Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
01.02.2026
Trending News: Quranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکامسہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(٢)سہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(١)ہندوستانی مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہو ؟🔰ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل۔اسلام میں سود کی حرمت قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائیقرض حسن اور اس سے متعلق احکامساس جو کبھی بہو تھیعلامہ شبیر احمد عثمانی ایک عظیم مفسر قرآنبہار: این ڈی اے کے گلے ہار، مہا گٹھ بندھن کی ہارکیا آنکھ کا عطیہ جائز ہے؟ مائیکرو فائنانس کے شرعی احکامہیلتھ انشورنسملک و ملت کی نازک صورت حال میں مسلمانوں کے لئے رہنما خطوط مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کی تحریروں کی روشنی میںتلفیق بین المذاھب اور تتبع رخص ایک مطالعہ از : اسجد حسن ندویبچوں کی اسلامی تربیت : کچھ رہ نما اصول ڈاکٹر محمد سلیم العواترجمہ: احمد الیاس نعمانیخلافتِ بنو امیہ تاریخ و حقائقسادگی کی اعلی مثال : ڈاکٹر محمد نذیر احمد ندوی رحمۃ اللہ علیہحلال ذبیحہ کا مسئلہاستاذ محترم ڈاکٹر مولانا نذیر احمد ندوی کی یاد میںکتاب پر رحم نہ کرو ! پڑھومفتی منور سلطان ندوی: ایک صاحبِ علم، صاحبِ قلم اور صاحبِ کردار عالمِ دین از : زین العابدین ہاشمی ندوی ،نئی دہلیہیرا جو نایاب تھاکتابوں سے دوری اور مطالعہ کا رجحان ختم ہونا ایک المیہحضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور عصری آگہی از : مولانا آدم علی ندویمطالعہ کا جنوں
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
  • Get Started
01.02.2026
Trending News: Quranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکامسہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(٢)سہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(١)ہندوستانی مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہو ؟🔰ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل۔اسلام میں سود کی حرمت قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائیقرض حسن اور اس سے متعلق احکامساس جو کبھی بہو تھیعلامہ شبیر احمد عثمانی ایک عظیم مفسر قرآنبہار: این ڈی اے کے گلے ہار، مہا گٹھ بندھن کی ہارکیا آنکھ کا عطیہ جائز ہے؟ مائیکرو فائنانس کے شرعی احکامہیلتھ انشورنسملک و ملت کی نازک صورت حال میں مسلمانوں کے لئے رہنما خطوط مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کی تحریروں کی روشنی میںتلفیق بین المذاھب اور تتبع رخص ایک مطالعہ از : اسجد حسن ندویبچوں کی اسلامی تربیت : کچھ رہ نما اصول ڈاکٹر محمد سلیم العواترجمہ: احمد الیاس نعمانیخلافتِ بنو امیہ تاریخ و حقائقسادگی کی اعلی مثال : ڈاکٹر محمد نذیر احمد ندوی رحمۃ اللہ علیہحلال ذبیحہ کا مسئلہاستاذ محترم ڈاکٹر مولانا نذیر احمد ندوی کی یاد میںکتاب پر رحم نہ کرو ! پڑھومفتی منور سلطان ندوی: ایک صاحبِ علم، صاحبِ قلم اور صاحبِ کردار عالمِ دین از : زین العابدین ہاشمی ندوی ،نئی دہلیہیرا جو نایاب تھاکتابوں سے دوری اور مطالعہ کا رجحان ختم ہونا ایک المیہحضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور عصری آگہی از : مولانا آدم علی ندویمطالعہ کا جنوں
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

اردو تدریس کی موجودہ صورت حال -مسائل اور حل

  1. Home
  2. اردو تدریس کی موجودہ صورت حال -مسائل اور حل

اردو تدریس کی موجودہ صورت حال -مسائل اور حل

  • hira-online.comhira-online.com
  • مضامین و مقالات
  • جنوری 13, 2025
  • 0 Comments

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ

اردو تدریس کی موجودہ صورت حال بہت اچھی نہیں ہے، اس کی وجہ مادری زبان اردو میں بچوں کی تعلیم سے عدم التفات ہے، جب کہ تمام ماہرین تعلیم اس بات پر متفق ہیں کہ مادری زبان ابتدائی تعلیم کے لیے مناسب اور بہترین زبان ہے، لیکن اس کے بر عکس اردو کے عاشقین کی بھی پہلی پسند اپنے بچوں کے لیے انگلش میڈیم اورکنونٹ جیسے تعلیمی ادارے ہیں، ان کے گھروں میں بھی انگریزی زبان بولی جاتی ہے، تاکہ بچہ فرفر انگریزی بولنے لگے، ہمارا سفر ہوتا رہتا ہے اور ہر طبقے میں ہوتا ہے، آج تک کوئی گارجین ایسا نہیں ملا؛ جو مجھے یہ کہہ کر اپنے بچہ سے ملا کہ لڑکا فرفر اردو یا عربی بولتا ہے، انگریزچلے گیے، لیکن انگریزی زبان سے مرعوبیت چھوڑ گیے، ایک بڑی یونیورسٹی میں جو عربی وفارسی کے ہی نام پر قائم ہے، حضرت امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم کے ساتھ جانا ہوا، ہم سب مولوی ہی تھے اور اردو بولنے والے بھی تھے، سامنے والے بڑے عہدہ پر تھے، بات اردو میں شروع ہوئی، تھوڑی دیر کے بعد انہوں نے انگریزی بولنا شروع کیا؛ تاکہ ہم سب لوگ مرعوب ہوں، ہم لوگ مولوی ہی نہیں داڑھی ٹوپی والے تھے، سوچا ہوگا کہ یہ انگریزی کیا جانتے ہوں گے، مرعوب ہوجائیں گے، حضرت امیر شریعت نے اس بات کو محسوس کیا اور فصیح انگریزی زبان میں جب جواب دینے لگے تو افسر موصوف سٹپٹا گیے، انہیں توقع نہیں تھی کہ یہ مولوی ہم سے اچھی انگریزی جانتا ہوگا، وہ اس قدر مرعوب ہوئے کہ انہیں صرف Yes, No ہی یاد رہ گیا، یہ واقعہ اس لیے ذکر کیا کہ اردو الے بھی انگریزی سے کس قدر مرعوب ہیں، انگریزی کے ٹیوٹر ہمارے اردو داں خوب رکھتے ہیں، لیکن اردو کے ٹیوٹر خال خال ہی رکھے جاتے ہیں، اگر کسی نے رکھ لیا تو انگریزی اور اردو کے ٹیوشن فیس میں آپ کونمایاں فرق ملے گا۔

ظاہر ہے جب بچے نے ابتدائی مرحلہ میں اردو نہیں سیکھی، اسے بولنا، لکھنا نہیں آیا، گھر میں انگریزی تہذیب اور انگریزی الفاظ کا استعمال کثرت سے ہوتا ہے ایسے میں بچے کو اردو زبان آتی ہی نہیں،اسکول میں جو اردو کے اساتذہ ہیں، ان کی دلچسپی بھی عموما اردو تدریس سے کم، ادارے تنظیمیں جمعتیں، جماعتیں اور ان تحریکات سے زیادہ ہیں، جن سے اخبارات میں تصویریں چھپیں، ان سے دریافت کیجئے کہ پوری مدت ملازمت میں اردو کے کتنے آدمی تیار کیے، بغلیں جھانکنے لگیں گے، یہ معاملہ تنقید کا نہیں، احتساب کا ہے، احتساب سے اپنی کمیوں کے تجزیہ اور عمل میں سدھار کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، اس کے بر خلاف جو اساتذہ پرانے تھے، انہوں نے پرانے انداز میں اپنے اساتذہ سے اردو لکھنا، بولنا، پڑھنا سیکھا تھا، انہیں اساتذہ نے نقل نویسی اور املا نویسی کی مشق کرائی تھی، واحد جمع کے اصولی قواعد سکھائے تھے، تذکیر وتانیث کی علامتیں اورمحل استعمال بتایا تھا، محاورے اور ضرب الامثال سے واقفیت بہم پہونچائی تھی، اس لیے ان کی محنت طلبہ پر اچھی خاصی ہوتی تھی او روہ اردو سیکھ جاتے تھے، لیکن استاذ کی وہ نسل بھی اب دھیرے دھیرے ختم ہو گئی، بعضے سبکدوش ہو گیے اور بعضوں نے دنیا ہی چھوڑ دیا، اب جو نسل اردو پڑھا رہی ہے، ان میں سے بیش تر کو اردو خود ہی نہیں آتی ہے، اس کا اندازہ ان مضامین اور خبروں کو دیکھ کر ہوتا ہے، جس میں اردو املا کے ساتھ تذکیر وتانیث اور واحد جمع تک کی غلطیاں پائی جاتی ہیں، بعض ان کتابوں کو دیکھ کر بھی اردو کی حالت زار کا انداز ہوتا ہے، جو بغیر کسی اہل نظر کی نظر ثانی کے طباعت کے مراحل سے گذر گئیں، یہی حال اردو اخبارات کا ہے، بعض الفاظ کااملا دیکھ کر سر پیٹنے کو جی چاہتا ہے،مستثنیات سب جگہ ہیں، یہاں بھی بعض اساتذہ اردو کی تدریس میں بہت اچھے ہیں اور ان کے طلبہ بھی کامیاب نکل رہے ہیں، بعض صحافی کی غیر معمولی صلاحیت پر رشک آتا ہے، لیکن یہ معاملہ خاص خاص کا ہے، عمومی احوال وہی ہیں، جس کا ذکر اوپر آچکا ہے۔

اس بے توجہی کی بڑی وجہ اردو کے طلبہ کے لئے بہترین ملازمت کے مواقع کی کمی ہے، استاذ مترجم اور معاون مترجم میں بحالیاں ہوجاتی ہیں، لیکن کتنے اردو داں اس ملازمت میں سما سکتے ہیں،جو سما گیے ان کی دلچسپی بھی ترجمہ سے زیادہ دوسرے فائل نمٹانے سے ہوتی ہے، کیوں کہ اس میں بالائی آمدنی کے مواقع زیادہ نظر آتے ہیں،اس دور میں جب پیشہ وارانہ تعلیم ہمارے رگ وریشے میں سما گیا ہے اور تعلیمی اداروں میں شائقین زبان وادب کے بجائے ان طلبہ کا ہجوم ہے جن کو بتایا گیا ہے کہ اس ڈگری کے حصول پر روٹی کے دو ٹکڑے اور شوربے کا ایک پیالہ مل سکتا ہے تو سارے ادھر ہی بھاگے جا رہے ہیں، اور اردو پڑھنے والوں کی تعداد دن بدن کم ہوتی جا رہی ہے، جو پڑھ رہے ہیں وہ بھی احساس کمتری کے شکار ہیں، وہ اپنے کو دوسرے مضامین پڑھ رہے طلبہ سے کم تر سمجھتے ہیں اور انہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہماری قدر سماج میں انگریزی اور سائنس پڑھ رہے طلبہ سے کم ہے، یہ احساس کم تری ان کو حوصلہ شکنی کے مقام تک پہونچا دیتی ہے، ہم ہائی اسکول سطح پر اردو اختیاری نہیں، لازمی مادری زبان کی حیثیت سے پڑھانے اور ہر ہائی اسکول میں کم از کم ایک استاذ کی بحالی پر زور دیتے ہیں، دینا بھی چاہیے، لیکن ہمیں اس صورت حال کا بھی جائزہ لینا چاہیے کہ اردو ایک مضمون کی حیثیت سے رکھنے کے خواہش مند کتنے طلبہ ہیں؟ اور ہم نے کتنے کو اس مضمون کے رکھنے کے لیے تیار کیا ہے؟اردو درس وتدریس کے حوالہ سے طلبہ اور اساتذہ کے سامنے ایک بڑا مسئلہ اس کی املا نویسی کا ہے، اردو کے نصاب میں الفاظ کی تحلیل اور املا میں سدھار کی جو غیر فطری تجویزیں آتی رہتی ہیں، اس نے طلبہ واساتذہ کو حیران کر رکھا ہے، کوئی املا کا مدار حرف کی صوت پر رکھنے کی بات کرتا ہے اور کوئی قدیم املا کو باقی رکھنے کی سفارش کرتا ہے، صوت پر املا کی بنیاد رکھنے کا مطلب ہے کہ ہم سدا (ہمیشہ) صدا (آواز) خار (کانٹا) خوار (ذلیل) خان (ذات) خوان (دسترخوان) کو ایک ہی طرح لکھنے لگیں، طوطا میں آواز ”ط“ کی کون نکالتا ہے، اس لیے تو تا”ت“ سے لکھا جانے لگے، طشتری ”ت“ سے لکھا جائے، علٰحدہ، علاحدہ، مولانا، موسیٰ اور عیسیٰ کو الف سے اور بالکل کو بغیر الف کے لکھا جائے، ان سفارشات کا بڑا نقصان یہ کہ اردو زبان میں جو ہم خاندان السنہ ایک موضوع کے طور پر پڑھاتے ہیں،ا لفاظ کے املا بدلنے سے ان کا خاندان گم ہو جاتا ہے، مثلا بالکل عربی زبان سے آ یا ہے، اس لیے اس کو الف سے لکھنا ہی ہوگا، عیسیٰ موسیٰ کا املا بھی متعین ہے اور اس کا تلفظ چاہے جو ہو، املا وہی ہے جس طرح قرآن کریم میں لکھا ہوا ہے، اسی طرح معدولات یعنی وہ حروف جو تلفظ میں نہیں آتے، ان کو ہٹا دینے سے بھی اس لفظ کا خاندان گم ہوجائے گا، اور یہ کہنا کہ اس سے طلبہ کو لکھنے میں آسانی ہوجائے گی، خواہ مخواہ کی بات ہے، یہی لوگ جب انگریزی بولتے، لکھتے اور پڑھاتے ہیں تو نالج اور نائف کے "K”سائلنٹ کو حذف کرنے کی بات نہیں کرتے اور اردو میں ساری تجویزیں اول جلول کی آتی رہتی ہیں۔

اردو زبان کی تدریس کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم اس زبان کو اجنبی زبان کی طرح پڑھاتے ہیں، اسکولوں اور کالجوں میں اردو زبان کو صرف ایک مضمون کی طرح پڑھایا جاتا ہے، زبان کی طرح نہیں، اردو تدریس میں ایک کام متن کی خواندگی کا ہے، متن کی خواندگی صحیح نہیں ہو تو درست مفہوم تک نہیں پہونچا جا سکتا، میرا جب سعودی عرب کے جدہ واقع انڈین اسکول میں جانا ہوا تو اردو کے ایک استاذ نے باتوں باتوں میں میرا وہ مشہور شعر پڑھا کہ

جانا نہ تھا مجھے جہاں سو بار واں گیا

ضعف قُویٰ سے دست بدیوارواں گیا

اس شعر میں انہوں نے متن کی خواندگی میں فاش غلطی کی، کہ قُویٰ کو قو ِی پڑھ لیا، میں نے زیر لب مسکراتے ہوئے ان سے پوچھا کہ ضعف قوی کا کیا مطلب ہے کہنے لگے بہت کمزوری، حالاں کہ یہ لفظ قُویٰ ہے، اعضاء وجوارح ہاتھ پاؤں وغیرہ کے معنی، جب اردو کے اساتذہ کا یہ حال ہوگا تو طلبہ کیسے نکلیں گے، آپ خود سوچ سکتے ہیں۔

اس لیے تدریس میں متن کی صحیح خواندگی پر زور دیا جائے، تدریس میں طلبہ کا بھی رول ہو زیادہ سے زیادہ سوالات کرکے عبارت کا ماحصل طلبہ کے ذہن وماغ میں بیٹھایا جائے، ان کی نفسیات کا خیال رکھا جائے اور ہر ہر طالب علم کو اہمیت دی جائے، تاکہ استاذ کی توجہ ہر طالب علم پر رہے، یقینا کلاس طلبہ کی جماعت سے تیار ہوتا ہے، لیکن ہمیں سمجھنا چاہیے کہ ان میں کا ہر فرد ہمارا مخاطب ہے، اور یقینا کلاس کے تمام لڑکوں کی قوت تفہیم اور معلومات کی سطحیں الگ الگ ہوتی ہیں، ہمیں اردو کو خالص ادبی حیثیت سے نہیں بلکہ معنی کی تفہیم وترسیل کے مقصد سے بھی پڑھانے کی ضرورت ہے۔آج کل ایک خرابی یہ بھی ہے کہ طلبہ تو طلبہ ہی ہیں اساتذہ کا تلفظ بھی صحیح نہیں ہوتا ہے، اس کی وجہ نیچے درجات میں تلفظ کا صحیح نہیں ہونا ہے، اس کے لیے تلفظ کی مشق ضروری ہوتی ہے، ج،ز، ض، س، ش، ص میں فرق کرنے کی مشق ابتدائی تعلیم سے ہی ضروری ہے، ورنہ اگر بنیاد صحیح نہیں ہوئی تو کہا جاتا ہے کہ تاثریا می روددیوار کج۔دیوار جتنی بھی بلند ہو جائے ٹیڑھی ہی رہے گی۔اردو ہی نہیں تمام موضوعات کی تدریس کے لیے سبق کی مؤثر منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے، جسے تدریس کی زبان میں ”لیسن پلان“ کہتے ہیں، ہمارے یہاں سرکاری سطح پر سبق کی منصوبہ بندی کے لزوم کے باوجود اس کا اہتمام نہیں کیا جاتا، حالاں کہ اگر آپ ذہنی منصوبہ بندی کرکے اسے کاغذ پر منتقل کر لیتے ہیں تو آموزش،سیکھنے سکھانے کا عمل خوش گوار ہوگا اور درسگاہ میں طلبہ کے اندر شوق وذوق پیدا ہوگا، جس سے سبق پڑھانا آسان ہوگا، اور ہم اپنی صلاحیتوں کو طلبہ تک منتقل کر سکیں گے۔

خواجہ غلام السیدین کا قول ہے کہ اچھے استاذ کی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے شعور وآگہی میں طلبہ کو شریک کر لے، یعنی جو کچھ وہ جانتا ہے، طلبہ میں منتقل کر دے، اچھے استاذ کے لیے بہت ساری معلومات کا اس کے پاس ہونا ضروری نہیں ہے، بلکہ صحیح معلومات کو طلبہ تک منتقل کرنے کی صلاحیت اس کے پاس ہونی چاہیے۔

مؤثر منصوبہ بندی کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ طلبہ کی ذہنی صلاحیت اور مبلغ علم کو سامنے رکھا جائے، اس کے بعد تدریس کا خاکہ، مقاصد تدریس، ذہنی آمادگی، متن کی خواندگی، تفہیمی سوالات، نئے الفاظ کے معنی تک رسائی وغیرہ مؤثر منصوبہ بندی کے ذیلی عناوین ہو سکتے ہیں، ان میں سے ہر ایک کی اپنی اہمیت ہے اور اس کے بغیر کامیاب تدریس کے تصور کو خواب وخیال یا احمقوں کی دنیا میں رہنے کے مترادف سمجھنا چاہیے۔

ایک اور کام جو تدریس کے حوالہ سے ہمیں کرنا چاہیے وہ ہے تدریس کے طریقہئ کار میں تبدیلی، چہک وغیرہ میں طلبہ کو پڑھایا ہی نہیں جاتا، آموزش کے عمل کو استاذ اور شاگرد ناچ گا کر بھی سیکھتے سکھاتے ہیں، میں اس کو تدریس کی سنجیدگی کے خلاف اور چھوٹے چھوٹے بچوں کو کمر ہلا کر رقص کی طرف مائل کرنا سمجھتا ہوں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس طرح سے طلبہ میں دلچسپی پیدا ہوتی ہے، مجھے خود ایک بار سنٹرل انسٹی چیوٹ آف انڈین لنگویج نے سو لن کے ورکشاپ میں بلایا تھا اور موضوع دیا تھا کہ کھیل کھیل میں بچوں کو کیسے پڑھائیں، انیس روزہ ورک شاپ میں شرکاء نے جو”کھیل کھیل میں بچوں کو کیسے پڑھائیں“ کے عنوان سے کھیل بنائے، اس کو این سی پی اول نے اردو زبان کے جادو کے عنوان سے دو جلدوں میں شائع کر دیا ہے، میں نے اس میں سارے ایسے کھیل بنائے، جس میں ڈانس اور کمر ہلا نے کی ضرورت نہ پڑے، تدریس کی سنجیدگی بر قرار رہے، اردو کے اساتذہ کو بھی روایتی اور سرکاری طریقہ کار سے الگ ہٹ کر اپنے درس کو دلکش بنانا چاہیے، اس کے لیے جدید تدریسی آلات کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ موبائل او رانٹر نیٹ لڑکوں کا ذوق بن گیا ہے، ہم اسے تدریس کے کاموں میں آن لائن تعلیم سے الگ ہٹ کر کس طرح اور کس قدر استعمال کر سکتے ہیں اس پر بھی غور کرنا چاہیے۔ان مسائل سے نمٹنے کے لیے اردو دوست حضرات کو آگے آنا پڑے گا، طلبہ میں اردو زبان وادب کے تئیں دلچسپی پیدا کرنی ہوگی، گھر میں بھی اردو لکھنے، پڑھنے اور بولنے کا ماحول دینا ہوگا، گارجین کو بھی اردو لکھنا، پڑھنا اور صحیح تلفظ کے ساتھ بولنے کی مشق کرنی ہوگی، تبھی بچوں میں اردو سیکھنے اور پڑھنے کا شوق پیدا ہوگا، ان کے ذہن میں یہ بات راسخ کرنی ہوگی کہ دوسرے علوم وفنون تم روزی روٹی کے لیے پڑھ رہے ہو، لیکن تمہاری مادری زبان اردوہے، علوم وفنون کا بڑا سرمایہ اور معلومات کا خزانہ اس میں موجود ہے،اس لیے اس میں ماں کی محبت کا عنصر بھی شامل ہونا چاہیے، انہیں بتائیے کہ اردو صرف ایک زبان نہیں، تہذیب بھی ہے،زبانیں اپنی تہذیب کے ساتھ ہی زندہ رہا کرتی ہیں، آپ خوابگاہ کو بیڈ روم، باورچی خانہ کو کچن، استقبالیہ کمرے کو ڈرائنگ روم، طعام گاہ کو ڈائننگ ہال، غسل خانہ کو باتھ روم، چمچے کو اسپون، پانی کو واٹر، کرسی کو چیر، میز کو ٹیبل، کھڑکی کو ونڈو،ناشتہ کو بریک فاسٹ، دن کے کھانے کو لنچ اور رات کے کھانے کو ڈِنر کہہ کر اردو کی حفاظت نہیں کر سکتے، اردو کی حفاظت اس کے الفاظ اور رسم الخط کی حفاظت سے ہو گی، اساتذہ کو اردو تدریس کے تئیں سنجیدہ ہونا ہوگا، یہ صحیح ہے کہ آن لائن حاضری بنانے کے لزوم نے اسکولوں میں اساتذۃ کی حاضری کا تناسب سو فی صد تک پہونچا دیا ہے، لیکن حاضری کے بعد اردو کے اساتذہ اردو نہیں پڑھائیں، کلاس میں موبائل دیکھ کر وقت گذاردیں یا وہ دوسرے موضوعات پڑھانے میں لگ جائیں تو اردو کی تعلیم کہاں سے ہو سکے گی، ہماری دو کانوں اور سرکاری دفاتر پر اردو میں بورڈ نہ لکھا ہو تو کس طرح اس کے پڑھنے کا شوق پیدا ہوگا، دوسری زبانوں کے بولنے والے اس قدر حساس ہیں کہ تامل، تلگو، بنگلہ، کنڑ وغیرہ بولنے والے اپنی مادری زبان کے علاوہ دوسری زبانوں کا قطعا استعمال نہیں کرتے، دوکانوں اور دفاتر پر بھی بورڈ دوسری زبانوں میں لگانہیں ہوتا، آپ وہاں جا کر ہندوستان کے شہری ہونے کے باوجود اجنبیت محسوس کریں گے، ریلوے اسٹیشنوں کے علاوہ ہندی کا نام ونشان کہیں بھی نظر نہیں آئے گا، میں آپ لوگوں کواس قدر متعصب ہونے کی تلقین نہیں کرتا، لیکن دوسری زبانوں کے ساتھ اپنی زبان کے ساتھ بھی انصاف کیجئے، ہمارے یہاں اردو کے حوالہ سے مدارس اسلامیہ کے علاوہ شاخوں کو پانی پٹانے کا عمل جاری ہے، ضرورت ہے جڑوں میں پانی دینے کی، جڑ میں پانی دینے کا یہ عمل، گھر اور اسکول سے شروع کیجئے، یقینا مسائل ہیں، لیکن مسائل سے نبرد آزما ہوئیے، اپنے اندر کمی ہے تو اس کا بھی محاسبہ کیجئے، کمیوں کو دور کیجئے، خوب اچھی طرح یاد رکھیے،زبانیں سرکاری سر پرستی سے نہیں، بولنے، لکھنے، پڑھنے اور استعمال سے زندہ رہتی ہیں، ورنہ حبرو زبان کب کی مر گئی ہوتی، در بدری اور خانہ بدوشی کے زمانہ میں بھی یہودیوں نے اسے پڑھ لکھ کر گھروں میں زندہ رکھا، اور کوئی بائیس سو سال زندہ رکھنے کے بعد جب اسرائیل کی حکومت قائم ہوئی تو پہلی ڈکلیریشن میں ہی اسے سرکاری زبان کا درجہ مل گیا۔

آپ پر کسی قسم کی پابندی نہیں ہے، اردو یہاں دوسری سرکاری زبان ہے، اس کی ترویج واشاعت کے بڑے مواقع حاصل ہیں، بس اتنا دھیان رکھنے کی ضرورت ہے کہ حکومت کی طرف اٹھی ایک انگلی کے بعد تین انگلیاں ہماری طرف رخ کر کے پوچھ رہی ہیں کہ اردو کے عاشقین اردو کی بقا، ترویج واشاعت اور نئی نسل تک اسے منتقل کرنے کے لیے کیا کچھ کر رہے ہیں، حکومت پر دباؤ بنانے کے ساتھ اپنی ترجیحات کا رخ بھی اردو کی طرف کر دیجئے، صورت حال بھی بدلے گی اور مسائل بھی حل ہوں گے۔

ان ارید الاالاصلاح مااستطعت وما توفیقی الا باللہ

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

برف باری حسن ہے کشمیر کا
قرآن مجید سے تزکیۂ نفس

Related Posts

شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں
  • hira-online.comhira-online.com
  • جنوری 29, 2026
  • 0 Comments
شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں

شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں مفتی محمد شمیم قاسمی مگہریمدرسہ عربیہ جامع العلوم گوپلا پور شاہ ، آنند نگر شبِ برات اسلامی سال کی اُن عظیم الشان اور بابرکت راتوں میں سے ہے جن میں اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص رحمتوں، مغفرتوں اور عنایات کو عام فرمایا ہے۔ یہ رات شعبان المعظم کی پندرھویں تاریخ کو آتی ہے۔ لفظ "برات” کے معنی نجات، خلاصی اور چھٹکارا کے ہیں۔ گویا یہ رات بندوں کو جہنم سے نجات اور گناہوں سے پاکیزگی عطا ہونے کی امید کی رات ہے۔ اہلِ سنت والجماعت دیوبند کا متفقہ اور معتدل مؤقف یہ ہے کہ شبِ برات کی اصل فضیلت احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہے، اور اس رات میں عبادت، توبہ، استغفار اور دعا کرنا مستحب ہے، مگر ایسے تمام طریقوں اور رسومات سے بچنا ضروری ہے جو شریعت سے ثابت نہیں یا جن میں افراط و تفریط پائی جاتی ہو۔ آیات قرآنیہ کی روشنی میں شبِ برات کا مفہوم اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰهُ فِیۡ لَیۡلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ ۚ اِنَّا كُنَّا مُنۡذِرِیۡنَ . فِیۡهَا یُفۡرَقُ كُلُّ اَمۡرٍ حَكِیۡمٍ ۔(سورۃ الدخان)ترجمہ:ہم نے اس (قرآن) کو ایک بابرکت رات میں نازل کیا، بے شک ہم ڈرانے والے ہیں، اسی رات میں ہر حکمت والا معاملہ طے کیا جاتا ہے۔ اگرچہ جمہور مفسرین کے نزدیک اس سے مراد لیلۃ القدر ہے، لیکن بعض اکابر اہلِ علم نے فرمایا ہے کہ سال بھر کے فیصلوں کا اجمالی اندراج شبِ برات میں اور تفصیلی اندراج لیلۃ القدر میں ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شبِ برات بھی ایک عظیم اور بابرکت رات ہے۔ احادیثِ مبارکہ سے شب برات کی فضیلتحضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:يَطَّلِعُ اللَّهُ إِلَىٰ خَلْقِهِ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِجَمِيعِ خَلْقِهِ إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاحِنٍ (ابن ماجہ)ترجمہ:اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرھویں رات اپنی مخلوق کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور تمام مخلوق کو بخش دیتا ہے سوائے مشرک اور کینہ رکھنے والے کے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ…

Read more

Continue reading
  • hira-online.comhira-online.com
  • عقل کا دائرہ کار
  • عقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدود
  • جنوری 14, 2026
  • 0 Comments
عقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدود

عقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدود (کچھ لوگ اس وہم مين مبتلا ہیں کہ عقل خدا کے وجود کو ثابت کر سکتی ہے، حالانکہ یہ بات مسلم ہے کہ عقل کبھی کسی متعین (definite) حقیقت کو ثابت نہیں کرتی، اللہ تعالیٰ اَعرَفُ المعارف ہیں، يعنى سارى متعين حقيقتوں سے زياده متعين ہیں، اور عقل کی ادراکاتی حدوں سے ماوراء، جب ہم عقل کو خدا کے وجود کو ثابت کرنے کا مکلف بناتے ہیں تو عقل، خدا کو اس کی خارجی اور حقیقی ذات سے الگ کرکے محض ایک کلی ذہنی تصور (concept) میں تبدیل کر دیتی ہے۔ یہ تصور قابلِ حلول اور قابلِ اتحاد ہوتا ہے، کوئی نظام مسلسل ہو سکتا ہے، اور اس کا اطلاق متعدد مصادیق پر کیا جا سکتا ہے۔ اس تصور کے لیے توحید لازم نہیں، بلکہ اس کی طينت میں شرک داخل ہے۔ دوسرے لفظوں ميں عقل اس خدا کو ثابت نہیں کرتی جس كى دعوت قرآن مين ہے، اور جس پر مسلمانوں کا ایمان ہے۔ مزید یہ کہ خدا کو محض عقل کے ذریعے ثابت کرنے کا گمان قرآن سے متناقض ہے، اور یہ طرزِ فکر مسلمانوں کو کتابِ الٰہی میں حقیقی تدبر سے بھی روکتا ہے۔ اسی نکتے کی وضاحت کے لیے میں نے مضامین کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے، اور زیرِ نظر مضمون اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔) از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوىآكسفورڈ9/1/2026 عقل انسانی ایک ایسی ادراکی قوّت ہے جو دیگر مداركـ سے اس اعتبار سے ممتاز ہے کہ وہ جزوی مشاہدات سے کلی اور مجرد معانی اخذ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، حسی ادراک اشیاء کو ان کے وقتی و مکانی تعیّن کے ساتھ حاصل کرتا ہے، اور محدود تجربے کی روشنی میں ان کی پہچان کرتا ہے، لیکن عقل ان جزئیات سے ایک عالی مرتبہ کا شعوری نقش اخذ کرتی ہے، اور انہیں عمومی تصورات کی شكل میں مرتب کر کے ایک فکری نظام قائم کرتی ہے۔ یہی وصف عقل کی طاقت بھی ہے اور اس کے حدود کا تعین بھی۔ عقل قادر ہے کہ وہ کلی اصول وضع کرے، ان…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • Quranic Arabic Grammar Course 01.02.2026
  • شب برات کی فضیلت 01.02.2026
  • زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں 30.01.2026
  • طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات 30.01.2026
  • یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!! 29.01.2026
  • شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں 29.01.2026
  • دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے 28.01.2026
  • عصر حاضر میں مکاتب کی اہمیت 27.01.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

Blog

Quranic Arabic Grammar Course

  • hira-online.com
  • فروری 1, 2026
Quranic Arabic Grammar Course
فقہ و اصول فقہ

شب برات کی فضیلت

  • hira-online.com
  • فروری 1, 2026
فقہ و اصول فقہ

زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں

  • hira-online.com
  • جنوری 30, 2026
زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
فکر و نظر

طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات

  • hira-online.com
  • جنوری 30, 2026
طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات
فکر و نظر

یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!

  • hira-online.com
  • جنوری 29, 2026
یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!
مضامین و مقالات

شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں

  • hira-online.com
  • جنوری 29, 2026
شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں
فکر و نظر

دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے

  • hira-online.com
  • جنوری 28, 2026
دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے
Blog

عصر حاضر میں مکاتب کی اہمیت

  • hira-online.com
  • جنوری 27, 2026
Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top