HIRA ONLINE / حرا آن لائن
دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدمات

دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدمات اسلامی تعلیم کا فروغ: دار العلوم دیوبند ہندوستان کا پہلا باقاعدہ مدرسہ ہے جہاں باضابطہ ہاسٹل کے ساتھ تعلیم شروع کی گئی۔ ورنہ اس سے پہلے علماء انفرادی طور پر اپنے اپنے گھر یا جگہ پر درس وتدریس کا کام انجام دیا کرتے تھے۔ اس عظیم دانش گاہ کو اسی لئے ام المدارس کہا جاتا ہے، اس درسگاہ نے اسلامی تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہاں قرآن، حدیث، فقہ، اور دیگر اسلامی علوم کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، دار العلوم دیوبند سے فارغ التحصیل علماء نے دنیا بھر میں اسلامی تعلیم کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ جنگ آزادی میں کردار: ہندوستان کا یہ پہلا اسلامی درسگاہ ہے جہاں سے بڑے بڑے مجاہدین آزادی نکلے، یہ شرف ہندوستان کے کسی اور ادارہ کا حاصل نہیں رہا ہے۔ علماء کی تربیت: دار العلوم دیوبند نے بہت سے نامور علماء کو تربیت دی ہے۔ ان علماء نے اسلامی دنیا میں مختلف شعبوں میں اہم خدمات انجام دی ہیں۔ اسلامی علوم کا کوئی ایسا شعبہ نہیں جس میں یہاں کے فارغین نے علمی خدمات انجام نہیں دی ہو۔ دار العلوم دیوبند نے اسلامی علوم اور ادب کی اشاعت میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہاں سے مختلف کتابیں اور رسائل شائع ہوتے ہیں جو اسلامی تعلیمات کو عام کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ اسلامی اصلاحات: دار العلوم دیوبند نے اسلامی اصلاحات کے لیے بھی کام کیا ہے۔ یہاں کے علماء نےنہ صرف یہ کہ مختلف مسائل پر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے اور اسلامی معاشرے کو بہتر بنانے کے لیے تجاویز پیش کی ہیں بلکہ علمی اقدامات بھی اٹھاے ہیں۔ یہی وجہ ہے یہاں کے علماء نے بڑی بڑی تنظیمیں قائم کی جس کی تاریخ امت اسلامیہ کا ایک روشن باب ہے۔ تبلیغی جماعت، جمعیہ علماء ہند، جمعیت علماء اسلام،آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ، آل انڈیا ملی کونسل وغیرہ وغیرہ جیسی تحریکیں اسی گلشن علمی کی خوشبو ہے۔ اسلامی اور دینی اداروں کا جال: دار العلوم دیوبند نے اسلامی ثقافت…

Read more

دار العلوم دیوبند کی سیر

محمد رضی الاسلام ندوی دار العلوم دیوبند میں اپنی حاضری درج کرنے کے لیے میں نے دو فوٹو لگائے تو بہت سے احباب نے توجہ دلائی کہ آپ نے صرف فوٹو لگادیے ، کچھ لکھنا بھی چاہیے تھا – اسی کی تعمیل میں چند سطریں تحریر کی جارہی ہیں – دار العلوم (وقف) میں حضرت مولانا انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ پر منعقدہ سمینار (13، 14 دسمبر 2025) کا افتتاحی اجلاس پونے بارہ بجے ختم ہوا تو برادر مکرم ڈاکٹر محی الدین غازی نے کہا : ” اس وقت دار العلوم کے مہتمم اور شیخ الحدیث مولانا ابو القاسم نعمانی کا درس چل رہا ہوگا – چل کر اس میں شرکت کرلیتے ہیں – “ میرے ساتھ مولانا ولی اللہ سعیدی فلاحی نائب امیر جماعت ، جناب عبد الجبار صدیقی سکریٹری جماعت اور ڈاکٹر رضوان احمد رفیقی فلاحی اسسٹنٹ سکریٹری جماعت بھی تیار ہوگئے – دار العلوم (وقف) کیمپس ہی میں ایک بیٹری رکشہ کھڑا ہوا تھا – ڈرائیور سے کہا : ” دار العلوم لے چلو -“ وہ فوراً تیار ہوگیا – تھوڑی دیر میں ہمیں گلیوں سے گھماتے ہوئے اس نے دار العلوم میں ‘مسجد رشید’ تک پہنچا دیا – بڑی خوب صورت اور پُر شکوہ مسجد تعمیر ہوئی ہے – کرایہ پوچھنے پر اس نے کہا : ” کرایہ دینے کی ضرورت نہیں – میں نانوتہ سے سمینار میں شرکت کرنے والوں کی خدمت ہی کے لیے آیا ہوں – “ رکشہ چلانے والے کے اس جواب نے بہت متاثر کیا – اس کے جذبۂ خدمت کو سلام – بانی دار العلوم مولانا محمد قاسم نانوتوی کے اخلاص ، خیر خواہی اور خدمت کے اثرات نسل در نسل اب تک محسوس کیے جاتے ہیں – ایک طالب علم سے درسِ حدیث کے بارے میں معلوم کیا – اس نے بتایا کہ درس 12 بجے ختم ہوجاتا ہے – بہت افسوس اور مایوسی ہوئی – چند ماہ پہلے دیوبند حاضری ہوئی تھی تو اس موقع پر دار العلوم (وقف) میں شیخ الحدیث مولانا احمد خضر شاہ کشمیری اور دار العلوم میں مولانا ابو القاسم…

Read more