حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستی
تحریر : شمیم ریحان ندوی
برصغیر کی علمی و دینی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کا تعارف محض ایک مدرس، خطیب یا مصنف کے طور پر نہیں کرایا جا سکتا، بلکہ وہ اپنے عہد کی فکری، علمی اور دعوتی تحریکوں کی علامت بن جاتی ہیں۔ حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ بھی انہی نابغۂ روزگار علماء میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے نصف صدی سے زائد عرصے تک قرآن و سنت کی دعوت، علومِ حدیث کی تدریس، اسلامی فکر کی اشاعت، ملت اسلامیہ کے مسائل کی ترجمانی اور امت کے اتحاد کے لیے قابلِ قدر خدمات انجام دیں۔ آپ کا تعلق ساداتِ حسینی کے ایک معزز علمی خانوادے سے تھا۔ یہ وہ خاندان ہے جس نے صدیوں تک علم، دین، روحانیت اور دعوت کی شمع روشن رکھی۔
آپ کی ولادت 1954ء میں اتر پردیش کے ضلع مظفر نگر کے منصور پور میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم سے ہی علمِ دین سے غیر معمولی شغف نمایاں تھا۔ بعد ازاں دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں داخل ہوئے، جہاں حدیث، فقہ، عربی ادب اور اسلامی علوم میں مہارت حاصل کی۔ مزید اعلیٰ تعلیم کے لیے سعودی عرب کی جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ کا رخ کیا اور وہاں ایم اے مکمل کیا، جہاں آپ نے معروف محدث شیخ عبد الفتاح ابو غدہ رحمہ اللہ جیسے جلیل القدر اساتذہ سے استفادہ کیا۔
دارالعلوم ندوۃ العلماء میں آپ نے طویل عرصہ حدیث شریف کی تدریس فرمائی۔ آپ نہ صرف استاذِ حدیث تھے بلکہ کلیۃ الدعوۃ والاعلام کے عمید بھی رہے۔ ہزاروں طلبہ نے آپ سے حدیث، علومِ حدیث، دعوت، فکرِ اسلامی اور عربی زبان کی تعلیم حاصل کی۔ آپ کے شاگرد دنیا کے مختلف ممالک میں دینی خدمات انجام دے رہے ہیں، جو آپ کی علمی میراث کا زندہ ثبوت ہیں۔
حضرت مولانا کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ان کی غیر معمولی خطابت تھی۔ ان کی تقریر میں قرآن و حدیث کی روشنی، عربی ادب کی لطافت، تاریخ کی وسعت، فکر کی گہرائی اور جذبۂ دعوت کی حرارت یکجا نظر آتی تھی۔ وہ سامعین کو صرف متاثر نہیں کرتے تھے بلکہ انہیں سوچنے، غور کرنے اور عمل کرنے پر آمادہ کرتے تھے۔ ان کی آواز میں دردِ امت، دل میں اخلاص اور زبان پر دلیل ہوتی تھی۔
علومِ حدیث سے آپ کو خصوصی مناسبت حاصل تھی۔ امام بخاری، امام ترمذی، شاہ ولی اللہ دہلوی اور محدثین کے منہج پر آپ کی گہری نظر تھی۔ آپ نے حدیث کی تدریس کو محض روایت تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے امت کی فکری و عملی تعمیر کا ذریعہ بنایا۔ اسی علمی مقام کی بنا پر مشہور محقق مولانا محمد اکرم ندوی نے آپ کی اسانیدِ حدیث پر مستقل کتاب «العقد اللجيني في أسانيد المحدث الشريف سلمان الحسيني» تصنیف کی۔
مولانا سلمان حسینی ندوی ایک زرخیز قلم کے مالک بھی تھے۔ اردو اور عربی دونوں زبانوں میں آپ نے درجنوں علمی و دعوتی کتابیں تصنیف کیں۔ "امام بخاری اور الجامع الصحیح”، "ہمارا نصابِ تعلیم کیا ہو؟”، "دینی مدارس کا نظامِ تعلیم”، "مسلمان کیا کریں؟”، "خطباتِ سیرت”، "حدیث نبوی کے چند اسباق” اور متعدد عربی تصانیف آپ کے علمی ذوق، تحقیقی بصیرت اور دعوتی فکر کی آئینہ دار ہیں۔ ان کتابوں میں روایت اور اجتہاد، قدیم اور جدید، نص اور واقعہ، سب کے درمیان ایک متوازن اور مدلل اسلوب دکھائی دیتا ہے۔
آپ نے امت مسلمہ کو درپیش فکری، تعلیمی اور سیاسی چیلنجوں پر ہمیشہ بے باک انداز میں اظہارِ خیال کیا۔ نصابِ تعلیم کی اصلاح، مدارس کی تجدید، دعوتِ اسلام، امت کے اتحاد اور عالمِ اسلام کے اجتماعی مسائل پر آپ کے خطبات اور مقالات وسیع حلقوں میں زیرِ بحث رہے۔ بعض آراء سے اختلاف بھی کیا گیا، لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ آپ نے ہر مسئلے پر امت کے مفاد کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اپنا نقطۂ نظر پیش کیا اور علمی مکالمے کی روایت کو زندہ رکھا۔
روحانیت اور تزکیۂ نفس کے میدان میں بھی آپ کا نمایاں مقام تھا۔ آپ نے اکابر اہلِ علم و تصوف سے روحانی فیض حاصل کیا اور اصلاحِ باطن کو علم کا لازمی حصہ قرار دیا۔ ان کے نزدیک علم وہی ہے جو انسان کے کردار، اخلاق اور تعلق باللہ میں نکھار پیدا کرے۔
حضرت مولانا کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ایک عالمِ دین صرف درسگاہ کی چار دیواری تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ وہ معاشرے کا فکری رہنما، ملت کا خیرخواہ، امت کا درد مند اور انسانیت کے لیے خیر کا سفیر ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی علم کے فروغ، دعوتِ اسلام، خدمتِ امت اور فکری بیداری کے لیے وقف رکھی۔
آج جب ہم حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمات کا جائزہ لیتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے علم، قلم، خطابت اور دعوت کے ذریعے ایک ایسا علمی سرمایہ چھوڑا ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے بھی مشعلِ راہ رہے گا۔
اللہ تعالیٰ ان کی دینی، علمی اور دعوتی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے، ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے، انہیں فردوسِ اعلیٰ میں انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی رفاقت نصیب فرمائے، اور امتِ مسلمہ کو ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔

