مقررین کی مجلس میں علماء کی تلاش
بقلم ڈاکٹر محسن عتیق خان
(مدیر سہ ماہی عربی مجلہ اقلام الہند)
کبھی کبھی میرے ذہن میں یہ خیال گزرتا ہے کہ اتنے سارے جلسے جلوسوں، اتنی شعلہ بیان تقریروں اور روزمرہ کی علماء و مشائخ کی رنگا رنگ محفلوں کے باوجود مسلم معاشرے میں کوئی تبدیلی کیوں رونما نہیں ہوتی، تعلیم کے تئیں دلچسپی کیوں نہیں پیدا ہوتی، نوجوانوں کی بے راہ روی کیوں بڑھتی جا رہی ہے، نی نسل میں شراب کی لت کیوں زور پکڑتی جا رہی ہے، ان کے اندر کچھ نیا، کچھ الگ کرنے کا جذبہ کیوں پیدا نہیں ہوتا، ان کے اندر تخلیقی صلاحیتیں کیوں پیدا نہیں ہوتین؟ مگر دو تین جلسوں میں حاضری کے بعد مجھے ان سوالوں کے جوابات اپنے اپ مل گئے۔
ایک بار ایک بڑے جلسے میں جانے کا اتفاق ہوا جو اصلا عوام میں تعلیمی بیداری پیدا کرنے کی غرض سے ایک مخلص اور درد مند دوست نے ارگنائز کیا تھا، مگر یہ دیکھ کر افسوس ہوا کہ لباس فاخرہ میں ملبوس جن مقررین کو بڑے بڑے القاب و آداب کے ساتھ دعوت سخن دیا گیا ان میں سے کسی نے بھی اصل موضوع پر لب کشائی کی زحمت گوارا نہ کی۔ ایک صاحب کو یاد دہانی کرائی گئی تو انہوں نے کئی بار اپنی تقریر میں جلسے کے اصل موضوع کی طرف اشارہ تو کیا لیکن اس پر بولنے کی جسارت نہ کی۔البتہ مسلم سائنس دانوں کے نام جھوٹے کارنامے ضرور منسوب کر گئے جنہیں سن کر لوگ عش عش کر اٹھے۔ ان کے حساب سے ہوائی جہاز مسلمانوں نے بنایا، کولمبس کا جہاز مسلمانوں نے بنایا، کولمبس کا نقشہ مسلمانوں نے بنایا تھا، اور تو اور ایٹم بم بھی مسلمانوں نے تقریبا بنا ہی لیا تھا۔ حضرت مقرر کی اس غلط بیانی اور بے جا غلو پر دل کف افسوس ملنے لگا اور یہ سمجھ ہی میں نہیں آیا کہ اس میں مورد الزام کس کو ٹھہرایا جائے۔
تمام تقریریں اصل پیغام سے خالی تھیں اور کسی نے بھی تعلیم کے تعلق سے بولنے کی کوشش نہیں کی۔ ان تقدیروں میں مقررین کے حلق اور عوام کو مبہوت کر دینے والے فارسی سے بوجھل چند اردو الفاظ کے زیر و بم اور پیچ و خم سے زیادہ کچھ نہ تھا۔
تعلیم کی ترویج و ترقی کی بات تو دور رہی اس کے برعکس آخر میں صدر جلسہ نے کچھ ایسی باتیں کہہ دیں جن سے جہالت کو ترویج ملتی ہو اور جب ناظم جلسہ نے ایک بار ان کی توجہ جلسے میں اصل موضوع کی طرف مبذول کرنے کی کوشش کی تو اسے انہوں نے خلاف ادب گردانہ اور آدھی تقریر خود ناظم جلسہ کے خلاف چلی گئی۔ مقررین کے بارے میں راقم الحروف کی رائے کبھی صحیح نہیں رہی مگر اتنی غلط بھی نہیں تھی کہ میسيج الٹا پہنچ جائے اور تعلیم کی بجائے جہالت کو ترویج ملتی ہو۔۔
راقم الحروف نے اس مجلس میں نشست اس خیال سے اختیار کی تھی کہ علماء کے درمیان بیٹھنے کا موقع مل رہا ہے کچھ نیا سیکھنے کو ملے گا لیکن تین چار گھنٹے بیٹھنے کے بعد پتہ چلا کہ علماء نہیں بلکہ نام نہاد مقررین کے بیچ بیٹھا ہوں جو دینی تعلیم و تعلم کے روایتی سلسلے سے جڑے ہونے کے باوجود علم سے کوئی سروکار نہیں رکھتے۔ ہر تقریر کے بعد یہ امید جگتی کہ شاید اب جو صاحب آئیں وہ اصل موضوع پر روشنی ڈالیں مگر انتظار طویل ہوتا گیا اور مقررین کی فہرست ختم ہوتے ہوتے اصل موضوع کہیں دور کھو گیا۔
علماء کی علم سے بیزاری کا یہ حال دیکھ کر دل مسوس کر رہ گیا اور سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ اخر دنیا کے سب سے عظیم معلم کی نیابت کا دعوی کرنے والے اور مسلم معاشرے میں علم کے علمبردار گردانے جانے والے مقررین حضرات علم سے اتنے بیزار کیوں ہیں۔ ان کی پوری تقریریں بزرگوں کے چند رٹے رٹائے کراماتی قصے کہانیوں، چند مشہور روایات اور چند حدیثوں کے اردو ترجموں سے آگے نہیں بڑھ باتیں۔
ایک دوسری سب سے بڑی جو کمی نظر ائی وہ مقررین اور عوام کے بیچ زبان و بیان اور افہام و تفہیم کا انداز ہے۔ علماء اج بھی عربی وفارسی کے الفاظ سے بوجھل وہی پرانی اردو زبان استعمال کرتے ہیں جسے نہ آج کی عوام سمجھتی ہے نہ خواص، اور زبان کے اس استعمال نے مقررین اور سامعین کے بیچ ایک گہری کھائی قائم کر رکھی ہے جسے کوئی پاٹنے کی کوشش نہیں کر رہا ہے۔
ایک تیسری چیز مقررین کا روایتی انداز تقریر ہے جو پچھلی کئی صدیوں سے ایک ہی ڈھرے پر چل رہا ہے، وہی شعلہ بیانی، وہی گلا پھاڑ انداز کہ آدھی باتیں حلق میں ہی رہ جائیں حالانکہ اس سلسلے میں آسان طریقے سے افہام و تفہیم کے لیے مغرب نے بہت سی ٹیکنیک ایجاد کی ہیں جنہیں ٹیڈ اور پوسٹ ماسٹر جیسی تنظیمیں پبلک سپیکنگ میں دلچسپی رکھنے والوں کو سکھاتی ہیں اور جن سے خود راقم الحروف نے بہت فائدہ اٹھایا ہے۔
مقررین اور سامعین کے بیچ اگر بڑھتی ہوئی اس دوری کو کم کرنا ہے، اور عوام اور علماء کے بیچ رشتے کو برقرار رکھنا ہے تو علماء اور مقررین کو کئی اُمور پر کام کرنے کی ضرورت ہے جن میں سے چند مدرجہ ذیل میں۔
-تازہ مطالعہ پر توجہ دیں اور رٹی رٹائی تقریروں سے گریز کریں۔ اپنے مطالعے میں مغربی مصنفین کی تصنیفات کو ضرور شامل کریں چاہے وہ سیرت کے تعلق سے ہی کیوں نہ ہوں۔ اس سے ذہن کے میں دریچے کھلیں گے اور آپ کو نئی تحقیقات سے اشنا ہونے اور جدید مباحث سے متعارف ہونے کا موقع ملے گا۔ مثال کے طور پر مارٹن لِنگز، ولیم منٹگمری واٹ، لیزل ہیزلٹن، کیرن آرمسٹرانگ جیسے مصنفین کی کتابیں جنہوں نے اللہ کے رسول کی تعلیمات اور سیرت کا غیر جانبدارانہ، مثبت اور علمی جائزہ لیا ہے۔
عام فہم زبان یعنی ہندوستانی کا استعمال کریں اور عربی اور فارسی کے نامانوس الفاظ اور اصطلاحات سے گریز کریں. انبیاء نے اور پھر صوفیا نے لوگوں کے دلوں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے ہمیشہ عوام کی زبان میں ہی بات کرنے کو ترجیح دی۔
-انداز تقریر میں تبدیلی لائیں اور پبلک سپیکنگ کی نئی ٹیکنیک سیکھیں۔ اس سلسلے میں مغربی مصنفین کی لکھی گئی چند بہترین سیلف ہیلپ کتابیں درج ذیل ہیں:Talk Like TED (کارمین گیلو):یہ کتاب TED ٹاکس کے کامیاب مقررین کے راز افشا کرتی ہے کہ کس طرح اپنے آئیڈیاز کو سادہ، پرجوش اور یادگار بنا کر پیش کیا جائے۔Confessions of a Public Speaker (اسکاٹ برکون):ایک حقیقت پسندانہ اور مزاحیہ کتاب جس میں مصنف نے اپنی غلطیوں سے سیکھے گئے اسباق بیان کیے ہیں کہ اسٹیج کے خوف پر کیسے قابو پایا جائے۔The Quick and Easy Way to Effective Speaking (ڈیل کارنیگی):یہ ایک کلاسک کتاب ہے جو تقریر میں اعتماد پیدا کرنے، سامعین کو متوجہ کرنے اور اپنی بات مؤثر انداز میں پہنچانے کے بنیادی اصول سکھاتی ہے۔TED Talks: The Official TED Guide to Public Speaking (کرس اینڈرسن):TED کے سربراہ کی لکھی گئی یہ کتاب آپ کو سکھاتی ہے کہ بغیر بور کیے سامعین کے دلوں میں اپنا نقطہ نظر کیسے اتارا جائے۔
-شعلہ بریانی اور چیخ و پکار سے بالکل پرہیز کریں اب اس کا زمانہ نہیں رہا.
جو پائی ہے زباں کچھ قوت تقریر پیدا کر
بیاں میں تازگی الفاظ میں تاثیر پیدا کر

