بسم اللہ الرحمن الرحیم

*موجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح بات*

 

 

*سید احمد اُنیس ندوی*

مؤرخہ 29 جون بروز پیر مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمہ اللہ تعالی اس دار فانی سے رخصت ہوئے تھے۔ راقم نے مولانا کی تعزیت میں چند کلمات بھی عرض کیے تھے اور پھر مولانا کے جنازے میں بھی شریک ہوا۔ مولانا کے وصال کے بعد گزشتہ تین چار دنوں سے جو ہنگامہ آرائی سوشل میڈیا پر جاری ہے، میں نے طے کیا تھا کہ اس پر کچھ نہیں لکھوں گا۔ لیکن خود میرے پاس ذاتی طور پر جو پیغامات آ رہے ہیں، اس کے بعد ضروری محسوس ہوتا ہے کہ چند اصولی باتیں آپ حضرات کی خدمت میں عرض کر دی جائیں اور ضرورت پڑے تو ان کو ریکارڈ بھی کرا دیا جائے تاکہ اگر کسی کو غلط فہمی ہو تو اس کا ازالہ ہو جائے، شکوک و شبہات ہوں تو وہ رفع جائیں اور خلط مبحث نہ ہو سکے۔ البتہ فتنہ انگیزی اور شر پسندی کا کسی کے پاس بھی علاج نہیں ہے۔

پہلی بات تو یہ ذہن میں رکھیں کہ گزشتہ پانچ سالوں میں مولانا نے بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے بارے میں اپنے جن خیالات اور نظریات کا مسلسل اظہار شروع کیا تھا، تو خود راقم سطور نے اور میرے علاوہ مولانا کے سیکڑوں طلبہ اور علمائے امت کی غالب ترین اکثریت نے ان موضوعات کے تناظر میں مولانا سے علانیہ اختلاف کیا تھا۔ ہم لوگوں نے نہ تو کبھی اس موضوع سے متعلق مولانا کا دفاع کیا، نہ ان کی تائید و موافقت کی اور نہ ہی ان کی اس موضوع سے متعلق تقریروں اور تحریروں کی کبھی نشر و اشاعت کی۔ بلکہ اس کی وجہ سے ان کے دیگر موضوعات بھی نشر و اشاعت کے اعتبار سے یقینی طور پر متاثر ہوتے چلے گئے۔ واقعہ یہ ہے کہ خود راقم سطور نے اور میرے جیسے متعدد طلبہ نے اور اہل علم نے ان موضوعات پر تنقیدیں بھی کیں، ان سے اختلاف بھی کیا اور وہ تعداد اس کے علاوہ ہے جنہوں نے مولانا کی خدمت میں گذارشات بھی عرض کیں۔ راقم کے متعدد مضامین اس موضوع پر آج بھی موجود ہیں۔

اب دوسرے پہلو پر آئیے ! مولانا کے تعلق سے بہت سی باتیں صریح جھوٹ اور بہتان پر مبنی ہیں۔ حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مولانا نے تقریبا پانچ سال پہلے بیان کرتے ہوئے ایک مرتبہ غیر محتاط جملے بول دیے تھے، لیکن جس دن وہ بیان دیا تھا، اسی دن رات میں مولانا نے ان جملوں کی تفصیلی وضاحت بھی کی، رجوع بھی کیا اور اس کے بعد ان کی زبان سے کبھی بھی حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں غیر محتاط بات نہیں نکلی بلکہ متعدد مرتبہ انھوں نے حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ کا ادب و احترام کے ساتھ تذکرہ کیا اور ان کی مرویات بیانوں میں پیش فرمائیں۔ اس کے علاوہ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق، حضرت سیدنا عمر فاروق اور حضرت سیدنا عثمان بن عفان، حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھم کے حوالے سے جو باتیں چلائی جا رہی ہیں، وہ بالکل غلط ہیں۔ مولانا نے آخر آخر تک حضرات خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنھم کے مناقب و فضائل بیان کیے ہیں، اور گزشتہ سال کے ہی ان کے وہ بیانات آج بھی موجود ہیں۔ اس کے علاوہ بارہا مولانا اپنے بیانات میں حضرات خلفائے راشدین سے اپنی عقیدت و محبت کا اظہار کرتے رہے۔ ایران میں شیعوں کے عام مجمع میں دو سال پہلے مولانا نے حضرات خلفائے راشدین اور امہات المومنین رضی اللہ عنھم کے حوالے سے بڑی طاقتور گفتگو کی اور صاف کہا تھا کہ ان مقدسات کے خلاف اگر آپ کی زبانیں کھلیں گی تو اس امت میں کبھی اتحاد قائم نہیں ہو سکتا۔ اس لیے جو لوگ ان پر اس حوالے سے اتہامات لگا رہے ہیں، وہ ضرور پوری بات کی تحقیق کریں، اور اس کے بعد ہی کوئی بات پیش کریں۔ مولانا نے اسی پس منظر میں "فضائل صحابہ” پر بہت ہی ضخیم کتاب شائع کی جس میں حضرات خلفائے راشدین کا مفصل اور دل آویز تذکرہ موجود ہے۔ بلکہ آج ہی ان کے فرزند مولانا یوسف حسینی نے بتایا کہ ایک موقع پر کسی نے حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی "فضیلت” حضرات ابوبکر و عمر رضی اللہ عنھما پر ثابت کرنے کی کوشش کی تو مولانا نے اس سے قطعا اتفاق نہیں کیا، بلکہ وہ پورے شرح صدر کے ساتھ حضرات شیخین رضی اللہ عنھما کو ہی امت میں سب سے افضل سمجھتے تھے۔

البتہ یہ بات بالکل حقیقت ہے کہ مولانا نے سب سے زیادہ سخت رخ اور نامناسب اسلوب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے سلسلے میں اختیار کیا تھا، اور اس کی بنیادی وجہ ان کی وہ شاذ "تعبیر” تھی جو انھوں نے "صحابیت” کی لغوی اور اصطلاحی "تعریف” کے سلسلے میں اختیار کی تھی۔ آگے جو کچھ ہوا، اس کی بنیادیں یہیں سے اٹھی تھیں۔ بلاشبہ مولانا نے اس حوالے سے جو بنیاد رکھی اور پھر اس پر جو عمارت کھڑی کی، وہ ہرگز جمہور اہل سنت و الجماعت کے متفق علیہ موقف و نظریہ کے مطابق نہیں تھی۔ چنانچہ اس "اصل” اور پھر اس کی "فرع” سے ہم سب نے شدید اختلاف کیا تھا، اور اس اختلاف کو ہمیشہ باقی رکھا، اور آج جب وہ اس دنیا میں نہیں ہیں، تب بھی ان کے اس موقف کی ہرگز تائید نہیں کی جا سکتی۔ اور اب تعزیتی نشستوں یا تحریروں میں بھی ہم میں سے کسی نے ایک جملہ بھی اس موقف کی تائید میں پیش کیا ہو تو کوئی اسے سامنے تو لائے ؟؟؟ اور پھر ادھر گزشتہ ایک سال سے مولانا نے تقریبا یہ سب موضوعات بند کر دیے تھے۔ ماضی قریب کے جو بھی بیانات نشر ہو رہے ہیں وہ سب پرانے بیانات ہیں۔ گزشتہ ایک سال سے ان پر مشکات کی شرح "مشعال” اور "حجۃ اللہ البالغہ” کے دروس کی نشر و اشاعت کا پوری طرح غلبہ تھا، اور صبح سے شام صرف تصنیفی کام جاری رہتا تھا۔

اس پورے منظر نامے سے واقفیت کے بعد آپ خوب سمجھ لیجیے کہ کسی ایک بھی معتبر عالم دین یا معتبر دار الافتاء نے مولانا کے ان نظریات پر "تکفیر” کا حکم نہیں لگایا تھا۔ جن کو بھی اختلاف تھا وہ اس کو زیادہ سے زیادہ "انحراف” سمجھتے تھے۔ چنانچہ اسلامی اصولوں کے مطابق وہ اسلام کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوئے۔ وہ توحید، رسالت اور آخرت کے اقرار بلکہ پر زور اظہار کے ساتھ راہی ملک بقا ہوئے۔ وہ ایمان مجمل اور ایمان مفصل کی تمام تر تفصیلات اور جزءیات پر مکمل یقین اور اس کی اشاعت کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوئے۔ وہ ختم نبوت کا تذکرہ کرتے کرتے اس دار فانی سے رخصت ہوئے۔

اس کے علاوہ کوئی اس حقیقت کا انکار نہیں کر سکتا کہ انھوں نے اپنے ان نظریات کے اظہار سے پہلے تقریبا نصف صدی کتاب و سنت کی دعوت دی، ان کی انفرادی زندگی میں بھی بہت خوبیاں تھیں اور اجتماعی زندگی میں بھی ان پر دعوت دین، احقاق حق اور اعلائے کلمۃ اللہ کے جذبات ہمہ وقت بالکل طاری رہتے تھے۔ عالم اسلام کے قضایا سے ان کو ایسا تعلق تھا کہ جیسے وہ قضایا ان کے لیے روح کی حیثیت رکھتے ہوں۔ عبادات کا ایسا اہتمام تھا جو ہم نوجوانوں کے لیے بھی قابل رشک ہوتا تھا۔ یہاں تک کہ گزشتہ پانچ سالوں میں بھی ان خاص موضوعات کے علاوہ آپ مولانا کی سیکڑوں دوسری تقریروں سنیں گے تو وہ حسب سابق انھی جذبات سے لبریز نظر آئے گی۔

چنانچہ ذاتی طور پر ایک عالم دین کی حیثیت سے، ایک استاذ کی حیثیت سے اور ایک مسلمان کی حیثیت سے ہمارے اوپر کہیں نہ کہیں ان کا حق بنتا ہے کہ ان کے لیے دعائے مغفرت کریں، ایصال ثواب کریں اور اللہ تعالیٰ سے ان کی لغزشوں اور خطاؤں کی معافی کی درخواست کریں۔ ان کی خوبیاں اور دینی خدمات کا دائرہ بے حد وسیع رہا ہے، اللہ کی رحمت سے کچھ بعید نہیں۔ ہم کو تو اپنا فرض ادا کرنا چاہیے اور ان کے حق میں دعائے مغفرت کرنی چاہیے۔ ہم کسی کو اس بات پر مجبور نہیں کرتے کہ وہ بھی ایسا ہی کرے۔ لیکن خدا جانے ہمارے بہت سے ساتھیوں کو ایسا کیوں لگتا ہے کہ ہم جو سمجھ رہے ہیں اور کر رہے ہیں، دوسروں کو بھی لازما وہی کہنا اور کرنا چاہیے۔

رہی بات مولانا کے ان نظریات کی ! تو اس بات پر کسی کو اعتراض نہیں کہ ان کے نظریات کا اگر کوئی ضروری سمجھتا ہو تو علمی تعاقب و رد کرے۔ لیکن عین انتقال کے موقع پر ان بحثوں کو چھیڑ کر نماز جنازہ، دعائے مغفرت اور ایصال ثواب کو بحث کا موضوع بنانا یہ حد درجہ پستی اور سطحیت ہے۔ یہ سارے موضوعات یقینی طور پر بحث میں آتے اور آئیں گے، لیکن کیا یہ موقع اس کے لیے مناسب تھا ؟ اس پورے قضیہ کی ابتدا ان دو مضامین سے ہوئی جو ایک ادارے کے طلبہ نے اپنے اساتذہ کرام کے نام سے منسوب کر کےنشر کر دیے تھے۔ حالانکہ بعد میں وہ دونوں اساتذہ کرام بھی بچتے بچاتے نظر آئے۔ اللہ تعالی جزائے خیر دے مولانا سید محمد ارشد مدنی صاحب مدظلہ کو کہ انھوں نے اپنا موقف دو ٹوک پیش کیا اور مسئلے کو بڑی حد تک واضح کرنے کی کوشش کی۔ پھر جنازے میں ہر طبقے سے متعلق ہزاروں علمائے کرام کی شرکت ہوئی۔ خانوادہ حسنی کے تمام اکابر و اصاغر وہاں نظر آئے۔ مرکز نظام الدین سے مولانا محمد شریف صاحب بارہ بنکوی کی بھی زیارت ہوئی۔ بعد میں مفتی سید محمد عفان صاحب منصورپوری صدر جمعیت علماء اتر پردیش بھی تعزیت میں حاضر ہوئے۔ برصغیر سے نکل کر آپ عالم عربی اور ترکستان کی طرف دیکھیں تو آپ کو شاید ہی کوئی ایسی قابل ذکر دینی تحریک اور تنظیم نظر آئے گی جس نے مولانا کی وفات پر مفصل تعزیتی پیغام جاری نہ کیا ہو۔ قضیہ فلسطین اور عالم عربی سے متعلق تمام بڑی شخصیات کے پیغامات مسلسل موصول ہو رہے ہیں۔

میں ان حضرات کا تذکرہ صرف اس لیے کر رہا ہوں کہ جو حضرات ہم چھوٹوں کی ذرا ذرا سی بات پر نالاں ہو جاتے ہیں، وہ کچھ محاکمہ اور محاسبہ ان حضرات سے بھی کریں، اگر وہ اسے واقعی دینی حمیت اور غیرت کا معاملہ سمجھتے ہیں ؟ اگر ان میں یہ جرات نہیں ہے تو پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟

ہمارا موقف تو بالکل دو دو چار کی طرح واضح ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ "اختلاف” یا "انحراف” ان میں سے کسی بھی بنیاد پر آپ کسی کو کسی بھی مومن و مسلم کی نماز جنازہ میں شرکت سے نہیں روک سکتے، نہ دعائے مغفرت اور ایصال ثواب سے منع کر سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ ایک اور پہلو بہت اہم ہے۔ وہ یہ کہ مجھے اور آپ کو اپنے مواقف و نظریات پر تصلب کا پورا حق ہے۔ اور مجھے اس سے کوئی شکایت نہیں۔ لیکن اپنے ہر ہر فروعی جزئیے کو اصول بنا کر دوسروں پر مسلط کرنا یا اس کی بنیاد پر دوسروں کو گمراہ یا منحرف سمجھنا، یہ خود محل نظر ہے، اور اس پر غور کرنا چاہیے۔
ہماری اخلاقیات کا جو حال ہے، اس کا تو ذکر ہی فضول ہے۔ عین موت کے وقت تو ہمیں اپنے دشمنوں پر اور ان کے گھر والوں پر بھی کچھ ترس آ جاتا ہے، اور کچھ عرصے کے لیے ہم اپنی زبانیں اور کارروائیاں روک لیتے ہیں۔ لیکن مولانا کے وصال پر ہمارے بعض ساتھیوں کی طرف سے جس طرز عمل کو اختیار کیا گیا وہ بہت ہی حیران کن اور افسوسناک ہے۔

اپنے بارے میں بھی مجھے یہ عرض کرنے میں کوئی تردد نہیں کہ جو حضرات بھی ان بنیادوں پر میرے بارے میں "شیعی رجحان” ، "گمراہی” یا "طلب شہرت” کا حکم لگا رہے ہیں، وہ اپنی باتوں کے اللہ کے دربار میں خود جواب دہ ہیں۔ مجھے ذاتی طور پر نہ کسی سے شکایت ہے اور نہ ناراضگی ! لیکن جب مسلسل ایسی باتیں سنتا ہوں تو تکلیف ہوتی ہے۔ میں نے محرم کے دونوں جمعوں میں جو بیانات کیے ہیں، کاش کہ آپ تک ان بیانات کو پہنچا پاتا۔

جب پچاس سال سے "رد رافضیت” اور "دعوت دین حق” کا کام انجام دینے والے بڑے بڑے اکابر علماء بھی محض ایک ملاقات سے اور چند جملوں سے "شیعہ” بن سکتے ہیں تو مجھ کمزور طالب علم کی کیا حیثیت ہے ؟

اس لیے میں کبھی بھی ان باتوں سے کبیدہ خاطر نہیں ہوتا جو میرے سامنے آتی رہتی ہیں۔ میں تو اپنے چھوٹوں سے بھی بار بار کہتا ہوں کہ کسی بھی مسئلے میں میرے کسی عمل کو اپنے لیے مثال نہ بنانا۔ بلکہ اپنے بزرگوں اور اسلاف کے طرز عمل کو پیش نظر رکھنا، اور میرے لیے اللہ سے دعا کرتے رہنا۔

بہرحال ! قیامت قائم ہونی ہے، سب کو اللہ کے دربار میں جواب دینا ہے۔ اللہ تعالی ہم سب کو اس کا استحضار عطا فرما دے۔ اگر یہ نعمت مل گئ تو سعادت دارین حاصل ہو گئ۔