HIRA ONLINE / حرا آن لائن
"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”

"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725 ماہ رمضان شروع ہوچکا ہے اور ہم سب ماہ رمضان المبارک کا روزہ اور تراویح شروع کرچکے ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل اور انعام ہوا کہ پھر ہم سب کو یہ مہینہ پھر نصیب ہوا، ورنہ کتنے لوگ جو پچھلے رمضان میں تھے اور آج وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں۔۔ اس لیے ہم سب، سب سے پہلے اللہ کا شکر ادا کریں۔ دوستو، بزرگو اور بھائیو!!! روزہ اسلام کا ایک اہم اور بنیادی رکن ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن پانچ چیزوں کو اسلام کی بنیاد قرار دیا ان میں ایک روزہ بھی ہے ۔قرآن مجید سے اس کی فرضیت اور اہمیت ثابت ہے ۔ روزے کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ اسلام کی طرح دوسرے ادیان و مذاہب کا بھی لازمی جز رہا ہے حتی کہ ان اقوام میں بھی جن کا اہل کتاب ہونا قطعی طور پر ثابت نہیں ہے روزہ کسی نہ کسی شکل میں پایا جاتا ہے ۔ قرآن مجید میں روزہ کے لئے جو لفظ استعمال ہوا ہے وہ صیام ہے جو *صوم* کی جمع ہے *صوم* کے لغوی معنی رکنے اور چپ رہنے کے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ درحقیقت انسانی خواہشات، بہیمی جذبات اور سفلی میلانات سے بچنے اور رکنے کا نام ہے ۔ *اللہ تعالٰی* نے انسان کے اندر دو طرح کی قوتیں ودیعت کی ہیں ۔ *حکیم الامت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رح* نے انہیں *قوت بہیمی* اور *قوت ملکی* سے تعبیر فرمایا ہے ۔ پہلی قوت معائب و مفاسد کا مجموعہ اور سر چشمہ ہے ،جب کے دوسری قوت خیر و خوبی اور نیکیوں کا مجموعہ ہے ۔ انسان کی بیہمی و شہوانی قوت کی شدت و جوش عام طور پر کھانے پینے کی کثرت اور جنسی لذتوں میں مشغولیت و انہماک سے پیدا ہوتی ہے ،اس لئے مذہب اسلام نے اس جوش و شدت کو کم کرنے…

Read more

دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدمات

دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدمات اسلامی تعلیم کا فروغ: دار العلوم دیوبند ہندوستان کا پہلا باقاعدہ مدرسہ ہے جہاں باضابطہ ہاسٹل کے ساتھ تعلیم شروع کی گئی۔ ورنہ اس سے پہلے علماء انفرادی طور پر اپنے اپنے گھر یا جگہ پر درس وتدریس کا کام انجام دیا کرتے تھے۔ اس عظیم دانش گاہ کو اسی لئے ام المدارس کہا جاتا ہے، اس درسگاہ نے اسلامی تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہاں قرآن، حدیث، فقہ، اور دیگر اسلامی علوم کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، دار العلوم دیوبند سے فارغ التحصیل علماء نے دنیا بھر میں اسلامی تعلیم کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ جنگ آزادی میں کردار: ہندوستان کا یہ پہلا اسلامی درسگاہ ہے جہاں سے بڑے بڑے مجاہدین آزادی نکلے، یہ شرف ہندوستان کے کسی اور ادارہ کا حاصل نہیں رہا ہے۔ علماء کی تربیت: دار العلوم دیوبند نے بہت سے نامور علماء کو تربیت دی ہے۔ ان علماء نے اسلامی دنیا میں مختلف شعبوں میں اہم خدمات انجام دی ہیں۔ اسلامی علوم کا کوئی ایسا شعبہ نہیں جس میں یہاں کے فارغین نے علمی خدمات انجام نہیں دی ہو۔ دار العلوم دیوبند نے اسلامی علوم اور ادب کی اشاعت میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہاں سے مختلف کتابیں اور رسائل شائع ہوتے ہیں جو اسلامی تعلیمات کو عام کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ اسلامی اصلاحات: دار العلوم دیوبند نے اسلامی اصلاحات کے لیے بھی کام کیا ہے۔ یہاں کے علماء نےنہ صرف یہ کہ مختلف مسائل پر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے اور اسلامی معاشرے کو بہتر بنانے کے لیے تجاویز پیش کی ہیں بلکہ علمی اقدامات بھی اٹھاے ہیں۔ یہی وجہ ہے یہاں کے علماء نے بڑی بڑی تنظیمیں قائم کی جس کی تاریخ امت اسلامیہ کا ایک روشن باب ہے۔ تبلیغی جماعت، جمعیہ علماء ہند، جمعیت علماء اسلام،آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ، آل انڈیا ملی کونسل وغیرہ وغیرہ جیسی تحریکیں اسی گلشن علمی کی خوشبو ہے۔ اسلامی اور دینی اداروں کا جال: دار العلوم دیوبند نے اسلامی ثقافت…

Read more

شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں

شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں مفتی محمد شمیم قاسمی مگہریمدرسہ عربیہ جامع العلوم گوپلا پور شاہ ، آنند نگر شبِ برات اسلامی سال کی اُن عظیم الشان اور بابرکت راتوں میں سے ہے جن میں اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص رحمتوں، مغفرتوں اور عنایات کو عام فرمایا ہے۔ یہ رات شعبان المعظم کی پندرھویں تاریخ کو آتی ہے۔ لفظ "برات” کے معنی نجات، خلاصی اور چھٹکارا کے ہیں۔ گویا یہ رات بندوں کو جہنم سے نجات اور گناہوں سے پاکیزگی عطا ہونے کی امید کی رات ہے۔ اہلِ سنت والجماعت دیوبند کا متفقہ اور معتدل مؤقف یہ ہے کہ شبِ برات کی اصل فضیلت احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہے، اور اس رات میں عبادت، توبہ، استغفار اور دعا کرنا مستحب ہے، مگر ایسے تمام طریقوں اور رسومات سے بچنا ضروری ہے جو شریعت سے ثابت نہیں یا جن میں افراط و تفریط پائی جاتی ہو۔ آیات قرآنیہ کی روشنی میں شبِ برات کا مفہوم اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰهُ فِیۡ لَیۡلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ ۚ اِنَّا كُنَّا مُنۡذِرِیۡنَ . فِیۡهَا یُفۡرَقُ كُلُّ اَمۡرٍ حَكِیۡمٍ ۔(سورۃ الدخان)ترجمہ:ہم نے اس (قرآن) کو ایک بابرکت رات میں نازل کیا، بے شک ہم ڈرانے والے ہیں، اسی رات میں ہر حکمت والا معاملہ طے کیا جاتا ہے۔ اگرچہ جمہور مفسرین کے نزدیک اس سے مراد لیلۃ القدر ہے، لیکن بعض اکابر اہلِ علم نے فرمایا ہے کہ سال بھر کے فیصلوں کا اجمالی اندراج شبِ برات میں اور تفصیلی اندراج لیلۃ القدر میں ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شبِ برات بھی ایک عظیم اور بابرکت رات ہے۔ احادیثِ مبارکہ سے شب برات کی فضیلتحضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:يَطَّلِعُ اللَّهُ إِلَىٰ خَلْقِهِ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِجَمِيعِ خَلْقِهِ إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاحِنٍ (ابن ماجہ)ترجمہ:اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرھویں رات اپنی مخلوق کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور تمام مخلوق کو بخش دیتا ہے سوائے مشرک اور کینہ رکھنے والے کے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ…

Read more

عقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدود

عقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدود (کچھ لوگ اس وہم مين مبتلا ہیں کہ عقل خدا کے وجود کو ثابت کر سکتی ہے، حالانکہ یہ بات مسلم ہے کہ عقل کبھی کسی متعین (definite) حقیقت کو ثابت نہیں کرتی، اللہ تعالیٰ اَعرَفُ المعارف ہیں، يعنى سارى متعين حقيقتوں سے زياده متعين ہیں، اور عقل کی ادراکاتی حدوں سے ماوراء، جب ہم عقل کو خدا کے وجود کو ثابت کرنے کا مکلف بناتے ہیں تو عقل، خدا کو اس کی خارجی اور حقیقی ذات سے الگ کرکے محض ایک کلی ذہنی تصور (concept) میں تبدیل کر دیتی ہے۔ یہ تصور قابلِ حلول اور قابلِ اتحاد ہوتا ہے، کوئی نظام مسلسل ہو سکتا ہے، اور اس کا اطلاق متعدد مصادیق پر کیا جا سکتا ہے۔ اس تصور کے لیے توحید لازم نہیں، بلکہ اس کی طينت میں شرک داخل ہے۔ دوسرے لفظوں ميں عقل اس خدا کو ثابت نہیں کرتی جس كى دعوت قرآن مين ہے، اور جس پر مسلمانوں کا ایمان ہے۔ مزید یہ کہ خدا کو محض عقل کے ذریعے ثابت کرنے کا گمان قرآن سے متناقض ہے، اور یہ طرزِ فکر مسلمانوں کو کتابِ الٰہی میں حقیقی تدبر سے بھی روکتا ہے۔ اسی نکتے کی وضاحت کے لیے میں نے مضامین کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے، اور زیرِ نظر مضمون اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔) از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوىآكسفورڈ9/1/2026 عقل انسانی ایک ایسی ادراکی قوّت ہے جو دیگر مداركـ سے اس اعتبار سے ممتاز ہے کہ وہ جزوی مشاہدات سے کلی اور مجرد معانی اخذ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، حسی ادراک اشیاء کو ان کے وقتی و مکانی تعیّن کے ساتھ حاصل کرتا ہے، اور محدود تجربے کی روشنی میں ان کی پہچان کرتا ہے، لیکن عقل ان جزئیات سے ایک عالی مرتبہ کا شعوری نقش اخذ کرتی ہے، اور انہیں عمومی تصورات کی شكل میں مرتب کر کے ایک فکری نظام قائم کرتی ہے۔ یہی وصف عقل کی طاقت بھی ہے اور اس کے حدود کا تعین بھی۔ عقل قادر ہے کہ وہ کلی اصول وضع کرے، ان…

Read more

ڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشور

ڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشور از : مولانا ابو الجیش ندوی آزاد ہندوستان کی تاریخ میں کچھ شخصیات محض افراد نہیں ہوتیں بلکہ ادارے بن جاتی ہیں، رجحانات کو جنم دیتی ہیں اور آنے والی نسلوں کی فکری سمت متعین کرتی ہیں۔ ڈاکٹر محمد منظور عالمؒ (1945–2026) ایسی ہی ہمہ جہت شخصیت تھے جنہوں نے علم، تحقیق، ادارہ سازی اور ملت کی اجتماعی قیادت کو ایک وحدت میں پرو دیا۔ ان کی زندگی ایک ایسا سفر تھی جو جذباتی ردعمل سے ہٹ کر ڈیٹا پر مبنی فکر کی طرف مائل کرتی ہے۔ ابتدائی زندگی اور علمی تشکیل ڈاکٹر منظور عالمؒ 9 اکتوبر 1945 کو مدھوبنی، بہار میں پیدا ہوئے۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا انتخاب کیا، جہاں سے معاشیات میں PhD حاصل کی۔ یہ وہی دور تھا جب ان کے اندر اسلامی فکر اور عصری سماجی علوم کے امتزاج کا وژن ابھرا۔ بعد میں سعودی عرب منتقل ہوئے، جہاں اسلامی معیشت پر تدریس و مشاورت کی اور سعودی وزارتِ خزانہ کے اقتصادی مشیر رہے۔ مدینہ منورہ کے King Fahd Qur’an Printing Complex میں قرآن ترجمہ کے قومی منصوبے کے چیف کوآرڈینیٹر کے طور پر ان کی خدمات کو عالمی سطح پر سراہا گیا۔ انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز (IOS): فکر کی ادارہ سازی 1986 میں نئی دہلی میں قائم ہونے والا Institute of Objective Studies (IOS) ڈاکٹر منظور عالمؒ کے فکری وژن کا عملی مظہر تھا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ ہندوستانی مسلمانوں کو جذبات کے بجائے تحقیق اور پالیسی پر مبنی سوچ کی ضرورت ہے۔ IOS نے:410 سے زائد تحقیقی منصوبے مکمل کیے400 سے زیادہ معیاری اشاعتیں شائع کیں1200 سے زائد کانفرنسیں، سیمینارز اور ورکشاپس منعقد کیںیہ ادارہ تعلیم، معاشیات، سماجی انصاف، اقلیتی حقوق، فرقہ واریت اور ثقافتی شناخت جیسے شعبوں میں ہندوستانی مسلم فکر کا معتبر مرکز بن گیا۔ انہوں نے تحقیق کو محض علمی ورزش نہیں بلکہ ملت کے اجتماعی فیصلوں کی بنیاد بنایا۔ آل انڈیا ملی کونسل: فکر سے عمل کی طرف IOS اگر فکر کا مرکز تھا تو آل انڈیا…

Read more

سہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پرواز

سہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹرپرواز رحمانی کی آخری پرواز معصوم مرادآبادی میں ابھی ابھی سینئر صحافی اور ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی تدفین میں شرکت کرکے واپس آیا ہوں۔ان کی تدفین میں عوام وخواص کی خاصی بڑی تعداد شریک تھی اور ہر زبان پر ان کی صحافت اورشرافت کے یکساں چرچے تھے۔ بلاشبہ پرواز رحمانی جتنے ذہین، سنجیدہ اورباوقار صحافی تھے، اتنے ہی اچھے اور بااخلاق انسان بھی تھے۔ انھوں نے نصف صدی پر محیط اپنی صحافتی زندگی میں ہمیشہ صحافت کی اعلیٰ اقدار کی پاسبانی کی اور کبھی سنسنی خیزی یا زرد صحافت کو منہ نہیں لگایا۔ وہ اردو صحافیوں کی اس نسل کے آخری آدمیوں میں سے تھے جن کے نزدیک صحافت ایک پروفیشن سے زیادہ ایک مشن کا درجہ رکھتی تھی ۔ پرواز رحمانی کچھ عرصے سے صحت کے مسائل سے نبرد آزما تھے۔آخری دنوں میں انھیں برین ہیمریج کی وجہ سے اوکھلا کے الشفاء اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جہاں انھوں نے گزشتہ رات آخری سانس لی۔لوگوں کو امید تھی کہ وہ الشفاء اسپتال سے شفایاب ہوکر واپس آئیں گے، لیکن یہ ممکن نہیں ہوسکا اور وہ وہاں چلے گئے جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا۔ان سے میرا تعلق اس زمانے سے تھا جب ’دعوت‘ کا دفتر پرانی دہلی کے سوئیوالان علاقہ میں واقع تھا۔ وہیں ان کی رہائش بھی تھی، لیکن جماعت اسلامی کے دفاتر کے ساتھ ’دعوت‘ کا دفتر بھی اوکھلا منتقل ہوا تو وہ بھی بادل نخواستہ اوکھلا چلے گئے، لیکن کافی عرصہ ان کی رہائش سوئیوالان کے پرانے مکان ہی میں رہی۔ وہ ڈی ٹی سی کی بس میں بیٹھ کر روزانہ اوکھلا جاتے تھے اور شام کو کام نپٹاکر گھر واپس آجاتے تھے۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ ’دعوت‘ کے مستقل کالم ”خبرونظر“ کے معیارکو برقرار رکھنا تھا۔’دعوت‘ میں یہ کالم اس کے سابق ایڈیٹر محمد مسلم نے شروع کیا تھا۔ پرواز رحمانی کی صحافتی تربیت بھی محمدمسلم نے ہی کی تھی اور وہ انھیں صحافت میں اپنا رہنما تصور کرتے تھے۔ محمدمسلم کی خوبی یہ تھی کہ ان کا دائرہ بہت…

Read more