*مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوری ندوی*
( 1920 —- 1999 )
*از قلم : طارق شفیق ندوی*
احادیث نبویہ میں اچھے نام رکھنے کی ترغیب و تلقین آئی ہے، کیونکہ اس سے شخصیت میں وقار پیدا ہوتا ہے، دل میں اس کی عظمت قائم ہوتی ہے. دوسری بات یہ کہ نام کی حیثیت ایک قالب کی سی ہے، جس میں انسان ڈھلتا ہے اور اس کی فطرت پر نفسیاتی اثر رہتا ہے. راقم کے نزدیک اس قبیل کی مثالوں میں ایک مثال مولانا معین اللہ ندوی نائب ناظم ندوۃ العلماء لکھنؤ کی ہے، جو دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کی تعمیر و استحکام میں معین و مساعد تھے، جنھیں ناچیز *معمار ندوہ* کے لقب سے ملقب کرنا زیادہ موزوں سمجھتا ہے.
مولانا سید محمد واضح رشید حسنی ندوی معتمد تعلیم ندوۃ العلماء لکھنؤ اپنے مضمون "احساسات و تاثرات” میں رقم طراز ہیں کہ:
*”مولانا معین اللہ ندوی کا دارالعلوم کے مادی وسائل کے حصول، طلبہ کی رہائش کے لئے دارالاقامہ کی ضرورت، مسجد کی توسیع اور اس کو آباد کرنے کا اہتمام ، اس کے لئے درجہ حفظ کی توسیع و ترقی کی فکر میں نمایاں حصہ ہے. اسی طرح رواق سلیمانی، معہد تحفیظ القرآن الکریم، رواق اطہر، رواق عبد الحئی حسنی اور کتب خانہ علامہ شبلی نعمانی کی تعمیر میں ان کا بنیادی کردار ہے.”*
کتب خانہ علامہ شبلی نعمانی کے قیام کی تجویز ندوۃ العلماء کے اجلاس (1915) میں منظور ہوچکی تھی اور موجودہ پانچ منزلہ خوبصورت عمارت کی بنیاد (1975) رکھی گئی تھی، جس کا افتتاح (1984) میں بڑے تزک و احتشام کے ساتھ ہوا تھا، جس میں راقم بھی شریک تھا اور اس کی دیرینہ خواہش تھی کہ مولانا معین اللہ ندوی جیسے عہد آفریں منتظم، مفکر اسلام مولانا علی میاں کے عاشق زار ، سفر و حضر کے مشیر و مددگار کی ناقابل یقین خدمات اور حسن کارکردگی کے پیش نظر *معین الندوہ* کے ایوارڈ سے سرفراز کیا جاتا اور یک مشت پانچ لاکھ روپے بطور انعام دیا جاتا، حق شناسی کا تقاضا ہے کہ بعد از مرگ بھی ندوہ کی موجودہ انتظامیہ اس پہلو پر سنجیدگی سے غور فرما کر عملی اقدامات کر ے ، بڑی ناسپاسی ہوگی، اگر اس موقع پر اس کا تذکرہ نہ کروں کہ ندوہ کی انتظامیہ نے کتب خانہ علامہ شبلی نعمانی کے زیریں ہال کو مولانا معین اللہ ندوی کے نام سے معنون کیا ہے.
مولانا قاضی محمد معین اللہ ندوی (1920) میں ریاست مدھیہ پردیش ، ضلع دھار کے قصبہ *امجہرا* میں پیدا ہوئے تھے.*”ان کے جد امجد قاضی محمود بن خواجہ کمال الدین قاسم بن خواجہ شیخ نصیر الدّین فتح اللہ بن خواجہ شمس الدین نصر اللہ بغدادی ہیں . شیخ نصراللہ کے چھٹے دادا شیخ شہاب الدین سہروردی بانی سلسلہ سہروردیہ ہیں جو أمیر المؤمنین حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولاد سے چودھویں پشت میں ہیں.”*( مضمون قاضی عبد القدوس مرحوم )
مولانا قاضی معین اللہ ندوی دو بھائی تھے، ان کے چھوٹے بھائی کا نام حکیم نور اللہ صدیقی ندوی تھا، جبکہ ان کی چار بڑی بہنیں تھیں، بی بی عائشہ، بی بی حافظہ جمال، بی بی نذر فاطمہ، بی بی مقبول فاطمہ.
مولانا نے ابتدائی تعلیم دھار میں اپنی بڑی بہن بی بی عائشہ کے گھر پر رہ کر حاصل کی تھی، کچھ مدت دھار کے اسکول میں بھی پڑھا تھا، اس کے بعد اعلٰی دینی تعلیم کے لئے لکھنؤ کا قصد کیا اور دارالعلوم ندوۃ العلماء سے فارغ التحصیل ہوئے .
مولانا معین اللہ ندوی کے والد ماجد کا نام قاضی رحمت اللہ صدیقی تھا، جو دراز قامت، خوش الحان اور بڑے وجیہ تھے، تعلیم اجمیر میں ہوئی تھی، فارسی کا اچھا علم رکھتے تھے، *”اپنے علاقہ کے مشہور قاضی تھے، معروف خوش نویس خطاط تھے، پورا قرآن اپنے ہاتھ سے لکھا تھا، مہاراجہ گوالیار نے انھیں زمرد قلم کے ایوارڈ سے نوازا تھا.”*( مضمون مولانا عبد اللہ اندوری ندوی رکن مجلس شوریٰ ندوۃ العلماء لکھنؤ). آخر عمر میں نابینا ہوگئے تھے، (1934) میں ان کا انتقال ہوا. اس وقت مولانا معین اللہ صدیقی ندوی کی عمر 14/ سال کی تھی اور چھوٹے بھائی حکیم نور اللہ صدیقی ندوی کی عمر 12/ سال کی تھی، اسی سال ان کی والدہ محترمہ بی بی محمود النساء کی خواہش و اصرار، مہاراجہ گوالیار کی فکر مندی اور سرکاری وظیفہ پر دونوں بھائیوں کا داخلہ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں ہوا تھا، دونوں بھائی لمبے قدوقامت ، گورے چٹے اور اچھے ناک نقشے کے تھے، ریاست گوالیار کے ہونے کی وجہ سے *گوالیاری* کہے جاتے تھے، فٹ بال اور ہاکی بڑی دلچسپی سے کھیلتے تھے، دارالاقامہ شبلی کمرہ نمبر (05) میں رہائش پزیر تھے، اسی کمرہ میں ان کے رفیق درس مولانا مجیب اللہ غازی پوری ندوی اور مولانا عبد الغفار جونپوری ندوی کو بھی رہنے کی جگہ ملی تھی .
مولانا قاضی معین اللہ ندوی کے چھوٹے بھائی حکیم قاضی نور اللہ صدیقی ندوی عنفوان شباب میں اللہ کو پیارے ہوگئے تھے، ندوہ سے تعلیمی فراغت کے بعد طبیہ کالج، جھوائی ٹولہ، لکھنؤ سے تکمیل الطب کی سند بھی حاصل کی تھی ، لیکن مسلسل صحت کی خرابی کی وجہ سے وطن لوٹنا ان کی مجبوری بن گئی، جہاں صرف ایک سال بقید حیات رہے اور بعارضہ تپ دق (1950) میں اس دنیائے فانی سے رخصت ہوگئے ، دھار کا قبرستان ان کی آخری آرام گاہ ہے. اس وقت مرحوم 26 / سال کے خوبرو جوان تھے. رحمہ اللّٰہ تعالیٰ رحمۃ الابرار .
اندور کے قاضی گھرانے اور خاندانی طور پر صدیقی خانوادے کے معروف شخصیت قاضی محمد معین اللہ ندوی جو اہل خاندان میں حاجی نانا سے مشہور و مقبول تھے، (1944) میں ندوہ سے فارغ التحصیل ہوئے تھے. جہاں علامہ سید سلیمان ندوی معتمد تعلیم ندوۃ العلماء لکھنؤ (متوفی : 1953)، مولانا مسعود عالم ندوی مدیر ماہنامہ الضیاء ( متوفی : 1954 )، مولانا شاہ محمد حلیم عطاء سلونوی شیخ الحدیث دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ(متوفی : 1955)، مولانا محمّد ناظم ندوی مہتمم دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ( متوفی : 2000 ) ، مولانا عبد السلام قدوائی ندوی بانی ادارہ تعلیمات اسلام لکھنؤ (متوفی : 1979)، پروفیسر محمد سمیع صدیقی استاذ انگریزی دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ (متوفی : 1982)، مولانا مفتی محمد سعید ندوی اعظمی مفتی عام و قائم مقام مہتمم دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ (ولادت : 1907) اور مولانا سید ابوالحسن علی حسنی استاد ادب و تفسیر دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ (متوفی : 1999) جیسے ماہرین فن اور نامور اساتذہ سے کسب فیض اور علمی استفادہ کیا . آخر الذکر مولانا علی میاں رحمہ اللہ کے تو عزیز ترین شاگرد اور تربیت یافتہ تھے، ابتدائی درجات کے علاوہ مختارات بھی ان سے پڑھی تھی اور ان کی ذاتِ گرامی سے اسقدر وابستہ بلکہ صحیح معنوں میں پیوست ہوگئے تھے کہ اپنی جوانی کو ان کی رفاقت میں قربان کردیا اور یار غار و جانثار کہے جانے لگے تھے، جس کی وجہ سے شیوہ احباب بھی دیکھا اور شکوہ اغیار بھی سنا اور سازشوں کا وار بھی سہا.
*تیری چاہت جو میرے ساتھ ساتھ چلتی ہے*
*بس یہی ایک بات زمانے کو بری لگتی ہے !*
مولانا قاضی معین اللہ ندوی کے چند رفقاء درس بھی اپنی خدمات اور کارناموں کی وجہ سے قابل ذکر ہیں، جن کے اسماء گرامی مندرجہ ذیل ہیں، ڈاکٹر مولانا عبد اللہ عباس ندوی معتمد تعلیم دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ( متوفی : یکم جنوری 2006 )، مولانا سید وصی مظہر ندوی بانی شاہ ولی اللہ اورینٹل کالج حیدرآباد سندھ(متوفی : 02/جنوری 2006)، حکیم مولانا عطاء الرحمن سیوانی ندوی علیگ پرنسپل اول طبیہ کالج سیوان(متوفی 08/اپریل 1995)، مولانا مجیب اللہ ندوی بانی و ناظم جامعۃ الرشاد اعظم گڑھ(متوفی : 12/مئی 2006)، پروفیسر عبدالحلیم ندوی گورکھپوری صدر شعبہ عربی جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی(متوفی : 10/اکتوبر 2005)، مولانا عبد الغفار ندوی جونپوری صدر جماعت اسلامی حلقہ اترپردیش(متوفی : 23/ مارچ 1999).
مولانا معین اللہ ندوی غایت درجہ دینی جذبہ سے سرشار انسان تھے، ندوہ سے فارغ ہونے کے بعد اسلام کی نشر و اشاعت ، دینی تعلیم و تربیت کے فروغ اور دعوتی و تبلیغی مشن کے لئے جن سے ان کو فکری مناسبت اور قلبی لگاؤ تھا، اپنے آبائی وطن اندور کا انتخاب کیا، جب اس کی خبر ان کے ماموں حکیم قدرت اللہ صدیقی کو ہوئی، تو انھوں نے اپنے اس فاضل یگانہ بھانجے کو *مناور* بلا کر ایک مدرسہ میں مدرس مقرر کر دیا، مناور اس وقت علمی و روحانی مرکز تھا، بھانجہ بھی نیک و صالح اور میدان کار تھا، مزید برآں خاندانی نجابت و شرافت کا پرتو تھا، اپنے چہیتے ماموں کو مایوس نہیں کیا، بلکہ پورے اخلاص و لگن ، محنت و جانفشانی کے ساتھ مفوضہ کام میں مشغول ہوگیا اور وہاں کی دینی و علمی ترقی میں اہم کردار ادا کیا . مولانا موصوف نے نہ صرف یہ کہ مالوہ ، مناور کے علاقے میں متعدد مدارس اور دینی مراکز قائم کئے بلکہ تاحیات اپنے خون جگر سے ان کی سینچائی اور آبیاری کرتے رہے، اسی کے ساتھ اپنے ماموں زاد بھائی مولانا عثمان غنی ندوی اور ان کے چچا زاد بھائی مولانا ولی اللہ ندوی کو(1949) میں ندوہ میں داخلہ کرایا، اس کے بعد تو ایک سلسلہ چل پڑا ، مولانا حافظ ابو البرکات فاروقی ندوی بانی و ناظم مدرسہ ریاض العلوم، کھجرانہ، اندور (متوفی : 17/ نومبر 1999) کے ذریعہ بھی علاقہ میں مثالی اور ناقابل فراموش کام انجام پایا، جس کا سلسلہ ہنوز جاری ہے. مولانا سراج الرحمان ندوی اور حکیم فضل اللہ ندوی بھی ان ہی کے توسط سے ندوہ میں تعلیم حاصل کی اور سرکاری ملازمت سے فیضیاب ہوئے . اب تو الحمدللہ سیکڑوں کی تعداد میں ندوی فضلاء اندور میں پائے جاتے ہیں، جن کی دینی کاوش وخدمات کی ایک دنیا معترف و معتقد ہے .
*بہار اب جو اندور میں آئی ہوئی ہے*
*یہ سب پود ان کی لگائی ہوئی ہے*
مولانا قاضی معین اللہ ندوی کا عقد (1945) میں بی بی سیدہ خاتون بنت قاضی شفیع الدین فاروقی سے ہواتھا، جو رشتہ میں ان کی حقیقی خالہ زاد بہن تھیں، ان سے پانچ بیٹے اور تین بیٹیاں پیدا ہوئیں. خوبی کی بات یہ کہ مولانا معین اللہ ندوی نے اپنے چاروں فرزندوں اور تینوں نیک زادیوں کا عقد خاندان اور اعزہ واقارب میں خوبی سے کرنے کو ترجیح دی اور سبھوں کا نکاح اپنے مخدوم گرامی مولانا علی میاں سے پڑھوایا. باوجود اس کے ان سے رشتہ بہت سے اکابر علم و فضل اپنے یہاں چاہتے تھے.
1) مولانا حافظ عبیداللہ ندوی(متوفی: 2011)، جن کا عقد اپنی حقیقی بھانجی بی بی رسالت نور کی اکلوتی دختر نیک اختر بی بی طیبہ بنت ماسٹر منظور احمد فاروقی سے (1973) کیا.
2) سعد اللہ صدیقی جن کا بچپن ہی میں انتقال ہوگیا تھا.
3) قاضی محمد یحییٰ ندوی(متوفی: 2024)، جن کا نکاح (1982) میں اپ نے حقیقی برادر نسبتی (سالے) کی صاحبزادی مجاہدہ بنت صغیر احمد فاروقی سے کیا.
4) قاضی عبد اللہ ندوی اطال اللہ عمرہ، ان کا نکاح مولانا ابو البرکات فاروقی ندوی کی بڑی صاحبزادی بی بی نعیمہ خاتون فاروقی سے کیا.
5) سب سے چھوٹے فرزند قاضی عطاء اللہ ندوی بارک اللہ فیہ، جن کا نکاح (1992) میں ان کی حقیقی خالہ بی بی جمیل النساء فاروقی کی خوب صورت و سیرت دختر بی بی رخسانہ فاروقی بنت سید محبوب علی سے کیا.
1) بی بی امامہ، جن کا عقد قاضی محمد ہارون اندوری ندوی بن ماسٹر منظور احمد فاروقی سے (1973) کیا، جو رشتہ میں نواسے تھےاور اپنے والد ماجد کے اکلوتے فرزند تھے.
2) بی بی فاطمہ، جن کا عقد مسنون (1983) میں اپنی سب سے چھوٹی بہن بی بی مقبول فاطمہ کے ہونہار فرزند سید اختر علی بن سید فرزند علی سے کیا.
3) بی بی آمنہ کا نکاح مولانا ابو البرکات فاروقی ندوی کے فرزند ابو العرفان فاروقی سے کیا.
مولانا معین اللہ ندوی کی زوجہ محترمہ بی بی سیدہ خاتون کا انتقال طویل علالت کے بعد (10/جون1997) کو اندور میں ہوا ، اس صدمہ سے مولانا بالکل ٹوٹ سے گئے اور علیل رہنے لگے تھے ، مرحومہ نہایت عابدہ، صالحہ، پرہیزگار اور ملنسار خاتون تھیں ، گفتگو ہمیشہ شائستہ اور نرم لہجہ میں کرتیں تھیں ، لباس سادہ ، مہذب اور خاندانی شرفاء کا زیب تن کئے رہتی تھیں . ہر ایک کی دلجوئی کرتیں اور اس کی حیثیت سے بڑھ کر اس کا خیال رکھتی تھیں، دل آزاری ، غیبت اور شکوہ و شکایت سے اپنی زبان کو ہمیشہ محفوظ رکھتی تھیں ، وہ ندوہ میں سب کی آپا جان تھیں، دو مرتبہ اپنے شوہر نامدار کے ساتھ حج کی سعادت بھی حاصل کر چکی تھیں . کمسنی میں ناچیز کا ان کے یہاں آنا جانا لگا رہتا تھا، بڑے ہونے پر بھی دروازہ کی آڑ سے خبر و خیریت دریافت کرنے تک معاملہ جاری تھا لیکن شفقت و محبت کا عالم بچپن ہی جیسا تھا، راقم بھی ان کی تعظیم وتکریم اپنی والدہ ماجدہ کی طرح ہی کرتا تھا ان کی صاحبزادیاں بھی میری والدہ ماجدہ کو خالہ کہتی تھیں. سیدہ خاتون فاروقی کو میری والدہ ماجدہ سے بڑی انسیت اور گہرا تعلق تھا. میری والدہ ماجدہ کا نام بھی سیدہ خاتون صدیقی تھا، نام کی مناسبت ، مزاج کی سادگی اور ذہنی ہم آہنگی کی وجہ سے ان دونوں میں کافی قربت تھی. ان کی بڑی صاحبزادی بی بی امامہ کا عقد (1973) میں قاضی محمد ہارون اندوری ندوی (ناظر کتب خانہ علامہ شبلی نعمانی) سے ہوا تھا، جو مولانا قاضی معین اللہ ندوی کے بڑی بہن کے نواسے تھے، (جو میرے پڑوسی اور شب و روز کے ملاقاتی بھی تھے.) اس وجہ سے بھی وہ جب کبھی بیٹی سے ملنے آتیں، ہمارے گھر بھی ملاقات کے لئے ضرور تشریف لاتیں تھیں، ان کی بیٹیاں بھی میری بڑی بہن عشرت شفیق اطال اللہ عمرھا کے ساتھ وقت گزارنا پسند کرتی تھیں.
مولانا قاضی معین اللہ ندوی میں بے شمار خوبیاں تھیں اور قدرت کی جانب سے ودیعت کردہ انمول صلاحیتیں بھی تھیں، لیکن ان کا فطری ذوق دین کی دعوت و تبلیغ تھا، موصوف حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی(متوفی : 13/ جولائی 1944) کی تحریک تبلیغی جماعت جس کا قیام (1926) میں عمل میں آیا تھا، اس سے غیر معمولی طور پر متاثر تھے، چنانچہ اپنے طبعی میلان کی وجہ سے زمانہ طالب علمی (1940) میں مرکز نظام الدین نئی دہلی سے وابستہ ہوگئے تھے اور وہاں کے شیوخ و اکابر سے گہرے مراسم و روابط پیدا کر لئے تھے. مولانا محمّد یوسف کاندھلوی رحمۃاللہ علیہ(ولادت 20/مارچ 1917 ، وفات 02/اپریل 1965)، شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ(متوفی : 24/ مئی 1982)اورحضرت مولانا شاہ عبد القادر رائے پوری رحمۃ اللّٰہ علیہ(متوفی : 16/اگست 1962) سے قلبی عقیدت و وابستگی تھی، فراغت سے پہلے ہی اپنے مخدوم گرامی مولانا سید ابو الحسن علی حسنی کی معیت میں تبلیغی اسفار بھی کرنے لگے تھے، فراغت کے بعد دو سال اپنے ماموں حکیم قدرت اللہ صدیقی جو حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی( ولادت 19/اگست 1863) اور دیوبند، سہارنپور، دہلی، تھانہ بھون کے اکابرین کے تربیت یافتہ تھے، ان کی سرپرستی میں مناور اور اس کے اطراف میں دعوت و تبلیغ اور اصلاح معاشرہ کا کام بڑے پیمانہ میں پھیلا رکھا تھا، مردم ساز اور جوہر شناس شخصیت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی اپنے تلمیذ رشید کے کارناموں اور پوشیدہ صلاحیتوں سے خوب خوب واقف تھے، پس انھوں نے (1946) میں اس پیغام کے ساتھ اپنے پاس بلا لیا کہ :
*میں چاہتا ہوں تم ہمیشہ میری نظر میں رہو*
مولانا سید ابو الحسن علی حسنی نے ایک سال سفر و حضر میں بلکہ قدم قدم پہ سایہ کی طرح اپنے ساتھ رکھا، اس کے بعد دعوت و تبلیغ کی صلاحیت میں جلا بخشنے اور دعوت و تبلیغ کے معجزانہ اسلوب اختیار کرنے کے لئے (1949—- 1948) دوسال نظام الدین نئی دہلی میں قیام کا مشورہ دیا.
مولانا سید ابو الحسن علی حسنی کا مطالعہ اور کام کرنے کاحلقہ بڑا وسیع تھا، اسی طرح ان کی پرواز بھی بہت بلند تھی، موصوف آفاقی فکر کے حامل داعی اسلام تھے، ان کا تعلق بھی تبلیغی جماعت اور اس کے اکابرین سے انتہائی گہرا تھا، جس کی وجہ سے بھی انھیں شدت سے احساس رہتا تھا کہ بلاد عرب جو مرکز اسلام کی حیثیت رکھتا ہے، وہاں دعوتی مشن کو فروغ دیا جانا چاہیے، چنانچہ (1950) میں دو شاگرد مولانا قاضی معین اللہ ندوی اور مولانا عبدالرشید اعظمی ندوی(متوفی : 08/اگست 2004 ) پر مشتمل وفد حجاز مقدس روانہ کیا تھا، جہاں ان حضرات نے (1951) تک یعنی کم و بیش دوسال قیام کیا اور ان دونوں فضلاء ندوہ نے بلاد عرب اور اس کے دیہاتوں میں دعوتی و تبلیغی کام کو بحسن وخوبی انجام دیا نیز خدمت دین کے لئے وہاں کی پرکیف فضا کو ہموار کرنے میں ممد ومعاون ثابت ہوئے . اسی زمانہ میں مولانا سید ابو الحسن علی حسنی نے عالم عربی اور بلاد مقدسہ کا دعوتی و تبلیغی سفر فرمایا تو مولانا قاضی معین اللہ ندوی ان کے مشیر و رفیق خاص تھے اور حضرت کے ساتھ مصر ، سوڈان اور بلاد شام کا تاریخی سفر بھی کیا تھا .
مولانا قاضی معین اللہ ندوی نے تقریبا دو ڈھائی برس حجاز مقدسہ اور اس کے اطراف و اکناف میں پورے انہماک کے ساتھ دعوتی سرگرمیوں میں اپنا وقت صرف کیا اور نیک نام ہوئے، اس مدت خاص میں اپنے اخلاق حسنہ ، اوصاف حمیدہ اور داعیانہ کردار سے عربوں کو متأثر کرنے اور اپنا گرویدہ بنانے میں کامیاب ہوئے، بڑی دانشمندی، فکر مندی اور حکمت عملی سے ندوہ کا مفید اور کارآمد تعارف کرایا اس ظفر مندی اور اقبال مندی کی وجہ سے آگے چل کر مالی فراہمی اور تعاون غیبی کا مستقل ذریعہ بنے، چنانچہ ان علاقوں میں جب کبھی ڈاکٹر مولانا سعید الرحمان اعظمی ندوی حفظہ اللہ(ولادت 1935) حال مہتمم دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ بحیثیت سفیر تشریف لےجاتےتو مولانا معین اللہ ندوی نہ صرف یہ کہ ان کی رہنمائی فرماتے بلکہ وہاں کے مخیر حضرات کے نام دستی خطوط اور ڈھیر ساری دعاؤں کے ساتھ رخصت فرماتے تھے.
سب جانتے ہیں کہ (1952) میں مولانا قاضی معین اللہ ندوی کا انتخاب دارالاقامہ کے نگراں کی حیثیت سے ہوا تھا اور تدریسی خدمات بھی ان کے سپرد کی گئی تھیں، اسی زمانہ (1954) میں انھوں نے جدید اردو اصول پر قواعد صرف کی کتاب *تمرین الصرف* تصنیف کی، جو انتہائی مفید ثابت ہوئی اور نصاب میں شامل کی گئی، میرے والد ماجد مولانا شفیق الرحمان ندوی نور اللہ مرقدہ(جو ان کے شاگرد اور خاموش و گمنام رفیق کار تھے ) ان کے تذکرہ حسنہ میں بتایا کہ دونوں جگہ ان کی کارکردگی قابل ستائش رہی لیکن انھیں انتظامی امور اور ندوہ کی توسیع و تزئین سے فطری دلچسپی تھی، چنانچہ انھوں نے اسی عملی میدان کو اپنے لئے منتخب کیا اور انتظامیہ کی طرف سے بھی انھیں تعمیراتی اور انتظامی امور سپرد کئے گئے.
29 / دسمبر 1957 میں رواق رحمانی کی بنیاد رکھی گئی تو انھوں نے اس کی تعمیر میں بڑی جانفشانی سے کام لیا اور مالیات کی فراہمی کے لئے اپنے رفیق درس مولانا مجیب اللہ ندوی کو خصوصی خط لکھا جہاں سے اس ارزانی کے دور ایک کمرہ کی تعمیر کی بقدر رقم موصول ہوئی . اس کے بعد تو مالیات کی فراہمی اور تعمیراتی ترقی کی طرف خصوصی دلچسپی کا مظاہرہ کرتے رہے، ان ہی کے مشورہ سے مولانا سید ابو الحسن علی حسنی معتمد تعلیم ندوۃ العلماء نے باقاعدہ *شعبہ تعمیر و ترقی* ( 1958 ) قائم کیا اور ( یکم اگست 1958) میں آپ کو اس کا ناظر و نگراں مقرر کیا، نیز آپ کی معاونت کے لئے مولانا سید عبد السمیع ندوی(متوفی : 28/ دسمبر 1995) کو مددگار ناظر بنایا، اس وقت اس کے دفتر کا ایک مستقل عملہ ہے. دارالعلوم کے مکتبہ کا تعلق اسی سے تھا اور پندرہ روزہ تعمیر حیات( 1963) کا شعبہ بھی اسی سے متعلق ہے.
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آزادی کے بعد علامہ سید سلیمان ندوی رحمۃ اللّٰہ علیہ(معتمد تعلیم ندوۃ العلماء) کے پاکستان منتقل ہو جانے اورحضرت مولانا محمد عمران خان ندوی ازہری(ولادت 13/اگست 1913 ، وفات 18/اکتوبر 1986) جیسا دانا عالم متبحر اور مدبر و حکیم مہتمم دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو کے بھوپال رخصت ہوجانے سے ندوہ کو کئی اعتبار سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا، جسے راقم ایک پرآشوب دور سے تعبیر کرنے میں کوئی تکلف اور قباحت محسوس نہیں کرتا ہے، اسی طرح بلا خوف تردید لکھتا ہے کہ ایسے نازک وقت میں ندوہ کی خوش قسمتی کہی جائے گی کہ مولانا معین اللہ ندوی جیسا مخلص، نباض، زرخیز دماغ کا مالک اور عالی صفات کا جانباز و جانثار منتظم میسر آگیا تھا جس کے ذریعہ ندوہ نے ہمہ جہت ترقی کی اور اس کی منصوبہ بندی، فکر مندی اور دل سوزی کی وجہ سے ندوۃ العلماء کو عالم اسلام کے نقشہ پر نمایاں مقام ملا اور منفرد شناخت حاصل ہوئی.
ندوہ کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ مولانا معین اللہ ندوی نے جس وقت ندوہ کی تعمیراتی ذمہ داری قبول کی تھی، اس وقت ندوہ میں ایک درسگاہ(دارالعلوم کی عظیم الشان عمارت، سنگ بنیاد 29/نومبر 1908)، ایک دارالاقامہ(رواق شبلی، سنگ بنیاد 1917)، ایک قیام گاہ جو معتمد تعلیم علامہ سید سلیمان ندوی کی رہائش کے لئے تیار کیا گیا تھا، جسے دنیا آج مہمان خانہ کے نام سے جانتی ہے اور اس سے متصل جو ایک پرشکوہ مسجد ہے، وہ دارالمصنفین اعظم گڑھ کی مسجد کے نقشہ اور طرز تعمیر کی طرح ایک چھوٹی سی مسجد تھی، جس کا نقشہ علامہ شبلی نعمانی(متوفی : 1914) کے شاگرد مولانا مسعود علی ندوی بارہ بنکوی رحمۃ اللّٰہ علیہ( ولادت 1889 ، وفات 1967) نے خود تیار کیا تھا اور اپنی نگرانی میں اس کی تعمیرکروائی تھی، اس کے علاوہ وہاں کچھ بھی نہ تھا.
مولانا معین اللہ ندوی جیسا زمینی انسان اور جفاکش کارکن کے ساتھ اللہ تبارک وتعالٰی کی طرف سے خاص نصرت کا معاملہ تھا اور اس وقت کے بزرگوں کی دعاؤں کا بھی اثر تھا کہ وہ جس چیز کو چھو لیتے سونا بن جاتا، جس کام کا بیڑہ اٹھا لیتے جلد پایۂ تکمیل کو پہنچ جاتا، یہی وجہ تھی کہ انھوں نے ندوہ کی مالیاتی شعبہ کو غیر معمولی استحکام ، اساتذہ کے لئے رہائش گاہوں کی فکر، دارالاقامہ کا اضافہ اور دیگر عمارتوں کے بڑھانے میں معمار ندوہ کا کردار ادا کیا. رواق رحمانی (1957)، رواق سلیمانی(1960) اور ڈائنگ ہال کی تعمیر کراکر فن عمارت سازی کا اعلیٰ نمونہ پیش کیا.
راقم الحروف(1976) میں ندوہ آ گیا تھا، اس وقت مذکورہ عمارتوں کے علاوہ گیٹ سے مغرب جانب چار رہائش گاہیں تھیں، جس میں مولانا معین اللہ ندوی نائب ناظم ندوۃ العلماء، مولانا محمد برہان الدین سنبھلی ناظم مجلس تحقیقات شرعیہ(متوفی : 2020)، مولانا سید محمد مرتضیٰ مظاہری ناظر کتب خانہ علامہ شبلی نعمانی(متوفی : 1995)، مولانا سید محمد عبد السمیع ندوی معاون ناظر شعبہ تعمیر و ترقی(متوفی : 1995) اپنی فیملی کے ساتھ رہائش پزیر تھے . یہ سب سے عمدہ اور کشادہ اسٹاف کواٹر تھا. رواق سلیمانیہ کے سامنے اس وقت جہاں رواق محمد علی مونگیری(سنگ بنیاد 20/جون 2018 )ہے، وہاں ندوہ کے مہتمم مولانا محب اللہ لاری ندوی علیگ(متوفی : 29/نومبر 1993) کا کافی کشادہ مکان تھا، بغل میں شیخ الحدیث مولانا عبد الستار اعظمی(متوفی : 6/جنوری 1994)، قاضی محمد ہارون اندوری ندوی( متوفی : 2018) اور مولانا شمس الحق پرتاب گڑھی ندوی حفظہ اللہ کی رہائشی کوارٹر تھا، رواق شبلی کے مغربی کنارہ پر مولانا مفتی محمد ظہور اعظمی ندوی صدر مفتی دارالعلوم ندوۃ العلماء ( متوفی : 2016 ) ، مشرقی کنارے پر ندوہ کے شیخ الحدیث مولانا ضیاء الحسن اعظمی ندوی (متوفی : 2/جنوری 1989) کی رہائش تھی . مجلس تحقیقات ونشریات اسلام لکھنؤ(مئی 1959) کے سامنے الرائد(1959) کا دفتر تھا، جہاں عربی کے نایاب انشاء پرداز و صحافی سید محمد الحسنی(متوفی : 13/جون1979) سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا تھا . اسی سے منسلک مدیر تعمیرحیات و تحریک پیام انسانیت سن قیام(1974)کے ترجمان مولانا اسحاق جلیس خان ندوی(متوفی : 18/جولائی 1979)اور مجلس تحقیقات ونشریات اسلام کے انچارج مولانا غیاث الدین ندوی پورنوی(متوفی : مارچ، 1995) اپنے اہل و عیال کے ساتھ قیام پزیر تھے، معہد دارالعلوم کھپڑیل میں تھا اور مخلوط تعلیم کا اچھا نظم و انتظام تھا. اس کے داہنے جانب استاذ تفسیر مولانا محمد عارف سنبھلی ندوی(متوفی : 9/جون 2006 ) کا مکان تھا، سلیمانیہ بالائی منزل کمرہ نمبر (03) میں راقم الحروف کے والد ماجد مولانا شفیق الرحمان ندوی(متوفی : 24/جون 2002)، مولانا شہباز اصلاحی(متوفی : 9/نومبر 2002) اور مولانا حبیب اللہ رانچوی ندوی حفظہ اللہ رہتے تھے، کمرہ نمبر (04) میں میرے اور میرے والد ماجد کے استاذ مولانا حبیب الرحمان سلطان پوری (متوفی : 28/جولائی2007) اور کمرہ نمبر(05) میں مولانا وجیہ الدین صدیقی ندوی سندیلوی(متوفی : 1978) مقیم تھے، جن کی یاد گار ان کے اکلوتے فرزند رفیع الدین صدیقی اور بھتیجے حافظ مصباح الدین ندوہ میں خدمت گزار ہیں. کمرہ نمبر (16) بالائی میں مولانا نور عالم خلیل امینی مظفرپوری(متوفی : 3/مئی2021)کا قیام تھا، کمرہ نمبر( 16) زیریں میں میرے رفیق و ہمراز صالح محم

