Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
01.02.2026
Trending News: Quranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکامسہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(٢)سہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(١)ہندوستانی مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہو ؟🔰ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل۔اسلام میں سود کی حرمت قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائیقرض حسن اور اس سے متعلق احکامساس جو کبھی بہو تھیعلامہ شبیر احمد عثمانی ایک عظیم مفسر قرآنبہار: این ڈی اے کے گلے ہار، مہا گٹھ بندھن کی ہارکیا آنکھ کا عطیہ جائز ہے؟ مائیکرو فائنانس کے شرعی احکامہیلتھ انشورنسملک و ملت کی نازک صورت حال میں مسلمانوں کے لئے رہنما خطوط مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کی تحریروں کی روشنی میںتلفیق بین المذاھب اور تتبع رخص ایک مطالعہ از : اسجد حسن ندویبچوں کی اسلامی تربیت : کچھ رہ نما اصول ڈاکٹر محمد سلیم العواترجمہ: احمد الیاس نعمانیخلافتِ بنو امیہ تاریخ و حقائقسادگی کی اعلی مثال : ڈاکٹر محمد نذیر احمد ندوی رحمۃ اللہ علیہحلال ذبیحہ کا مسئلہاستاذ محترم ڈاکٹر مولانا نذیر احمد ندوی کی یاد میںکتاب پر رحم نہ کرو ! پڑھومفتی منور سلطان ندوی: ایک صاحبِ علم، صاحبِ قلم اور صاحبِ کردار عالمِ دین از : زین العابدین ہاشمی ندوی ،نئی دہلیہیرا جو نایاب تھاکتابوں سے دوری اور مطالعہ کا رجحان ختم ہونا ایک المیہحضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور عصری آگہی از : مولانا آدم علی ندویمطالعہ کا جنوں
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
  • Get Started
01.02.2026
Trending News: Quranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکامسہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(٢)سہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(١)ہندوستانی مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہو ؟🔰ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل۔اسلام میں سود کی حرمت قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائیقرض حسن اور اس سے متعلق احکامساس جو کبھی بہو تھیعلامہ شبیر احمد عثمانی ایک عظیم مفسر قرآنبہار: این ڈی اے کے گلے ہار، مہا گٹھ بندھن کی ہارکیا آنکھ کا عطیہ جائز ہے؟ مائیکرو فائنانس کے شرعی احکامہیلتھ انشورنسملک و ملت کی نازک صورت حال میں مسلمانوں کے لئے رہنما خطوط مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کی تحریروں کی روشنی میںتلفیق بین المذاھب اور تتبع رخص ایک مطالعہ از : اسجد حسن ندویبچوں کی اسلامی تربیت : کچھ رہ نما اصول ڈاکٹر محمد سلیم العواترجمہ: احمد الیاس نعمانیخلافتِ بنو امیہ تاریخ و حقائقسادگی کی اعلی مثال : ڈاکٹر محمد نذیر احمد ندوی رحمۃ اللہ علیہحلال ذبیحہ کا مسئلہاستاذ محترم ڈاکٹر مولانا نذیر احمد ندوی کی یاد میںکتاب پر رحم نہ کرو ! پڑھومفتی منور سلطان ندوی: ایک صاحبِ علم، صاحبِ قلم اور صاحبِ کردار عالمِ دین از : زین العابدین ہاشمی ندوی ،نئی دہلیہیرا جو نایاب تھاکتابوں سے دوری اور مطالعہ کا رجحان ختم ہونا ایک المیہحضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور عصری آگہی از : مولانا آدم علی ندویمطالعہ کا جنوں
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

آہ ! جعفر بھائی بقلم: محمد اكرم ندوى آكسفورڈ

  1. Home
  2. آہ ! جعفر بھائی بقلم: محمد اكرم ندوى آكسفورڈ

آہ ! جعفر بھائی بقلم: محمد اكرم ندوى آكسفورڈ

  • hira-online.comhira-online.com
  • سیرت و شخصیات
  • جنوری 16, 2025
  • 0 Comments

مصائب اور تهے پر ان كا جاناعجب اكـ سانحه سا ہو گيا ہے آج (15 جنورى سنه 2025م) كو جعفر بهائى كے حادثۂ جانكاه نے دل وجان كو جهنجهوڑ ديا، مولانا سيد جعفر مسعود حسنى ندوى دار العلوم ندوة العلماء كے ناظر عام، ادب عربى وفكر اسلامى كے استاد، اور پندره روزه عربى جريده "الرائد” كے ايڈيٹر انچيف تهے، إنا لله وإنا إليه راجعون۔

تيرے جانے سے گماں برہمى دہر كا تها

تو گيا اور بپا دہر ميں محشر نه ہو

سنه 1978م ميں ندوه ميں ميرا داخله ہوا، ہمارے درجه ميں پچاس طلبه تهے، ان ميں ايكـ طالبعلم تهے، جو كنارے بيٹهتے، خاموش رہتے، چپكے سے آتے اور چپكے سے چلے جاتے، شرافت ان كے چہرے سے ٹپكتى، بے ضرر تهے، نه كسى سے لڑتے اور نه كوئى بحث كرتے، وه ہم ميں سے تهے، پر ہم ميں سے نه لگتے، جو ايسا ہو اس سے دوستى كيسے ہو، تاہم يكطرفه محبت ضرور ہوگئى، ملكوتى صفات سے آراسته يه طالب علم تهے جعفر بهائى، جو مرور ايام وليالى سے دوست بهى بن گئے اور اچهے دوست، ہميں ان كى دوستى پر ناز ہے۔

ندوه كى طالعلمى ميں چهـ سال ہم ايكـ ساتهـ رہے، فارغ ہونے كے بعد ميں ندوه ميں مدرس ہوگيا، اور جعفر بهائى كى تقررى مدرسه عرفانيه ميں ہوئى، ہمارى ملاقات تقريبا ہر روز ہوتى، عصر كے بعد ندوه كى كينٹين كے باہر مجلسيں ہوتيں، گپ بازى ہوتى، شعر وشاعرى ہوتى، زاہد صاحب مير مجلس ہوتے، اور ہم چند دوست ان كے گرد ہاله بنائے ہوتے، آه وه كيا ايام تهے! ان كى سہانى ياديں آج بهى ناخن به دل ہيں، جعفر بهائى سے ميرے ماه وسال سنه 1978م سے ان كے انتقال تكـ وابسته ہيں۔

شب صحبت غنيمت داں كه بعد از روزگار ما

گردش كند گردوں بسے ليل ونہار آرد

جعفر بهائى كے اندر كئى نسبتين جمع تهيں، اور هر نسبت متقاضى تهى كه اس كى وجه سے مجهے ان سے عقيدت ومحبت هو، وه صحيح النسب سادات حسنى مين سے تهے، اور تنها يه نسبت بهت سى نسبتون كى جامع هے، دوسرى يه كه وه مفكر اسلام حضرت مولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه كى همشيره كے پوتے تهے، تيسرى يه كه وه مخدوم معظم حضرت مولانا سيد محمد رابع حسنى ندوى دامت بركاتهم كے بهتيجه اور داماد تهے، اور چوتهى يه كه وه استاذ محترم مولانا محمد واضح رشيد ندوى مد ظله العالى كے فرزند ارجمند تهے، پانجوين يه كه وه ميرے كلاس فيلو تهے، چهٹى يه كه وه عربى اور اردو دونون كے بهترين اديب تهے، ساتوين يه كه اس عهد مين جبكه علماء ومصنفين مين افراط و تفريط كا شيوع ہے، وه راه اعتدال پر گامزن تهے، اور سب سے اهم يه هے كه جعفر بهائى نيكـ انسان تهے، اور شايد يه آخرى وجه ہے جس كے سبب ميرے دل مين ان كى غير معمولى قدر وتعظيم رہى ہے۔

ہم اخوان صفا مادر علمى ندوة العلماء مين ايكـ دوسرے سے قريب تهے، درسگاہون كے علاوه تفريح كے اوقات مين اور علمى وادبى مجلسون مين ساتهـ رهتے، ندوة العلماء مين همارى دوستى ضرب المثل تهى، ايسے پراگنده طبع لوگ اب كہاں، ان پر افسوس جنهين ان سے صحبت نہيں رہى، چند سالون كے بعد گردش زمانه نے ان محفلون كو درہم برہم كرديا اور ہمارے جسمون كو دنيا كے دور درواز علاقون مين منتشر كرديا:اكـ زمانه تها كه سب ايكـ جگه رہتے تهےاور اب كوئى كہيں كوئى كہيں رہتا ہےروز ملنے په بهى لگتا تها كه جگ بيت گئےعشق مين وقت كا احساس نہيں رہتا ہے ليكن ہمارى ارواح و قلوب كو جدا كرنے مين زمانه كو كاميابى نہيں ہوئى، دل اسى طرح ايكـ دوسرے سے مانوس رہے، اور زبان اسى طرح ايكـ دوسرے كے ذكر سے معمور: إن التباعد لا يضر إذا تقاربت القلوب۔

همارى جدائى پر جب ماه وسال كا طويل عرصه گزر گيا اور امتحان صبر ميں ہم كامياب ہوگئے تو اس كے جزائے عاجل كے طور پر واٹساپ وجود پزير ہوا، اور ہمارے صبر كى بركت سے پورى دنيا اس سے فائده اٹها رہى ہے، لوگ موجود سے بہره ور ہوتے ہيں ليكن سبب وجود پر نگاه كم جاتى ہے۔

اس ايجاد كى وجه سے دوريوں كے باوجود ہم ايكـ بار پهر اكٹها ہوگئے، اور وہى كيفيتيں تازه ہوگئين جو پهلے ہوتى تهيں، ہمارى بے تكلفى كى مجلسين دوباره زنده ہوگئيىن، علمى وادبى مناقشون كى محفلين از سر نو قائم ہوگئين، جب ميں لكهنؤ جاتا تو كبهى كبهى وه پرانا عہد لوٹ آتا، پهر وہى مجلسيں ہوتيں، اور وہى دلكش گيت گائے جاتے:

وسألتهم عن فرقة الأحباب

قالوا ستنسى بعد طول غياب

طال الغياب ولم تغب ذكراهم

إني وهم في العين كالأهداب

بڑے بڑے اصحاب علم وفضل كو ديكها گيا ہے كه وه غصه مين آپے سے باہر ہو جاتے ہيں، آپس ميں لڑائياں كرتے ہيں، اور ايكـ دوسرے كے خلاف نفرت، حسد، كينه وبغض كے جذبات ركهتے ہيں، ايكـ دوسرے سے قطع كلامى اور دشمنى كرتے ہيں، اور اس پر اس كے خواہشمند كه لوگ ان كا احترام كريں، سخت حيرت اس پر ہوتى ہے كه كچهـ لوگ اس بد اخلاقى كو جلال كا نام ديتے ہيں، هائے غلط تسميه نے كتنى گهناؤنى برائيون پر پرده ڈال ركها ہے. اس كے بر عكس جعفر بهائى كو غصه ہوتے نہيں ديكها گيا، اور نه ہى نفرت وحسد كرتے ہوئے، نه ان كو كبهى برہم وبيزار پايا گيا، وه اس طرح كے جذبات سے كبهى مغلوب نه ہوتے، اور نه ان كى زبان سے كبهى كوئى سخت يا ركيكـ جمله سنا جاتا:

نظر مين وه گل سما گيا هے،

تمام هستى په چها گيا هے

چمن مين هون يا قفس مين ہوں

مين مجهے اب اس كى خبر نهين ہے

نفوس بشريه كے اختلاف وتضاد كے متعلق ابو العتاهيه كى درج ذيل اشعار كتنے سچے ہيں:

وفرز النفوس كفرز الصخور

ففيها النفيس وفيها الحجر

وبعض الأنام كبعض الشجر

جميل القوام شحيح الثمر

وبعض الوعود كبعض الغيوم

وكم من فواد كفيف البصر

وخير الكلام قليل الحر

وفكثير القطوف بليغ الاثر

جعفر بهائى كى امانتدارى كى ايكـ مثال ياد آرہى ہے، يه غالبا سنه 1985 كى بات هے جب هم نئے نئے مدرس هوئے تهے، جعفر بهائى عرفانيه مين پڑهاتے تهے، ايكـ روز حشمت الله صاحب نے عرفانيه جانے كا پروگرام بنايا، مجهے بهى ساتهـ لے ليا، وهان پهنچ كر سوچا گيا كه جعفر بهائى سے ملاقات كى جائے، جعفر بهائى اپنى كلاس مين پڑها رهے تهے، هم وهان پهنچے، كلاس روم كا دروازه كهلا هوا تها، همين يقين تها كه همين ديكهتے هى جعفر بهائى كلاس چهوڑ كر همارا والهانه استقبال كرين گے، هم دروازے كے سامنے كهڑے تهے، نشست كى هيئت اس طرح تهى كه جعفر بهائى كا رخ دروازه كى طرف تها، اور طلبه ان كى طرف متوجه تهے، طلبه همين ديكهـ نهين سكتے تهے، ليكن جعفر بهائى نے تدريس جارى ركهى، هم نے سوچا شايد انهماكـ كى وجه سے همارى طرف نگاه نهين كر رهے هين، اس لئے اشارون سے اپنى طرف متوجه كرنے كى كوشش كى، ليكن جعفر بهائى نے همارى طرف رخ نهين كيا اور نه اپنے طرز تدريس مين كوئى فرق آنے ديا، پورى كلاس پر سنجيده علمى فضا برقرار رهى، اس اعراض وبے رخى كے درد سے زخمى هوكر هم نا مراد ندوه واپس آگئے، جعفر بهائى كا يه انهماكـ يقينا مدرسين كے لئے نمونه هے، اگر قارى مشتاق صاحب كو اس واقعه كا علم هوجاتا تو شايد جعفر بهائى كو انعام سے نوازتے.جب لكهنؤ جاتا، تو كبهى كبهى ديكهتا كه جعفر بهائى ايكـ كرسى پر تنہا خاموشى سے بيٹهے ہوئے ہيں، وہى انفردايت، وہى انداز تفكر، وہى غيبوبت، وہى ادائے بے نيازى واستغناء، اور وہى ماحول سے انقطاع ، جسے صوفيه جلوت ميں خلوت سے تعبير كرتے ہيں، اور جو انسان كى ذہنى قوت اور عقلى پختگى كى دليل ہے، اور جس سے حكمت ودانائى كے سوتے نكلتے ہيں، اور يہى حقيقت ميں ہجرت ہے، اس ميں شكـ نہيں كه ذہنى ہجرت جسمانى ہجرت سے بدرجہا فائق ہے، جعفر بهائى كى عمر جس قدر بڑهتى جا رہى تهى مولانا واضح صاحب سے مماثلت زياده ہوتى جا رہى تهى، اور ميرے دل مين ان كى عقيدت ومحبت ميں اضافه ہوتا جا رہا تها: مجهے رنگ بہار ايجادئ بيدل پسند آياجعفر بهائى كو بہترين منتظم كہا جائے، انہيں اچهے مدرس كے نام سے ياد كيا جائے، ان كو اديب وانشا پرداز سمجها جائے، ايكـ با اخلاق، نيكـ، نرم خو، متواضع، سادگى پسند انسان كى حيثيت سے ان كى تعريف كى جائے، وه ہر ايكـ رنگ وروپ ميں اپنا امتياز بر قرار ركهتے تهے، الله تعالى ان كى مغفرت فرمائے، درجات بلند كرے، اور صالحين كے ساتهـ انہيں جنت الفردوس ميں جگه دے، آمين۔

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

ڈاکٹر منموہن سنگھ: ترقی یافتہ ہندوستان کے اصل معمار
-*کس قدر آساں ہے موت!* ✍️ محمد نصر الله ندوی،ندوةالعلماء،لکھنؤ

Related Posts

ڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشور
  • hira-online.comhira-online.com
  • ڈاکٹر محمد منظور عالم
  • ڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشور
  • جنوری 13, 2026
  • 0 Comments
ڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشور

ڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشور از : مولانا ابو الجیش ندوی آزاد ہندوستان کی تاریخ میں کچھ شخصیات محض افراد نہیں ہوتیں بلکہ ادارے بن جاتی ہیں، رجحانات کو جنم دیتی ہیں اور آنے والی نسلوں کی فکری سمت متعین کرتی ہیں۔ ڈاکٹر محمد منظور عالمؒ (1945–2026) ایسی ہی ہمہ جہت شخصیت تھے جنہوں نے علم، تحقیق، ادارہ سازی اور ملت کی اجتماعی قیادت کو ایک وحدت میں پرو دیا۔ ان کی زندگی ایک ایسا سفر تھی جو جذباتی ردعمل سے ہٹ کر ڈیٹا پر مبنی فکر کی طرف مائل کرتی ہے۔ ابتدائی زندگی اور علمی تشکیل ڈاکٹر منظور عالمؒ 9 اکتوبر 1945 کو مدھوبنی، بہار میں پیدا ہوئے۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا انتخاب کیا، جہاں سے معاشیات میں PhD حاصل کی۔ یہ وہی دور تھا جب ان کے اندر اسلامی فکر اور عصری سماجی علوم کے امتزاج کا وژن ابھرا۔ بعد میں سعودی عرب منتقل ہوئے، جہاں اسلامی معیشت پر تدریس و مشاورت کی اور سعودی وزارتِ خزانہ کے اقتصادی مشیر رہے۔ مدینہ منورہ کے King Fahd Qur’an Printing Complex میں قرآن ترجمہ کے قومی منصوبے کے چیف کوآرڈینیٹر کے طور پر ان کی خدمات کو عالمی سطح پر سراہا گیا۔ انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز (IOS): فکر کی ادارہ سازی 1986 میں نئی دہلی میں قائم ہونے والا Institute of Objective Studies (IOS) ڈاکٹر منظور عالمؒ کے فکری وژن کا عملی مظہر تھا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ ہندوستانی مسلمانوں کو جذبات کے بجائے تحقیق اور پالیسی پر مبنی سوچ کی ضرورت ہے۔ IOS نے:410 سے زائد تحقیقی منصوبے مکمل کیے400 سے زیادہ معیاری اشاعتیں شائع کیں1200 سے زائد کانفرنسیں، سیمینارز اور ورکشاپس منعقد کیںیہ ادارہ تعلیم، معاشیات، سماجی انصاف، اقلیتی حقوق، فرقہ واریت اور ثقافتی شناخت جیسے شعبوں میں ہندوستانی مسلم فکر کا معتبر مرکز بن گیا۔ انہوں نے تحقیق کو محض علمی ورزش نہیں بلکہ ملت کے اجتماعی فیصلوں کی بنیاد بنایا۔ آل انڈیا ملی کونسل: فکر سے عمل کی طرف IOS اگر فکر کا مرکز تھا تو آل انڈیا…

Read more

Continue reading
سہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پرواز
  • hira-online.comhira-online.com
  • پرواز رحمانی
  • سہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پرواز
  • جنوری 8, 2026
  • 0 Comments
سہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پرواز

سہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹرپرواز رحمانی کی آخری پرواز معصوم مرادآبادی میں ابھی ابھی سینئر صحافی اور ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی تدفین میں شرکت کرکے واپس آیا ہوں۔ان کی تدفین میں عوام وخواص کی خاصی بڑی تعداد شریک تھی اور ہر زبان پر ان کی صحافت اورشرافت کے یکساں چرچے تھے۔ بلاشبہ پرواز رحمانی جتنے ذہین، سنجیدہ اورباوقار صحافی تھے، اتنے ہی اچھے اور بااخلاق انسان بھی تھے۔ انھوں نے نصف صدی پر محیط اپنی صحافتی زندگی میں ہمیشہ صحافت کی اعلیٰ اقدار کی پاسبانی کی اور کبھی سنسنی خیزی یا زرد صحافت کو منہ نہیں لگایا۔ وہ اردو صحافیوں کی اس نسل کے آخری آدمیوں میں سے تھے جن کے نزدیک صحافت ایک پروفیشن سے زیادہ ایک مشن کا درجہ رکھتی تھی ۔ پرواز رحمانی کچھ عرصے سے صحت کے مسائل سے نبرد آزما تھے۔آخری دنوں میں انھیں برین ہیمریج کی وجہ سے اوکھلا کے الشفاء اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جہاں انھوں نے گزشتہ رات آخری سانس لی۔لوگوں کو امید تھی کہ وہ الشفاء اسپتال سے شفایاب ہوکر واپس آئیں گے، لیکن یہ ممکن نہیں ہوسکا اور وہ وہاں چلے گئے جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا۔ان سے میرا تعلق اس زمانے سے تھا جب ’دعوت‘ کا دفتر پرانی دہلی کے سوئیوالان علاقہ میں واقع تھا۔ وہیں ان کی رہائش بھی تھی، لیکن جماعت اسلامی کے دفاتر کے ساتھ ’دعوت‘ کا دفتر بھی اوکھلا منتقل ہوا تو وہ بھی بادل نخواستہ اوکھلا چلے گئے، لیکن کافی عرصہ ان کی رہائش سوئیوالان کے پرانے مکان ہی میں رہی۔ وہ ڈی ٹی سی کی بس میں بیٹھ کر روزانہ اوکھلا جاتے تھے اور شام کو کام نپٹاکر گھر واپس آجاتے تھے۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ ’دعوت‘ کے مستقل کالم ”خبرونظر“ کے معیارکو برقرار رکھنا تھا۔’دعوت‘ میں یہ کالم اس کے سابق ایڈیٹر محمد مسلم نے شروع کیا تھا۔ پرواز رحمانی کی صحافتی تربیت بھی محمدمسلم نے ہی کی تھی اور وہ انھیں صحافت میں اپنا رہنما تصور کرتے تھے۔ محمدمسلم کی خوبی یہ تھی کہ ان کا دائرہ بہت…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • Quranic Arabic Grammar Course 01.02.2026
  • شب برات کی فضیلت 01.02.2026
  • زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں 30.01.2026
  • طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات 30.01.2026
  • یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!! 29.01.2026
  • شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں 29.01.2026
  • دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے 28.01.2026
  • عصر حاضر میں مکاتب کی اہمیت 27.01.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

Blog

Quranic Arabic Grammar Course

  • hira-online.com
  • فروری 1, 2026
Quranic Arabic Grammar Course
فقہ و اصول فقہ

شب برات کی فضیلت

  • hira-online.com
  • فروری 1, 2026
فقہ و اصول فقہ

زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں

  • hira-online.com
  • جنوری 30, 2026
زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
فکر و نظر

طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات

  • hira-online.com
  • جنوری 30, 2026
طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات
فکر و نظر

یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!

  • hira-online.com
  • جنوری 29, 2026
یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!
مضامین و مقالات

شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں

  • hira-online.com
  • جنوری 29, 2026
شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں
فکر و نظر

دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے

  • hira-online.com
  • جنوری 28, 2026
دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے
Blog

عصر حاضر میں مکاتب کی اہمیت

  • hira-online.com
  • جنوری 27, 2026
Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top