Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
11.08.2026
Trending News: تبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا کیسا ہے؟مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃ
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
  • Get Started
11.08.2026
Trending News: تبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا کیسا ہے؟مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃ
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

اعضاء کی پیوندکاری : شرعی نقطہ نظر

  1. Home
  2. اعضاء کی پیوندکاری : شرعی نقطہ نظر

اعضاء کی پیوندکاری : شرعی نقطہ نظر

  • hira-online.comhira-online.com
  • فقہ و اصول فقہ
  • دسمبر 20, 2024
  • 0 Comments

(Organ Transplantation)

از : ڈاکٹر مفتی محمد شاہ جہاں ندوی

اعضاء کی پیوندکاری کے شرعی احکام واضح فرمادیں

-الجواب-و باللہ تعالیٰ التوفیق-:

اللہ تعالیٰ نے انسان کو مکرم و معزز اور محترم بنایا ہے- ارشاد باری تعالٰی ہے: (و لقد كرمنا بني آدم، وحملناهم في البر و البحر و رزقناهم من الطيبات و فضلناهم على كثير ممن خلقنا تفضيلا). (17/ اسراء:7)- ( ہم نے انسان کو مکرم و معزز بنایا ہے، اور ہم نے ان کو خشکی اور تری میں سفر کے مواقع فراہم کیے، اور ان کو پاکیزہ روزی دی اور اپنی بہت سی مخلوقات پر ان کو فضیلت بخشی ہے)-

یہ انسانی تکریم زندگی اور موت ہر حال میں برقرار رہنی چاہیے- اس کے ساتھ کوئی ایسا تصرف نہیں ہونا چاہیے جو انسانی اعزاز کے خلاف ہو- اس کے ساتھ غلط تصرف ہر حال میں موجب گناہ ہے- ایک حدیث میں اس کی صراحت ہے- حضرت عائشہ صدیقہ -رضی اللہ تعالیٰ عنہا- سے روایت ہے کہ رسول اکرم – صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم وعلی آلہ وصحبہ اجمعین وسلم- نے ارشاد فرمایا: "كسر عظم الميت ككسره حيا”. (سنن ابی داود، کتاب الجنائز، باب في الحفار يجد العظم هل يتنكب ذلك المكان؟، حدیث نمبر 3207، سنن ابن ماجہ، کتاب الجنائز، باب النهي عن كسر عظام الميت، حدیث نمبر 1616، صحیح ابن حبان- بترتیب ابن بلبان، حدیث نمبر 3167، مسند احمد، حدیث نمبر 24739، اور یہ صحیح درجہ کی حدیث ہے)- ( مردہ کی ہڈی کو توڑنا ایسا ہی ہے جیسے زندگی میں اس کی ہڈی کو توڑنا)-

فقہاء نے بھی اس بات کی صراحت کی ہے کہ انسان کی اہانت کسی حال میں جائز نہیں ہے، اور وہ اپنے تمام اجزاء کے ساتھ معزز و مکرم ہے- "البدائع” میں ہے: "والآدمي بجميع أجزائه مكرم”. ( کاسانی، بدائع الصنائع، کتاب البیوع 5/133، بیروت، دار الکتاب العربی، 1982ء، ع.أ.:7)-

دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ بسا اوقات علاج کی ایسی ضرورت پیش آجاتی ہے کہ کوئی حلال متبادل (alternate) موجود نہیں ہوتا ہے- انسان کی جان بچانے کی صرف ایک ہی صورت ہوتی ہے کہ حرام و نجس چیز کا استعمال دوا کے طور پر کیا جائے- مفتی بہ قول کے مطابق علاج کی ضرورت کے پیش نظر اس کی گنجائش ہے- اس حالت میں اس کی حرمت ساقط ہوجاتی ہے- درج ذیل فقہی اقتباسات سے اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے:1

– "تبیین الحقائق” میں ہے: ” يجوز التداوي بالمحرم كالخمر و البول إذا أخبره طبيب مسلم أن فيه شفاء، ولم يجد غيره من المباح ما يقوم مقامه. والحرمة ترتفع للضرورة، فلم يكن متداويا بالحرام، فلم يتناوله حديث ابن مسعود. و يحتمل أنه قاله في داء عرف له دواء غير المحرم”. (زیلعی، تبیین الحقائق، کتاب الکراھیہ، فصل فی البیع 6/33، قاہرہ، دار الکتاب الاسلامی، ع.أ.:6)-2

– البحر الرائق میں ہے:”هذا، و قد وقع الاختلاف بين مشايخنا في التداوي بالمحرم. ففي النهاية عن الذخيرة: "الاستشفاء بالحرام يجوز إذا علم أن فيه شفاء ولم يعلم دواء آخر اه. و في فتاوى قاضي خان معزيا إلى نصر بن سلام معنى قوله – عليه السلام- إن الله لم يجعل شفاءكم فيما حرم عليكم”. إنما قال ذلك في الأشياء التي لا يكون فيها شفاء. فأما إذا كان فيها شفاء فلا بأس به. ألا ترى أن العطشان يحل له شرب الخمر للضرورة….وهذا لأن الحرمة ساقطة عند الاستشفاء”. (ابن نجیم، البحر الرائق، کتاب الطھارۃ 1/122، بیروت، دار المعرفہ)-3

– "رد المحتار” میں ہے: "حيث قال: فرع: اختلف في التداوي بالمحرم، و ظاهر المذهب المنع، كما في إرضاع البحر، لكن نقل المصنف ثمة، و هنا عن الحاوي: و قيل: يرخص إذا علم فيه الشفاء، ولم يعلم دواء آخر، كما رخص الخمر للعطشان، و عليه الفتوى، اه”. (ابن عابدين، رد المحتار، كتاب النكاح، باب الرضاع 3/211، بيروت، دار الفكر، 1421ھ/2000ء، ع.أ.:8).

4- "ہندیہ” میں ہے: "أدخل المرارة في أصبعه للتداوي. قال أبو حنيفة -رحمه الله تعالى-: لا يجوز. و عند أبي يوسف -رحمه الله تعالى- يجوز، و عليه الفتوى، كذا في الخلاصة”. (ہندیہ، کتاب الکراھیہ، الباب التاسع عشر في الختان والخصاء و قلم الأظفار 5/356، بيروت، دار الفکر، 1412ھ/1991ء، ع.أ.:6)-5

– "رد المحتار” میں مزید وضاحت مذکور ہے: "لو أدخل في أصبعه مرارة مأكول اللحم يكره عنده؛ لأنه لا يبيح التداوي ببوله، لا عند أبي يوسف؛ لأنه يبيحه. و في الذخيرة والخانية أن الفقيه أبا الليث أخذ بالثاني للحاجة. و في الخلاصة: و عليه الفتوى. قلت: و قياس قول محمد: لا يكره مطلقا لطهارة بوله عنده”. (ابن عابدين، رد المحتار، كتاب الطهارة، مطلب في الفرق بين الاستبراء و الاستنقاء 1/210، بيروت، دار الفكر، 1421ھ/2000ء، ع.أ.:8)-

قدیم فقہاء کی آراء

اگرچہ قدیم فقہاء نے صراحت کی ہے کہ دوسرے انسان کے اجزاء کا استعمال اس کی توہین ہے- علامہ کاسانی – رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ- تحریر فرماتے ہیں: ” ولو سقط سنه يكره أن يأخذ سن ميت فيشدها مكان الأولى بالإجماع… و قال أبو يوسف -رحمه الله- لا بأس بسنه و يكره سن غيره….و إعادة جزء منفصل إلى مكانه ليلتئم جائز، كما إذا قطع شيء من عضوه فأعاده إلى مكانه. فأما سن غيره فلا يحتمل ذلك. والثاني أن استعمال جزء منفصل عن غيره من بني آدم إهانة بذلك الغير، والآدمي بجميع أجزائه مكرم. ولا إهانة في استعمال جزء نفسه في الإعادة إلى مكانه”. ( کاسانی، بدائع الصنائع، کتاب البیوع 5/133، بیروت، دار الکتاب العربی، 1982ء، ع.أ.:7)-

لیکن موجودہ دور میں عطیہ کردہ عضو کی جس مہذب طریقہ سے پیوندکاری کی جاتی ہے، اسے اہانت نہیں قرار دیا جاسکتا ہے

-لہذا درج ذیل شرائط کے ساتھ صرف ایسے عضو کا عطیہ کیا جا سکتا ہے کہ عطیہ کرنے والے کو کوئی معتد بہ ضرر لاحق نہ ہو

:1- صرف ایسے عضو کا عطیہ کیا جائے، جس پر انسانی زندگی موقوف نہ ہو- لہٰذا دل وغیرہ کا عطیہ جائز نہیں ہے-2- ایک گردہ کے عطیہ سے عطیہ کنندہ کی زندگی کو کوئی معتد بہ ضرر لاحق نہ ہو، تو وہ مریض کی جان بچانے کے لیے اپنا ایک گردہ عطیہ کر سکتا ہے-3- جو عضو اپنی تلافی کرلے، اور عطیہ دینے والے کو قابل لحاظ ضرر نہ ہو، جیسے: جگر کی خاص مقدار، کھال اور خون وغیرہ، اس کا عطیہ کیا جا سکتا ہے-4- جس عضو کی وجہ سے انسان بد نما اور بد صورت ہو جائے، اس کا عطیہ کرنا جائز نہیں ہے- لہٰذا، ہاتھ، پیر اور آنکھ وغیرہ کا عطیہ کرنا جائز نہیں ہے-5- عضو کی پیوندکاری کے علاوہ کوئی متبادل نہ ہو-6- معتبر ڈاکٹروں کی ٹیم کو ظن غالب ہو کہ عطیہ کرنے والے کو عطیہ کرنے کی صورت میں کوئی معتد بہ ضرر لاحق نہیں ہوگا-7- معتبر ڈاکٹروں کی ٹیم کو ظن غالب ہو کہ اس عضو کی پیوندکاری سے مریض کی جان بچ سکتی ہے-8- نطفہ (sperm) اوررحم کا عطیہ کرنا حرام ہے-9- اپنے ہی جسم کے ایک حصہ کو دوسرے حصے کی طرف منتقل کرنا جائز ہے-10- اسلامی نقطہء نظر سے مردہ بھی معزز و مکرم ہے- لہٰذا اس کے جسم کے کسی حصہ کو عطیہ کرنا جائز نہیں ہے-11- تعلیم کی غرض سے پلاسٹک سے بنائے گئے انسان، یا بن مانس وغیرہ کا استعمال کیا جائے- اس مقصد کے لیے اپنے مردہ جسم کو عطیہ کرنا جائز نہیں ہے-12- انسانی اعضاء کی خرید وفروخت سخت حرام ہے، لہٰذا کسی عضو کو خرید وفروخت کا محل نہ بنایا جائے- "البدائع” میں ہے:” الآدمي لم يجعل محلا للبيع”. (کاسانی، بدائع الصنائع، کتاب البیوع، فصل: شرائط المعقود عليه 5/145، بیروت، دار الکتاب العربی، 1982ء،ع.أ.:7)-13- خون اگر بہ طور عطیہ نہ ملے، تو بہ حالت مجبوری خریدنے کی گنجائش ہے- اسے فروخت کرنا جائز نہیں ہے-اکیڈمی کا فیصلہ:اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کی تجویز ہے:اگر کوئی مریض ایسی حالت میں پہنچ جائے کہ اس کا کوئی عضو اس طرح بے کار ہو کر رہ گیا ہے کہ اگر اس عضو کی جگہ کسی دوسرے انسان کا عضو اس کے جسم میں پیوند نہ کیا جائے تو قوی خطرہ ہے کہ اس کی جان چلی جائے گی، اور سوائے انسانی عضو کے کوئی دوسرا متبادل اس کمی کو پورا نہیں کر سکتا، اور ماہر قابل اعتماد اطباء کو یقین ہے کہ سوائے عضو انسانی کی پیوندکاری کے کوئی راستہ اس کی جان بچانے کا نہیں ہے، اور عضو انسانی کی پیوندکاری کی صورت میں ماہر اطباء کو ظن غالب ہے کہ اس کی جان بچ جائے گی اور متبادل عضو انسانی اس مریض کے لیے فراہم ہے، تو ایسی ضرورت، مجبوری اور بے کسی کے عالم میں عضو انسانی کی پیوندکاری کرا کر اپنی جان بچانے کی تدبیر کرنا مریض کے لیے مباح ہوگا-

انٹرنیشنل فقہ اکیڈمی جدہ کا فیصلہ:ایسا عضو جس پر زندگی کا دار و مدار ہے، جیسے: قلب، اسے کسی زندہ انسان سے دوسرے انسان کے اندر منتقل کرنا حرام ہے-واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب، علمہ اتم و احکم

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

کنائی لفظ سے طلاق کی ایک صورت
رجم اور دلائلِ رجم : ایک مطالعہ (قسط) ( 2)

Related Posts

  • hira-online.comhira-online.com
  • مصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکام
  • اگست 9, 2026
  • 0 Comments
مصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکام

 (23) فقہی ذخیرے سے آج کا مسئلہ مصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکام مصنوعی دانت دو طرح کے ہوتے ہیں ۔ ایک وہ جو مستقل طور پر لگا دئیے جائیں اور پھر ان کو آسانی سے نکالا نہ جاسکے ۔ دوسرے وہ جو بنائے ہی اس طرح جاتے ہیں کہ حسب ضرورت ان کا استعمال کیا جائے اور حسب ضرورت نکال لیا جائے ۔ پہلی صورت میں یہ مصنوعی دانت اصل دانت کا درجہ رکھتے ہیں ۔ اس لئے ان کا حکم اصل دانتوں ہی کا ہو گا۔ وضو میں ان دانتوں تک پانی پہنچانا مسنون ہو گا اور غسل میں فرض، دانت نکالنے اور تہ تک پانی پہنچانے کی ضرورت نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فقہاء نے اس طرح کے دانت لگانے یا دانتوں کو سونے چاندی کے تاروں سے کنے کی اجازت دی ہے (۱) ۔ اب ظاہر ہے اس اجازت کا مطلب میں ہو گا کہ ان کے اندرونی حصوں میں پانی پہنچانا ضروری نہیں ہے ، ورنہ یہ اجازت بڑی پریشان کن بھی ہوگی اور بے معنی بھی۔ جب کہ دوسری صورت میں اس کی حیثیت ایک ” زائد چیز” کی ہوگی۔ یعنی غسل اسی وقت درست ہو سکے گا جب اس کو نکال کر اصل جسم تک پانی پہنچ جائے ۔اگر ایسا نہ کیا گیا تو غسل درست نہ ہو گا۔  اور ر چوں کہ وضو میں کلی کرنا سنت ہے اور فقہاء کے نزدیک کلی سے مقصود پورے منہ میں پانی پہنچانا ہے ۔ وحد المضمضة استيعاب الماء جميع الضم ) ۔ اس لئے اس کو نکالے بغیر کلی کرنے کی سنت ادا نہیں ہو پائے گی ۔   حوالہ: کتاب : جدید فقہی مسائل  صفحہ: 78  جلد : 1  مکتبہ: کتب خانہ نعیمیہ دیوبند

Read more

Continue reading
ناخن پالش
  • hira-online.comhira-online.com
  • ناخن پالش
  • ناخن پالش کروانا کیسا ہے
  • اگست 9, 2026
  • 0 Comments
ناخن پالش

 فقہی ذخیرے سے آج کا مسئلہ (20)  ناخن پالش کروانا کیسا ہے؟    ناخن جسم کے ان حصوں میں ہے جسے وضو کرتے وقت دھونا ضروری ہے اور اعضاء وضو پر کسی واقعی ضرورت کے بغیر ایسی چیز لگالینا جو پانی کو جسم تک پہنچنے نہ دے وضو کے درست ہونے میں رکاوٹ ہے ۔ وضو اسی وقت صحیح ہو گا جب اس کو کھرچ دیا جائے ۔ اس قسم کے پینٹ جو خواتین لگایا کرتی ہیں ضرورت نہیں ہیں، محض "زینت” ہیں ۔ اس لئے وضو کرتے وقت ضروری ہو گا کہ ان کو کھرچ کر تہہ تک پانی پہنچایا جائے ۔ جیسا کہ فتاوی عالمگیری کی اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ :ے اولزق باصل ظفره طين يابس اور طب لم يجز . اگر اس کے ناخن کی جڑ سے خشک یا مرطوب مٹی چھٹی ہوئی ہو اور اس پر سے پانی گزار دیا جائے تو کافی نہ ہوگا ۔    حوالہ:  کتاب : جدید فقہی مسائل  صفحہ: 87  مکتبہ: کتب خانہ نعیمیہ 

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • تبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہ 10.08.2026
  • تحریک پیام انسانیت 10.08.2026
  • مصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکام 09.08.2026
  • ناخن پالش 09.08.2026
  • قرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضم 07.08.2026
  • سرمایہ دار صحابہ کرام 07.08.2026
  • بینک کے سود کے مصارف 05.08.2026
  • ٹیکس میں سود کی رقم دینا 05.08.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

مضامین و مقالات

تبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہ

  • hira-online.com
  • اگست 10, 2026
مضامین و مقالات

تحریک پیام انسانیت

  • hira-online.com
  • اگست 10, 2026
فقہ و اصول فقہ

مصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکام

  • hira-online.com
  • اگست 9, 2026
فقہ و اصول فقہ

ناخن پالش

  • hira-online.com
  • اگست 9, 2026
ناخن پالش
اسلامیات

قرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضم

  • hira-online.com
  • اگست 7, 2026
قرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضم
اسلامیات مضامین و مقالات

سرمایہ دار صحابہ کرام

  • hira-online.com
  • اگست 7, 2026
سرمایہ دار صحابہ کرام
فقہ و اصول فقہ

بینک کے سود کے مصارف

  • hira-online.com
  • اگست 5, 2026
مضامین و مقالات

ٹیکس میں سود کی رقم دینا

  • hira-online.com
  • اگست 5, 2026

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top