مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عمل
مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عمل از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوىآكسفورڈ20/6/2026 سوال:السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ، امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوگا ۔کافی عرصے سے آپ کے رابطہ نمبر کی تلاش تھی، الحمد للہ اب یہ سعادت حاصل ہوئی۔ میری فراغت دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ سے ہوئی ہے جبکہ ابتدائی تعلیم المعہد سیکروری میں حاصل کی جہاں آپ کا تعارف اور آپ کا ایک بصیرت افروز خطاب سننے کا بھی موقع ملا تھا۔ اور الحمد للہ گزشتہ تین چار سال سے آپ کے مضامین باقاعدگی سے پڑھ رہا ہوں اور ان سے بھرپور استفادہ کرتا ہوں۔ آپ کا اسلوب اور فکری بصیرت ہمیشہ دل کو متاثر کرتی ہے۔ حضرت پوچھنا یہ تھا کہ ایک عرصہ مدارس میں گزارنے کے بعد جب طالب علم عملی زندگی میں قدم رکھتا ہے تو اسے متعدد فکری معاشی اور سماجی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان چیلنجز کی تفصیل آپ پر مخفی نہیں۔ میری گزارش صرف یہ ہے کہ آپ کی نظر میں ان مسائل کا مؤثر حل اور لائحۂ عمل کیا ہو سکتا ہے؟ اسی سلسلے میں آپ کی رہنمائی مطلوب ہے۔جزاکم اللہ سائل !پیر زادہ جنید الاسلام کشمیری جواب:السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ نے ایک نہایت اہم، حساس اور دور رس نتائج کے حامل مسئلے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ درحقیقت ہمارے دینی تعلیمی نظام کے حوالے سے یہ ان بنیادی سوالات میں سے ہے جن پر جتنا زیادہ غور کیا جائے کم ہے۔ مدارسِ دینیہ میں ایک طالبِ علم اپنی عمر کا ایک طویل اور قیمتی حصہ صرف کرتا ہے۔ وہ علومِ شرعیہ کے مختلف فنون سے آشنا ہوتا ہے، علمی روایت سے وابستگی حاصل کرتا ہے، ایک مخصوص فکری و اخلاقی ماحول میں تربیت پاتا ہے اور دین کی خدمت کا جذبہ اپنے اندر پیدا کرتا ہے۔ لیکن جب وہ فراغت کے بعد عملی زندگی میں قدم رکھتا ہے تو اسے اکثر ایک ایسی دنیا کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کے تقاضے، ترجیحات، زبان اور مسائل اس ماحول سے خاصے مختلف ہوتے ہیں جس میں اس نے اپنی شخصیت…
Read more