مولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہ

كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ

                                    کلیم الدین ندوی 

لوگ خاک میں سونا تلاش کرتے ہیں

ہم نے سونا سپرد خاک کیا ہے

 

اللہ تعالیٰ کی یہ دنیا دارالامتحان ہے۔ یہاں ہر آنے والے کو ایک دن واپس اپنے رب کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے۔ البتہ بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی وفات محض ایک فرد کی جدائی نہیں ہوتی بلکہ علم، فکر، دعوت اور دینی خدمات کے ایک روشن باب کے خاتمے کا احساس دلاتی ہے،ان کے وصال سے صرف ایک خاندان یا ایک ادارہ ہی غم زدہ نہیں ہوتا، بلکہ پوری امت ایک عظیم خسارے کا احساس کرتی ہے اور اپنے آپ کو ایک قیمتی سرمایۂ علم و عمل سے محروم پاتی ہے۔

 

مولانا سلمان حسینی ندویؒ انہی ممتاز اہلِ علم میں سے تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت، علومِ نبوت کی اشاعت، دعوت و اصلاح، تصنیف و تحقیق اور امت کی خیرخواہی میں بسر کی۔ ان کی شخصیت میں علمی رسوخ، فکری وسعت، دعوتی بصیرت اور دینی حمیت نمایاں تھی۔ وہ ایک صاحبِ قلم مصنف، مؤثر خطیب، کامیاب مدرس اور ملت کے درد رکھنے والے عالمِ دین تھے۔ ان کے خطابات اور تحریروں نے برصغیر ہی نہیں بلکہ عالمِ اسلام کے مختلف حلقوں کو متاثر کیا۔

 

مولانا کی زندگی کا نمایاں پہلو یہ تھا کہ وہ امت کے مسائل پر گہری نظر رکھتے تھے اور مسلمانوں میں اتحاد، خیرخواہی اور دینی بیداری کے خواہاں تھے۔ انہوں نے اپنی علمی اور دعوتی زندگی میں مختلف موضوعات پر اظہارِ خیال کیا، بعض مواقع پر ان کی آراء سے اختلاف بھی کیا گیا، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ علمی دنیا میں اختلاف کوئی نئی چیز نہیں۔ اہلِ علم ہمیشہ دلیل اور احترام کے دائرے میں اختلاف کرتے آئے ہیں۔

 

مولانا سلمان حسینی ندویؒ کی رحلت کے بعد ایک نہایت افسوس ناک صورتِ حال یہ بھی سامنے آئی کہ بعض حلقوں نے ان کے لیے دعائے مغفرت اور حسنِ ظن کے بجائے سوشل میڈیا پر ان کی تقاریر کے منتخب حصوں کو سیاق و سباق سے الگ کر کے وائرل کرنا شروع کر دیا اور انہیں بنیاد بنا کر مولانا پر” گستاخِ صحابہ” ہونے کا الزام مسلسل دہرایا جاتا رہا ۔ حالانکہ مولانا سجاد نعمانی صاحب، جوکہ مولانا سلمان حسینی ندویؒ کے بچپن کے دوست اور عمر بھر کے رفیق رہے ہیں ، ان کا یہ بیان نقل کیا گیا ہے کہ مولانا نے اپنی وفات سے چند ماہ قبل ان باتوں سے رجوع کر لیا تھا۔ اگر یہ بیان درست ہے تو انصاف اور دیانت کا تقاضا یہی تھا کہ اس وضاحت کو بھی نظر انداز نہ کیا جاتا اور ایک ایسے شخص کے بارے میں، جو اپنے رب کے حضور حاضر ہو چکا ہے، گفتگو کرتے وقت عدل، احتیاط اور حسنِ ظن کو مقدم رکھا جاتا، نہ کہ پرانے اختلافات کو بنیاد بنا کر اس پر مسلسل طعن و تشنیع کی جاتی۔اہلِ علم کی وفات ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسان کا اصل سرمایہ نہ شہرت ہے، نہ منصب، بلکہ وہ علم، اخلاص اور نیک اعمال ہیں جو وہ اپنے پیچھے چھوڑ جاتا ہے۔ یہی اس کی دائمی میراث اور آخرت کا حقیقی زادِ راہ ہے۔ مولانا سلمان حسینی ندویؒ نے اپنے علمی آثار، خطابات، تصانیف اور ہزاروں تلامذہ کی صورت میں ایک ایسا سرمایہ چھوڑا ہے جس سے آنے والی نسلیں بھی استفادہ کرتی رہیں گی، ان شاء اللہ۔

 

آج ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم شخصیات کے بارے میں گفتگو کرتے وقت انصاف، اعتدال اور دیانت کو اپنا شعار بنائیں، ان کی خدمات کا منصفانہ جائزہ لیں، جہاں اختلاف ہو وہاں علمی اسلوب اختیار کریں اور جہاں دعا کی ضرورت ہو وہاں اپنے ہاتھ اللہ تعالیٰ کے حضور بلند کریں۔ یہی اہلِ سنت، اہلِ علم اور اکابر کا طریقہ رہا ہے۔

 

اللہ تعالیٰ مولانا سلمان حسینی ندویؒ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے، ان کی تمام علمی، دعوتی اور دینی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور امتِ مسلمہ کو ان کے لیے صدقۂ جاریہ بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

 

شبلی روایت اور تجدید کا معیارہ

جرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانون