وہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئے
(15 سال قبل حضرت جی پیر ذوالفقار احمد نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ کے ہندوستان آمدپرلکھاگیا مضمون از قلم:جناب ندیم واجدی صاحب رحمہ اللہ دار العلوم دیوبند انڈیا) پاکستان سے تعلق رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ صوفی بزرگ حضرت مولانا ذوالفقار احمد نقشبندی مجددی مدظلہ العالی ان دنوں ہندوستان تشریف لائے ہوئے ہیں۔اپنے دورۂ ہند کے تیسرے مرحلے میں وہ دیوبند بھی تشریف لائے اور چار روز قیام کرکے حیدرآباد چلے گئے۔ قیام دیوبند کے دوران انہوں نے متعدد چھوٹی بڑی مجلسوں سے خطاب کیا ان کی تشریف آوری کے لوگ شدت سے منتظر تھے اور دور دور سے سفر کرکے ان کی ایک جھلک پانے کے لیے اور ان کی تقریریں سننے کے لیے دیوبند پہنچے ہوئے تھے۔ یوں تو دیوبند میں دارالعلوم کی برکت سے سال کے بارہ مہینے دینی اور علمی شخصیتوں کی آمدورفت رہتی ہے مگر شیخ ذوالفقار کی آمد کا واقعہ اپنے آپ میں بالکل انوکھا واقعہ ہے ، اگر یہ کہا جائے کہ وہ اس طرح آئے جیسے صحرا کی سخت دھوپ میں ہوا کا خوش گوار جھونکا میسر آجائے اور روح میں اتر کر اندر تلک شاداب و شرسار کرجائے تو اس میں کوئی مبالغہ نہ ہوگا ، اہل دیوبند کو یہ چار تاریخی دن مدتوں یاد رہیں گے اور دیر تک ان کے روحانی وجود کی مہک دیوبند کی فضاؤں میں رچی بسی رہے گی۔اس دورِ قحطِ الرجال میں حضرت مولانا پیر ذوالفقار نقشبندی کا وجود کسی نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں وہ اس امت کا ایک زندہ معجزہ ہیں انہیں دیکھ کر خدا یاد آتا ہے اور ان کی باتیں سن کر دلوں میں سوز اور تڑپ پیدا ہوتی ہے ۔ یہ صرف میں ہی نہیں کہہ رہا بلکہ تقریباً یہی جملے ہر اس شخص کی زبان پر ہیں جس نے ان چار دنوں میں سے کوئی ایک لمحہ بھی ان کے ساتھ گزار لیا ہے یا ان کی باتیں دل کے کانوں سے سن لی ہیں۔ واقعی کوئی زمانہ اﷲ کے نیک بندوں سے خالی نہیں رہتا ، اس کے ساتھ یہ بھی ایک ناقابل تردید…
Read more