بشیر بدر اور ہندوستانی مسلمانوں کی شناخت کا مقدمہ
بغیر کسی لاگ لپیٹ اور تملق بازی اور کسی کی ناراضگی کا خیال کیے بغیر ایک بات کہے دیتا ہوں کہ مجھے بشیر بدر مرحوم کی شاعری نے کبھی متأثر نہیں کِیا۔ گزشتہ کچھ سالوں میں اگر کبھی ان کی شاعری پر بات ہوئی بھی تو میں نے ان کے اشعار کو بالکل معمولی گرداننے سے بھی پرہیز نہیں کِیا۔ اِس طرح کی دو تین گفتگؤں کا شاہد میرا دوست اور شاعر ممتاز اقبال بھی ہے۔ لیکن اِن تمام مباحث سے پرے بشیر بدر ان چند شعرا میں سے ہیں جنہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کی شناخت کا مقدمہ لڑا۔ ان کے سوانحی کوائف پڑھیے تو اِس بات کا اندازہ ہوتا ہے۔ ہندوستان کی تقسیم کے نتیجے میں ظاہر ہونے والے حالات، ہجرت کے بے پناہ دکھوں کے بعد اور یہاں ادعائی انداز میں رک جانے کے باوجود روز مرہ کی زندگی میں امتیازات کا سامنا، یہ وہ عناصر ہیں جو ایک بشیر بدر کو تیار کرتے ہیں۔
شیو کمار بٹالوی کی برہا اور بشیر بدر کے بین السطور میں بھڑکتا ہوا لاوا، اندرون کے خلفشار کا مظہر کا ہے۔ بشیر بدر سے ایک مرتبہ ان کے اسکول کے محتسب نے امتحان لینے کی غرض سے دریافت کِیا کہ 1857 کی ہماری تاریخ میں کیا اہمیت ہے؟ اِس پر بشیر بدر نے جو جواب دیا وہ ان کے کم عمری میں ذہنی بلوغت کا ثبوت ہے، بشیر بدر نے جواب دیا کہ "روز ازل سے 1856 تک کی ہندوستانی تاریخ سیاہی سے لکھی گئی، لیکن اس کے بعد سے اب تک ہمارے خون سے لکھی جا رہی ہے”۔
بشیر بدر گنگا جمنی تہذیب کے علم بردار بھی تھے اور اس کو عملی سطح سے پریکٹس کرکے بھی دکھاتے تھے۔ میرٹھ کے مشہور زمانہ فسادات کے بعد وہ اپنی منہ بولی بہن سرلا جی سے راکھی بندھوانے تک گئے۔ بشیر بدر کے والد اگرچہ ایک پولیس افسر تھے اور ان کا گھرانہ آسودہ حال تھا، لیکن 47 میں ان کے والد پر غبن کا الزام لگنے کے غم کی پاداش میں بدر کے والد انتقال کر گئے۔ اب سارا بارِ خانہ داری بدر کے کاندھوں پر تھا۔ جیسے تیسے کرکے بدر نے اپنی پڑھائی مکمل کی، کچھ دن علی گڑھ میں لکچرر رہے اور پھر میرٹھ کے ایک کالج میں نوکری لگ جانے کے بعد میرٹھ منتقل ہو گئے۔ یہ وہ مرحلہ تھا جہاں سے ایک نیا بشیر بدر تراش خراش کر آزاد ہندوستان نے تیار کیا۔ ایک رات اُس گھر کو، جسے بدر نے بہت ناز اور محنت سے بنوایا تھا اور جس میں قیمتی اثاثے، ان کا شجر ، ان کی غیر مطبوعہ غزلوں کی بیاض رکھی ہوئی تھی، آگ لگا دی گئی۔ پڑوسیوں نے ان کے بیٹے، بہو اور ان کے یک سالہ پوتے کو پناہ دی۔ ان کے بیٹے کے بقول وہ شر انگیزوں اور فسادات کرنے والے کے جھنڈ میں گھس کر اپنے گھر کو جلتا ہوا دیکھ رہا تھا۔
لیکن کیا اِس کے بعد بدر مرحوم نے کوئی جذباتی بیان دیا؟ کیا بدر نے کسی مذہب کے پیرو کاروں پر طعن و تشنیع کی؟ کیا بدر نے ہندوستان کے اکثریتی طبقے کی غیرت کو مجروح کِیا؟ نہیں، بلکہ بدر نے صرف اپنا غم اپنے انداز سے بیان کیا۔ لیکن عین فسادات کے بعد نہیں۔ بلکہ ڈیڑھ دو سال گزرنے کے بعد۔ لوگوں نے بارہا بدر سے اِس بابت لکھنے اور بولنے کے لیے کہا اور اصرار کِیا لیکن بدر خاموش رہے۔ کانپور کے ایک مشاعرے میں راحت اندوری نے یہاں تک کہ دِیا کہ "ہم لوگ ظلم کے خلاف لکھ رہے ہیں لیکن جن کا گھر جلا وہ بہت نشاطیہ انداز سے آپ کے سامنے شعر پڑھ رہے ہیں”۔ مشاعرے کے بعد جب سامعین نے بدر کو گھیر کر اِسی سوال کی بابت مزید استفسار کیا تو بدر نے صرف اتنا کہنے پر اکتفا کِیا "در حقیقت تخلیقی عمل ایک داخلی عمل ہے، اسے شعوری طور پر اخبار کی رپورٹ کی طرح نہیں لکھا جا سکتا”۔ یعنی بقول فراز؛ اِسی لیے تو جو لکھا تپاکِ جاں سے لکھا
شملہ معاہدے(shimla Agreement) کے وقت بشیر بدر نے شعر کہا؛
دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے
جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں
لیکن بشیر بدر کا میرٹھ کے فسادات میں جب گھر جلایا گیا اور ان زندگی کو اجاڑ دیا گیا، اس وقت بشیر بدر شاید اِس گنجائش کی درخواست میں پنہاں رجائیت سے منکر ہو گئے تھے، اس وقت بشیر بدر اپنی زنبیلِ غم کا آخری سکہ اچھالتے ہوئے بس ایک شعر کہا اور یہ شعر آزاد ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازانہ سلوک کا عنوان بن گیا؛
لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں
تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں
بدر کے قریبی لوگوں نے اپنے مضامین اور یادداشتوں میں جگہ جگہ لکھا ہے کہ پہلی بیوی شہناز کے انتقال اور پھر معا بعد فسادات کے اندوہ کی زد بدر پر اس طرح پڑی، کہ ان کو طرح طرح کی بیماریاں لاحق ہو گئیں۔ وہ ذہنی تناؤ کا شکار بھی رہنے لگے۔ فسادات کے بعد جب ملک کے ہر مؤقر اخبار نے ایک شاعر کے گھر جل جانے پر اشک شوئی کی، تو شر انگیزوں کو یہ امر بھی لائقِ نفریں محسوس ہوا اور ایک مرتبہ پھر ان کے گھر پر حملہ ہوا۔ بدر نے بالآخر بھوپال ہجرت کی۔
یہ وہ حالات تھے جن سے گزر کر بشیر بدر نے اپنا شعری سفر جاری رکھا۔ حالات کی نا مساعدی کے باوجود اپنے آپ کو کبھی مایوس اور قنوطیت زدہ ہونے نہیں دِیا۔ اپنے منفرد اور مختلف لہجے سے لوگوں کو بتاتے رہے کہ ہم پر ظلم ہو رہا ہے۔ ہماری شناخت کو خطرہ ہے۔ اگر اِس وقت یہ حالات ہیں کہ اکیڈمک سطح پر بھی اقلیتوں کے حقوق بالخصوص مسلمانوں کی آواز بلند کرنے کا صلا سالوں سال جیل کی صورت میں ملتا، اسی اور نوے کی دہائی میں آخر کون سی ڈر، خوف، امتیاز، غیر انسانی سلوک اور بے مروتی کی ہوا تھی کہ بدر اپنے خاص انداز میں نہ جانے کس سے یہ سوال کر رہے تھے؛
ہندوستاں کا سچا وفادار میں ہی ہوں
قبروں سے پوچھ اصل زمیں دار میں ہی ہوں
دریا کے ساتھ وہ تو سمندر میں بَہ گیا
مٹی میں مل کے مٹی کا حقدار میں ہی ہوں
گھٹن اور تنگی کی یہی فضا تھی جو بشیر بدر مرحوم یادداشت کے چلے جانے کے بعد بھی جو شعر پڑھ پاتے تھے، وہ یہی دو تین شعر تھے۔ جن میں سر فہرست لوگ ٹوٹ جاتے ہیں، تھا۔ جبر و اکراہ کے وہ نقوش جو بدر کی شاعری میں جب بجا نظر آتے ہیں، حقیقت میں بدر کے مرض الموت کا باعث تھے۔ حالات آج بھی جوں کے توں ہیں، لیکن اپنے اخلاص کے ساتھ مسلمانوں کے وجود اور ان کی شناخت کا مقدمہ لڑنے والا بشیر بدر کوئی نہیں؟
87 کے میرٹھ فسادات کے بعد انڈین ایکسپریس نے جن الفاظ میں اپنی رپورٹ پیش کی تھی اور اس میں بدر کا قصہ لکھا تھا، انہیں سطروں کو پیش کرکے ہم اپنی بات بھی اختتام کرتے ہیں؛
Dushmani jam kar karo lekin yeh gunjaish rahe jab kabhi ham dost ho jaayen to sharminda na hon
"The city is pasing through a similar phase, the words of Dr. Basheer Badr seem to have added a new dimension to it. Tne famous Urdu poet with out whom no Mushaira was considered complete, had perhaps little in mind that one day, he will be passing through the same tramatic experience.”
میرٹھ کی تاراجی کی تفصیل لکھتے ہوئے اسی اخبار نے اپنی رپورٹ کے اختتام میں لکھا
Dr. Badar perhapes had a promotion of the devide when he wrote.
HUM NAHIN JANTE CHIRAGHON NE
KYON ANDHERO SE DOSTI KARLI
DHARKANE DAFN HO GAYI HONGI
DIL MEIN DIWAR KYON KHARI KARLI
(INDIAN EXPRESS DELHI 7th JUNE 1987)
اللہ بشیر بدر کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے
آمین
- عبداللہ ثاقب