🔰دینی مدارس کی حفاظت كیوں ضروری هے؟
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی دنیا میں ایسے بہت سے علاقے ہیں جہاں مسلمانوں کے اقتدار کا سورج طلوع ہوا ، بام عروج تک پہنچا اور پھر مائل بہ انحطاط ہوکر ڈوب گیا ، ایشیاء اور یورپ میں متعدد ممالک ہیں جہاں یہ کیفیت پیش آئی اور اس میں شبہہ نہیں کہ یہ ہماری شامت ِ اعمال اور کوتاہیوں کا نتیجہ ہے ، عام طورپر جن ملکوں میں مسلمان ان حالات سے دوچار ہوئے ، وہاں اسلامی تہذیب کا چراغ یاتو ہمیشہ کے لئے بجھ گیا ، یا اس کی لو ایسی مدھم ہوئی کہ وہ نہ ہونے کی درجہ میں ہے ، وہاں لوگ اسلامی تعلیمات اور اپنے مذہبی تشخصات سے ایسے محروم ہوئے کہ ان کے دلوں سے احساس زیاں بھی جاتا رہا ، انھوں نے کلی طورپر مادیت کے سامنے اپنی پیشانی خم کردی ، اسپین ، مغربی اور مشرقی یورپ کے بعض علاقے اور روس و چین کے مسلم اکثریتی صوبے اس کی واضح مثال ہیں ، اسپین تو اس کی بدترین مثال ہے ، جو کسی زمانہ میں علم و فن اور تہذیب و تمدن کا دارالخلافہ تھا اور عالم اسلام میں اس کی حیثیت کسی تاجِ گہر بار سے کم نہیں تھی ؛ لیکن جب مسلمانوں کا تخت اقتدار پاش پاش ہوا تو اسلامی ثقافت کے تمام ہی نقوش نے وہاں سے رخت ِسفر باندھا اور چند بے جان و بے روح عمارتوں کے سوا جو قصۂ ماضی پر نوحہ کناں تھیں ، ان کی کوئی اور شناخت وہاں باقی نہیں رہی ۔ ہندوستان کا معاملہ یقیناً اس سے مختلف ہے ، یہاں یوں تو اسلام ابتدائی عہد میں ہی آچکا تھا اور تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر ؓ کے دور میں ہی ہند وستان کے ساحلی علاقوں تک اسلام کی روشنی پہنچ چکی تھی ؛ لیکن اگر مسلمانوں کے سیاسی اقتدار کی تاریخ بھی دیکھی جائے تو ہند و سندھ کے علاقہ پر انھوں نے کم و بیش آٹھ سو سال حکومت کی ہے ، اس عہد کو سماجی ارتقاء اور فلاحی اعتبار سے…
Read more