HIRA ONLINE / حرا آن لائن

Quranic Arabic Grammar Course

بینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃ

بینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃ سوال: وہ رقم جو کرنسی اکاؤنٹ یا فکسڈ ڈپازٹ کی شکل میں ہے تو اس پر زکوۃ واجب ہو گی ؟ جواب: وجوب زکوۃ کے لئے ملکیت ضروری ہے اور مذکورہ مال پر ملکیت ہوتی ہے اس لئےشرعا ز کوۃ واجب ہے (۳) از : قاضی محمد حسن ندوی

Read more

روزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں

روزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں اسلام ایک جامع دین ہے، جس کی بنیاد چند ایسے مضبوط ستونوں پر رکھی گئی ہے جو فرد اور معاشرے دونوں کی اصلاح کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:«بُنيَ الإسلامُ على خمسٍ…»اسلام کی عمارت پانچ ستونوں پر قائم کی گئی ہے، جن میں روزہ ایک بنیادی اور مرکزی ستون ہے۔ یہ محض بھوکا پیاسا رہنے کا نام نہیں، بلکہ ایمان، تقویٰ، صبر اور اطاعتِ الٰہی کی عملی تربیت ہے۔رمضان اور روحانی فضاحضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:«إذا جاء رمضان، فُتِّحت أبوابُ الجنة، وغُلِّقت أبوابُ النار، وصُفِّدت الشياطين»جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، اور شیاطین جکڑ دیے جاتے ہیں۔ یہ حدیث اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ رمضان نیکی کے مواقع کا مہینہ ہے، جس میں اللہ تعالیٰ بندوں کے لیے ہدایت، مغفرت اور قرب کے راستے آسان فرما دیتا ہے۔روزہ داروں کا خاص اعزازرسول اللہ ﷺ نے فرمایا:«إن في الجنة بابًا يقال له الريّان، يدخل منه الصائمون يوم القيامة…»جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریّان کہا جاتا ہے، اس میں صرف روزہ دار داخل ہوں گے۔یہ روزہ داروں کے لیے ایسا خصوصی شرف ہے جو کسی اور عبادت کو حاصل نہیں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ روزہ اللہ کے نزدیک کس قدر محبوب عمل ہے۔مغفرتِ گناہ کا ذریعہصحیحین میں ہے:«من صام رمضان إيمانًا واحتسابًا غُفر له ما تقدّم من ذنبه»جس نے ایمان اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ یہ حدیث روزے کی نیت اور اخلاص کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے کہ صرف رسم نہیں، بلکہ شعوری عبادت ہی نجات کا ذریعہ بنتی ہے۔روزہ: اللہ کے لیے خاص عبادتحدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:«كل عمل ابن آدم له إلا الصيام، فإنه لي وأنا أجزي به»ابنِ آدم کا ہر عمل اسی کے لیے ہے، مگر روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دیتا ہوں۔روزہ ایک مخفی عبادت ہے،…

Read more

زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں

زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں اسلام ایک ہمہ گیر دین ہے جو فرد کی عبادت کے ساتھ ساتھ معاشرے کی اصلاح کا بھی ضامن ہے۔ زکوة اسی اجتماعی نظامِ عدل و رحمت کی ایک بنیادی کڑی ہے۔ قرآن کے بعد احادیثِ نبویہ میں زکوة کی فرضیت، اس کی حکمت، اس کے فوائد اور ترکِ زکوة کے انجام کو نہایت وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔زکوة: اسلام کی بنیادوں میں سے ایکرسول اللہ ﷺ نے فرمایا:«بُنِيَ الإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ… وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ»اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے، جن میں نماز کے ساتھ زکوة کا ذکر بھی ہے۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ زکوة کوئی نفلی یا اختیاری عمل نہیں بلکہ دین کا ستون ہے۔ جس طرح نماز ترک کرنا سنگین گناہ ہے، اسی طرح زکوة کی ادائیگی میں کوتاہی بھی دین کی بنیاد کو کمزور کرتی ہے۔زکوة: اجتماعی عدل کا نظامجب رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاذ بن جبلؓ کو یمن بھیجا تو انہیں ہدایت دی کہ لوگوں کو بتائیں:“اللہ نے ان پر صدقہ (زکوة) فرض کی ہے جو ان کے مالداروں سے لی جائے گی اور ان کے غریبوں میں لوٹائی جائے گی”۔یہ حدیث زکوة کے معاشرتی فلسفے کو واضح کرتی ہے۔ زکوة دولت کی گردش کو یقینی بناتی ہے، طبقاتی خلیج کو کم کرتی ہے اور معاشرے میں ہمدردی اور تعاون کو فروغ دیتی ہے۔زکوة نہ دینے کا ہولناک انجاماحادیث میں ترکِ زکوة کے سخت انجامات بیان ہوئے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص زکوة ادا نہیں کرتا، قیامت کے دن اس کا مال ایک زہریلے گنجے سانپ کی شکل اختیار کرے گا، جو اسے طوق کی طرح لپٹ کر کہے گا: “میں تیرا خزانہ ہوں”۔اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے کہ جن لوگوں کے پاس اونٹ، گائے یا بکریاں ہوں اور وہ ان کی زکوة نہ دیں تو قیامت کے دن وہ جانور انہیں روندیں گے اور سینگ ماریں گے، یہاں تک کہ حساب مکمل ہو جائے۔ یہ احادیث زکوة کی عدم ادائیگی کی سنگینی کو دلوں میں بٹھانے کے لیے کافی…

Read more

رمضان المبارک اور برادران وطن

*رمضان المبارک اور برادران وطن!! ١ – قرآن مجید لوگوں تک پہنچائیں رمضان المبارک نہ صرف مسلمانوں کیلئے رحمت، برکت اور مغفرت کا مہینہ ہے بلکہ یہ پوری انسانیت پر سایہ فگن ایک ایسا مہینہ ہے جس میں ابن آدم میں سے ہر ایک اس کی رحمتوں سے سرشار ہوسکتا ہے، یہ بات ناانصافی کے مترادف ہے کہ باران رحمت کے چھینٹوں پر اپنا اور پرائے کا تھپا لگایا جائے، لامتناہی رحمت کو مقید کیا جائے، چنانچہ یہ بھی غلط بات ہوگی کہ رمضان المبارک سے مسلمان خوب فائدہ اٹھائیں، زندگی، آخرت اور رضائے الہی کے متلاشی ہوں؛ لیکن ہمارے ساتھ موجود ایک بڑی آبادی اس سے محروم رہے، ہم جس ملک میں رہتے ہیں وہاں کی اکثریت اللہ کو نہیں مانتی، کیا خوب ہو کہ ہم رمضان کو ایک ایسا وسیلہ بنائیں جس سے ان تک اللہ تعالی کا تعارف پہنچے، اس دنیا کے حقیقی مالک اور رب العالمین کا سایہ ان پر دراز ہو، دعوت اور تبلیغ میں اس سے بڑھ کر اور کیا بات ہوگی یا پھر رضایے الہی کیلئے اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا کہ ہم اللہ تعالی کی معرفت کا باعث بن جائیں، جس کیلئے کبھی انبیاء علیہم السلام کا سلسلہ ہوا کرتا تھا، جن کی جد و جہد کے نتیجے میں اللہ سے اس کے بندے جڑتے تھے، اگر ہم خصوصاً رمضان کی مناسبت سے یہ کام کریں کہ انسانیت کو بندگی سے متعلق کردیں اور خاص طور پر اس سلسلہ میں اس کلام کا سہارا لیں جو رمضان میں ہی اترا تھا، جسے اس مہینے سے خاص مناسبت ہے، تو پھر سونے میں سہاگن والی بات ہوجائے گی، ہونا یہ چاہیے کہ اس رمضان میں قرآن مجید کا پیغام عام کیا جائے، جو ایک بڑی خلیج دونوں آبادیوں کے درمیان واقع ہوگئی اور روز بروز بڑھتی جاتی ہے اسے پاٹنے کی کوشش کی جائے، ظاہر ہے کہ اگر لوگوں کو قرآن مجید سے جوڑنے میں کامیاب ہوجائیں، انہیں براہ راست اللہ تعالی کے ذکر اور تعارف سے منسلک کردیں تو ہدایت قریب تر ہوسکتی ہے، ان کے…

Read more

اسقاط حمل کا مسئلہ

اسقاط حمل کا مسئلہ سوال: کیا ضرورت شرعی کے پیش نظر اسقاط حمل کی شرعاً گنجائش ہوگی؟ از : قاضی محمد حسن ندوی جواب: اگر یہ صحیح ہے کہ حمل ضائع نہ کرنے کی صورت میں ماں کی جان خطرہ میں ہو یا ماں کی صحت پر برا اثر پڑ رہا ہو یا دودھ پینے والے بچے کی صحت پر بھی اثر پڑ رہا ہو یا اس کی جان خطرہ میں ہو اور نہ بچہ کے والد کے پاس اتنی طاقت ہو کہ وہ دایہ رکھ کر بچہ کو دودھ پلوا سکے یا پرورش کا دوسرا نظم کر سکے تو ایسی صورت میں اسقاط حمل کی شرعاً گنجائش ہے۔ در مختار میں ہے: و قالوا يباح اسقاط الولد قبل أربعة أشهر ولو چلا اذن الزوج و من الاعداد أن ينقطع لبنها بعد ظهور الحمل وليس لأبي الصبي ما يستاجر به الظئر و يخاف هلاكه قال ابن حبان فاباحه الاسقاط محمولة على حالة العذر أو أنها تاثم اثم القتل. (1) لو كان أحدهما أعظم ضررا من الآخر فان الاشد يزال بأخف (۲)

Read more

سوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟

سوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟ از : قاضی محمد حسن ندوی جواب: چونکہ اس میں بعض ایسے اشعار ہیں جن کا مطلب ہے اے زمین ہم تجھے پوجتے ہیں، یہ جملہ شرک پر دلالت کرتا ہے، حالانکہ اسلام شرک کے مخالف ہے، جس کی بنیاد خالص توحید پر ہے، یعنی اللہ تعالی کے ساتھ عبادت میں کسی کو شریک نہ کیا جائے ، جو لوگ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتے ہیں اللہ تعالی انہیں بھی معاف نہیں کرتے ، قرآن مجید میں ہے. إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يُشَاءُ (نساء ۔ 166) لہذا کسی مسلمان کے لیے وندے ماترم کا پڑھنا اور گانا شرعاً درست نہیں ہے بلکہ حرام ہے، اس سے خود بھی بچے اور اپنی اولاد کو بھی بچائے۔ جہاں تک وطن سے محبت کا تعلق ہے تو اس سلسلہ میں مذہب اسلام نے ترغیب دی ہے کہ ہر شخص اپنے وطن اور ملک سے محبت رکھے اور اس کے ساتھ وفاداری کا ثبوت دے، بلکہ وطن سے محبت رکھنے کو ایمان کا حصہ قرار دیا ہے، یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کو اپنے ملک کے ذرے ذرے سے پیار و محبت ہے۔ جب جب ملک کو خوں کی ضرورت پڑی تو مسلمانوں نے اپنی جان و مال کو ملک کی آزادی کے لیے نچھاور کر دی، مگر محبت اور عبادت میں فرق ہے، محبت ہر ایک چیز سے ہو سکتی ہے لیکن ہر ایک کی عبادت جائز نہیں ، مثلاً مسلمانوں کو نبی کریم ﷺ ، خانہ کعبہ مسجد حرام، مسجد نبوی ، گنبد خضراء والدین اور اساتذہ سے محبت ہے لیکن ان کی عبادت کسی حالت میں درست نہیں ہے، قرآن پاک میں ہے۔ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اعْبُدُوا اللَّهَ رَبِّي وَ رَبَّكُمْ إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَهُ النَّارُ وَ مَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ ( قرآن مجید

Read more