*اگر دورانِ عدّت حیض بند ہو جائے …
از: ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی سوال : ہمارے یہاں ایک صاحب نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ۔ تین مہینے گزر گئے تب انھوں نے بیوی سے کہا کہ تمھاری عدّت پوری ہو گئی ہے ، اب تم میرے گھر سے نکلو ۔ بیوی نے کہا کہ طلاق کے بعد مجھے اب تک ایک بار بھی حیض نہیں آیا ہے ۔ اس معاملے نے تنازع کی صورت اختیار کر لی ہے ۔ شوہر بیوی کو زبردستی گھر سے نکال رہا ہے ۔ جب کہ بیوی کا کہنا ہے کہ عدّت پوری ہونے سے پہلے میں گھر سے نہیں نکلوں گی ۔ بہ راہِ کرم شرعی طور پر رہ نمائی فرمائیں کہ ایسی عورت کی عدّت کا حساب کیسے لگایا جائے گا؟ جواب : قرآن مجید میں عدّت کے احکام صراحت سے بیان کیے گئے ہیں ۔ جس عورت کو حیض آرہا ہو اس کی عدّت تین حیض ہیں ۔ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے :وَالْمُطَلَّقَاتُ یتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ [سورة البقرة : 228](جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو، وہ تین مرتبہ ایام ماہواری آنے تک اپنے آپ کو روکے رکھیں) اور جن لڑکیوں کو ابھی حیض نہ آیا ہو یا زیادہ عمر کی وجہ سے حیض بند ہو گیا ہو ان کی عدّت تین مہینے ہے ۔ قرآن مجید میں ہے:وَاللَّائِی یئِسْنَ مِنَ الْمَحِیضِ مِن نِّسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِی لَمْ یحِضْنَ [سورة الطلاق: 4](اور تمھاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہوچکی ہوں ان کے معاملے میں اگر تم لوگوں کو کوئی شک لاحق ہے تو (تمھیں معلوم ہو کہ) ان کی عدّت تین مہینے ہے اور یہی حکم اُن کا ہے جنھیں ابھی حیض نہ آیا ہو – ) جس عورت کو مستقل طور پر حیض آنا بند ہو گیا ہو اسے ‘آئسہ’ کہتے ہیں ۔ فقہ حنفی میں آئسہ ہونے کے لیے دو شرطیں ہیں : اوّل یہ کہ اس کی عمر پچپن (55)برس ہو چکی ہو ، کیوں کہ اس عمر تک کسی بھی وقت حیض آسکتا ہے ۔ دوم یہ کہ ماہ واری بند ہوئے…
Read more