HIRA ONLINE / حرا آن لائن
محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ

محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ تمہید محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ اور ان چار حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے خصوصی عظمت و احترام عطا فرمایا ہے۔ اس مہینے کی فضیلت محض واقعۂ کربلا کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس کی عظمت قرآن و سنت سے ثابت ہے۔ تاہم تاریخِ اسلام میں 10 محرم 61 ہجری کو پیش آنے والا سانحۂ کربلا اس مہینے کو ایک خاص تاریخی اہمیت بھی عطا کرتا ہے۔ بدقسمتی سے شہادتِ حسینؓ کے تذکرے میں امت کے بعض طبقات افراط و تفریط کا شکار ہوگئے۔ ایک طرف غلو، نوحہ، ماتم اور غیر شرعی رسومات ہیں، تو دوسری طرف اہلِ بیتِ رسول ﷺ کی محبت اور ان کے مقام کو نظر انداز کرنے کی روش پائی جاتی ہے۔ اہلِ سنت والجماعت ان دونوں انتہاؤں سے بچتے ہوئے اعتدال، محبت اور انصاف کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ محرم الحرام کی فضیلت اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا … مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ "بے شک اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ ہے، ان میں سے چار حرمت والے ہیں۔” (التوبہ: 36) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں۔” (مسلم) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ محرم عبادت، تقویٰ اور اللہ کی طرف رجوع کا مہینہ ہے۔ یومِ عاشوراء کی اہمیت محرم کی دسویں تاریخ یعنی عاشوراء کو خاص فضیلت حاصل ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اس دن روزہ رکھا اور صحابۂ کرامؓ کو بھی اس کی ترغیب دی۔ حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "مجھے امید ہے کہ عاشوراء کا روزہ گزشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔” (مسلم) لہٰذا عاشوراء کا اصل پیغام عبادت، شکر اور اطاعت ہے۔ شہادتِ حسینؓ: تاریخ کا عظیم سانحہ حضرت حسین بن علیؓ رسول اللہ ﷺ کے نواسے، جنتی نوجوانوں کے سردار اور اہلِ بیتِ نبوت کے ممتاز فرد تھے۔ آپؓ کی…

Read more