پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری: دو ملاقاتیں

بقلم: ڈاکٹر محسن عتیق خان
(مدیر سہ ماہی عربی مجلہ اقلام الہند)

 

13 جولائی 2026 کو پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری صاحب، سابق صدر شعبہ تاریخ، دہلی یونیورسٹی، کے انتقال کی خبر ملی تو جہاں ایک طرف مجھے آپ کی وفات پر انتہائی صدمہ لگا، وہیں دوسری طرف میں خود کو اپنی تساہلی پر کوسنے لگا۔ آج چار سال ہو گئے میری کتاب A Hostoy of Bais Rajputs کو شائع ہوئے مگر آپ سے ملنا تو دور ابھی تک آپ کی خدمت میں اس کا ایک نسخہ تک نہ ارسال کر سکا تھا۔ آپ کا حق تو یہ بنتا تھا کہ نہ صرف اُسکا نُسخہ بطور تشکر و امتنان کے آپ کو بھیجا جاتا بلکہ اس کی رونمائی بھی آپ سے کرائی جاتی کیونکہ آپ نے اپنی تمام مصروفیات کے باوجود اس پر ایک وقیع مقدمہ لکھا تھا جو کتاب کے موضوع کے تعلق سے اپنے اندر بہت سی قابل ذکر معلومات سموئے ہوئے تھا۔

یہ سن 2020 کے اوائل کی بات ہے، میری کتاب کا مسودہ پایہ تکمیل کو پہنچ چکا تھا مگر میں ابھی بھی تشنگی محسوس کر رہا تھا اس لیے تقریباً سات سال تک اس موضوع پر کام کرنے کے باوجود کچھ نہ کچھ تحقیق و جستجو کا سلسلہ ابھی بھی چل رہا تھا۔ اس دوران مجھے پروفیسر جعفری صاحب کے کئی مضامين ملے جن میں اودھ کے زمینداروں اور بیس راجپوتوں کا تذکرہ تھا۔ میں نے جعفری صاحب کے بارے میں تھوڑا سا سرچ کیا تو پتہ چلا کہ آپ ہندوستان کے ممتاز مؤرخ، دہلی یونیورسٹی کے شعبۂ تاریخ کے سابق صدر، اور انڈین ہسٹری کانگریس کے سابق سربراہ رہ چکے ہیں۔ آپ کو ایک ایسے مؤرخ کے طور پر جانا جاتا ہے جن کی علمی تحقیق مضبوط آرکائیوی شواہد پر مبنی ہے اور جو عام لوگوں کی سماجی و معاشی زندگی کو سمجھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ آپ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی تھی جہاں آپ نے معروف مؤرخ پروفیسر عرفان حبیب کی نگرانی میں اپنی ڈاکٹریٹ مکمل کی۔ آپ کی علمی تحقیق بنیادی طور پر فارسی آرکائیوی ماخذات پر مبنی ہے اور اس کا مرکز زرعی تاریخ، تصوف، تعلیم، اور قرونِ وسطیٰ و ابتدائی جدید ہندوستانی معاشرے کے ارتقا کا مطالعہ ہے۔

اتنی بڑی شخصیت سے بات کرنے سے پہلے دس بار سوچنا پڑتا ہے، پتہ نہیں ریسپانس کیسا ملے، بہر حال ایک دن میں نے انٹرنیٹ سے غالباً دہلی یونیورسٹی کی ویبسائٹ سے آپ کا فون نمبر نکالا اور جھجھکتے ہوئے آپ کو فون لگا دیا۔ آپ سے چند منٹ بات ہوئی، اور میرے موضوع کا سنا تو آپ نے بہت سراہا کیوں کہ اس پر ابھی تک کوئی مستقل کام نہیں ہوا تھا، اور پھر جب ہم وطن ہونے کا انکشاف ہوا تو باتوں کا سلسلہ چل پڑا، اور آپ نے دہلی یونیورسٹی میں اپنے شعبے میں ملنے کے لیے بلایا اور میرے موضوع کے تعلق سے ایک دو کتابیں بھی دینے کا وعدہ کیا۔

ایک سنیچر کو میں نے آپ سے ملنے کا وقت لیا، اور جانے سے پہلے میں نے اپنے مسودہ کا جلدی جلدی میں پرنٹ نکلوایا اور بغیر اچھی طرح چیک کیے دہلی یونیورسٹی کے لیے روانہ ہو گیا۔ آپ بڑی خندہ پیشانی سے ملے، وہیں اپنے آفس میں چائے ناشتہ منگوایا۔ اس بیچ میں نے اپنا مسودہ پیش کیا اور آپ سے اس پر مقدمہ لکھنے کی درخواست کی۔ مگر جب آپ میرا مسودہ دیکھنے لگے تو مجھے بڑی سبکی محسوس ہوئی، کیونکہ مسودہ میں سارے ابواب موجود نہیں تھے۔ میں معذرت کرنے لگا تو آپ نے بڑی خوش دلی سے کہا کہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے آپ مجھے سوفٹ کاپی ایمیل کر دینا، اور پھر ایک کتاب اپنی الماری سے نکال کے دی جو میرے ریسرچ ورک میں کافی معاون ثابت ہوئی، اور آج بھی میری لائبریری میں آپ کی امانت کے طور پر محفوظ ہے کیوں کہ اپنی تساہلی کی وجہ سے میں اسے آپ کو واپس نہیں کر پایا۔

آپ کے پاس سے واپس آکر میں نے آپ کی دی ہوئی کتاب کا بغور مطالعہ کیا، اپنا مسودہ ریویو کیا، اور جہاں پر ضرورت محسوس ہوئی کچھ حذف و اضافہ کرنے کے بعد میں نے آپ کو ایمیل کر دیا اور پھر آپ کو فون پر بھی مطلع کر دیا۔ اس بات کو ابھی کچھ ہی دن گزرے تھے کہ کورونا کی وبا نے دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح ہندوستان کو بھی اپنی چپيٹ میں لے لیا اور پورے ملک میں لاکڈاؤن لگ گیا، اس لیے بات آئی گئی ہو گئی، نا میں آپ سے ملنے جا پایا اور نا ہی فون پر آپ سے مقدمے کے بارے میں اپڈیٹ لے پایا۔

چونک جنتا کرفیو والے دن میں صبح صبح لکھنؤ پہنچ گیا تھا اس لیے پورا لاکڈاؤن، بخیر و عافیت گاؤں میں گزارا اور جب سال کے آخر میں کورونا کے معاملے کافی کم پڑ گئے تو میں دوبارہ دہلی آگیا۔ ابھی دو تین مہینے ہی گزرے تھے کہ کورونا نے لوگوں کو دوبارہ آ دبوچا، اور یوں اس کا دوسرا دور شروع ہوا جو پہلے سے بھی زیادہ خطرناک تھا کیونکہ اب نہ تو لاکڈاون تھا اور نہ ہی لوگ اتنے محتاط۔ شومئی قسمت، میں بھی اس جان لیوا وبا کا شکار ہو گیا، اور دہلی کے ہسپتالوں کی حالت دیکھتے ہوئے اور والدین کے مسلسل اصرار کی وجہ سے میں دوبارہ لد پھند کر گاؤں پہنچ گیا۔ میری جو حالت ہو رکھی تھی اس نے مجھے زندگی سے مایوس کر دیا تھا مگر خدا کے فضل سے ایک مخلص اور قابل ڈاکٹر کی نگرانی حاصل ہو گئی اور اُنکی کوششيں اور والدین، اقربا اور دوستوں کی دعائیں رنگ لائیں اور مجھے اپنے اندر پھر سے زندگی کی رمق نظر آنے لگی۔

ابھی میں پوری طرح صحتیاب نہیں ہوا تھا مگر میرے اندر خواہش پیدا ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے دوبارہ زندگی عطا کی ہے تو کیوں نہ میں اپنے ادھورے کاموں کو پورا کر ڈالوں۔ سب سے پہلے مجھے A Hostoy of Bais Rajputs کا خیال آیا جس کو شائع کرنے کے لیے مجھے صرف جعفری صاحب کے مقدمے کا انتظار تھا اس لیے میں نے آپ کو فون لگایا تو آپ نے بتایا کہ آپ مقدمہ ابھی تک نہیں لکھ سکے کیوں کہ لاک ڈاون کے بعد سے آپ اپنے آبائی قصبے سلون میں ہی سکونت پذیر ہیں اور آپ کا پرسنل کمپیوٹر دہلی میں آپ کے آفس میں ہی ہے۔ بہر حال یہ جان کر خوشی ہوئی کی آپ سلون میں ہی ہیں، اور میں نے آپ سے ایک مقررہ دن ملنے آنے کی بات کی اور پھر فون رکھ دیا۔
یہ غالباً سنیچر کا دن تھا، میں نے اپنے مسودے کا پرنٹ لیا اور اس بار اچھی طرح سے سارے ابواب کو ترتیب سے لگایا، پھر اپنے مامو سے گاڑی مستعار لی اور اپنے دو دوستوں کے ساتھ سلون کے لیے روانہ ہو گیا جو ہمارے یہاں سے تقریباً ۷۰ کیلو میٹر کی دوری پر ہے گر چہ ہمارا ضلع ایک ہی تھا۔ میں نے جعفری صاحب کو اپنے آنے کے بارے میں صبح ہی بتا دیا تھا۔ سلون کے قریب ہی فرصت گنج نام کا ایک دوسرا قصبہ ہے جہاں ہمارے بچپن کے ایک دوست محمد سعید رہتے ہیں، تو سوچا اسی بہانے اُن سے بھی مل لونگا اس لیے میں نے انکو بھی اپنے آنے کی خبر کر دی۔ مگر افسوس راستے میں ایک ناگہانی حادثہ پیش آگیا جس کی وجہ سے اس سفر کا پورا مزہ خراب ہوگیا۔
ہم سلون کے ایک دم قریب پہنچ گئے تھے، تقریباً پانچ کیلو میٹر کا فاصلہ رہ گیا تھا، کہ سامنے سے آتی ہوئی ایک بولیرو ڈرائیور کے کنٹرول سے باہر ہوگئی اور سیدھا آکر ہماری گاڑی سے ٹکرا گئی، ہم تینوں کو اچھی خاصی چوٹیں آئیں، اتنا کہیے کہ بس موت کے منہ سے نکل آئے کیوکہ ہماری گاڑی کا اگلا حصہ پوری طرح سے تباہ ہو گیا تھا، وہاں پر موجود گاؤں والوں نے خون روکنے کے لیے اپنے گمچھوں سے ہمارے زخم باندھے اور ہمارے لیے ایمبولینس بلوائی جو ہمیں لیکر سلون کے سرکاری ہسپتال آگئی جہاں پر ہماری مرہم پٹی ہونے لگی۔ ہم نے اپنے دوست کو اس حادثے کی اطلاع کر دی تھی اس لیے وہ اپنی کار سے ہاسپیٹل آگئے تھے۔ اس دوران جعفری صاحب کی کئی کال آئیں یہ معلوم کرنے کے لیے ہم کہاں پہنچے ہیں، مگر مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا جواب دوں کیونکہ حادثے کے بارے میں بتاتے ہوئے اچھا نہیں لگ رہا تھا، لیکن کوئی دوسرا بہانہ بھی نہیں سوجھ رہا تھا اس لیے میں نے حادثے کی پوری تفصیل آپ کو بتا دی۔ میں نے سوچا پروفیسر آدمی ہیں، اپنے کام میں مشغول ہوں گے مگر ابھی دس منٹ بھی نہ ہوئے تھے کہ دیکھا آپ بھی پریشان حال اسپتال میں داخل ہو رہے ہیں۔ ہماری حالت دیکھ کر آپ کو کافی تشویش ہوئی اور آپ نے ہمارے زخموں کو اچھی طرح دیکھا اور اُنکی حالت کا جائزہ لیا، اور ہمیں اپنے دولت کدے پر چلنے کے لیے اصرار کرنے لگے۔ آپ کے پرخلوص اصرار کے باوجود ہمیں اچھا نہیں لگا کہ ہم اس حالت میں آپ کے یہاں جائیں، اس لیے وہیں پر مسودہ آپ کی خدمت میں پیش کیا اور اپنے دوست سے متعارف کرانے کے بعد آپ سے معذرت کر لی تب کہیں آپ نے ہمیں جانے کی اجازت دی۔
جعفری صاحب سے یہ ہماری دوسری اور آخری ملاقات تھی مگر یہ ہمارے اندر اپنے انمٹ نقوش چھوڑ گئی، وہ جس طرح انتہائی انکساری، خلوص اور خندہ پیشانی سے ملے اس طرح بہت کم لوگ ملتے ہیں خاص طور سے اس طرح کے منصب پر ہوتے ہوئے۔ کچھ دنوں کے بعد آپ نے میری کتاب پر ایک وقیع مقدمہ لکھ کر بھیجا اور پھر میں نے اپنی کتاب اشاعت کی غرض سے پریس میں بھیج دی۔

جب میری کتاب شائع ہوکر آگئی تو میں نے آپ کو فون کیا اور یہ سوچتے ہوئے کہ آپ دہلی میں ہونگے آپ سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تو آپ نے بتایا کہ اب آپ یونیورسٹی سے سبک دوش ہوچکے ہیں اور اب مستقل طور پر سلون میں مقیم ہیں۔ میں نے کہا ان شاء اللہ جب گاؤں انا ہوگا تو آپ سے ملنے آؤنگا اور پھر فون رکھ دیا۔ میرا پکا ارادہ تھا کہ اس بار جب گاؤں جاؤنگا تو آپ سے بھی ملنے جاؤنگا کیونکہ مجھے نہ صرف اپنی کتاب آپ کی خدمت میں پیش کرنی تھی بلکہ آپ کی وہ امانت بھی واپس کرنی تھی جو پہلی ملاقات میں آپ نے مجھے دی تھی مگر افسوس میں اپنے گاؤں تو کئی بار گیا مگر اپنی مشغولیات، اور گاؤں میں مختصر قیام کی وجہ سے آپ سے ملنے نہ جا پایا اور اس طرح ایک دلی خواہش نا مکمل رہ گئی۔ میں نے ایک دو بار سوچا کہ آپ سے ملنے نہیں جا پا رہا ہوں تو آپ کو ڈاک سے ہی ارسال کر دیتا ہوں اور اس سلسے میں ایڈریس پوچھنے کے لیے آپ کو فون بھی کیا مگر یہ کام بھی پورا نہ ہوسکا۔

اللہ تعالیٰ میری تساہلی کے لیے مجھے معاف کرے، اور جعفری صاحب مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے اور اُن کے درجات بلند فرمائے۔ امین