*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*
قسط نمبر 2۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ *محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ* *مفتی محمد شمیم قاسمی مگہری* مدرسہ عربیہ جامع العلوم گوپلا پور شاہ آنند نگر موبائل نمبر:9721194219* محرم الحرام سے متعلق مشہور تاریخی روایات کا تحقیقی جائزہ* محرم الحرام کا مہینہ آتے ہی ہمارے معاشرے میں بہت سی باتیں زبان زدِ عام ہو جاتی ہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ دس محرم کو حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی، بعض کہتے ہیں کہ اسی دن حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہری، بعض حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت یوسف علیہ السلام اور حضرت ایوب علیہ السلام کے واقعات بھی اسی دن سے جوڑتے ہیں۔ وعظ و تقریروں، سوشل میڈیا اور عوامی مجالس میں یہ باتیں بڑی کثرت سے بیان کی جاتی ہیں۔لیکن ایک طالبِ علم، ایک داعی، ایک خطیب اور ایک محقق کی ذمہ داری صرف یہ نہیں کہ جو کچھ مشہور ہے اسے بیان کر دے، بلکہ اس کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ تحقیق کرے کہ آیا یہ روایات واقعی رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہیں یا بعد کے زمانوں میں مشہور ہو گئیں۔اہلِ سنت والجماعت کا مزاج یہ ہے کہ عقائد، فضائل اور دینی اعمال میں صرف وہی بات قبول کی جائے جو معتبر دلیل سے ثابت ہو۔ یہی وجہ ہے کہ محدثین نے ہر روایت کو جانچا، اس کی سند دیکھی، راویوں کی تحقیق کی اور پھر اس پر حکم لگایا۔محرم کے سلسلے میں بھی یہی اصول اپنانا ضروری ہے۔ *حضرت آدم علیہ السلام اور عاشوراء*عوام میں یہ بات بہت مشہور ہے کہ دس محرم کے دن حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی تھی۔یہ روایت مختلف کتابوں میں مذکور ضرور ہے لیکن محدثین کی بڑی جماعت نے اسے قابلِ اعتماد قرار نہیں دیا۔ اس سلسلے میں جو روایات بیان کی جاتی ہیں ان کی سندیں یا تو ضعیف ہیں یا منقطع ہیں یا پھر ان میں ایسے راوی موجود ہیں جن پر محدثین نے کلام کیا ہے۔امام ابن جوزیؒ، امام ذہبیؒ اور دیگر محققین…
Read more

