HIRA ONLINE / حرا آن لائن
💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟

💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟ قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا جائز ہے، البتہ مسلمان محتاجوں اور ضرورت مندوں کو دینا زیادہ بہتر اور اولیٰ ہے۔ 📖 حوالہ: الفتاوى الهندية (5/300) "ويهب منها ما شاء للغني والفقير والمسلم والذمي، كذا في الغياثية” ترجمہ: قربانی کے گوشت میں سے جسے چاہے دے سکتا ہے، خواہ مالدار ہو یا فقیر، مسلمان ہو یا ذمی (غیر مسلم)۔ ✅ اس سے معلوم ہوا کہ قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو بھی دیا جا سکتا ہے۔ فقط واللہ اعلم In hindi क्या क़ुर्बानी का गोश्त ग़ैर-मुस्लिमों को देना जायज़ है? क़ुर्बानी का गोश्त ग़ैर-मुस्लिमों को देना जायज़ है, लेकिन मुसलमान गरीबों और ज़रूरतमंदों में तक़सीम करना ज़्यादा बेहतर और अफ़ज़ल है। 📖 हवाला: अल-फ़तावा अल-हिंदिया (5/300) "ويهب منها ما شاء للغني والفقير والمسلم والذمي” तर्जुमा: क़ुर्बानी के गोश्त में से जिसे चाहे दे सकता है, चाहे अमीर हो या गरीब, मुसलमान हो या ग़ैर-मुस्लिम। ✅ इससे मालूम हुआ कि क़ुर्बानी का गोश्त ग़ैर-मुस्लिमों को भी दिया जा सकता है। فقط واللہ اعلم

Read more

قربانی کا نصاب کیا ہے ؟

💠 قربانی کا نصاب کیا ہے؟💠 कुर्बानी का निसाब क्या है? جس مسلمان کے پاس ایامِ قربانی (10 تا 12 ذوالحجہ) میں بنیادی ضروریات سے زائد اتنا مال موجود ہو جو ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو، اس پر قربانی واجب ہے۔ जिस मुसलमान के पास कुर्बानी के दिनों (10 से 12 ज़िलहिज्जा) में बुनियादी ज़रूरतों से ज़्यादा इतना माल मौजूद हो जो साढ़े बावन तोला चाँदी की कीमत के बराबर हो, उस पर कुर्बानी वाजिब है। 📌 اہم مسائل:📌 अहम मसाइल: ✔ قربانی کے لیے سال گزرنا شرط نہیں ✔ कुर्बानी के लिए एक साल गुजरना शर्त नहीं ✔ نقد رقم، سونا، چاندی یا مالِ تجارت سب شامل ہیں ✔ नकद रकम, सोना, चाँदी या माल-ए-तिजारत सब शामिल हैं ✔ حاجتِ اصلیہ سے زائد مال نصاب میں شمار ہوگا ✔ ज़रूरत से ज़्यादा माल निसाब में शामिल होगा ✔ عاقل، بالغ اور مقیم مسلمان پر قربانی واجب ہے ✔ आक़िल, बालिग और मुक़ीम मुसलमान पर कुर्बानी वाजिब है 📖 یاد رکھیں:📖 याद रखें: اگر قربانی کے دنوں میں کسی وقت بھی نصاب مکمل ہو جائے تو قربانی لازم ہو جاتی ہے۔ अगर कुर्बानी के दिनों में किसी भी वक्त निसाब पूरा हो जाए तो कुर्बानी लाज़िम हो जाती है۔

Read more

دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میں

کمال مولانا مسجد تاریخ کے آئینے میں یہ تصاویر "مسجد کمال مولانا” دھار کے اندرونی حصے کی ہیں۔ جس کے بارے میں کل مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ سنایا ہے کہ مسلم فریق کے دلائل سے قائل نہ ہو سکے۔ یہ باتیں وکلا اور لیگل ٹیموں کی ہیں۔‌ ان کو یہ ہینڈل کر لینے دیا جائے۔ ہمیں چند موٹی موٹی باتیں اِس مسجد کے بارے میں جان لینا چاہیے۔ اس علاقے کو جس وقت سلطان علاؤالدین خلجی نے فتح کیا اس وقت سلسلۂ چشتیہ کے ایک صوفی بزرگ شیخ کمال یہاں مقیم تھے۔ سلطان مشائخِ چشتیہ کا ارادت مند اور عقیدت مند تھا، اس نے یہاں ایک عالیشان مسجد بنوانے کا حکم دیا۔ ساتھ ساتھ اس میں درویشوں اور طلبا کے لیے کمرے بھی بنوائے تاکہ شیخ کے مریدین اور شاگرد یہاں آرام کر سکیں۔ چونکہ یہ عمارت بہت کم مدت میں تعمیر ہوئی تھی اور اس میں خاطر خواہ گارہ یا اس وقت کے لحاظ سے مضبوط مسالے کا استعمال نہیں ہوا تھا، لہذا ایک صدی پوری ہونے سے پہلے پہلے یہ محمد بن تغلق کے دور میں مرمت کی طالب ہوئی۔ سلطان علاؤالدین نے اس مسجد کو چودھویں صدی عیسوی کے بالکل ابتدائی دنوں میں بنوایا تھا اور اس کی مرمت چودہویں صدی بالکل آخر میں ہوئی۔ محمد بن تغلق کے گورنر دلاور خان غوری نے اس کی مرمت کروائی اور اس پر تختی بھی لگوا دی کہ مسجد محمد بن تغلق کے عہد میں مرمت کے بعد مزین ہوئی۔ اس مسجد کی عمارت میں چونکہ جو پتھر لگا ہے، یہ بالکل صاف طور سے اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ یہ کسی پرانے مندر کا ملبہ ہے۔ اور چونکہ ان پتھروں اور ستونوں میں کسی چیز کو چھپانے کی کوشش بھی نہیں کی گئی ہے، لہذا اِس بات کی پوری گنجائش موجود ہے کہ اس کو ہندو عوام سے خرید کر یہاں لگایا گیا ہو۔ اور جب کہ ہمیں کئی سو سال تک اس پر کسی طرح کی کوئی چپقلش اور باہمی عداوت نہیں نظر آتی سو اس کو درست…

Read more

قربانی کا شرعی حکم

قربانی کا شرعی حکم کیا ہے؟ مکمل رہنمائی قربانی اسلام کے عظیم شعائر میں سے ایک اہم عبادت ہے جو ہر سال عید الاضحیٰ کے موقع پر ادا کی جاتی ہے۔ یہ عبادت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ شریعتِ اسلامیہ نے قربانی کے لیے مخصوص شرائط اور احکام بیان کیے ہیں جن کی روشنی میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ کن لوگوں پر قربانی واجب ہے اور کن پر نہیں۔ قربانی کا شرعی حکم اگر کسی مسلمان میں شریعت کی بیان کردہ تمام شرائط پائی جائیں تو اس پر قربانی واجب ہوتی ہے۔ اور اگر ان شرائط میں سے کوئی شرط موجود نہ ہو تو قربانی واجب نہیں بلکہ نفلی یا سنت شمار ہوگی۔ فقہائے احناف کے نزدیک صاحبِ نصاب، مقیم اور بالغ مسلمان پر قربانی واجب ہے۔ قربانی واجب ہونے کی شرائط 1۔ مسلمان ہونا قربانی صرف مسلمان پر واجب ہے۔ غیر مسلم پر قربانی واجب نہیں۔ 2۔ مقیم ہونا قربانی مقیم شخص پر واجب ہے، مسافر پر واجب نہیں۔ مسافر کسے کہتے ہیں؟ شرعی اعتبار سے وہ شخص مسافر کہلاتا ہے: ایسے شخص پر قربانی واجب نہیں ہوتی۔ 3۔ صاحبِ نصاب ہونا جس شخص کے پاس درج ذیل میں سے کوئی چیز نصاب کے برابر موجود ہو وہ صاحبِ نصاب کہلاتا ہے: لیکن اگر اس پر اتنا قرض ہو کہ قرض ادا کرنے کے بعد نصاب باقی نہ رہے تو اس پر قربانی واجب نہیں ہوگی۔ 4۔ بالغ ہونا بالغ مسلمان پر قربانی واجب ہے۔ نابالغ بچہ اگرچہ مالدار ہو تب بھی اس پر قربانی واجب نہیں۔ قربانی کا حکم قرآن سے اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتے ہیں: فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ ترجمہ: “پس آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیں اور قربانی کریں۔” اس آیتِ مبارکہ میں “وَانْحَرْ” امر کا صیغہ ہے اور اصولِ فقہ کے مطابق مطلق امر وجوب پر دلالت کرتا ہے، اسی لیے فقہائے کرام نے اس آیت سے قربانی کے واجب ہونے پر استدلال کیا ہے۔ قربانی کے بارے میں احادیث ہر گھر پر قربانی حضرت مخنف…

Read more

بھینس کی قربانی شریعت کی نظر میں

بھینس کی قربانی شریعت کی نظر میں از: مفتی محمد عبیداللہ قاسمی بہرائچیاستاذ جامعہ اسلامیہ دارالعلوم حیدرآباد اجتماع و معاشرت تاریخ اسلامی حج و قربانی فقہی احکام و مسائلبھینس کی قربانی عہد نبوی اورعہد صحابہ میں جزیرة العرب میں بھینس نہیں پائی جاتی تھی؛ اس لیے بھینس کی قربانی آپ … اور صحابہ سے نہ تو عملاً ثابت ہے اور نہ ہی آپ … نے صراحتاً بھینس کی قربانی کے بارے میں کوئی حکم صادر فرمایا ہے، اس کو بنیاد بنا کر غیر مقلدین حضرات یہ کہتے ہیں : چوں کہ ”جاموس“ (بھینس ) کی قربانی کا تذکرہ قرآن و حدیث میں نہیں ہے اورنہ ہی عملاً آپ … اور صحابہ سے ثابت ہے؛ اس لیے بھینس کی قربانی جائز نہیں؛جبکہ دوسری طرف بر صغیر پاک و ہند وغیرہ میں جس طرح مسلمان گائے، بکرا اور دنبہ وغیرہ کی قربانی کرتے ہیں، اسی طرح بھینس کی قربانی بھی بکثرت کرتے ہیں اور تمام علماء اہل السنة والجماعة بالاتفاق اسے جائز قرار دیتے ہیں اور بعض علماء غیر مقلدین بھی بھینس کی قربانی کے جواز کے قائل ہیں؛ کیوں کہ قرآن و حدیث میں قربانی کے باب میں جاموس (بھینس ) کا تذکرہ نہ ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ قربانی جائز نہ ہو، ورنہ توزمانہٴ موجودہ کی بہت ساری اشیاء (موبائل، کمپیوٹر، جہاز اور ٹرین وغیرہ) جن کا ذکر قرآن واحادیث میں نہیں ہے، ان سب کا استعمال ناجائز ہوگا ؛ حالا نکہ ایسا نہیں ہے؛ اس لیے یہ دیکھا جائے گا علماء امت کا بھینس کی قربانی کے سلسلہ میں کیا موقف اور عمل رہا ہے ؟فقہاء اور محدثین نے بھینس کی قربانی کو کس بنیاد پر جائز قرار دیا ہے؟ وہ اس سلسلے میں کیا فرماتے ہیں؟ اہل لغت کی کیا رائے ہے؟ اسی طرح بعض علماء غیرمقلد ین اس سلسلے میں کیا فرماتے ہیں؟۔ تو واضح رہے کہ تمام فقہاء، محدثین، اور اہل لغت حتی کہ بعض علماء غیر مقلدین نے بھی بھینس (جاموس)کو گائے (بقر)کی جنس سے مانا ہے؛ بلکہ اس پر اجماع ہے، یعنی بھینس گائے ہی کی ایک نوع…

Read more

ماہ ذی الحجہ فضائل و اعمال

*_ماہ ذی الحجہ: فضائل و اعمال_* (١) *نظام الہی ہے کہ سخت گرمی، تپش اور چلچلاتی دھوپ کے بعد برسات کا موسم آئے، رِم جھم بارش سے جھلستی جلدیں، انسانی دل و دماغ کو ٹھنڈک پہنچائی جائے، تھکے ہارے انسان کیلئے یہ بھی اس رحیم و کریم. کا بندوبست ہے کہ خاص مشروبات سے اس کی آنتیں ٹھنڈی اور روح پرسکون کر دی جائیں، تنگی بعد آسانی کا فارمولا اسی نے بنایا ہے، بندوں کو گناہوں سے بچانے اور اگر دامن عصیاں سے لگ جائے تو اسے پاک و صاف کرنے کیلئے توبہ و استغفار کا دروازہ بھی اسی نے کھولا ہے؛ جس میں بسااوقات ایسے مواقع بھی فراہم کر دیتا ہے کہ انسان کی معراج ہوجائے اور عبدیت کے فرائض انجام دیتا ہوا رب ذوالجلال کا سب سے قریبی بندہ بن جائے؛ چنانچہ یہ اللہ تعالی کا کرم و احسان ہے کہ وہ جس کو چاہے منتخب کرے اور جس کو چاہے ترک کرے، کسی کو افضل تو کسی کو مفضول قرار دے، وہ اللہ حاکم اور قادر مطلق ہے، مالک الملک اور سبھوں کا پالنہار ہے، اس سے کوئی سوال نہیں کیا جاسکتا، اس کے حکم کو کوئی رد نہیں کر سکتا؛ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی تخلیق اور عدل کے ساتھ اس نے بعض کو بعض پر فوقیت و اہمیت بھی دی ہے، فرشتوں میں روح الامین، انسانوں میں انبیاء اور ان میں بھی سردار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو ممتاز کیا ہے، تو وہیں ہفتے میں جمعہ کو اور مہینوں میں رمضان المبارک کو برتری عنایت کی ہے، مگر ایک روایت میں رمضان کے ساتھ ساتھ سید الشھور ذوالحجہ کو بھی قرار دیا گیا ہے، خاص طور پر ذی الحج کے ابتدائی دس دن کی فضیلت اور ان میں بھی یوم عرفہ کی اہمیت کو دوچند بیان کیا گیا ہے، بسااوقات یہ خیال آتا ہے کہ یوم عرفہ ہی سب سے افضل ترین دن ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ علماء کرام نے ان دونوں ماہ کا تقابلی جائزہ لیا ہے، اور اس بارے میں اختلاف نقل کیا ہے…

Read more