پرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبرو
پرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبرو محمد رضی الاسلام ندوی برادر عزیز محمد اسعد فلاحی نے اطلاع دی کہ پرواز رحمانی صاحب کا انتقال ہوگیا ہے تو دل دھک سے رہ گیا – میں دہلی میں اپنی داہنی آنکھ کا موتیابند آپریشن کروانے کے بعد کچھ دنوں کے لیے اپنے وطن آگیا تھا ، اس لیے جنازہ میں شرکت سے محروم رہا – دہلی میں کئی بار مسجد اشاعت اسلام (مرکز جماعت اسلامی ہند) میں ان کی بیماری کے اعلان کے ساتھ دعا کی درخواست کی گئی – وہ برین ہیمریج اور فالج کا شکار تھے – وقفے وقفے سے ان کی طبیعت کی بحالی کی اطلاع پاکر اطمینان ہوجاتا تھا ، لیکن اب وقتِ موعود آگیا اور وہ بارگاہِ الہی میں حاضر ہوگئے – پرواز رحمانی کا وطن ریاست مہاراشٹر کے ضلع اکولہ کا شہر آکوٹ تھا – وہ عین جوانی میں 1969 میں دعوت سے ، جس کے اُس زمانے میں روزنامہ اور سہ روزہ دونوں ایڈیشن نکلتے تھے ، وابستہ ہوئے اور پوری زندگی اس کے لیے وقف کردی – وہ نچلی سطح کی مختلف ذمے داریاں نبھاتے ہوئے اس کے اعلیٰ ترین منصب (چیف ایڈیٹر) تک پہنچے – انھوں نے نصف صدی پر محیط اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں ہمیشہ صحافت کی اعلیٰ اقدار کی پاس داری کی اور کبھی سنسنی خیزی یا غیر ذمے دارانہ صحافت کا راستہ نہیں اختیار کیا ۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جن کے نزدیک صحافت ایک مشن کا درجہ رکھتی تھی ۔ وہ کم گو اور کم آمیز شخصیت کے مالک تھے ، لیکن ان کی سوچ تعمیری اور فکر گہری ہوتی تھی – وہ جماعت اسلامی ہند کی اعلیٰ اختیاراتی باڈی مجلس نمائندگان اور اس کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن تھے – علمی ، دینی اور صحافتی حلقوں میں پرواز صاحب کا تعارف سہ روزہ ’دعوت‘ کے مستقل کالم ‘خبرونظر’ سے تھا – ان سے پہلے ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر جناب محمد مسلم نے اس کالم کو مخصوص پہچان عطا کی تھی – دعوت کے پہلے صفحے پر بائیں جانب…
Read more