HIRA ONLINE / حرا آن لائن
"فاسق معلن” کی دعوت قبول کرنے کے سلسلے میں شرعی حکم

:سوال : علانیہ فسق و فجور میں مبتلا شخص کی دعوت قبول کر سکتے ہیں یا نہیں؟ الجواب-و باللہ تعالیٰ التوفیق-: علانیہ فسق و فجور میں مبتلا شخص کی دعوت قبول نہیں کرنی چاہیے، تاکہ اسے تنبیہ ہو، نیز عبرت حاصل کرے اور اپنے فسق و فجور سے توبہ کرے- "ہندیہ” میں ہے: "لا يجيب دعوة الفاسق المعلن، ليعلم أنه غير راض بفسقه. وكذا دعوة من كان غالب ماله من حرام، ما لم يخبر أنه حلال. و بالعكس يجيب مالم يتبين عنده أنه حرام، كذا في التمرتاشي. و في الروضة: يجيب دعوة الفاسق، والورع أن لا يجيبه”.(ہندیہ، کتاب الکراھیہ، الباب الثانی عشر فی الھدایا و الضیافات 5/343، بیروت، دار الفکر، 1411ھ/1991ء، ع. أ.:6)- واللہ تعالیٰ اعلم بالصhttp://فاسق کی دعوت قبول کرنا کیسا ہے ؟واب، علمہ اتم و احکمکتبہ: العبد المفتقر الی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ:محمد شاہ جہاں ندویدار الافتاء والقضاء:جامعہ سید احمد شہید، احمد آباد، کٹولی، ملیح آباد، لکھنؤ، یوپی (انڈیا)226102

Read more

نس بندی ( sterilization ) : شرعی نقطہ نظر

: از : ڈاکٹر مفتی محمد شاہ جہاں ندوی نس بندی کے احکام کی وضاحت فرمادیں الجواب-و باللہ تعالیٰ التوفیق انسانی نسل میں استمرار:منشائے الٰہی ہے کہ قیامت کے دن کے آنے تک نسل انسانی میں استمرار جاری رہے- اللہ رب العزت نے اسی مقصد سے انسان کے اندر جنسی خواہش رکھی ہے، اور توالد و تناسل کا سلسلہ جاری فرمایا ہے- جہاں غلط طریقے پر جنسی تعلقات قائم کرنے کو ناجائز قرار دیا ہے- وہیں جائز طریقے سے جنسی خواہش کی تکمیل کی حوصلہ افزا کی گئی ہے- شادی بیاہ کے معروف طریقہ کو مشروع قرار دیا گیا ہے- اور اسے شرعی شرائط اور ضوابط کا پابند بنایا گیا ہے- ارشاد باری تعالیٰ ہے: ( فانكحوا ما طاب لكم من النساء مثنى و ثلاث و رباع). (4/ نساء:3)- ( سو خواتین میں سے جو تمہیں پسند ہوں، ان سے دو دو، تین تین اور چار چار تک شادی کرسکتے ہو)- ایک دوسری جگہ جائز طریقے سے جنسی خواہش کی تکمیل کرنے کی تعریف کی گئی ہے، اور ناجائز طریقے سے جنسی تعلقات قائم کرنے والوں کی مذمت کی گئی ہے- فرمان باری تعالیٰ ہے: (والذين هم لفروجهم حافظون إلا على أزواجهم أو ما ملكت أيمانهم فإنهم غير ملومين. فمن ابتغى وراء ذلك فأولئك هم العادون). (23/ مؤمنون: 5- 7)- ( اور (حقیقی و کامیاب مومن وہ ہیں) جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں- سوائے اپنی بیویوں اور شرعی کنیزوں کے، کہ (ان سے جنسی تعلقات قائم کرنے کے سلسلے میں) ان پر کوئی ملامت نہیں ہے- سو جو لوگ اس کے علاوہ کی چاہت کریں وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں)- جیسے جیسے انسانی آبادی میں اضافہ ہوتا ہے، قدرتی وسائل میں بھی اضافہ ہوتا رہتا ہے- ہر متنفس اور جاندار اس دنیا میں اپنا رزق لے کر آتا ہے- لہٰذا انسانوں کے بھوکے رہنے اور ضروریات پوری نہ ہونے کا تصور غلط اور بے بنیاد ہے- اسی لیے کتاب وسنت کی نصوص میں افلاس کے خوف سے اولاد کے قتل کو سنگین جرم قرار دیا گیا ہے- ارشاد الٰہی ہے: (ولا…

Read more

دار و مدار کثرتِ حلال

:سوال 310ایک شخص کی آمدنی کے کچھ ذرائع حلال ہیں- اور کچھ ذرائع حرام ہیں- کیا اس کی طرف سے ملنے والے ہدیہ کو قبول کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ الجواب-و باللہ تعالی التوفیق-: اس صورت میں یہ دیکھا جائے گا کہ اس کی کون سی آمدنی زیادہ ہے- اگر اس شخص کی حلال آمدنی زیادہ ہو، تو اس کی طرف سے ملنے والے ہدیہ اور گفٹ کو قبول کرنا جائز ہے-"مجمع الانھر” میں ہے: "و في البزازية: غالب مال المهدي إن حلالا لا بأس بقبول هديته و أكل ماله، ما لم يتبين أنه حرام؛ لأن أموال الناس لا يخلو عن حرام، فيعتبر الغالب، و إن غالب ماله الحرام لا يقبلها”. (شیخی زادہ، مجمع الانھر، کتاب الکراھیہ، فصل فی الکسب 4/186، بیروت، العلمیہ، 1419ھ/1998ء، ع.أ.:4)-واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب، علمہ اتم و احکمکتبہ: العبد المفتقر الی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ:محمد شاہ جہاں ندویدار الافتاء والقضاء:جامعہ سید احمد شہید، احمد آباد، کٹولی، ملیح آباد، لکھنؤ، یوپی (انڈیا)226102

Read more

روبوٹ کا شرعی حکم

صالح اغراض و مقاصد کے لیے روبوٹس کا استعمال جائز ہے یا نہیں؟ الجواب-و باللہ تعالیٰ التوفیق اگر روبوٹس جاندار کی واضح شکل پر نہ ہوں، یا جاندار کے خد و خال واضح نہ ہوں، یا ان کے سر واضح نہ ہوں، یا ان کے سر کٹے ہوں، تو ان صورتوں میں صالح اغراض و مقاصد کے لیے "روبوٹس” (robots) کا استعمال شرعی اعتبار سے جائز ہے، اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے-"الدر المختار” میں ہے: "أو كانت صغيرة لا تتبين تفاصيل أعضائها للناظر قائما، و هي على الأرض، ذكره الحلبي، أو مقطوعة الرأس أو الوجه، أو ممحوة عضو لا تعيش بدونه، أو لغير ذي روح، لا يكره؛ لأنها لا تعبد”. (حصکفی، الدر المختار، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ و ما یکرہ فیھا 1/649، بیروت، دار الفکر، 1386ھ، ع.أ.:6)-"رد المحتار” میں ہے: "قوله: أو مقطوعة الرأس”أي: سواء كان من الأصل، أو كان لها رأس و محي، و سواء كان القطع بخيط خيط على جميع الرأس حتى لم يبق له أثر، أو يطليه بمغرة، أو بنحته، أو بغسله؛ لأنها لا تعبد بدون الرأس عادة”. (ابن عابدین، رد المحتار، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ و ما یکرہ فیھا 1/648، بیروت، دار الفکر، 1421ھ/2000ء، ع.أ.:8)- واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب، علمہ اتم و احکمکتبہ: العبد المفتقر الی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ:محمد شاہ جہاں ندویدار الافتاء والقضاء:جامعہ سید احمد شہید، احمد آباد، کٹولی، ملیح آباد، لکھنؤ، یوپی (انڈیا)226102

Read more

سلام کرنے والا، سلام کا جواب سن لے

کیا اتنی آہستہ آواز سے سلام کا جواب دیا جا سکتا ہے کہ سلام کرنے والا نہ سنے؟ الجواب-و باللہ تعالیٰ التوفیق-: اتنی آواز سے سلام کا جواب دینا ضروری ہے کہ اگر کوئی مانع نہ ہو، تو سلام کرنے والا جواب کو سن لے- لہٰذا اتنی آہستہ آواز سے سلام کا جواب دینا درست نہیں ہے کہ سلام کرنے والا نہ سنے، نیز یہ تکبر و گھمنڈ کی علامت ہے، جس سے گریز کرنا لازم ہے-"ہندیہ” میں ہے: "لا يسقط فرض جواب السلام إلا بالإسماع، كما لا يجب إلا بالإسماع، كذا في الغياثية”. (ہندیہ، کتاب الکراھیہ، الباب السابع فی السلام و تشمیت العاطس 5/326، بیروت، دار الفکر، 1411ھ/1991ء، ع.أ.:6)-واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب، علمہ اتم و احکمکتبہ: العبد المفتقر الی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ:محمد شاہ جہاں ندویدار الافتاء والقضاء:جامعہ سید احمد شہید، احمد آباد، کٹولی، ملیح آباد، لکھنؤ، یوپی (انڈیا)226102

Read more

نقد خرید کر ادھار زیادہ قیمت میں فروخت کرنے کے سلسلے میں شرعی حکم

از: ڈاکٹر محمد شاہ جہاں ندوی :سوال نمبر 294ہمارے یہاں سعودی میں کفیل قرض دینے کی بجائے گاڑی خرید کر مجھ سے ادھار زیادہ قیمت میں فروخت کرتا ہے، تو کیا یہ ںشرعاً جائز ہے؟ الجواب-و باللہ تعالیٰ التوفیق جس طرح نقد فروخت کرنا جائز ہے، اسی طرح ادھار فروخت کرنا بھی جائز ہے، نیز ادھار خرید و فروخت کی صورت میں زیادہ قیمت بھی رکھی جا سکتی ہے- زیادہ قیمت سامان کے بدلہ میں ہے، مدت کی مہلت کے بدلہ میں نہیں ہے، لہٰذا یہ سود میں شامل نہیں ہے-اب اگر آپ کا کفیل گاڑی نقد خرید کر اپنے قبضہ میں لے لے، پھر باہمی رضامندی سے آپ کفیل سے ادھار زیادہ قیمت میں خرید لیں، اور گاڑی آپ کے نام سے رجسٹرڈ کردی جائے تو اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے- البتہ یہ ضروری ہے کہ پہلے کفیل نے اپنے لیے خرید کر قبضہ کرلیا ہو، پھر قبضہ میں لینے کے بعد آپ سے فروخت کیا ہو- ھکذا في عامة الكتب الفقهيه.والله تعالیٰ اعلم بالصواب، علمہ اتم و احکم

Read more