HIRA ONLINE / حرا آن لائن
سیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہ

سیرت حسنین : مصالحت و مقاومت کا عظیم استعارہ از : مولانا ابو الجیش ندوی    ​”حسن اور حسین نوجوانانِ جنت کے سردار ہیں” — (الحدیث) ​امتِ مسلمہ کی تاریخ میں ساداتِ اہل بیت کا مقام محض نسبی فضیلت کا نہیں، بلکہ وہ دینِ اسلام کے عملی محافظ، شارح اور شارعِ اعظم ﷺ کے مزاج شناس تھے۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے اپنے ان دونوں نواسوں کی تربیت اس انداز سے فرمائی تھی کہ وہ رہتی دنیا تک کے لیے دو مختلف مگر تکمیلی (Complementary) نمونہ ہائے عمل بن سکیں۔ جہاں حضرت امام حسنؓ نے امت کو ایثار، عفو اور صلح کا درس دیا، وہاں حضرت امام حسینؓ نے اصول پرستی، جرات اور باطل کے سامنے سینہ سپر ہونے کا عزم سکھایا۔ یہ دونوں رویے بظاہر مختلف نظر آتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ ایک ہی تصویر کے دو رخ ہیں: امت کی بقا اور دین کا تحفظ۔ ​۱۔ حسنِ تدبر اور صلحِ حسنؓ: عظیم نقصان سے بچانے کا فلسفہ ​جب ہم حضرت امام حسن علیہ السلام کی سیرت کا مطالعہ کرتے ہیں، تو جو سب سے نمایاں پہلو سامنے آتا ہے وہ آپ کا عزمِ صلح اور امت کو خونریزی سے بچانے کی تڑپ ہے۔ ​الف) تاریخی پس منظر اور خلافت کی دستبرداری ​حضرت علی المرتضیٰؓ کی شہادت کے بعد کوفہ اور دیگر اسلامی مراکز میں حضرت امام حسنؓ کے ہاتھ پر بیعت کی گئی۔ آپ مسلمہ طور پر خلیفۂ راشد تھے۔ دوسری طرف شام کی قوتیں تھیں اور امت ایک بار پھر ایک ایسی ہولناک خانہ جنگی کے دہانے پر کھڑی تھی جس میں ہزاروں مسلمانوں کی جانیں ضائع ہونے کا اندیشہ تھا۔ ​ب) صلح کا فکری و سیاسی محرک ​حضرت امام حسنؓ بزدل نعوذ باللہ نہیں تھے، آپ شیرِ خدا کے بیٹے تھے اور جنگِ جمل و صفین میں اپنی شجاعت کے جوہر دکھا چکے تھے۔ لیکن آپ نے دیکھا کہ: ​امت کی افرادی قوت کا زیاں: اگر جنگ ہوتی تو مسلمانوں کی بہترین صلاحیتیں آپس میں لڑ کر ختم ہو جاتیں۔ ​خارجی خطرات: اسلامی سلطنت کی سرحدوں پر رومی اور دیگر سلطنتیں…

Read more

دس محرم کا روزہ کیوں ؟

دس محرم کا روزہ کیوں ؟ 1️⃣ مدینہ منورہ آمد پر رسول اللہ ﷺ نے یہود کو عاشورا کا روزہ رکھتے دیکھا کیونکہ اس دن فرعون غرق ہوا تھا اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو نجات ملی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر ہمارا حق تم سے زیادہ ہے۔“ چنانچہ آپ ﷺ نے اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ (سنن ابن ماجہ: 1734) 2️⃣ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یوم عاشورہ کا روزہ پچھلے سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔“ (صحیح مسلم: 1162) 3️⃣ یہود کی مشابہت سے بچنے کے لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ان شاء اللہ آئندہ سال ہم 9 محرم کا بھی روزہ رکھیں گے۔“ اگلا سال آنے سے پہلے ہی رسول اللہ ﷺ وفات پا گئے۔ (صحیح مسلم: 1134) 4️⃣ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو عاشورہ کے علاوہ کسی دن اور رمضان کے سوا کسی مہینے کو افضل سمجھ کر روزے کا خصوصی اہتمام کرتے نہیں دیکھا۔ (صحیح بخاری: 2006)

Read more

عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمی

ڈاکٹر ظفردارک قاسمی ubfzdqasmi@gmail.com قوموں کی تعمیر وترقی اور عصری و جدید تقاضوں سے ہم آ ہنگی کا انحصار لازمی طور پر نظام تعلیم وتدریس اور نصاب تعلیم پر ہے۔ جو قومیں اپنے نظام تعلیم اور اس کے طریقہ کار کو مستحکم اور حالات و کوائف کے مزاج کو مد نظر رکھتے ہوئے مرتب و مدون کرتی ہیں وہ ہمیشہ سرخ رو اور فوز و فلاح سے ہمکنار ہوتی ہیں۔ جن کا تعلیمی معیار بلند وبالا ہوتا ہے ان کی کار کردگی تاریخ کے صفحات میں جلی حروف سے درج کی جاتی ہے۔ اس لیے معاشروں اور قوموں کی جدید خطوط کی جانب رہنمائی کرنے کے لیے ہمیں اپنے تدریس و تحقیق اور نظام تعلیم میں حشو و اضافہ کی گنجائش محسوس ہونا فطری بات ہے۔ چنانچہ یہ مسئلہ ارباب فکر ودانش اصحاب علم و فضل کے یہاں ہمیشہ موضوع بحث رہا ہے کہ مدارس دینیہ کا نظام تعلیم اور نصاب تعلیم کیا ہو؟ مدارس میں کون کون سے موضوعات کو شامل درس کیا جائے موجودہ دور میں وہ کون سے مضامیں ہیں جن کی بدولت مدارس کے طلباء کی ایسی کھیپ تیار ہوسکے جو دین کی مبادیات سے واقف ہونے کے ساتھ ساتھ عصری تحدیات وچیلنجیز کا مقابلہ کرنے کے لیے علمی و منطقی طور پر تیار ہوسکے۔ آ ج کا دور کئی اعتبار سے بدلا ہوا ہے۔ اب چیزیں ہی نہیں بدلی ہیں، بلکہ حقیقت یہ ہیکہ ان کی قدریں بھی بدل چکی ہیں۔ اب ہمیں جن مسائل کا سامنا ہے ان کا مقابلہ اب سے پہلے یقیناً نہیں تھا۔ دوسری بات یہ ہیکہ اب جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی ایجادات نے دنیا کو گلوبل ولیج میں تبدیل کردیا ہے ،نیز پوری دنیا تہذیبی تنوع اور مذہبی تعدد کی کہکشاں معلوم ہوتی ہے۔ اس نئے دور اور ایجادات واکتسابات نے جہاں علوم و فنون کے جہان کو آ باد کیا ہے تو وہیں نوع انسانیت تہذیبی اور فکری طور بھی بری طرح تنزلی کا شکار ہوئی ہے۔ ان حقائق وشواہد کا کسی طور بھی نہ انحراف کیا جاسکتا ہے اور معاشرے میں رہتے ہوئے نہ…

Read more

سید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلوم

سید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلوم— سہیل انجم سید ازہر شاہ قیصر دسمبر 1920ء میں محدث عصر علامہ سید انور شاہ کشمیری کے گھر دیوبند کے محلہ دیوان میں پیدا ہوئے. ان کا انتقال 1985 میں ہوا. وہ ایک عالم دین مصنف اور صحافی تھے. وہ علامہ انور شاہ کشمیری کے بڑے فرزند تھے. یوں تو انھوں نے متعدد اخبارات و رسائل میں صحافتی خدمات انجام دیں لیکن ان کا صحافتی امتیاز یہ ہے کہ وہ دارالعلوم دیوبند سے شائع ہونے والے اردو ماہنامہ *دارالعلوم* کے 32 سال تک ایڈیٹر رہے. انھوں نے اپنی علمیت اور صحافتی لیاقت سے اس رسالے کو بام عروج پر پہنچایا. ابتدائی تعلیم کے لیے ان کا داخلہ دار العلوم دیوبند میں کرایا گیا، لیکن جب ان کے والد علامہ انور شاہ کشمیری 1927ء میں دار العلوم دیوبند سے استعفیٰ دے کر جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈابھیل چلے گئے تو وہ بھی ان کے ساتھ وہیں منقتل ہو گئے. 1933 میں جب وہ بارہ سال کے تھے تو ان کے والد انور شاہ کشمیری کا انتقال ہو گیا. ان کے انتقال پر ملک بھر کے لوگوں نے اظہار تعزیت کیا. ان میں مصنف، صحافی اور شاعر ظفر علی خان بھی شامل تھے. اس موقع پر دیوبند کی جامع مسجد میں ایک تعزیتی تقریب کا اہتمام کیا گیا جس کے لیے خطبہ استقبالیہ بارہ سالہ ازہر شاہ قیصر نے تیار کیا تھا. اسے اجتماع میں بلند آواز سے پڑھا بھی گیا. ظفر علی خان کو یہ خطاب اتنا پسند آیا کہ انھوں نے اسے اپنے اخبار *زمیندار* کے صفحہ اول پر شائع کیا. اس طرح کم عمری ہی میں ان کی ادبی و صحافتی زندگی کا آغاز ہو گیا. سید ازہر شاہ قیصر نے اسی سال مضمون نگاری کا باضابطہ آغاز کر دیا. ان کے مضامین سب سے پہلے بجنور سے شائع ہونے والے ماہنامہ *غنچہ* اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ماہنامہ *پیامِ تعلیم* میں شائع ہوئے. دوسرے رسائل میں بھی ان کی تخلیقات پابندی سے شائع ہوتی رہیں. 1936ء میں سہارنپور سے ہفت روزہ *صداقت* جاری ہوا تو…

Read more

سیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحان

سیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحان ڈاکٹر ظفردارک قاسمی جب انسانی سوچ اور اس کا نظریہ مستحکم ہوتا ہے تو اس سے معاشرے کو فائدہ یا نقصان دونوں ہوتے ہیں، کیونکہ یہ سچ ہے کہ انسانی سوچ یا تو منفی افکار و نظریات کی علمبردار ہوگی یا پھر مثبت اور تعمیری سوچ کی عکاس ہوتی ہے۔ بہر دو صورت میں معاشرہ متاثر یقیناً ہوتا ہے ۔ البتہ ہر صاحب تدبر اور صاحب بصیرت کی خواہش ہوتی ہے کہ معاشرے میں مثبت افکار کی ترویج و اشاعت ہو ۔ منفی نظریات کا اثر سماج پر بالکل بھی نہ پڑے ۔ یہ سوچ رکھنا اور اس کے لیے عملی اقدامات کرنا عین فطرت کے مطابق ہے ۔ جب ہم معاشرے کے احوال پر نظر ڈالتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ آج معاشرے میں منفی نظریات یا سماج کے اتحاد کو پاش پاش کرنے والے نظریات کی گھن گرج ہے ۔ اس کی وجہ کیا ہے اس پر ہمیں سوچنا ہوگا ۔ سیاسی ماحول اس وقت جس قدر غیر مناسب اور بے اطمینان ہوتا دکھ رہا ہے اس نے تو ثابت کردیا ہے کہ اب سیاسی اخلاقیات اور تعمیری نظریات کی کوئی اہمیت نہیں بچی ہے ۔ سب پیسہ کا کھیل ہے ۔ بعض ماہرین سیاست کا کہنا ہے کہ سیاست میں وفاداری نہیں ہوتی بلکہ سمجھداری چلتی ہے ۔ یعنی جہاں فائدہ نظر آئے وہاں کا رخ کرلیا جاتاہے ۔ ابھی حال میں بھارت جیسے سیکولر ملک میں جس طرح کی سیاسی اتھل پتھل دکھائی دے رہی ہے، اسے موقع پرستی سے تعبیر کرنا زیادہ بہتر ہے ۔ جہاں آج انہوں نے برسر اقتدار پارٹی میں ضم ہونے کو بہتر سمجھا ہے کل یقیناً وہ موقع پاتے ہی واپس بھی آسکتے ہیں ۔ البتہ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ سیاست میں کب کیا ہوجائے کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔ البتہ اتنا ضرور ہے کہ سیاست کا میدان ہو یا پھر کوئی اور میدان ، انسان کو اپنی فکر اور نظریات سے کبھی بھی سمجھوتا نہیں کرنا چاہیے۔ جو لوگ آج طاقت اور چمک دمک کو…

Read more

فتنۂ انکارِ حدیث

فتنۂ انکارِ حدیث از: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آکسفورڈ سوال: فضیلت مآب ڈاکٹر اکرم صاحب ندوی صاحب زید مجدہ، السلام علیکم۔آپ محدثِ کبیر ہیں، آپ کا یکتائے روزگار، یگانۂ روزگار، درۂ یتیمہ کارنامہ بے شمار محدثات کا تحقیقی دستاویزی ڈاکٹریٹ ہے۔ آپ سے مؤدبانہ درخواست ہے کہ آپ ’’فتنۂ انکارِ حدیث‘‘ اور منکرینِ حدیث کی ناپاک، متعفن، ناکام کوششوں کو علمی، تحقیقی انداز میں بے نقاب فرمائیں۔ اس کا پس منظر، پیش منظر اور مقاصد پر روشنی ڈال کر ہم طلبۂ علمِ حدیث کو ایک ایسا نادر، نایاب تحفہ عطا فرمائیں، جس سے ہم منکرینِ حدیث کو منہ توڑ اور دنداں شکن جواب دینے میں کامیاب ہو سکیں۔ حوضِ کوثر پر آپ کے آتے ہی یہ ندا بلند ہونے لگے: ’’میرے کلام کا محافظ و پاسبان آ رہا ہے۔‘‘ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دستِ مبارک سے آپ کو جامِ کوثر پلا رہے ہوں، ملائکہ آپ کو رشک بھری نگاہوں سے دیکھ رہے ہوں، حشر والے کہہ رہے ہوں کہ یہ ہے مردِ جیالا، مردِ کارہائے نمایاں، جس نے فتنۂ انکارِ حدیث کا قلع قمع کیا ہے، اس کی اتھلی جڑوں کو اکھاڑ پھینکا ہے، اس کی ایسی سرکوبی کی کہ اس کا نام و نشان مٹا دیا۔ امید ہے کہ آپ میرے ان جذبات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے محقق، مدلل، مؤثر جواب عنایت فرمائیں گے۔آپ کا نالائق دوست محمد یوسف یاسین صدیقی ندوی، بھوپال جواب: وعلیکم السلام۔ آپ نے ازراہِ تواضع اپنے آپ کو ’’نالائق‘‘ قرار دیا ہے اور ساتھ ہی مجھے اپنا دوست بھی لکھا ہے۔ اگر فارسی مقولے ’’کند ہم جنس با ہم جنس پرواز‘‘ کو معیار بنایا جائے تو اس نسبت کا کچھ اثر مجھ پر بھی لازم آتا ہے، اس لیے اس دعوے میں آپ کو تنہا نہیں چھوڑا جا سکتا۔ تاہم اہلِ علم کی مجلسوں میں اس نوع کی خود تنقیصی عموماً حسنِ ظن اور انکسار کا اظہار ہوتی ہے، ورنہ آدمی اپنے عیوب اور اپنی کوتاہیوں سے دوسروں کی نسبت زیادہ واقف ہوتا ہے۔ آپ نے میری بابت جو تعریفی کلمات تحریر فرمائے ہیں، میں نے ابتدا…

Read more