوں ۔ فارس ( موجودہ ایران ) کے ممتاز عالم دین امام غزالی ( 1058ء -1111ء ) کا پورا نام ابو حامد محمد بن محمد طوسی شافعی تھا ، اور طہران کے ضلع طوس میں ہجری کلینڈر کے مطابق 450 ھ میں پیدا ہوئے تھے ۔ اللہ تعالی نے ان کو بیشمار اور گوناگوں علمی و فکری صلاحیتوں سے نوازا تھا ، اور علمی لحاظ سے ان کی جلالت کا عالم یہ ہوتا تھا کہ ان کے درس و تدریس میں روزانہ تین سو کے قریب علماء ، امراء اور روسا بالتزام حاضر ہوتے تھے ، امام غزالی فلسفہ پر ید طولٰى رکھتے تھے ، اور علم کلام میں ان کو وہی مقام حاصل تھا ، جو ارسطو کو منطق میں تھا ، ان کی ذہنی ، فکری ، علمی اور مجتہدانہ صلاحیتوں کی وجہ سے ان کی ساری زندگی حصول علم کے ساتھ ساتھ مطالعہ و تحقیق میں گزری ہے ، اور ان کے زمانے میں مسلمانوں میں عقائد کے حوالے سے جو بگاڑ پیدا ہوگیا تھا ، اور اخلاقیات میں بھی وہ تنزل کے شکار تھے ، تو ان کے لئے وہ ہر وقت فکر مند رہتے تھے ، اور اپنی تحریروں اور تقریروں کے ذریعہ ان کی اصلاح کی کوشش کرتے تھے ۔ چنانچہ اس سلسلہ میں انہوں نے اپنے زمانہ کے بڑے بڑے بادشاہوں اور امراء کو خطوط لکھ کر انہیں اصلاح عقائد کی دعوت دیتے تھے ۔ امام غزالی نے بہت سی ضخیم کتابیں لکھی ہیں ، لیکن ان کی مشہور کتاب ” احیاء علوم الدین ” ہے ، اور بعد میں یہی کتاب ان کی پہچان بھی بن گئی ہے ، اور آج بھی اس کتاب کو…
Read more