HIRA ONLINE / حرا آن لائن
امریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہ

امریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہاسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہ تمہید عالمی سیاست میں طاقت اور اخلاق کے درمیان کشمکش کوئی نئی بات نہیں، مگر جدید دور میں یہ کشمکش زیادہ پیچیدہ، زیادہ منظم اور زیادہ بے رحم ہو چکی ہے۔ لاطینی امریکہ، بالخصوص وینزویلا، اس جدید سامراجی سیاست کا نمایاں مظہر ہے۔ امریکہ کی وینزویلا میں مداخلت—چاہے وہ اقتصادی پابندیوں کی صورت میں ہو، سیاسی تنہائی کی شکل میں، یا مبینہ فوجی کارروائی کی صورت میں—اسلامی سیاسی فکر کے اصولوں پر پرکھی جائے تو یہ ایک گہرے اخلاقی اور قانونی بحران کی نشاندہی کرتی ہے۔یہ مضمون امریکی سامراج کو محض ایک سیاسی حکمتِ عملی نہیں بلکہ ایک اخلاقی انحراف کے طور پر دیکھتا ہے، اور اسلامی بین الاقوامی تعلقات کے اصولوں کی روشنی میں اس کا تنقیدی جائزہ لیتا ہے۔ لاطینی امریکہ اور امریکی سامراج: تاریخی پس منظر انیسویں صدی میں مونرو ڈاکٹرائن (1823) کے ذریعے امریکہ نے لاطینی امریکہ کو اپنا اثرورسوخ کا علاقہ قرار دیا۔ اس کے بعد گوئٹے مالا (1954، جہاں CIA نے صدر اربینز کو ہٹایا)، چلی (1973، پنٹا کا آمرانہ اقتدار)، نکاراگوا (1980 کی دہائی میں کنٹرا باغیوں کی حمایت)، اور پاناما (1989 کا فوجی حملہ) جیسے واقعات نے واضح کر دیا کہ جو حکومت امریکی مفادات سے انحراف کرے گی، اس کے لیے بقا مشکل بنا دی جائے گی۔ یہ مداخلتیں براہِ راست نوآبادیات نہیں تھیں، بلکہ رجیم چینج، اقتصادی دباؤ اور خفیہ کارروائیوں کے ذریعے کنٹرول کا ماڈل تھیں—جو جدید سامراج کی پہچان ہے۔ وینزویلا: ایک ریاست کیوں نشانہ بنی؟ وینزویلا امریکی دباؤ کا شکار اس لیے نہیں ہوا کہ وہ جمہوری تھا یا غیر جمہوری، بلکہ اس لیے کہ اس نے تیل جیسے اسٹریٹجک وسائل پر ریاستی کنٹرول قائم کیا، امریکی بالادستی سے آزاد خارجہ پالیسی اپنائی، اور روس، چین اور ایران جیسے ممالک سے تعلقات مضبوط کیے۔ یہ تینوں عوامل امریکی سامراجی نظم کے لیے ناقابلِ قبول تھے۔ عالمی سطح پر وینزویلا کے تیل کی ریزروز (ثبت شدہ 300 بلین بیرل سے زائد) اور OPEC میں اس کی…

Read more