علامہ شبلی ؒنعمانی (1857۔ 1914)مثلِ خورشیدِ سحر فکر کی تابانی میں
از: احمد نور عینی استاذ استاذ : المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد زائد از ڈیڑھ صدی پہلے کی بات ہے، یعنی اس زمانے کی بات ہے جب ہندوستان جنت نشان کی سونا اگلتی دھرتی پر استعمار اپنے اقتدار کے پنجے بے رحمی کے ساتھ گاڑنے میں کامیاب ہورہا تھا، ہندوستان کا دل شہرِ دلی مغلیہ عظمت وشوکت کی آخری دھڑکنیں گن رہا تھا ، دلی کا مرکزِ اقتدار لال قلعہ انتقالِ اقتدار کا ماتم کر رہا تھا ، گویا مغلیہ سلطنت کا وہ آفتاب جو اورنگ زیب کے بعد لب بام آگیا تھا ہمیشہ کے لیے غروب ہوا چاہتا تھا۔ ٹھیک اسی زمانے میں اتر پردیش کے ایک مردم خیز خطہ اعظم گڈھ میں ایک ایسا آفتاب طلوع ہوتا ہے جو آگے چل کر علم کدوں میں تحقیق کی کرنیں بکھیرتا ہے، مخالفت کی ہوائیں ہر چند اس کی ضیا گستری کو بدلیوں کی اوٹ میں چھپانا چاہتی ہیں مگر اس کی کرنیں بدلیوں کا سینہ چیر کر نیچے اترتی جاتی ہیں۔ جس زمانے کی یہ بات ہے وہ ۱۸۵۷ ء کا سال ہے اوراعظم گڈھ کے جس آفتاب کا تذکرہ ہے اسے دنیا شبلی نعمانی کے نام سے جانتی ہے۔ علامہ شبلیؒ قافلۂ سخت جاں کے وہ سالار تھے جن کی صحرا نوردی کو ریگستانی ہواؤں کے جھکڑ بھی نہ روک سکے،اور جن کی آبلہ پائی کے نقوش آج بھی کاروانِ علم وتحقیق کو منزل کا پتہ دیتے ہیں۔ علامہ شبلیؒ کی شخصیت بیسویں صدی میں تعلیمی انقلاب کا عنوان ہے، مردم سازی و مصنف گری کا نام ہے، تخلیق وتحقیق سے عبارت ہے۔ علامہ شبلیؒ گوناگوں خصوصیات کے حامل اور مختلف صلاحیتوں کے مالک تھے، میدانِ ادب کے شہسوار بھی تھے اور اقلیمِ علومِ اسلامیہ کے تاجدار بھی ، تاریخ کے بحر متلاطم کے غوطہ خوار بھی تھے اور سیرت نگاری کے انوکھے اسلوب میں یکتائے روزگار بھی ، انگریزی کی ترویج کے لیے طبقۂ قدیم سے برسر ِپیکار بھی تھے اور قدیم صالح وجدید نافع کو جمع کرنےکے علم بردار بھی۔ دامنِ اسلام سے شبہات کے داغ دور کرناان کی فکر تھی، آریہ سماجیوں…
Read more